کچھ باتیں زاہد بھائی اور آزاد قوم کی

مسٹر اے۔ آر۔ زاہد ہمارے ملک کی ایک انتہائی معروف شخصیت ہیں۔ اگر آپ اخبارات پڑھتے ہیں تو آپ ان کی ذات اور کارناموں سے بخوبی واقف ہوں گے۔ آپ ملک کے ایک نامور بیوروکریٹ رہے۔ آپ نے نہایت اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور ملکی تاریخ کے کئی کلیدی فیصلے آپ کے قلم سے صادر ہوئے۔ سول سروس کے طویل کیریر میں ایک سرکاری افسر کی حیثیت سے آپ کی پیشہ ورانہ قابلیت، دیانت، سمجھ بوجھ اور سب سے بڑھ کر آپ کا بے داغ ذاتی کردار ہمیشہ آپ کی پہچان رہا۔
سول سروس کی معراج کو پہنچ کر آپ سرکاری فرائض سے سبکدوش ہوئے جس کے بعد آپ نے میدان سیاست میں قدم رکھا اور ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ نے قانون سازی کے شعبے میں بھی اپنا لوہا منوا لیا۔ علاوہ بریں آپ کے خیال انگیز اخباری کالم اور تجزیے بھی ملک کے سنجیدہ حلقوں میں ذوق و شوق سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔
بے شک دنیا مسٹر اے۔ آر۔ زاہد کو مذکورہ بالا حوالوں سے یاد کرتی ہے اور یاد کرتی رہے گی لیکن میرے لئے وہ آج بھی صرف میرے زاہد بھائی ہیں۔ میرے دوست میرے ممدوح اور میرے محسن۔ میرے دل میں ان سے عقیدت کی حد تک پہنچی ہوئی محبت آج بھی بالکل ویسے ہی تر و تازہ ہے جیسے آج سے دہائیوں پہلے تھی۔
۔ وقت بہت بیت چکا ہے اور میرا معدوم ہوتا ہوا حافظہ اکثر مجھے دھوکا دینے لگا ہے لیکن زاہد بھائی سے پہلی ملاقات آج بھی نقش اول کی طرح میری یاد داشت میں مرتسم ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہمارے ملک کو غیر ملکیوں کی غلامی سے آزاد ہوئے محض چند ہی برس ہوئے تھے۔ وہ آتی سردیوں کا کوئی دن تھا جب میں پہلی بار زاہد بھائی سے ان کے دفتر میں ملا تھا۔ اس ملاقات کا پس منظر بھی دلچسپ تھا اس لیے بتا دینا بہتر ہو گا۔
ان دنوں میں اوائل شباب کی مستی سے بھر پور قریب بیس برس کا ایک نہایت صحت مند، خوبرو اور شوخ و شنگ نوجوان تھا۔ میں پڑھائی میں بغیر کسی خاص محنت کے محض قدرتی ذہانت کے بل بوتے پر کامیابیاں سمیٹتا آیا تھا۔ میری دلچسپی کا اصل میدان ان دنوں عشق و عاشقی کا میدان تھا۔ حسینوں اور مہ جبینوں کے آستانوں پر حاضریاں بھرنا میرا محبوب مشغلہ تھا (اس کام سے اگر کچھ وقت بچتا تو نصابی کتب بھی کھول کر دیکھ لیتا)۔ دوسری جانب سے ملنے والی بھرپور پذیرائی نے میرا دماغ اور بھی خراب کر دیا تھا۔ اب میرے ذہن کے اندر فلم نگری میں قسمت آزمانے اور رنگ و نور کی دنیا کو اندر سے دیکھنے کے منصوبے پلنے لگے تھے۔
والد صاحب، خدا ان کو غریق رحمت کرے، جلد ہی میری ان سرگرمیوں اور ارادوں سے واقف ہو گئے۔ بڑی اولاد ہونے کے ناتے میں ہی ان کی تمام امیدوں کا محور و مرکز تھا۔ وہ کب سے آس لگائے بیٹھے تھے کہ میں، ان کی خواہشات کے احترام میں، بی۔ اے پاس کرتے ہی سول سروس کے امتحان کی تیاری شروع کر دوں گا۔ لیکن یہاں معاملہ کسی اور سمت جاتے دیکھ کر وہ پریشان رہنے لگے تھے۔ انہوں نے کئی بار اپنے سادہ دیہاتی اسلوب میں مجھے قائل کرنے اور ’راہ راست‘ پر لانے کی کوشش کی مگر میں اتنی آسانی سے کہاں پکڑائی دینے والا تھا۔ ہر بار انہیں غچہ دے کر نکل جاتا تھا۔
پھر ایک روز یوں ہوا کہ والد صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے ساتھ ان کے ایک دوست سے ملنے چلوں۔ مجھے ان کے دوستوں سے قطعاً کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یوں بھی میں اس ملاقات کی غرض و غایت کا کچھ کچھ اندازہ لگا چکا تھا۔ میں نے بہانے بازی سے کام لے کر اپنی جان چھڑانے کی بڑی کوشش کی لیکن اس روز والد صاحب کے مصمم ارادے کے آگے میری ایک نہ چلی اور مجھے ان کے ہمراہ جانا ہی پڑا۔
ہمارا علاقہ ملک کے مغربی حصے میں پہاڑوں میں گھری ایک گمنام سی تحصیل میں واقع تھا۔ والد صاحب مجھے لے کر اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژن کے دفتر میں آ گئے۔ انہوں نے ایک کمرے کی چق اٹھائی اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے پیچھے میں بھی داخل ہوا۔ اس لمحے تک والد صاحب کے دوست ہونے کے حوالے سے میرے ذہن میں کسی سال خوردہ، کھچڑی بالوں اور موٹے شیشوں کی عینک والے افسر کا تصور تھا۔ لیکن یہ دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ ابا کا وہ دوست کوئی بڈھا کھوسٹ نہیں بلکہ ایک خوش شکل، خوش لباس، جوان رعنا تھا۔ اس جوان نے گہرے نیلے رنگ کے عمدہ سلے ہوئے سوٹ پر قرمزی رنگ کی نکٹائی لگا رکھی تھی۔ قد لانبا، شانے چوڑے اور مضبوط، ستواں ناک، رنگ دہکتا ہوا سرخی مائل، بال گھنے سیاہ اور قدرے لہریے دار تھے۔
والد صاحب کو دیکھ کر وہ جوان بڑے با وقار انداز سے اپنی کرسی سے اٹھا اور ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بڑی گرم جوشی اور تپاک کے ساتھ ان کا حال احوال ان کی مادری زبان میں دریافت کیا۔ وہ مسکرا رہا تھا اور اس نے دونوں آنکھیں پوری طرح مخاطب کی آنکھوں میں ڈال رکھی تھیں۔ والد صاحب نے میری جانب اشارہ کر کے میرا تعارف کروایا تو وہ لمحے بھر کو ٹھٹھکا پھر آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور نہایت شائستہ انگریزی میں اپنا تعارف کرایا اور ساتھ ہی میرا حال پوچھا۔ چند لمحات کے لیے تو میں بالکل گڑبڑا گیا تھا لیکن پھر خود کو سنبھال کر میں نے بھی انگریزی ہی میں جوابی رسمی کلمات ادا کیے۔ انہوں نے دھیرے سے سر ہلا کر گویا قبولیت کا اشارہ کیا اور ہم دونوں کو بیٹھنے کے لیے کہا۔
دوران گفتگو مجھے اندازہ ہوا کہ والد صاحب کس طرح علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے کے حل کے سلسلے میں زاہد بھائی سے ملے تھے۔ انہوں نے نہ صرف وہ مسئلہ حل کروا دیا تھا بلکہ اپنے حسن اخلاق سے والد صاحب کو اپنا گرویدہ بھی بنا لیا تھا۔ گفتگو کے آخر میں جب ابا نے اپنے آنے کا اصل مدعا بیان کرتے ہوئے میری جانب اشارہ کیا تو زاہد بھائی مسکرا پڑے تھے۔ انہوں نے مجھے تاکید کی کہ میں دفتری اوقات کے بعد کبھی کبھی ان سے ملا کروں۔ پھر انہوں نے والد صاحب کو تسلی دی کہ فکر کی کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کچھ دیر بعد ہم باپ بیٹا ان سے اجازت لے کر چلے آئے مگر میں مکمل طور پر زاہد بھائی کی شخصیت کا اسیر ہو چکا تھا۔
وہ دن میری زاہد بھائی سے دوستی کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔
اس روز والد صاحب کی زبانی مجھے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی تھی کہ زاہد بھائی جن کو میں اسسٹنٹ کمشنر سب ڈویژن سمجھا تھا، وہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں محض ایک معمولی اہلکار تھے۔ یہ بات والد صاحب سے کہی تو وہ بولے ”بچے یہی تو تجھے دکھانا تھا کہ گدڑی میں کیسے کیسے لعل ہوتے ہیں۔“ پھر انہوں نے تفصیلاً مجھے بتایا کہ زاہد بھائی نے کس قسم کے دشوار خاندانی حالات میں اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور پھر کیسے معاشی مسائل کے پیش نظر ایک معمولی نوکری سے آغاز کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ ”مگر تم دیکھنا یہ لڑکا زندگی میں بہت آگے جائے گا۔“ والد صاحب نے افق کی طرف دیکھتے ہوئے پیش گوئی کے انداز میں کہا تھا۔
میں نے زاہد بھائی کی ہدایت کو پلے باندھ لیا اور ان سے ان کے مکان پر ملنے لگا۔ ان دنوں وہ ابھی غیر شادی شدہ تھے۔ شام کے بعد ان کی کوئی اور مصروفیت نہ ہوتی تھی اس لیے ہماری لمبی نشستیں جمتیں۔ ہم دنیا جہان کے موضوعات پر بات کرتے لیکن حالات حاضرہ اور تاریخ پر ہماری خاص توجہ رہتی تھی۔ ہر نشست کے اختتام پر میں زاہد بھائی کی علمی بصیرت اور قوت حافظہ پر پہلے سے زیادہ متاثر ہو کر اٹھتا۔ زاہد بھائی کے ساتھ محض چند ماہ کی نشست و برخاست نے میری شخصیت کا رخ بالکل بدل کے رکھ دیا۔ ان کے طفیل اب میں ایک لا ابالی اور کھلنڈرے نوجوان سے ایک سنجیدہ اور پر عزم انسان بن چکا تھا۔ میری زندگی کا مقصد اب میرے سامنے واضح اور متعین تھا۔ میں ڈٹ کر سول سروس کے امتحان کی تیاری کرنے لگا اور اگلے سال سرما میں امتحان دے ڈالا۔
وہ موسم گرما کا آغاز تھا جب میرے نتیجے کا اعلان ہوا۔ میں اپنے صوبے سے کامیاب ہونے والا اس سال کا واحد امیدوار تھا۔ جوش مسرت میں دیوانہ ہو کر میں اپنے نتیجے والا اخبار ہاتھ میں لیے ، بائسیکل کے پہیے مارتا، زاہد بھائی کے گھر پہنچا جو اس وقت تیار ہو کر دفتر کے لیے نکل رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر میں نے دور ہی سے نعرہ مار دیا۔ زاہد بھائی نے پہلی بار مجھے سینے سے لگایا، تھپکی دی اور کہا:
”Congratulations“
پھر قدرے توقف کے بعد انگریزی ہی میں بولے : ”یہ پہلا قدم ہے دوست۔ تمہاری منزل بہت آگے ہے۔ آگے بڑھو اور فتح حاصل کرو۔ وقت تمہاری طرف ہے۔“ اتنا کہ کر وہ اپنے راستے پر چل پڑے۔
یوں زاہد بھائی کی شفقت کے سائے سائے میں پاکستان سول سروس میں داخل ہوا، ان کا ہمکار اور رفیق ہوا اور پھر ایک کامیاب سرکاری افسر بن کر ریٹائر ہوا۔ میری زندگی آوارگی کی نذر ہونے سے بچ گئی اور والد صاحب کی آرزو بھی پوری ہوئی۔ زندگی کے اس مشترکہ پہلو کے سبب مجھے زاہد بھائی کی زندگی خصوصاً ان کے پیشہ ورانہ معاملات کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ بلا شک و شبہ میں نے ان کی ذات سے بہت اکتساب کیا ہے۔
جیسا کہ والد صاحب نے پیشگوئی کی تھی، زاہد بھائی کی بیش بہا صلاحیتیں زیادہ عرصہ ان کے افسران بالا کی نظروں سے چھپی نہ رہیں۔ ان کو ان کے سرکاری مناصب سے بڑھ کر ذمہ داریاں دی جانے لگیں۔ انہوں نے ہر بار خود کو ان ذمہ داریوں کا اہل ثابت کیا۔ یوں ان کو غیر معمولی تیز رفتاری سے ترقی ملتی چلی گئی۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ وفاق نے صوبے سے زاہد بھائی کی خدمات مانگ لیں۔ یہاں ان کو ایسے مناصب پر فائز کیا گیا جن پر اس زمانے میں صرف وفاقی سول سروس کے افسروں کی اجارہ داری تھی۔
زاہد بھائی کی تقرری پر ان سکہ بند افسران نے کافی شور و غل بھی کیا لیکن وہ ان کا راستہ نہ روک پائے۔ زاہد بھائی کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی بے مثال قوت حافظہ تھی جس نے ان کی انتھک محنت اور احساس ذمہ داری کے ساتھ مل کر سہ آتشہ کام دکھایا تھا۔ ان کو جس عہدے اور جس محکمے میں بھی لگایا جاتا وہ ہفتوں مہینوں نہیں بلکہ دنوں کے اندر اس کے جملہ قواعد و ضوابط اور امور حاضرہ پر عبور حاصل کر لیتے تھے۔ اس عبور کی مدد سے وہ اپنی انتظامی گرفت کو اتنا مضبوط کر لیتے کہ بڑے بڑے گرو گھنٹال بھی ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔
ان دنوں ان کو دفتری ضوابط کی چلتی پھرتی لائبریری کا نام بھی دیا گیا تھا۔ وہ جس محکمے میں تعینات ہوتے وہاں کے بد عنوان اور راشی افسر یا تو توبہ تائب ہو جاتے یا پھر اپنا تبادلہ کہیں اور کروا لیتے تھے بصورت دیگر وہ جلد ہی انضباطی کارروائی میں دھر لیے جاتے۔ اپنی انہی غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر زاہد بھائی نے سول سروس کی تاریخ میں بے مثال ترقی اور عروج پایا۔ وہ سرکاری عہدے جن کے لیے دوسرے افسران خوار ہوتے پھرتے تھے، باندیوں کی طرح زاہد بھائی کے آگے پیچھے ڈولتے۔ اپنے بیالیس سالہ طویل کیریر میں انہوں نے ملک کے قریب قریب ہر محکمے کی سربراہی کی۔ وہ اپنی زندگی میں ہی لیجنڈ بن گئے اور ان کے پیشہ ورانہ کارنامے زیر تربیت افسروں کو کیس اسٹڈی کے طور پر پڑھائے جانے لگے۔ سول سروس کی تاریخ میں یہ اعزاز شاید ہی کسی اور افسر کس حصے میں آیا ہو گا۔
لیکن آج جب میری زندگی کا سورج منزل غروب میں ہے اور کوئی بھی سانس میری آخری سانس ہو سکتی ہے تو میرے اندر کوئی مسلسل کچوکے لگا رہا ہے کہ میں آپ کو زاہد بھائی کی زندگی کے کچھ ایسے گوشے بھی دکھاؤں جو عوام الناس کی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں۔ میرا مقصد ہرگز ہرگز کسی بھی طرح زاہد بھائی کی کردار کشی نہیں ہے۔ اور نہ ہی میں ان کے حوالے سے ایسا کبھی تصور بھی کر سکتا ہوں کہ جنہیں میں نے ہمیشہ اپنا مربی اور محسن سمجھا ہے۔
مقصد نئی نسل کو صرف یہ بتانا ہے زاہد بھائی خواہ کتنے بھی باصلاحیت تھے ان کی کامیابی کا راز محض ان کی ان خوبیوں میں نہیں تھا جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ وطن عزیز میں سرکاری نوکری میں کامیاب ہونے کے کچھ اور تقاضے بھی ہوتے ہیں جن کو ہم جیسے کم فہم کبھی سمجھ نہ پائے اور اسی لیے کبھی بھی ان رفعتوں کو نہ پا سکے جو زاہد بھائی کا مقدر ٹھہریں۔
مجھے سول سروس کا حصہ بنے ہوئے ابھی چند ہی سال گزرے تھے جب ملک میں پہلا ’انقلاب‘ آیا اور دستوری بندوبست کی بساط لپیٹ دی گئی۔ ’انقلاب‘ یوں تو پرامن تھا لیکن کچھ ہی ہفتوں بعد انقلابی ٹولے کی طرف سے اس طرح کے اعلانات سامنے آنے لگے جن کے مطابق ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں نوکر شاہی کا بہت بڑا حصہ تھا لہذا اسے ’بدعنوان‘ (ناپسندیدہ؟ ) عناصر سے پاک کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ چنانچہ ایسے ناقابل قبول عناصر کی فہرستیں تیار کی جانے لگیں۔
ہر روز ایک نئی دھماکے دار خبر سیکرٹیریٹ کے درو دیوار کو تھراتی اور ہم جیسے جونئیرز دل تھام کے رہ جاتے۔ میں اگرچہ محتاط اور ذمہ دار افسروں میں شمار ہوتا تھا لیکن اس دور بے اماں میں مجھ سمیت کسی کو بھی دستار سلامت رہنے کا یقین نہ تھا۔ اس حالت تفکر میں مجھے زاہد بھائی کی شفقت ہی جائے پناہ نظر آئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح تپاک سے پیش آئے۔ بٹھایا، حال پوچھا، چائے منگوائی۔ قیافہ شناس تو وہ تھے ہی سو ماتھے کی لکیروں سے ان کو پریشان دل کی تحریر پڑھنے میں دیر نہ لگی۔ اپنی مخصوص زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ کسی قدر میری طرف جھکے اور بولے :
” کیا بات ہے میاں کچھ پریشان لگتے ہو؟“
ان کا اشارہ پاتے ہی میں نے حال دل کہ سنایا بلکہ خاصی تفصیل سے پیش کر دیا۔ اور آخر میں ’اس کمبخت انقلاب‘ کو جلد خاتمے کی بد دعا بھی دے ڈالی۔
زاہد بھائی نے کمال متانت سے میری بات سنی مگر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ انہوں نے فون اٹھایا اور اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سے ایک نمبر ملوانے کو کہا۔ کچھ دیر بعد فون کا بزر بجا۔ زاہد بھائی کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ دوسری طرف انقلابی بندوبست کی کوئی اہم شخصیت تھی۔ کئی منٹ تک جاری رہنے والی یہ بات چیت ایسی چاشنی میں ڈوبی ہوئی تھی کہ طرفین کے تعلقات کی گہرائی کا اندازہ کرنا مشکل نہ تھا۔ ختم کرنے سے پہلے زاہد بھائی نے مخاطب کو میرا مکمل نام، عہدہ اور موجودہ محکمہ لکھوا دیا۔ دوسری جانب سے تعاون کا یقین دلایا گیا جس پر زاہد بھائی نے شکریہ ادا کر کے فون رکھ دیا۔
اب انہوں نے روئے سخن میری طرف کیا، مسکرائے اور بولے :
”Cheer up- You are in safe hands now“
میں نے زاہد بھائی کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ ان کے الفاظ کی تصدیق کر رہی تھیں۔ میں نے پشت کرسی سے لگائی اطمینان بھرا گہرا سانس لیا اور پھر وہ سوال میرے منہ سے پھسل پڑا جو کافی دیر سے پس دہن کلبلا رہا تھا۔
” زاہد بھائی! باہر دنیا ایک افراتفری اور بے یقینی کے قہر میں ہے اور آپ ایسے پرسکون ہیں جیسے آپ کا کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ لگتا ہے انقلاب ابھی تک آپ کے دروازے کے باہر کھڑا اجازت کا منتظر ہے۔“
زاہد بھائی زور سے ہنس دیے : ”دیکھو میاں! تبدیلی دنیا کا واحد مستقل اصول ہے۔ عقلمند وہ ہے جو بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھے۔ انقلاب انہی کو ڈراتا ہے جو اس کے لیے تیار نہ ہوں۔ ہم تو اس کے قدموں کی چاپ سن کر ہی منقلب ہو چکے تھے۔“
زاہد بھائی کے آخری جملے سے معا میرے ذہن میں ایک فلیش لائٹ سی جلی اور اس میں انقلاب سے کچھ ہفتے پہلے کی وہ اخباری سرخیاں گونجنے لگیں جن کے مطابق زاہد بھائی نے سربراہ حکومت کے کچھ احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا بلکہ اعتراض لگا کر فائل واپس بھجوا دی تھی۔ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ اس پر وزیر موصوف کو خاصی عوامی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور وہ بہت سیخ پا ہوئے تھے۔ انہوں نے زاہد بھائی کے خلاف ’ایکشن‘ لینے کا عندیہ بھی دیا تھا لیکن اس پہلے کہ وہ کچھ کر پاتے، انقلاب نے ان کو آ لیا اور ان کی تمام کارروائیاں دھری رہ گئیں۔ تو کیا زاہد بھائی کے ایسے پیش از وقت اقدامات کا کوئی ناتا ’انقلاب‘ کی آمد سے تھا؟ کیا ان کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ حکومت کا چل چلاؤ ہے؟ زاہد بھائی کی آج کی گفتگو کے تناظر میں شاید یہ کچھ ایسا بعید از قیاس بھی نہ تھا۔
مجھے رخصت کرتے ہوئے زاہد بھائی نے میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا تھا :
”دیکھو میاں! کامیاب انقلاب اپنا جواز خود ہوا کرتا ہے۔ ہم عوام کے نہیں عوام کے حکمرانوں کے خادم ہیں۔ خواہ وہ حکمران کوئی بھی ہوں۔ اس سادہ سے اصول کے ہوتے ہوئے تم کو کسی اور فلسفے کی حاجت نہیں۔ خدا تمہارا حامی ہو۔“
میرا مشکل وقت بخیریت گزر گیا۔ جہاں زاہد بھائی کے آس پاس کے کئی افسر بزور گھر بھیج دیے گئے تھے، ان کو انقلابی ٹولے نے مزید ترقی سے نوازا۔
ادھر انقلابی جم گئے۔ وقت کا پہیہ آگے چلتا گیا۔ پانچ ہزار سالوں سے عادی قوم نے اس ’انقلاب‘ کو بھی قبول کر لیا تھا۔ جلد ہی سیاست، معیشت، معاشرت، عدالت، صحافت حتی کہ ادب نے بھی خود کو انقلاب کے پیمانوں کے مطابق ڈھال لیا۔ ادھر ادھر کے چند دیوانوں کو چھوڑ کر ملک میں سبھی ’انقلابیوں‘ کے ہمنوا ہو گئے۔ انقلابی ٹولے کو ہر مشکل موڑ پر پشت پناہوں کی فوج ظفر موج میسر آئی جنہوں نے پھنسے ہوئے پہیے کو اپنے کندھے کے زور سے باہر نکالا۔ جلد ہی واعظین خوش کلام بھی فدائین کے اس انبوہ کثیر کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے مسئلہ جبر و قدر کو یوں واضح کیا کہ تدبر اور تدبیر کا کانٹا ہی نکال دیا۔ یوں سب کا وقت سکون سے کٹنے لگا۔
ایک دہائی یوں ہی بیت گئی۔ ایسا لگتا تھا کہ اس انقلابی ٹولے کو شاید ثبات دوام حاصل ہو گیا ہے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں نا کہ تبدیلی ہی دنیا کا واحد مستقل اصول ہے، اسی انقلابی ٹولے کے اندر سے کچھ بت شکن پیدا ہو گئے جنہوں نے گرز مار مار کر پرانے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ ایک دن آیا جب انقلابی ٹولے کے سرخیل میں مزید دشنام جھیلنے کی سکت ختم ہو گئی۔ اس نے بایاں ہاتھ اپنے بیمار دل پر رکھا اور دائیں ہاتھ سے استعفے پر دستخط کر کے اسے نئے انقلابی ٹولے کے سرخیل کے سپرد کر دیا جو اپنے بندوق بردار ساتھیوں کے ہمراہ اسے یوں گھیرے کھڑا تھا جیسے لاش کو گدھ۔
نئے انقلابی ٹولے نے پچھلے ٹولے کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے ایک بار پھر ’نوکر شاہی کی تطہیر‘ کا کام سنبھالا۔ پھر سے دارو گیر کا میدان سجا۔ ذاتی رنجشیں نکالی گئیں۔ پھر سے گھن کے ساتھ گیہوں پسا۔ پھر سے افسروں کے سروں کے مینار بنا کر فتح کا جھنڈا لہرایا گیا۔ مجھے زاہد بھائی کی چھتر چھایا نے ایک بار پھر بچا لیا۔ دوسرا انقلاب بھی مجھے چھوئے بغیر گزر گیا۔
نئے انقلابی ٹولے نے ملک کا اقتدار تو سنبھال لیا لیکن پچھلی ایک دہائی کے جبر کا رد عمل اب آنا شروع ہو گیا تھا۔ عوامی غیض و غضب لاوے کی صورت پھوٹ بہنے کو تھا۔ زمین تھرا رہی تھی۔ قرائن بتاتے تھے اب کہ جو انقلاب آئے گا وہ بہت خوفناک ہو گا۔ ہر کوئی پریشان تھا سوائے نئے انقلابیوں کے جو اپنی بنائی ہوئی کسی خیالی جنت میں آباد تھے اور زمینی حقائق سے قطعی بے بہرہ۔
اور آ خرکار اس خوفناک انقلاب نے ہمیں آ لیا۔ خون اتنا بہا کہ سارے دریا سرخ ہو گئے مگر خون نہ تھما۔ اور پھر وہ روز سیاہ بھی آیا جب آن کی آن میں وقت نے صفحہ پلٹ لیا۔ تاریخ، جغرافیہ، اپنے، پرائے، رشتے ناتے، سب کچھ بدل گیا۔
وہ موسم سرما کا ایک بے حد سرد اور ابر آلود دن تھا جب مجھے اس نئے ’انقلاب‘ کی ’تکمیل‘ کی خبر ملی۔ سینے میں ایسا چبھن والا درد رہ رہ کر اٹھتا تھا جو کسی طور چین لینے نہیں دے رہا تھا۔ آخر فیصلہ کیا کہ چھٹی کر کے گھر چلا جائے۔ سرکاری موٹر میں جب سیکرٹیریٹ سے نکل کر باہر آیا تو داہنی طرف کے بلند پہاڑی سلسلے پر نظر پڑی جس کا سبزہ اس وقت گہرے سیاہ بادلوں کی دھند میں لپٹا ہوا تھا۔ پہاڑ سے میرا ذہن معاً زاہد بھائی کی طرف پلٹ گیا۔ وہ بھی تو یہیں کہیں تھے چند بلاک دور۔ ڈرائیور سے کہا تو اس نے موٹر ان کے دفتر کی طرف موڑ لی۔
پہنچ کر اطلاع کروائی۔ انہوں نے فوراً ہی بلوا لیا۔ ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے میں تصور کی آنکھ سے زاہد بھائی کو رنجیدہ اور مغموم دیکھ سکتا تھا۔ آج دل کی تہ میں چھپی ہوئی واحد خواہش یہ تھی کہ ان کا مضبوط کاندھا مل جائے اور میں اپنا سر اس پے رکھ کر دھاڑیں مار مار کر رو سکوں۔
لیکن زاہد بھائی نے روز اول کی طرح ایک دفعہ پھر مجھے حیران کر دیا تھا۔
میں ان کے دفتر کے ایرانی قالین سے ڈھکے فرش پر کھڑا تھا۔ کمرہ گرم تھا۔ ساگوان کی سنہری فریم والی جہازی میز کے دوسری طرف زاہد بھائی حسب معمول ایک نفیس انگریزی سوٹ اور متناسب نکٹائی لگائے بیٹھے تھے۔ فون پر کسی سے بات کر رہے تھے اور بہت خوشگوار موڈ میں لگ رہے تھے۔ فائلیں ’ان‘ اور ’آؤٹ‘ کی باسکٹوں میں سلیقے سے پڑی تھیں۔ ایک فائل سامنے کھلی ہوئی تھی جس پر انہوں نے نوٹ ابھی آدھا لکھا تھا۔ بائیں ہاتھ میں فون تھا جب کہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں قلم دبا ہوا تھا۔
داہنے ہاتھ پر ہی گرم بھاپ دیتی کافی چینی طرز کے نفیس کپ میں دھری تھی۔ ان کے عقب میں دیوار گیر آبنوسی الماری کے شیلفوں میں دفتری، قانونی، حوالہ جاتی کتابیں، نئے پرانے اقتصادی جائزے، ورلڈ بینک اور آئی۔ ایم۔ ایف کی سالانہ جلد بند رپورٹیں اور اکا دکا ادبی اور تاریخی کتب جو سب انگریزی میں تھیں، دیکھی جا سکتی تھیں۔ کمرے کے کونے میں دھرے منقش گلدان میں تازہ گلاب سجے ہوئے تھے۔
میری آمد پر زاہد بھائی اپنی گفتگو مختصر کر کے اٹھے۔ حسب عادت میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر گرم جوشی سے دبایا اور بولے : ”کیسے ہو میاں۔ بہت دنوں میں آئے؟“
میں محض سر ہلا کر رہ گیا۔ انہوں نے کونے میں پڑے صوفوں کی طرف اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔ آج خلاف معمول زاہد بھائی سامع کی بجائے مقرر بنے ہوئے تھے۔ وہ بڑے جوش و خروش سے مجھے اپنی نئی پوسٹنگ اور اس کے دائرہ کار کے متعلق بتاتے رہے۔ مگر میرا دھیان کہیں اور ہی تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اتنے بہت سے سال گزر جانے پر بھی زاہد بھائی کے چہرے کی دہکتی ہوئی سرخی میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ سر کے بال البتہ کافی کم ہو گئے تھے اور جو بچے تھی وہ کھچڑی ہو چکے تھے۔ نظر کی عینک ان کو حال ہی میں لگی تھی۔
مجھے کھویا ہوا پا کر زاہد بھائی نے میرا کندھا پکڑ کر ہلایا : ”کیا بات ہے بھئی کہاں گم ہو؟“
میں جیسے نیند سے جاگا تھا۔ بدقت تمام میری کانپتی ہوئی آواز میرے حلق سے برآمد ہوئی ؛
” زاہد بھائی۔ آج ہمارا ملک ٹوٹ گیا۔ آج ہم۔“ اس سے آگے میں کچھ نہ بول پایا۔ آواز بھرا گئی۔ گلا رندھ گیا۔
زاہد بھائی نے یہ سن کر دم کھینچ لیا۔ کئی منٹ ایک اذیت ناک خاموشی میں بسر ہوئے۔ پھر ان کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ ہمیشہ کی طرح پرسکون۔
That is sad
پھر ایک وقفے کے بعد بولے :
Indeed —very very sad
انہوں نے عینک اتار کر تپائی پر رکھی اور تسلی دینے کے انداز میں اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر بولے :
” دیکھو میں تمہارے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔ تمہاری طرح میں بھی ناخوش ہوں۔ لیکن ہم سب بے بس ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل تھا جسے کوئی بھی روک نہیں سکتا تھا۔ بہتر یہی ہو گا کہ ہم جو ہوا اسے بھول کر آگے کی طرف دیکھیں۔“
اتنا کہ کر وہ کچھ دیر کو خاموش ہوئے اور پھر یوں بولے جیسے اپنا جامع نوٹ مکمل کرنے کے بعد اس کے نیچے دستخط کر رہے ہوں۔ ”ویسے بھی کہتے ہیں نا کہ خدا کے ہر کام میں کوئی بہتری ہوتی ہے تو اس میں بھی کوئی ہو گی۔“
میں نے یک دم نظریں اٹھا کر زاہد بھائی کو دیکھنا چاہا لیکن نجانے کیسے اس وقت پاس کے پہاڑوں کی ساری دھند میری آنکھوں میں اتر آئی اور میں کچھ بھی نہ دیکھ پایا۔ اس سے آگے سننے کی مجھ میں تاب تھی نہ مزید وہاں رکے رہنے کا حوصلہ۔ یہ میرے اور زاہد بھائی کے تعلقات میں پہلا سخت موڑ تھا۔ میں ایک لفظ بولے بغیر وہاں سے اٹھا اور چلا آیا۔ میرے کان پیچھے سے زاہد بھائی کی آواز کے منتظر رہے مگر وہ نہ آئی۔
میں گھر آ گیا۔ بوندا باندی ہلکی بارش میری بدل چکی تھی۔ سردی اور بڑھ گئی تھی۔ میری بیوی اور دونوں بچوں نے گرم اور آرام دہ گھر میں میرا استقبال کیا۔ میرے لباس تبدیل کرتے کرتے گرم کافی حاضر کر دی گئی۔ میں اپنے ذہن اور جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر کافی کے سپ لینے لگا۔ گھر کی آرام دہ فضا میں میرا دکھ اور صدمہ جلد ہی مدھم پڑنے لگا۔
وہ روز سیاہ بھی آخر ڈوب گیا۔ دوسرا دن۔ دفتر کا کام نمٹایا اور گھر آ گیا۔ تیسرا دن بھی ایسے ہی گزرا۔ اور پھر دن تیزی سے گزرنے لگے۔ ہفتے، مہینے، سال گزرتے گئے۔ ہم نے اب گنتی کرنا جھوڑ دیا تھا۔ ماضی کو ایک ڈراونا خواب سمجھ کر فراموش کر دیا گیا تھا۔ قوم اب آج اور آنے والے کل میں زندہ تھی۔
دوسرا انقلابی ٹولا باقی ماندہ ملک کو سیاسی ٹولے کے سپرد کر کے منظر سے غائب ہو گیا۔ سیاسی ٹولے نے از سر نو ملک میں دستوری بندو بست کی داغ بیل ڈالی۔ زاہد بھائی کا اقبال یہاں بھی بلند ہی رہا۔ ایک بار پھر افسر شاہی کا اہم ترین منصب ان کے سپرد ہوا۔ اب وہ ’عوامی حکومت‘ کی ’انقلابی اصلاحات‘ کی صورت گری کرنے والے تھے۔ اتفاقاً مجھے بھی ان کی وزارت میں تعینات کر دیا گیا اور یوں پہلی مرتبہ مجھے براہ راست ان کی ماتحتی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ زاہد بھائی اب بین الاقوامی شہرت کے سرکاری ملازم بن چکے تھے۔ ’عوامی حکومت‘ مکمل طور پر ان کی رائے اور مشوروں کی محتاج تھی۔ یہ ان کے کیریر کا بام عروج تھا جو ایک گمنام تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر کے معمولی ماتحت کے کبھی گمان میں بھی نہ آ سکتا تھا۔
ایک روز مجھے دفتر میں بیٹھے ان کا فون آیا۔ وہ بہت کم کسی کو فون کرتے تھے۔ کہ رہے تھے کہ شام کو گھر آ جاؤ کھانا اکٹھے کھائیں گے۔ میں نے کہا ’زہے نصیب‘ ۔ شام کو چلا گیا۔ وہ اچھے موڈ میں تھے۔ خوب گپ ہوئی۔ کھانے کے دوران انہوں نے یونہی بے پرواہی سے مجھے بتایا کہ ان کی تعیناتی ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارے میں بطور مشیر کے ہو گئی تھی اور وہ اگلی رات کی پرواز سے بیرون ملک روانہ ہونے والے تھے۔ میں ششدر رہ گیا۔ وہ اتنا بڑا فیصلہ لے چکے تھے اور کسی کو ہوا تک نہ لگنے دی تھی۔ خالص سرکاری افسروں والا کام کیا تھا زاہد بھائی نے۔ معاً میرے ذہن میں الارم بجا۔ ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ عوامی حکومت نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ میں نے کہا:
” زاہد بھائی! آپ تو اس حکومت کے دست راست تھے۔ آپ چلے گئے تو اس کے معاملات کون سنبھالے گا؟“
وہ دھیرے سے مسکرائے اور بولے : ”سنبھالنے والے سنبھال لیں گے۔ میں اپنا کام کر چکا ہوں۔ اب مجھے کچھ آرام چاہیے۔“
” یعنی۔ ؟“
” یعنی انتظار کرو اور دیکھو۔ یہ قورمے کا ڈونگا ذرا آگے بڑھانا۔ شکریہ“
چوبیس گھنٹوں کے بعد زاہد بھائی کو رات گئے کی پرواز سے رخصت کرنے والے چند لوگوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ وہ حسب معمول پرسکون تھے اور ہر قسم کے جذبات سے عاری۔ انہوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا، اپنا خیال رکھنے کی تلقین کی اور مسافروں کی بھیڑ میں گم ہو گئے۔
گھر واپس آتے ہوئے میرا دل کہ رہا تھا کہ ضرور کوئی بہت بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے۔ اور پھر اچانک چیزیں پر اسرار طریقے سے بدلنے لگیں۔
جس ’منتشر حزب اختلاف‘ کے آسرے پر حکومت نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا تھا وہ یکایک متحد ہونے لگی اور چند ہفتوں میں ایک زبردست انتخابی اتحاد میں بدل گئی۔ پولنگ میں دھاندلی کے الزامات سے شروع ہونے والا سیاسی جھگڑا کب اور کیسے ایک مذہبی تحریک میں بدلا اور وہ مذہبی تحریک کب اور کیسے ایک خون آلود خانہ جنگی میں بدل گئی، کسی کو کچھ پتا نہ چلا۔ آگ اور خون کا یہ بھیانک کھیل کئی ماہ تک جاری رہا۔ آخر ایک روز قوم کو ٹی۔ وی اور ریڈیو کے ذریعے یہ اطلاع ملی انقلابی ٹولے نے تیسری مرتبہ ملک کا بندوبست سنبھال لیا ہے۔ ان کے آتے ہی امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے لگی۔ دستوری بساط لپیٹ دی گئی۔ سیاسی عہدے دار اور کارکن کچھ اندر کر دیے گئے باقی باہر بھاگ گئے۔ چند ماہ کے اندر ہی راوی پھر سے چین کی بانسری بجانے لگا۔
زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ ایک روز یہ خبر جلی سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنی کہ نئے بندوبست کی درخواست پر عالمی اقتصادی ادارے کے پاکستانی نژاد مشیر جناب اے۔ آر۔ زاہد ملک کی قیادت سنبھالنے آ رہے ہیں۔ میں اور کچھ دوست جو زاہد بھائی کو جانتے تھے، یہ سن کر دنگ رہ گئے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے زاہد بھائی نئے بندو بست کے ساتھ یوں شیر و شکر ہوئے کہ ملک کے منتظم اعلی بن گئے۔ یہی نہیں بلکہ نئے بندو بست نے گزشتہ حکومت کے ’مظالم‘ کو بے نقاب کرنے کے لیے جو ’تحقیقاتی کمیشن‘ بنایا تھا، زاہد بھائی اس کے سربراہ بھی بن گئے اور سرکاری میڈیا کی مدد سے گزشتہ حکومت کی سیاہ کاریوں کو خوب نمایاں کیا۔
ان کی اور ان کے رفقاء کی شبانہ روز کوششیں رنگ لائیں اور گزشتہ حکومت کے سربراہ کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہم نے ٹی۔ وی پر زاہد بھائی کو انقلابی ٹولے کی چنی ہوئی نئی کابینہ سے حلف لیتے ہوئے دیکھا۔ تقریباً بلا استثنا یہ معزز ممبران گزشتہ کئی ’بدعنوان‘ حکومتوں کا حصہ رہ چکے تھے۔ میں اور میرے جیسے کئی اور زمین و آسمان کے یہ بدلتے ہوئے رنگ دیکھ رہے تھے مگر منہ سے کچھ بول نہ سکتے تھے۔
آج تک زاہد بھائی زندگی کے ہر انقلاب سے سرخرو ہو کر نکلے تھے مگر اب ایک نئی قسم کا انقلاب ان کا منتظر تھا۔
اس شام وہ انقلابی ٹولے کے ایک اہم قدم یعنی عام انتخابات کے سلسلے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے جو ٹیلیویژن پر براہ راست نشر کی جا رہی تھی۔ میں اور میری بیوی یہ پروگرام ٹی۔ وی پر دیکھ رہے تھے۔ نعروں اور تالیوں کے شور میں زاہد بھائی کرسی صدارت پر براجمان ہوئے، ساتھ بیٹھے رفقا سے کچھ سرگوشی کی، جیب سے نکال کر عینک لگائی، لکھی ہوئی تقریر کا کاغذ سیدھا کیا، ابھی بسم اللہ ہی بولے تھے کہ چپ ہو گئے اور سامنے دیکھنے لگے۔
پھر ایک دم سے انہوں نے آنکھیں بند کیں اور ایک طرف کو لڑھک گئے۔ کانفرنس ہال میں کہرام مچ گیا۔ ہال میں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ ان کے قریبی ساتھی ان کو سنبھالنے میں لگے تھے۔ میں یہ منظر دیکھ کر بالکل پتھر ہو چکا تھا۔ مجھے میری بیوی کی آہ سنائی ”ہائے زاہد بھائی“ ۔ میں ایک دم ہوش میں آیا اور اپنے ڈرائیور کو آوازیں دیتا ہوا بیرونی گیٹ کی طرف بھاگا۔ آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ زاہد بھائی کو ان ہی کی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔
میں امراض قلب کے ہسپتال کے باغیچے میں موجود تھا۔ پورا احاطہ حکومت سے وابستہ اہم ترین افراد سے بھرا ہوا تھا۔ زاہد بھائی کو انتہائی نگہداشت کے شعبے میں لے جایا جا چکا تھا جہاں ڈاکٹر ان کی جان بچانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ عیادت خواہوں کا ہجوم بہت دیر تک رہا پھر دھیرے دھیرے چھٹنے لگا۔ رات قریب دو بجے اطلاع ملی کہ زاہد بھائی کی جان بچ گئی ہے۔ چونکہ ابھی کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہ تھی اس لیے میں بھابھی اور زاہد بھائی کی بیٹیوں سے مل کر گھر چلا آیا۔
تیسرے روز جب میں گلدستہ لیے زاہد بھائی سے ملنے ہسپتال پہنچا تو وہ ہوش میں تھے اور بستر پر تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ دل کے ایک ہی دورے نے انہیں وقت میں کئی دہائیاں آگے پہنچا دیا تھا۔ بڑھاپے کے آثار اب ان پر مکمل واضح تھے۔ میں دیر تک ان سے کوئی بات نہ کر سکا۔ بس ان کا کانپتا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بیٹھا رہا۔ وہ بھی چپ تھے مگر میں ان کی آنکھوں میں احساسات کی پرچھائیاں دیکھ سکتا تھا۔ اس بحری جہاز کے کپتان کی طرح جسے پہلی بار اپنے جہاز کے ڈوب جانے کے امکان سے واسطہ پڑا ہو۔
دو ہفتے بعد زاہد بھائی کو گھر جانے کی اجازت مل گئی مگر مکمل آرام کے مشورے کے ساتھ۔ میں تقریباً ہر روز ان سے ملنے جاتا رہا۔ اہم حکومتی اور انقلابی شخصیات کچھ دن تک ان کی عیادت کو آتی رہیں پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔ ان کی بیٹیاں شادی شدہ تھیں جو اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکیں تھیں۔ ان کا اکلوتا لڑکا بیرون ملک زیر تعلیم تھا۔ وہ آنا چاہتا تھا لیکن زاہد بھائی نے منع کر دیا تھا کہ اس کے فائنل امتحانات قریب تھے۔ زاہد بھائی جو ساری زندگی مرکز نگاہ رہے تھے ان کے لیے تنہائی سے نبٹنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ کھل اٹھتے تھے اور میرے سہارے ہی گھر کے لان میں ہلکی پھلکی چہل قدمی کرتے تھے۔
زاہد بھائی نے اپنی شخصیت کو ایسے نظم و ضبط کا عادی بنایا تھا کہ مجھ ایسے قریبی دوست سے بھی کبھی شاذ ہی اپنے دل کی بات کہتے تھے۔ لیکن عمر کے اس مرحلے پر اور خصوصاً دل کے دورے کے بعد ان کے ضبط کے بند اب کچھ ڈھیلے پڑنے لگے تھے۔ اب ان کی گفتگو میں بار بار بیٹے ہارون کا ذکر آنے لگا تھا۔ وہ پر امید تھے کہ کچھ ہفتوں بعد جب وہ تعلیم مکمل کر کے لوٹے گا تو ان کے ساتھ ہی رہے گا۔ انہوں نے کچھ بہت اچھی کمپنیوں میں اس کے لیے نوکریاں بھی دیکھ رکھی تھیں۔ اور زاہد بھائی کے بیٹے کو نوکری کا بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا تھا۔ میں زاہد بھائی سے یہ کہتا تو وہ مسکرا کر انشا اللہ کہتے۔
