اندھے لوگوں کے دیس میں نکلا چاند


کیا حسین اتفاق ہے 21 جون سال کا سب بڑا دن، عالمی یوم موسیقی اور اس کے ساتھ ہی یہ دن عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم پیدائش بھی ہے۔

اس دن زمین سورج کے گرد اپنا 365 ایام کا سفر طواف مکمل کر کے عروج تک پہنچتا ہے اور ہر عروج را زوال کے مصداق روبہ زوال ہوتا ہے۔ زمین کی یہ مسافت اس کی پیدائش سے جاری ہے اور نظام شمسی میں اس کے مقام اور مدار کی وجہ سے ہی یہاں کن فیکون کا عمل جاری ہے جس کو ہم ارتقاء کہتے ہیں۔ اگر زمین کو دیگر سیاروں کی طرح یہ مقام اور مدار نہ ملتا تو زندگی بھی نہ ملتی اور ہم بھی نہ ہوتے۔ مگر انسان پورے نظام شمسی میں زندگی کو پیدا اور اس کی حفاظت کرنے والی اس جنت کو تباہ کرنے کا درپے ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ زمین پر سب سے زیادہ طاقتور اور تونگر اسی کو کہتے ہیں جس کے پاس اس کو تباہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے یعنی سپر پاور۔

کہتے ہیں یہ کائنات لہروں کی شکل میں پھیلتی جا رہی ہے اور پھیلاؤ کی لہریں موسیقی کی مدھر سروں کی مانند پھیلتی ہیں۔ انسان نے کائنات کی موسیقی کو نہ صرف سنا، محسوس کیا بلکہ اس کو سروں میں ڈال کر اپنے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ قدرت کے مظاہر کی پرستش سے لے کر معبود واحد کی پوجا اور محبوب کی خوشنودی تک کا اظہار بذریعہ سر ہی کیا۔ غاروں سے محلات تک کے سفر میں الاؤ کی پوجا سے لے کر معبدوں تک غم، خوشی، محبت اور عقیدت کا اظہار کا ذریعہ موسیقی ہی رہی۔ پیار و محبت کا اظہار ہی نہیں طبل جنگ سے صور اسرافیل تک پیغام کا ذریعہ موسیقی ہی قرار پایا۔

زمین کے طول و عرض میں پھیلے انسانوں کے کنبوں اور قبیلوں کے رسم و رواج الگ ہیں، عقائد اور معبود جدا ہیں مگر ایک سرشت جو مشترک ہے وہ سنگیت ہے۔ کوئی چمڑے کا بنایا ڈھول بجاتا ہے کوئی لوہے کا ڈرم یا کوئی لکڑی سے بنے آلات سے مگر سر ایک ہی جیسے ہیں۔ انسان ہی کیا دیگر جمادات و نباتات جن سے انسان نے سر تال سیکھے وہ بھی ہم سے کلام موسیقی میں ہی کرتے ہیں۔ صرف جانور اور پودے ہی کیا سمندر، صحرا، دریا، ندی نالے، ہوا بارش سب موسیقی میں ہی اپنے وجود کا احساس دلاتے کرتے ہیں۔ ہم آنکھ بند کر کے دیکھے بغیر ہی صرف سن کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ ہوا، پانی ہے، یا صحرا۔ اگر کرہ ارض کی وہ تصویر جو چاند دے لی گئی ہے غور سے دیکھیں تو یہ رنگوں سے مزین ایک خوبصورت پینٹنگ ہی نہیں نظر آتی بلکہ اس کی ترتیب میں موسیقی کے سر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

قدیم ثقافتوں میں سات کا ہندسہ بڑا ہی اہم رہا ہے۔ سات آسمان، سات دن، سات و بد وغیرہ کے استعارے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ سات کے ہندسے کے بارے میں بشمول سات ایام کے ناموں کے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نظام شمسی کے سورج سمیت سات بڑے سیاروں کی دریافت کے بعد اہم ہوا تھا۔ مگر ہندوستان میں سنگیت کے سات سر بھی دریافت ہوئے جن کا تعلق ستاروں اور سیاروں سے نہیں بلکہ صوتیات سے ہے۔ آریاؤں کی آمد سے قبل یہاں کے عقائد بھی بیرونی یا آسمانی عوامل پر مبنی نہیں بلکہ فرد کی ذات کے قدرتی مظاہر سے تعلق کی بنیاد پر تھے جس کو ہم آج روحانیت یا وحدت الوجود کے نظریے سے تعبیر کرتے ہیں۔

