کیسی عجیب عورت


آس پاس کے سب لوگ حیران تھے کہ جس نے اپنی محبت پانے کے لئے، اتنے سالوں تک، اس قدر صبر اور استقامت سے انتظار کیا، وہ اسے حاصل کرنے کے بعد یوں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟

وہ محبوب جس کی جدائی میں وہ برسوں اکیلی تڑپتی رہی تھی، اب اسی سے جدا ہونے پر کیوں تلی ہوئی تھی؟
۔

منزہ ایوب نے امتیازی حیثیت سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے جلد بعد ہی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم ہو گئی۔ وہ ایک اونچے درمیانے طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان کی بیٹی تھی۔ اس کے تینوں بھائی بہنوں نے بھی اپنے اپنے پسندیدہ شعبوں میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ پھر جیسے جیسے ممکن ہوا، سب نوکریوں پر لگ گئے۔ جب بڑے بھائی اور بڑی بہن، دونوں کی شادیاں ہو گئیں تو منزہ پر بھی شادی کے لئے زور دیا جانے لگا۔ مگر اس نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرے گی۔ کب کرے گی اور کرے گی بھی یا نہیں؟ ابھی اس نے یہ بھی فیصلہ نہیں کیا۔ جب سب اپنی سی کوشش کر چکے تو تنگ آ کر اس سے چھوٹی بہن کی بھی شادی کر دی گئی۔

وقت گزرتا رہا اور منزہ مختلف نوعیت کی اونچ نیچ سے گزر کر اپنی کمپنی کی مقامی شاخ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر پہنچ گئی۔ بے شک اب وہ تیس سال کی ہو چکی تھی مگر پھر بھی اس عہدے کو حاصل کرنے والی وہ کم عمر ترین عورت تھی۔ ادھر اس کی کزن اور سہیلی سمیرا شادی کے بعد تین بچوں کی ماں ہو چکی تھی۔ وہ بھی ایک بڑی کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھی۔ سمیرا یونیورسٹی میں منزہ سے دو سال سینئر تھی۔ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کیا تھا۔

سمیرا نے اپنے چھوٹے بیٹے کی سالگرہ پر دوسرے عزیزوں کے ساتھ ساتھ منزہ اور کاشف کو بھی بلایا تھا۔ کاشف یونیورسٹی میں سمیرا کا کلاس فیلو رہ چکا تھا۔ وہ ایک امیر باپ کا بیٹا تھا اور مردانہ وجاہت کا نمونہ بھی۔ عام طور پر ایسے امیر ماں باپ کے بچے شاذ و نادر ہی تعلیم پر اتنی توجہ دیتے ہیں، مگر وہ تعلیم کے میدان کا بھی شہسوار تھا۔

سالگرہ کی تقریب کے اختتام پر سمیرا نے دوسرے لوگوں کو الوداع کہتے ہوئے منزہ اور کاشف کو یونیورسٹی کی یادیں تازہ کرنے کے لئے روک لیا۔ کچھ دیر بعد بچوں کو ان کے کمرے میں بھیج دیا گیا۔ سمیرا، اس کا خاوند وسیم، منزہ اور کاشف ٹی وی لاؤنج میں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ منزہ کے پوچھنے پر پہلے سمیرا نے اپنی شادی، بچوں اور جاب کے بارے میں بتایا۔ پھر جب منزہ سے پوچھا گیا کہ اس نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی، تو وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگی۔ البتہ جب کاشف نے اسے کریدا تو منزہ نے اسے یہ بتا کر سب کو حیران کر دیا کہ دراصل وہ یونیورسٹی کے زمانے سے کسی کے عشق میں گرفتار ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے سے شادی

کرنا نہیں چاہتی۔ سب نے ہزار کوشش کی لیکن اس نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔ اگلا انکشاف زیادہ حیرت انگیز تھا کہ اس نے آج تک اس لڑکے سے دل کی بات ہی نہیں کی۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ اس لڑکے کو منزہ کے جذبات سے آگاہی بھی ہے یا نہیں؟ وسیم اور سمیرا پر بھی یہ عقدہ پہلی بار کھل رہا تھا مگر کاشف تو حیرت کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس سے تو یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ منزہ جیسی پڑھی لکھی، باعمل اور دنیاوی لحاظ سے کامیاب عورت ایسا بھی سوچ سکتی ہے۔

اس نے منزہ سے سوال کیا ”کیا آپ کو کبھی موقع ہی نہیں ملا کہ آپ اپنے محبوب سے اظہار محبت کر سکتیں؟“ ۔

”مواقع کی تو کوئی کمی نہیں تھی، میں نے بتایا نا کہ وہ ہماری ہی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ اور ہر دوچار ہفتے بعد آمنا سامنا بھی ہوتا ہی رہتا تھا۔ مگر مجھے مناسب نہیں لگا اس سے اظہار محبت کرنا“ منزہ نے جواب دیا۔

”اس کی کوئی خاص وجہ؟“ ۔

”اس کے کئی لڑکیوں سے قریبی مراسم تھے اور میں اس ہجوم کا حصہ نہیں بننا چاہتی تھی۔ مجھے پسند نہیں تھا کہ وہ مجھے بھی ان لڑکیوں میں سے ایک سمجھے“ ۔

”مگر کیا وہ خود بھی کسی اور لڑکی سے پیار کرتا تھا؟“ ۔
”مجھے نہیں معلوم، البتہ اتنی لڑکیوں سے بے تکلف قربت تھی تو کسی نہ کسی سے محبت بھی ہوگی ہی“ ۔
”اور اب کہاں ہے وہ، کچھ خبر ہے آپ کو؟“ ۔
”اسی شہر میں ہے“ ۔
”آپ سے ملاقات ہوتی ہے؟“ ۔
”نہیں، اس کے یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد نہیں ہوئی“ ۔
”یونیورسٹی چھوڑے ہوئے تو آپ کو بہت سال ہو گئے ہوں گے“ ۔
”جی ایسا ہی ہے“ ۔
”اس کی شادی ہو چکی ہے؟“ ۔
”مجھے نہیں معلوم“ ۔

”کس زمانے میں جی رہی ہیں آپ؟ اور یہ کیسی محبت ہے؟ آپ نے اسے یونیورسٹی میں دیکھا اور اسے پیار کرنے لگیں۔ اس سے کبھی اظہار محبت نہیں کیا۔ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچتا تھا آپ کو کچھ خبر نہیں۔ یونیورسٹی چھوڑنے کے بعد آپ کی اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اس نے کب اور کس سے شادی کی؟ اب تک کتنے بچوں کا باپ بن چکا ہے؟ آپ کی معلومات صفر ہیں۔ اور آپ اس کے لئے دنیا چھوڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں“ ۔

”نہیں، دنیا چھوڑ کر تو بالکل نہیں بیٹھی ہوئی۔ اپنی زندگی جی رہی ہوں اور ٹھیک ٹھاک جی رہی ہوں“ ۔
”مگر پیار تو ابھی تک اسی سے کرتی ہیں نا؟“ ۔

”بالکل! کرتی ہوں اور بے شمار کرتی ہوں۔ مگر اس سے شادی کے امکانات تو اس وقت بھی نہ ہونے کے برابر ہی تھے اور اب تو شاید وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہا ہو گا“ ۔

”شادی کے امکانات کیوں نہیں تھے؟“ ۔

”ایک تو وہ اس وقت یونیورسٹی کی جان سمجھا جاتا تھا۔ اکثر بہت سی لڑکیاں اسے گھیرے رہتی تھیں۔ ان میں سے کئی ایک مجھ سے کہیں زیادہ خوبصورت اور دولت مند تھیں۔ علاوہ ازیں، زندگی کے بارے میں میرا ذاتی پروگرام بھی اسے کسی صورت قبول نہ ہوتا“ ۔

”اچھا؟ ایسی کیا خاص بات ہے، اس پروگرام میں کہ آپ کو پہلے سے ہی اس کے رد ہونے کا علم تھا؟“ ۔
”صرف تھا نہیں، بلکہ ابھی بھی ہے۔ میں بچے پیدا کرنا نہیں چاہتی“ ۔
”تو کیا آپ اپنے خاوند سے جسمانی رشتہ بھی قائم کرنا نہیں چاہیں گی؟“ ۔

”کیوں نہیں؟ وہ تو ضرور چاہوں گی۔ لیکن نہ تو میں خود ماں بنوں گی اور نا ہی کسی کا بچہ لے کر پالوں گی“ ۔

”یہ تو پھر کسی بھی مرد کے لئے بہت کڑی شرط ہو گی۔ ایسا مرد ملنا تو تقریباً ً نا ممکن ہی ہے“ ۔
”میں جانتی تھی، اسی لئے میں نے کسی پیش قدمی کی ضرورت ہی نہیں سمجھی“ ۔
”شاید آپ نے اچھا ہی کیا“ ۔

”چلئے، اب آپ اپنے بارے میں بھی کچھ بتائیے۔ آپ کے ساتھ بھی تو یونیورسٹی کے بعد آج ہی ملاقات ہو رہی ہے۔ پورے دس سال کے بعد“ ۔

کاشف سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور یوں گویا ہوا ”شاید آپ نے خیال نہ کیا ہو، لیکن اپنے زمانے میں، میں بھی یونیورسٹی میں کافی پاپولر تھا۔ آپ کے محبوب کی طرح مجھ پر بھی کافی لڑکیاں مرتی تھیں“ ۔

سمیرا فوراً ً بولی ”اس امر کی گواہ تو میں بھی ہوں۔ بلکہ میں شاید اس کی واحد دوست تھی جو اس کی محبت میں گرفتار نہیں تھی“ ۔

کاشف نے اپنی بات جاری رکھی ”اکثر مجھے قیمتی تحفوں سے نوازا جاتا تھا۔ ڈیٹ کی بھی آفر ہوتی تھی“ ۔

”تو ڈیٹ پر بھی جاتے ہوں گے کسی نہ کسی کے ساتھ؟ آپ کی گاڑی تو بھری ہوتی تھی رنگ برنگ کی لڑکیوں سے“ منزہ نے طنزیہ لہجے میں سوال کیا۔

کاشف نے پورے اعتماد سے جواب دیا ”ڈیٹ کا ٹائم نہیں ہوتا تھا کبھی بھی۔ شام کو میں ڈیڈ کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹاتا تھا اور تعلیم پر بھی دھیان دینا ہوتا تھا مجھے۔ کمپیوٹر سائنس کی ایجوکیشن میرا پیشن تھا، سو لڑکیوں یا دوسرے دوستوں کی بھیڑ بھاڑ۔ سب یونیورسٹی تک ہی محدود تھی“ ۔

منزہ کو یہ سب جان کر کچھ حیرت ہوئی ”لیکن ڈگری لینے کے بعد تو اپنے ڈیڈ کا بزنس ہی سنبھالا ہو گا؟“ ۔

”لگتا ہے، آپ کو میرے بارے میں کچھ علم ہی نہیں۔ ڈیڈ کا بزنس میرا چھوٹا بھائی سنبھالتا ہے۔ میری تو اپنی کمپنی ہے۔ میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) ٹیکنالوجی کے پراجیکٹس پر کام کرتا ہوں۔ بہت سی ایکسپورٹ ہے میری، امریکہ اور یورپ کے کئی ایک ممالک کو۔ اور آپ کی اطلاع کے لئے، مجھے ابھی تک شادی کرنے کا بھی وقت نہیں مل سکا“ ۔

اب حیران ہونے کی باری منزہ کی تھی ”مگر کیوں؟ اور ان تمام لڑکیوں کا کیا ہوا جو آپ پر دل و جان سے فدا تھیں؟“ ۔

”وہ محبتیں تھوڑا ہی تھیں؟ وہ تو سب وقتی جوش تھا ان کا۔ جب میری طرف سے اچھا رسپانس نہیں ملا تو وہ بھی آہستہ آہستہ مایوس ہو کر کہیں اور مصروف ہوتی چلی گئیں۔ کسی ایک نے بھی میرے کامیاب ہو جانے تک کا انتظار نہیں کیا“ ۔

”تو کیا بعد میں کسی سے ملاقات بھی نہیں ہوئی؟“ ۔

”نہیں، ملاقاتیں تو اب بھی ہو جاتی ہیں، اسی طرح جیسے آج آپ سے آمنا سامنا ہو گیا ہے۔ مگر سب اپنے اپنے خاوندوں اور بچوں کے ساتھ خوش ہیں۔ یا کم از کم مجھے یہی ظاہر کرتی ہیں کہ وہ خوش ہیں“ ۔

”بڑی حیرت ہوئی ہے مجھے آپ کے بارے میں جان کر“ ۔

”آپ کو تو میرے بارے میں جان کر صرف صرف حیرت ہوئی ہے لیکن میں تو آپ کے خیالات سن کر دنگ رہ گیا ہوں“ ۔

منزہ نے کاشف کی بات تقریباً ً ان سنی کر دی۔ وہ سمیرا سے مخاطب ہوئی ”مجھے اب جانا ہے۔ امید ہے جلد ہی ملاقات ہو گی“ ۔

”ابھی کچھ دیر تو بیٹھو۔ آج اتنے دنوں بعد تو ملاقات ہوئی ہے“ سمیرا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔

”نہیں، میرے ڈرائیور نے روز رات کو اپنے گھر جانا ہوتا ہے۔ اسے دیر ہو رہی ہے۔ ہم جلد ہی پھر ملیں گے“ اور وہ اٹھ کھڑی ہوئی

سب نے اسے الوداع کہا اور وہ چلی گئی۔
البتہ جاتے جاتے سمیرا کو ایک نئی مصروفیت دے گئی۔

سمیرا نے پہلے خود بھی یونیورسٹی کے دنوں کو خوب یاد کیا۔ پھر لگاتار دو دنوں تک وہ اپنے اور منزہ کے زمانے کے دوستوں کو فون کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ اس زمانے میں اور کون سا ایسا لڑکا تھا، جس پر منزہ فریفتہ ہوئی ہو گی۔ مگر سب کی مشترکہ رائے تھی کہ ان وقتوں میں صرف کاشف ہی اتنا پسند کیا جاتا تھا۔ سمیرا نے ایک دن اور غور و فکر کرنے کے بعد چوتھے دن منزہ کو ایک ریسٹورنٹ میں بلا لیا تا کہ ملاقات مکمل پرائیویٹ انداز میں ہو سکے۔

ملاقات پر ایک ایک کافی پینے کے بعد سمیرا سیدھی اصل ٹاپک پر آ گئی۔ منزہ نے پہلے تو بہت ٹال مٹول کی کوشش کی، مگر جب کوئی بس نہ چلا تو ہتھیار ڈال دیے۔ اس نے سمیرا کے سامنے اقرار کر لیا کہ کاشف حسن ہی اس کا وہ محبوب ہے، جس کی محبت میں اس نے ابھی تک شادی نہیں کی۔

منزہ نے تو اسے اجازت نہیں دی تھی مگر سمیرا نے پہلی فرصت میں کاشف سے رابطہ کیا اور اسے ساری داستان سنا ڈالی۔ کاشف کو تو یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی کہ منزہ جیسی لڑکی نہ صرف یہ کہ اسے اس شدت سے چاہتی ہے، بلکہ ابھی تک اس کی منتظر بھی ہے۔ البتہ اس نے بچوں کے بارے میں کہی گئی منزہ کی بات بھی سمیرا کو یاد دلائی۔

سمیرا نے اسے تسلی دی کہ آج کل کی پڑھی لکھی لڑکیاں اکثر ایسی باتیں کرتی ہیں مگر وہ زیادہ دیر اپنے موقف پر قائم نہیں رہ سکتیں۔ اس نے زور دے کر کہا کہ ماں بننا عورت کی فطری طور پر سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہ کوئی بھی عورت اپنی اس فطری خواہش کو زیادہ دیر تک دبا نہیں سکتی۔

بات پہلے منزہ کے گھر والوں تک پہنچی اور پھر کاشف کے والدین تک۔ ہر دو اطراف نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا۔ منزہ نے اپنی پہلی شرط سے تو پہلے ہی کاشف کو آگاہ کر دیا تھا لیکن اس کی جو دوسری شرط اپنی جاب جاری رکھنے سے متعلق تھی، وہ بھی مان لی گئی۔ چھوٹی موٹی تیاریوں کے بعد ، ایک سادہ سی تقریب میں، منزہ اور کاشف شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

وہ دونوں خود تو خوش تھے ہی، ساتھ ساتھ دونوں خاندانوں اور سمیرا کو بھی اس رشتے نے بہت مسرت بخشی تھی۔ منزہ بے شک اپنی جاب پر بھی پہلے کی طرح ہی دھیان دے رہی تھی مگر اب وہ کاشف کا بھی بہت خیال رکھتی تھی۔ کاشف کے وہ تمام کام جو ابھی تک ملازمین انجام دے رہے تھے، وہ سب بھی اب منزہ نے اپنے ذمہ لے لئے تھے۔ باوجود یہ کہ وہ ماں نہیں بننا چاہتی تھی، وہ کاشف کے ساتھ جنسی تعلقات میں بہت پرجوش ہوتی تھی۔ اسی بنا پر کاشف کو امید تھی کہ وہ جلد یا بدیر ماں بننے کے لئے بھی تیار ہو جائے گی۔

مگر ایسا ہوا نہیں، یہاں تک کہ ان کی شادی کو تین سال گزر گئے۔ اب کاشف کو یہ ڈر رہنے لگا تھا کہ اگر وقت یونہی گزرتا رہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر منزہ ماں بننے کی عمر سے ہی آگے نکل جائے۔ انہی خدشات کے زیر اثر اس نے اپنا خیال سمیرا پر بھی ظاہر کر دیا۔ سمیرا نے یہی بات اپنی کسی اور سہیلی سے کر دی اور منزہ کو بھی کاشف کے خیالات سے آگاہی ہو گئی۔

اس نے ایک شام، گھر کے کام کاج ختم ہونے پر ملازمین کو سونے کے لئے بھیج دیا۔ دو کپ چائے بنائی اور کاشف کو لے کر بالکونی میں آ بیٹھی۔ کاشف کو مخاطب کیا اور بغیر کسی تمہید کے یوں گویا ہوئی ”کیا آپ کو میری محبت پر کوئی شک ہے؟“ ۔

”نہیں تو، آپ سے یہ کس نے کہہ دیا؟“ ۔
”مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا، آپ نے کہا ہے، وہ بھی سمیرا سے“ ۔
”سمیرا سے؟ کیا کہہ دیا ہے میں نے اسے؟“ ۔

”وہی بات، جو اگر ضروری بھی تھی تو آپ کو میرے ساتھ کرنی چاہیے تھی۔ آپ نے ہماری بات سمیرا کے ساتھ شیئر کر کے، میری محبت کی توہین کی ہے“ ۔

”ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ نے ہی تو مجھے محبت کے اصل معنی سے آشنا کیا ہے۔ میں بھلا آپ کی محبت کی اہانت کیسے کر سکتا ہوں؟“ ۔

”میرے نزدیک، یہ ہمارے رشتے کی بھی تذلیل ہے کہ آپ نے بچے کی خواہش کا معاملہ میرے سوا کسی اور سے ڈسکس بھی کیا“ ۔

”میں معذرت چاہتا ہوں لیکن سمیرا نے ہی شادی کے وقت مجھے تسلی دی تھی کہ شادی کے کچھ سال بعد ، بچوں کے بارے میں آپ کے خیالات بدل جائیں گے ”۔

”ذرا غور کیجئے، شادی سے بارہ سال پہلے میں نے آپ کو دیکھا اور پہلی نظر میں ہی آپ پر فریفتہ ہو گئی۔ بری طرح مر مٹی آپ پر۔ دو سال اسی یونیورسٹی میں آپ کے ساتھ رہی۔ لیکن اظہار محبت تو دور کی بات ہے میں نے کبھی آپ کے قریب آنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ میں نے ایسا کیوں کیا؟“ ۔

”بتائیے! ایسا کیوں کیا آپ نے؟“ ۔

”ہجوم کا، بھیڑ بھاڑ کا حصہ بننا مجھے کبھی بھی قبول نہیں تھا۔ مجھے لگتا ہے، اگر میں کبھی بھی ایسا کروں گی تو میں اپنی ہی نفی کروں گی۔ اور اس زمانے میں چار پانچ لڑکیاں تو ہر وقت آپ سے چمٹی ہوتی تھیں۔ دوسری وجہ بھی میں آپ کو بتا چکی ہوں۔ میں ماں بننا نہیں چاہتی، کسی صورت بھی نہیں۔ اور مجھے یقین تھا کہ میری اس پیشگی شرط کے ساتھ، کوئی بھی میرے پیار میں نہیں پڑے گا“ ۔

”لیکن ایسا کیوں ہے؟ کس وجہ سے آپ کو بچوں سے اتنی نفرت ہے؟“ ۔

”بالکل غلط! بچوں سے نفرت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ الٹا مجھے تو بچے بہت اچھے لگتے ہیں لیکن پھر بھی میں نہ تو خود ماں بننا چاہتی ہوں اور نا ہی کسی بچے کو ایڈاپٹ کرنا۔ اب اگر آپ کو یہ سب منظور نہیں تو ہم اچھے دوستوں کی طرح اپنے راستے الگ کر لیتے ہیں“ ۔

”راستے الگ کرنے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں، بے انتہا محبت۔ میں ہر حال میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ مجھے تو صرف یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر آپ ماں بننے سے اتنی الرجک کیوں ہیں؟“ ۔

منزہ جواب میں خاموش رہی۔

کاشف کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا مگر پھر یہ سوچ کر اٹھ گیا کہ شاید اس وقت منزہ کے پاس اس سوال کا معقول جواب ہے ہی نہیں۔ یقیناً بعد میں وہ معذرت کر لے گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔

البتہ اس نے خیال نہ کیا کہ بحث کے بعد پوری رات، منزہ نے کوئی بات نہ کی۔ اگر کاشف نے کسی اور چیز کے بارے میں بھی پوچھا تو ہوں ہاں میں جواب دے کر خاموش ہو رہی۔

دوسرے دن دونوں اپنے اپنے کام پر چلے گئے۔

شام کو جب کاشف گھر پہنچا تو منزہ ابھی جاب سے واپس نہیں آئی تھی۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے منزہ کو کال کی تو فون بند جا رہا تھا۔ اسے کچھ فکر ہوئی۔ اس کی فکر اور گہری ہو گئی جب اس نے منزہ کے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا ہوا رقعہ دیکھا۔ لکھا تھا

”میں واپس نہیں آؤں گی۔ مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کریں“ ۔
کاشف کے تو ہوش اڑ گئے۔

اس نے ہر ممکنہ جگہ فون کر کے پوچھنا شروع کیا مگر منزہ کی کہیں کوئی خبر نہ تھی۔ اس کا دفتر بھی بند ہو چکا تھا۔

پولیس میں جانا بھی بے کار تھا۔
دوسرے دن دفتر سے خبر ملی کہ وہ ایک ہفتے کی چھٹی پر ہے۔ لیکن وہ کہاں ہے؟ کسی کے علم میں نہیں تھا۔

منزہ کے ماں باپ اور ملنے جلنے والے، کاشف کے ماں باپ اور بہن بھائی وغیرہ سب کو فکر لگی ہوئی تھی۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ وہ ہے کہاں؟

الغرض آس پاس کے سب لوگ پریشان تھے کہ جس نے اپنی محبت کو پانے کے لئے، اتنے سالوں تک۔ اس قدر صبر اور استقامت سے انتظار کیا، وہ اسے حاصل کرنے کے بعد یوں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟

وہ محبوب جس کی جدائی میں وہ برسوں اکیلی تڑپتی رہی، اب اس سے جدا ہونے پر کیوں تلی ہوئی تھی؟

لگاتار دو دن کی سخت دوڑ دھوپ کے بعد کاشف نے عورتوں کے اس ہوسٹل کا سراغ لگا لیا کہ جہاں منزہ نے پناہ لی تھی۔ مگر وہ اس سے ملنے کے لئے تیار نہیں تھی۔

آخر منزہ کی والدہ اور ساس وہاں پہنچیں او ر اسے ایک بار کاشف سے ملاقات پر آمادہ کیا۔
ملاقات صرف دونوں کے درمیان تھی۔

کاشف کے استفسار پر وہ بولی ”دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے مگر آپ لوگ ابھی زمین سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ ہر طرح کا علم ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں صرف آبادی ہی بڑھ رہی ہے اور کسی قسم کی ترقی نہیں ہو رہی۔ پھر بھی اپنی بیوی کو بچے پیدا کرنے والی مشین ضرور بنانا چاہتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔“ ۔

کاشف نے پہلے اور طرح سے سمجھانا چاہا لیکن بات نہ بنی۔ تب اس نے ہاتھ جوڑے کہ وہ گھر واپس آ جائے، اس سے کبھی بھی ماں بننے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

منزہ چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔ پھر بولی

”چاہے خواہش کی حد تک ہی سہی مگر اب آپ کے اور میرے درمیان ایک بچہ آ چکا ہے۔ آپ کی محبت اب صرف میرے لئے نہیں رہ گئی اور یہی مجھے منظور نہیں۔ اس لئے اب آپ کے اور میرے راستے جدا جدا ہیں“ ۔

اس کے بعد کاشف تو کیا، دونوں طرف کے لوگوں نے، دوستوں نے، سہیلیوں نے زور لگایا لیکن منزہ اس رشتے میں واپس لوٹ کر نہیں آئی۔

۔

Facebook Comments HS