لو میرج، ارینج میرج اور عورت کی خود مختاری


ہاں لڑکی کو اگر سسرال میں سروائیول کے لیے کچھ کہا بھی جاتا ہے تو وہ کوئی مثبت طریقہ نہیں ہوتا بلکہ کچھ اس قسم کے بیانات ہوتے ہیں کہ روٹی پکانا سیکھ لو سسرال میں ہماری ناک کٹواؤ گی، یا سالن ٹھیک پکایا کرو ورنہ سسرال میں جوتے پڑیں گے۔ لڑکا یا لڑکی کو کبھی ان کی جذباتی صحت کی اہمیت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا جاتا، نہ انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں اس سے صرف دعویٰ اہم نہیں ہوتا یہ باہمی انحصار کا رشتہ ہے جس میں دونوں کو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا ہوتا ہے۔

ایسے میں پسند کی شادی کے بعد بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ لڑکی صرف نخرے دکھانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کے خیال میں ذمہ داری تب نبھانی ہوتی جب شوہر کو پسند نہ ہوتی (وہ یہی دیکھتی آئی ہے ) لڑکا شوہر بن کے عمومی مردانگی کے رویے اختیار کر لیتا ہے کہ اور گھریلو ذمہ داریوں میں بالکل ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ اب تک جو تعلق برابری کی سطح پہ اور دوستانہ انداز میں چل رہا تھا وہاں ایک دم ایک فریق اعلیٰ اور ایک ادنیٰ ہوجاتا ہے۔ لڑکی پہ زور دیا جاتا ہے کہ وہ شوہر کا نام لینا چھوڑ دے اور آپ جناب کر کے بات شروع کردے جب کہ انداز تخاطب سو فیصد فریقین کا آپس کا معاملہ ہے۔ وہ ایک دوسرے کو ایسے مخاطب کریں جیسا کر کے خوشی محسوس کریں ایک دوسرے سے خود کو قریب محسوس کریں۔

یعنی شادی کے بعد کے عمومی حالات محبت کی شادی، گھر والوں کی پسند کی شادی یا کسی مجبوری کے تحت کی گئی شادی سب میں ایک جیسے ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک فریق پرتشدد رویے کا حامل ہو اور دوسرا خود ترسی کا شکار رہے تو مسائل اور گمبھیر ہو جاتے ہیں۔ ایک فریق ہر کام میں اپنی اتھارٹی چلانے کی کوشش کرتا رہے گا جب کہ دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں سے بھی نظریں چرائے گا اور چاہے گا کہ اسے کچھ سوچنا نہ پڑے اسے حکم ملے اور وہ بجا لائے۔ تاکہ مسئلہ آنے کی صورت میں وہ اپنی بے بسی ظاہر کرسکے اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ حالات کے ہاتھوں اتنا مجبور ہے کہ اپنے لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔

شادی طلاق تک پہنچے یا نہ پہنچے لیکن جذباتی طور پہ یہ تعلق ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن ہماری توجہ صرف ان کیسز کی طرف جاتی ہے جہاں طلاق ہو اور عورت نے لی ہو پھر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پسند کی شادیاں نہیں چل پاتیں جب کہ اعداد و شمار کے مطابق اکثر طلاقیں ارینجڈ میرجز میں ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے یہاں پسند کی شادی کی شرح ہی بہت کم ہے۔ سمجھیے اتنی کم کہ اب بھی یہ لوگوں کے لیے بریکنگ نیوز ہی ہے۔ حالاں کہ ہمیں لگ یہ رہا ہے کہ پسند کی شادی کا چلن بڑھ رہا ہے۔

لیکن آپ اپنے اردگرد دیکھیے تو آپ اب بھی ان جوڑوں کو انگلیوں پہ گن سکتے ہیں جنہوں نے پسند کی شادی کی ہے۔ اس غلط فہمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اکثر صرف شہروں میں اپنے اردگرد کے محدود حلقے کے مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں جب یہی مشاہدہ دیہی علاقے یا چھوٹے شہروں تک پہنچتا ہے تو یہ اعداد و شمار مکمل طور پہ بدل جاتے ہیں۔ کیوں کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے وہ افراد جو اب شہروں میں مقیم ہیں ان کے گھر روایات وہی ہیں۔ میرے اپنے خاندان میں کئی شادیوں میں لڑکی کو رشتہ طے ہونے کے بعد بتایا گیا اور پھر اس بات پہ خوشی منائی گئی کہ بیٹی فرماں بردار ہے۔

عمومی طور پہ جو شادیاں پسند کی شادیاں کہی جا رہی ہوتی ہیں اس میں پسند لڑکے کی ہوتی ہے جہاں لڑکی کو پسندیدہ کھلونے کے طرح اسے سونپ دیا جاتا ہے۔

جب یہ شادیاں مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو پسند کی شادی میں فوراً نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ دیکھو غلط پسند تھی اسی لیے تو ایسا ہوا اور یہ بھی کہ والدین کی مرضی سے کی ہوتی تو وہ سپورٹ میں موجود ہوتے لیکن اولاد کی پسند کی شادی میں سپورٹ مہیا نہ کرنے میں قباحت صرف اپنے اصولوں اور انا کی ہوتی ہے۔