اس تعلق کی بنیاد پر یہاں کی موسیقی کو روحانی اہمیت بھی حاصل ہے اس لئے بھجن سے قوالی تک اور ہر دوار سے اجمیر تک ہر عقیدے اور مذہب کے لوگوں کے سر ان ہی سات سروں پر ایک ہی جیسے جھومتے ہیں۔ 1947 ء میں مذہب کے نام پر ملک تقسیم ہوا مگر سات سروں میں بندھی موسیقی تقسیم نہیں ہو پائی جو اس بات کی غمازی ہے کہ موسیقی کے سات سر کسی ایک عقیدے یا مذہب کی میراث نہیں بلکہ انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے۔ لتا منگیشکر کی نعت سن کر مسلمان جھوم اٹھتے ہیں تو مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔

جب موسیقی کی بات کرتے ہیں تو ہم سرسوتی کو کیسے بھول سکتے ہیں جو اس کلا کی دیوی ہے۔ ہندو عقیدے میں سرسوتی کے کئی روپ ہیں جن میں وہ کبھی ظلم کے خلاف کالی کی صورت میں آتی ہے، کبھی دولت کی دیوی لکشمی اور کبھی علم و گیان بانٹنے والی شاردھا بن کر سامنے آتی ہے۔ مگر برصغیر میں رضیہ سلطانہ، جھانسی کی رانی سے اندرا گاندھی اور بے نظیر بھٹو تک سرسوتی کا ایک اور روپ بھی رہا ہے جس میں وہ قیادت کرتی ہے اور مزاحمت کا استعارہ بن جاتی ہے۔

دنیا نے پچھلے دو سال کرونا کی وبائی کے دوران سخت مشکلات میں گزارے۔ ان دو سالوں میں ایک بات جو کھل کر سامنے آئی وہ خواتین کی مردوں کے مقابلے میں بہتر طرز حکمرانی تھی۔ جہاں جہاں خواتین حکمران تھیں ان ممالک میں نہ صرف اس وبا پر بہتر طریقے سے قابو پایا گیا بلکہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ایسے ہی ایک ملک نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم آرڈرن جسینڈرا کی قائدانہ صلاحیتوں کی دنیا متعرف ہوئی۔ پچھلے دنوں جسینڈرا نے اکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ صرف جسینڈرا کی ستائش ہی نہیں بلکہ اکسفورڈ کے پورا ہال کا تالیوں سے گونجنا اور ہر آنکھ کا اشکبار ہونا بے نظیر بھٹو کے لئے دنیا کی محبت اور عقیدت کا بین ثبوت ہے۔

ماضی میں گیان اور تپسیا کا مرکز رہنے والی سرزمین سوات میں بھی سرسوتی کا جنم ہوا جس کو دنیا ملالہ کے نام سے جانتی ہے۔ سرسوتی کا یہ روپ ملالہ کی شکل میں ہاتھوں میں کتاب تھامے علم کی روشنی پھیلانے کے لئے جہالت کے اندھیروں کے سامنے سینہ سپر ہوا۔ جہالت کے پجاریوں نے سرسوتی کے اس روپ کو بھی ہڑپنے کی کوشش کی مگر دنیا کے افق پر آفتاب کی مانند وہ زیادہ آب و تاب سے چمکنے لگی۔ جب ملالہ دنیا میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ کے طور پر ایک کتاب، ایک قلم اور ایک استاد کی معصوم خواہش لے کر اقوام متحدہ کے ہال میں داخل ہوئی تو محترمہ بے نظر بھٹو کی شال کاندھے پر ڈالے وہ بھی نازاں تھی۔ سب نہیں صرف شاردھا ہی سرسوتی کو پہچانتی ہے۔

ہم سورج کے گرد زمین کے چکر کے انکاری ہیں اور اپنے بچوں کو مذہب کے نام پر یہ نہ صرف پڑھاتے ہیں بلکہ اس کا انکار کرنے والوں کے خلاف جنگ کا بھی درس دیتے ہیں تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کائنات کے کن فیکون میں موسیقی کی لہریں اور زندگی کے ساز میں سنگیت جو انسان کے من کو کائنات سے جوڑے رکھتا ہے۔

سرسوتی کے استعارے کا تو ہم انکاری تھے ہی مگر اب کے فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو اور ملالہ کسی کو بھی نہ چھوڑا۔ جو مادر ملت کے ساتھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے جس کو بتاتے ہوئے بھی ہم شرماتے ہیں۔ شاردھا کا روپ ملالہ پر علم و آگاہی کی خواہش کے جرم کی پاداش میں زمین تنگ کردی گئی ہے وہ اپنے گھر واپس لوٹ نہیں سکتی۔ وہ بے نظیر جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ میں لوگ گھنٹوں سڑک کے کنارے کھڑے رہتے تھے ہم نے بیچ سڑک خون میں نہلا دیا۔

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 256 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan