ڈاکٹر رانی آکاش کے افسانے: ” لا=عورت”
لا=عورت، پر تبصرہ،
مبصر، ڈاکٹر تہمینہ عباس
قیمت : 500
عکس پبلی کیشنز، لاہور
2021
ڈاکٹر رانی آکاش کی تخلیق ہے جس میں سترہ افسانے موجود ہے۔ اس مجموعے میں موجود زیادہ تر افسانے عورت اور اس کے مسائل گرد گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
افسانہ ”ماں جی“ میں ست بھرائی کی ماں سات بیٹوں کی ماں ہے۔ جس کا باپ شوہر اور بیٹے نشہ کرتے ہوئے اور نشہ بیچتے ہوئے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ عورت اپنے عیش و آرام کی خاطر ہر کام کرنے پر تیار ہوجاتی ہے۔ ست بھرائی کی ماں اکثر راتوں کو غائب رہتی ہے اور ہمیشہ پوچھنے پر یہ جواب دیتی ہے کہ کسی عورت کو درد زہ میں ضرورت تھی اس لیے رات کو جانا پڑا۔ ست بھرائی پر ماں کی موت حقیقت کے تمام دروازے کھول دیتی ہے۔ جب اس کی چھوٹی بھاوج اسے ایک پوٹلی دیتی ہے۔
”دلہن رانی نے ایک چھوٹی سی بند پوٹلی اسے تھمائی جسے اس نے کھولا، تین ناک کے کو کے، چاندی کا ہار، کانوں کی بالیاں اور پانچ انگوٹھیاں، یہ ساری چیزیں اس نے ماں کو کبھی پہنے نہ دیکھی تھیں۔ بلکہ علاقے کی عورتوں کے ہاتھوں، ناک یا پاؤں کی زینت بنے دیکھی۔ ایک لاکٹ حاجی صاحب کی لاڈلی بیگم کے گلے میں اکثر دیکھا تھا۔ بازو کا کنگن کانے سنار کی بیٹی کو پہنے دیکھا تھا۔ ماں کے پاس اتنا زیور کہاں سے آیا؟ اور پھر وہ ساری کالی راتیں اس کی نظروں میں گھوم گئیں جب ساری ساری رات ماں کا بستر خالی رہتا تھا۔
اس کے سوال پر جواب ملتا کہ فلاں کی بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ فلاں کا بچہ ہسپتال میں ہے۔ وہ اکثر سوچتی کہ ایسے مسئلے رات میں ہی کیوں ہوتے ہیں؟ جو دن میں کترا کر گزرتے ہیں وہ دکھ میں رات میں ماں کو کیوں بلاتے ہیں؟ یہ سوال اکثر اس کے ذہن کو پریشان کرتا مگر اب کالی راتیں جواز کے ساتھ اس کے سامنے کھلی پڑی تھیں۔“
” افسانہ“ باسٹرڈ میں ایک پادری کی بیٹی کی شادی جارج سے ہوجاتی ہے۔ دونوں کی ازدواجی زندگی اچھی گزر رہی ہوتی ہے شک کا بیج دونوں کی زندگی میں زہر گھول دیتا ہے۔ ان کے بیٹے ڈیوڈ کے کالا رنگ کی بنا پر جو لیا کا ایک پرانا محلے دار، جارج کے کان میں یہ بات ڈالتا ہے کہ جو لیا کا ایک پرانا بوائے فرینڈ بھی تھا جس کا رنگ سانولا تھا۔ جارج کو چک ہوجاتا ہے کہ ڈیوڈ اس کا بیٹا نہیں ہے اور ڈیوڈ سے محبت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
جولیا کی بیٹی کو گورے رنگ کی وجہ سے جارج اپنا تسلیم کرتا ہے۔ جو لیا اپنے بیٹے کے بقا کی جنگ کے لیے اس کا ڈین این اے ٹیسٹ کرواتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جارج کا بیٹا ہے بدقسمتی سے اسی دن جارج کا زیادہ شراب پینے کی وجہ سے انتقال ہوجاتا ہے اور جو لیا اپنے بیٹے ڈیوڈ کے ساتھ ”باسٹرڈ“ کا لفظ ہٹانے میں ناکام ہو جاتی ہے۔
افسانہ ”جیسیکا میری“ میں رانی آکاش نے ایک ایسی حسین عورت کی کہانی بیان کی ہے جو پیدا تو عیسائی ہوتی ہے مگر خفیہ اسلام قبول کر لیتی ہے۔ اس کا ایک بیٹا بھی ہے وہ اپنے عیسائی شوہر سے طلاق لے لیتی ہے۔ تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک دن وہ اسلامیات کی استاد کے غیر حاضر پر اسلامیات پڑھا دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے پورا شہر اس کے خلاف ہوجاتا ہے کہ اس نے عیسائی ہوتے ہوئے اسلامیات کیسے پڑھائی۔ مشتعل افراد اس کے گھر پر حملہ کر دیتے ہیں جس میں اس کے بیٹے کی آنکھیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ اسے جان کی امان دینے کے لیے ہر افسر اس سے زنا کرتا ہے۔ شہر بدر ہونے کے بعد وہ ہادیہ اور اس کا بیٹا احمد کے نام سے منظر عام پر آتے ہیں۔ اتنی تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد انتہا پسند معاشرے کے ظلم و ستم سہنے کے بعد اس کے دل سے معاشرے کا خوف نکل جاتا ہے۔
افسانہ ”درویش“ میں بھرواکا سسر اس پر اپنا اعتبار بحال کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دیتا ہے۔ جب وہ مالکن سے کہتی ہے کہ مجھے اپنے گھر میں پناہ دے دو تو اس کی مالکن خاموش ہوجاتی ہے یہ سوچ کر کہ ہر گھر میں اس کے سسر جیسا درویش موجود ہے۔
افسانہ ”شیری“ میں ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کی ہے جو شوہر سے نفرت کی وجہ سے اپنے حمل کو ضائع کر دیتی ہے اور جب شوہر اسے طلاق دیتا ہے تو شوہر کی محبت میں مبتلا ہوجاتی ہے اور پوری زندگی اپنے شوہر کی یاد اور اپنے وجود میں نہ آنے والے بیٹے سے باتیں کرتے ہوئے پچھتاوے میں گزار دیتی ہے۔
افسانہ ”تیرے وعدے پہ جیے ہم“ میں ایک پڑھی لکھی لڑکی کو اس کا کزن کافی دن محبت کا جھانسا دے کر بے وقوف بناتا ہے اور خود دوسری لڑکیوں سے عشق بگھارتا رہتا ہے۔ کافی سال دھوکہ کھانے کے بعد جب وہ لڑکی ایک شادی شدہ دو بچوں کے باپ سے شادی کر لیتی ہے تو اسی رات خانہ بدوشوں میں شادی کر لیتا ہے اور دوسری صبح خودکشی کر لیتا ہے۔ اس کے انتقال کی خبر سن کر اس لڑکی کا پانچ ماہ کا حمل ضائع ہوجاتا ہے۔
افسانہ ”قوم لوط“ میں ڈاکٹر رانی آکاش نے بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کو موضوع بنایا ہے۔ کچھ خاندانوں میں اخلاقی گراوٹ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بڑے کزن اگر چھوٹے کزن کو اپنی جنسی درندگی کا نشانہ بنائیں تو اسے برا تصور نہیں کیا جاتا۔ بچے اس درندگی کا شکار ہونے کے بعد بڑے ہونے پر نفسیاتی ہو جاتے ہیں یا پھر جنسی طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض اوقات اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے کہ جو اپنی تکلیف کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔
افسانہ ”ابن افلاس“ میں ایک مرد اسے مسلسل عشق کا جھانسہ دیتا ہے۔ جب وہ حمل سے ہونے کا اقرار کرتی ہے تو بازار میں خریداری کے دوران رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے جسم میں گولیاں اتار دیتا ہے۔ جب اس لڑکی کی روح اس مرد کو ڈھونڈتے ہوئے اس کے پاس پہنچتی ہے تو علم ہوتا ہے کہ اسے اسی مرد نے موت کے گھاٹ اتارا ہے جو اس کی محبت کا دم بھرتا تھا۔ حتی کہ اسے مارنے کے لیے خریدا جانے والا پستول بھی اسی لڑکی سے دس ہزار روپے وصول کر کے خریدا ہوتا ہے۔