دوسری طرف جب گھر والوں کی پسند کی شادی ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ بھئی شادی تو جوا ہوتی ہے۔ سب شادیوں میں ایسا ہی ہوتا ہے اور نبھانا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں نبھانے کے کیا گر ہیں وہ کوئی نہیں سکھاتا۔ اور چوں کہ ہمارے یہاں کپل کاونسلنگ کا بھی کوئی رواج نہیں تو ساری زندگی میاں بیوی ایک دوسرے پہ جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد کرتے گزارتے ہیں اور بچے یہ سب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور پھر کوئی اولاد گھر چھوڑ کے نکل جاتی ہے اور لعن طعن صرف اس کے حصے میں آتی ہے۔ اور وہ بھی صرف تب اگر وہ لڑکی ہے۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ مسائل ختم کیسے ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ ایک دم یہ سارے مسائل ختم نہیں ہوسکتے۔ بتدریج ہوں گے۔ کچھ تو مسائل ہیں بھی نہیں صرف ہم انہیں مسئلہ سمجھ رہے ہیں۔ اور جب ہمارا انہیں دیکھنے کا نظریہ بدلے گا تو مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اولاد خاص طور پہ بیٹی کو اس کے بنیادی حقوق تک رسائی دی جائے۔ یہ غلط فہمی ہے کہ لڑکپن تو جذباتی عمر ہوتی ہے اور محبت کرنے والے والدین کی بیٹیاں بھی گھر سے بھاگ سکتی ہیں۔

یہاں یہ نکتہ سمجھیے لڑکپن میں کسی کی طرف کشش رکھنا قدرتی ہے لیکن اس کشش سے مغلوب ہو کر بھاگنا منحصر ہے گھر والوں کے رویے پہ۔ یہ نکتہ گھر والوں کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ڈرا دھمکا کے آپ کسی کے قدرتی احساسات ختم نہیں کرواسکتے۔ ان سے اتنا دوستانہ تعلق رکھیے کہ وہ کسی کی طرف جھکاؤ محسوس کر رہے ہیں تو آپ کو بتاسکیں۔ ایسے میں غلط افراد خود ہی فلٹر ہوجائیں گے کیوں کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ والدین کو پتا چلے۔

غلط افراد جذباتی طور پہ کمزور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ جن کا تعلق گھر والوں سے مضبوط ہو انہیں انوالو کرنا ان کے اپنے لیے خطرہ ہے۔ ایسے میں صرف آپ کی اولاد کی طرح کے کم عمر بچے بچیں گے یعنی وہ ٹین ایجر دو اپنی ہی عمر کے فریق سے محبت کر رہے ہیں، یہاں یہ تحفظات رکھنا قدرتی ہے کہ یہ خود اسکول کالج کا بچہ ہماری بیٹی کو کیسے سنبھالے گا یا یہ اسکول کالج کی بچی اپنے بچے اور گھر کیسے سنبھالے گی۔

تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ بیٹیوں کو خود معاشی استحکام دیں۔ وہ اپنا خرچہ خود اٹھا سکیں گی تو نہ صرف آپ کا خوف کم ہو گا بلکہ وہ خود بھی دنیا کو پرکھنا سیکھنے لگیں گی۔ اگر لڑکا لاپروا ہوا اور اپنے کیرئیر میں کچھ سنجیدگی سے نہ کر سکا تو بتدریج یہ تعلق ختم ہو جائے گا۔ یا ممکن ہے وہ لڑکا گھر سنبھالنا سیکھ لے اور لڑکی معاشی معاملات سنبھال لے۔ اگر دونوں میں جذباتی تعلق مضبوط ہے تو کون کما رہا ہے کون پکا رہا ہے فرق نہیں پڑتا۔ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اسی طرح آپ کو خوف ہے کہ لڑکے نے جو لڑکی پسند کی ہے وہ پتا نہیں مل کے چل سکے یا نہیں گھر سنبھال سکے یا نہیں تو بھی پہلے بیٹے پہ کچھ توجہ دیں اسے سکھائیں کہ رشتے کیسے نبھاتے ہیں۔ رشتے نبھانے والوں اور ان کی قدر کرنے والوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔ لڑکی میں وہ خصوصیات نہ ہوئیں تو وہ خود دور ہو جائے گا یا جذباتی تعلق زیادہ مضبوط ہوا تو وہ لڑکی کو اس کے مسائل سے نکلنے میں مدد کرے گا۔

اولاد کو ان کی زندگی میں جذباتی سپورٹ فراہم کرنے کا سب سے بڑا فائدہ والدین کو ہو گا۔ اولاد آپ سے جذباتی طور پہ جڑی رہے گی۔ وہ پریشان ہوگی تو آپ کی پاس آ کر سکون محسوس کرے گی۔ بھلے ان کا مسئلہ آپ حل نہ کرسکیں لیکن انہیں یہ پتا ہو گا کہ آپ ان کا سب سے مضبوط جذباتی سہارا ہیں۔ اولاد کو مثبت ماحول فراہم کرنے کے لیے اپنی جذباتی صحت اور اپنے مثبت ازدواجی تعلق پہ بھی کام کیجیے کیوں کہ آپ کے بچے یہ سب دیکھ اور سیکھ رہے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima

One thought on “لو میرج، ارینج میرج اور عورت کی خود مختاری

  • 16/06/2022 at 2:02 شام
    Permalink

    بہت خوبصورت و بیش قیمت تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.