اس دوران مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ کس طرح صحت کچھ بہتر ہونے پر جب زاہد بھائی حاکم اعلی سے ملنے گئے تو ان کو آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ ماضی کے برعکس یہ ملاقات گھنٹوں نہیں بلکہ کچھ منٹوں پر مشتمل تھی۔ ”بھئی میاں! حاکم اعلی کا مشورہ مجھے ٹھیک ہی لگتا ہے“ ۔ وہ مجھ سے بولے ”دیکھو میں نے ساری عمر کتنی محنت کی ہے۔ اے۔ سی کے دفتر میں معمولی ملازمت سے چل کر ملک کے اعلی ترین منصب تک پہنچا ہوں۔ اس ملک کو ایک مضبوط دفاعی طاقت بنایا ہے۔ پھر سیاست کی، پھر صحافت اور پھر قانون سازی۔ اب مجھے اپنا بڑھاپا سکون سے گزارنا چاہیے۔ لیکن اس اطمینان کے ساتھ کہ میں نے اپنے ملک کو وہ سب کچھ دیا جو اسے چاہیے تھا۔ یہ فخر کچھ کم تو نہیں۔“ وہ کھل کر مسکرائے۔
میں ان کی تائید میں سر ہلا کر رہ گیا۔ اور میں اختلاف کر بھی کیسے سکتا تھا۔
کچھ ہفتوں بعد زاہد بھائی نے فون پر بتایا کہ ہارون کل پہنچ رہا ہے۔ اگلے روز میں اور میری بیوی دونوں ملنے گئے۔ زاہد بھائی کے گھر عید کا سماں تھا۔ ان کی بیٹیاں، داماد، نواسے، نواسیاں سب موجود تھے اور ہارون اس تقریب کا دلہا تھا۔ باپ کی خوشی دیدنی تھی۔ بار بار بیٹے کو دیکھتے اور ہزار جان سے اس پر تصدق ہوتے تھے۔ کئی بار انہوں نے چشمہ اتار کر اپنی نم آنکھوں کو خشک کیا۔ بیٹا تھا بھی ہو بہو ان کی جوانی کی تصویر۔ وہی ناک نقشہ، وہی لانبا قد، چوڑے شانے اور سرخ و سفید رنگت۔ اس نے برسوں بعد مجھے دیکھا تھا مگر فوراً پہچان گیا۔ گلے لگ کے ملا۔ کچھ دیر خاندان کی خوشیوں میں شریک ہو کر ہم میاں بیوی چلے آئے۔
اتفاق سے اس کے بعد بہت دنوں تک زاہد بھائی کی طرف میرا جانا نہیں ہوا۔ ایک روز ان کا فون آ گیا۔ آواز میں کافی تناؤ تھا۔ میں نے سبب پوچھا تو بولے ”بس آ جاؤ“ ۔
میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ آرام کرسی پر نیم دراز تھے، اخبار گود میں دھرا تھا، چہرے پر الجھن کے آثار تھے۔
” خیر تو ہے زاہد بھائی؟“ میں نے پوچھا۔ ”آج طبیعت حاضر نہیں۔“
”کچھ خاص نہیں“ وہ دھیمی آواز میں کہ کر چپ ہو گئے۔ پھر بولے۔ ”میں ہارون کی وجہ سے تھوڑا پریشان ہوں۔“
” کیا ہوا ہارون میاں کو ۔ سب خیر تو ہے نا؟“ میں نے دریافت کیا۔
” بھئی میں نے اس کی نوکری کے لیے کئی جگہ پر بات کی ہوئی ہے۔ سبھی کمپنیاں اچھی ہیں۔ پیکیج بھی اچھا دے رہے ہیں۔ مگر یہ کسی ایک جگہ بھی انٹرویو کے لیے نہیں گیا۔ میں وجہ پوچھتا ہوں تو کوئی معقول جواب نہیں دیتا۔ بس ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ شاید یہ یہیں بس جائے گا، لیکن اس کے ایسے ارادے لگتے نہیں۔ کچھ تم ہی سمجھاؤ اسے۔“
” لیکن اس کا مسئلہ ہے کیا آخر؟ کچھ تو آپ کو اندازہ ہوا ہو گا؟“
” بھئی مجھے کھل کر کچھ بتائے تب نا! تم ہی دریافت کرو اس سے“
اتنے میں کمرے کا دروازہ دھڑاکے سے کھلا۔ ہارون اندر داخل ہوا اور ”السلام علیکم بابا جانی“ کہتا ہوا زاہد بھائی سے لپٹ گیا۔ پھر مجھ سے مصافحہ کیا اور باپ کے قریب پلنگ پر بیٹھ گیا۔
علیک سلیک کے بعد میں ہارون سے پوچھا : ”تعلیم تو آپ کی مکمل ہو گئی ہارون میاں۔ اب آگے کیا ارادے ہیں؟“
” جی ابھی تو واپس جا رہا ہوں وہاں جا کر ڈھونڈتے ہیں کوئی جاب“
” لیکن بیٹا جاب تو آپ کو یہاں بھی بہت اچھی مل سکتی ہے“ میں نے زاہد بھائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”پھر آپ کے والد کو بھی تو آپ کی ضرورت ہے نا اب“
” یو آر رائیٹ انکل۔ “ اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ”لیکن میں کیا کروں۔ میرا یہاں دل نہیں لگتا“
” آخر یہاں کس چیز کی کمی ہے بیٹا؟“ میں نے پوچھا۔
” کمی تو ویسے کوئی نہیں ہے انکل“ اس نے اٹک اٹک کر اپنا جملہ مکمل کیا ”کم از کم مجھے تو کوئی کمی نہیں ہو سکتی بابا جانی کے ہوتے ہوئے۔ لیکن انکل۔ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے۔“
” کیا کہا آپ نے؟“ میرا منہ کھلا رہ گیا۔ مجھے سخت شاک لگا تھا ہارون کی بات سن کر ۔ زاہد بھائی بھی ایک دم سیدھے ہو گئے۔
” کیوں بھئی۔ کیا برائی نظر آئی تم کو اس ملک میں؟“ زاہد بھائی کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔ ”کیونکہ یہ ملک اس طرح دولت مند نہیں یا اس طرح آزاد خیال نہیں؟“
باپ کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔ ”دولت میرا ایشو نہیں ہے بابا جان۔ آپ کو پتہ ہے“ ہارون
”اور مجھے آزاد خیالی سے نہیں، آزادی سے محبت ہے“
تو کیا ہمارا ملک آزاد نہیں ہے؟ میں نے پوچھا۔
”ملک بالکل آزاد ہے انکل۔ مگر اس ملک کے لوگ آزاد نہیں ہیں۔“ میں اور زاہد بھائی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
” بابا جان مجھے آپ کو یہ بتانا تھا۔ “ ہارون تھوڑا رک کر بولا ”کہ میں نے ہمیشہ کے لیے یورپ میں سیٹل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آپ جب چاہیں وہاں مجھ سے ملنے آ سکتے ہیں“
” مگر کیوں؟“ زاہد بھائی چیخ اٹھے۔
” وہ اس لیے بابا جان“ ہارون نے کہا ”کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے ایک آزاد قوم میں آنکھ کھولیں۔ میں اپنی اولاد پر غلامی کا سایا کبھی پڑنے نہیں دوں گا۔“
ہارون کب کا جا چکا تھا اور زاہد بھائی کھلے دروازے کو یوں دیکھ رہے تھے کہ جیسے ان کی، عمر بھر کی پونجی کوئی لوٹ کر لے گیا ہو۔