افسانہ ”خواب بنے عذاب“ میں ہیروئنچی باپ سر کی اوڑھنی تک بیچ دیتا ہے۔ اور جواری بھائی پندرہ ہزار میں جوان بہن کو جوئے میں ہار دیتا ہے۔ جب جوان بہن ستر سالہ مولوی کی دلہن بنتی ہے تو صدمے سے اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے۔ افسانہ ”فطرت“ میں ایک ہرجائی مرد کی داستان بیان کی ہے جس کی وجہ سے کئی لڑکیاں زندگی سے منہ موڑ لیتی ہیں۔ جب وہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے دوستی کرتا ہے تو وہ لڑکی اس کی بیٹی کی دوست نکلتی ہے۔
اس کی بیٹی اپنے باپ کی حقیقت جاننے کے بعد خودکشی کر لیتی ہے۔ افسانہ ”فطرت“ میں ایک ہرجائی مرد کی داستان بیان کی ہے جس کی وجہ سے کئی لڑکیاں زندگی سے منہ موڑ لیتی ہیں۔ جب وہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے دوستی کرتا ہے تو وہ لڑکی اس کی بیٹی کی دوست نکلتی ہے۔ اس کی بیٹی اپنے باپ کی حقیقت جاننے کے بعد خودکشی کر لیتی ہے
افسانہ ”تشنہ لب“ کا مرکزی کردار نسوانی حسن کی کمی کا شکار ہونے کی وجہ سے مردوں کی جانب سے مستقل مسترد کی جاتی ہے۔ اس لڑکی کو اپنی کم مائیگی کا احساس بہت بعد میں ہوتا ہے۔
افسانہ ”تو اگر غمگسار ہوتا“ میں ایک مرد بیک وقت مختلف عورتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود پاکیزگی کی توقع رکھتا ہے۔ جب اس کی بیوی اپنے شوہر کی عیاشی کی وجہ سے اس کے دوستوں سے تعلق استوار کرتی ہے تو شوہر پلٹ آتا ہے مگر بیوی کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ افسانہ ”مسافر“ میں ایک کم صورت عورت اور ایک موٹے بھدے حسن پرست شخص کی محبت فون پر پروان چڑھتی ہے۔ مگر وہ شخص اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد مسترد کر دیتا ہے۔ خوبصورت لڑکی سے شادی کر لیتا ہے اور اس کی بیوی اس کے دولت مند دوست کے ساتھ بھاگ جاتی ہے تب اسے وہ کم صورت لڑکی یاد آتی ہے اسے ڈھونڈتے ہوئے اس کے گھر پہنچتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وہ تو اسی روز مر گئی تھی جس روز اس نے اسے اپنی زندگی سے دھکے دے کر نکالا تھا۔
افسانہ ”سفر رائیگاں“ میں اس کی ماں لڑکیوں کی شادی کے خلاف ہوتی ہے۔ بڑی بہن گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ وہ حبیب کے مستقل ناز نخرے اٹھاتی ہے مگر جب وہ اسے عورت کے بجائے پیسہ کمانے کی مشین سمجھتا ہے تو وہ دو کتے خرید کر پال لیتی ہے اپنے کتھارسس کے لیے۔ افسانہ ”فہرست“ میں مرد کی فطرت کی عکاسی کی ہے۔ مرد ہمیشہ اس عورت کی محبت میں مبتلا ہوتا ہے جو اس کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو عورت اپنا آپ پیش کردے وہ فہرست میں سب سے نیچے ہوتی ہے۔ افسانہ ”بانجھ زمین“ میں ایک طوائف اپنی تمام عمر کی کمائی ایک نوعمر لڑکے پر وار دیتی ہے جب وہ اسے دنیا کی حسین ترین عورت قرار دیتا ہے۔ افسانہ ”سائبان“ باپ کے مرنے کے بعد بیٹیوں کا سائبان رخصت ہوجاتا ہے اور پوری دنیا ان کے لیے گدھ بن جاتی ہے۔




