اردو شاعری کے افق پر ایک نیا ستارہ


”مٹی کی دعا“ سلیم حسنی کی شاعری کی پہلی کتاب ہے۔ جو آزاد نظم اور غزلوں پر مشتمل ہے۔ بلوچستان کے ضلع بارکھان سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے اس شاعر نے اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ جی سی یو لاہور سے انگریزی ادب میں بی اے (آنرز) کیا۔ اس دوران میں یونیورسٹی کے سالانہ ادبی مجلے ”راوی“ کے مدیر رہے۔ آج کل محکمہ تعلیم (کالجز) حکومت بلوچستان میں بطور انگریزی لیکچرر اپنی ذمہ داریاں سر انجام رہے ہیں۔ بارکھان سے لاہور میں قیام کے دوران میں جہاں سلیم حسنی نے انگریزی ادب میں آنرز کیا وہیں وہ ایک شاعر کے طور پر ابھرے ہیں۔

اس بلوچی شاعر کو پڑھ کر مجھے اپنے ایک دیرینہ سوال کا جواب مل گیا۔ جس نے مجھے برسوں سے ذہنی خلجان میں مبتلا کیے رکھا۔ میں نے 2010 ء میں ایک شعر پڑھا:

”میں ککھوں ای بڈھڑا جمیا
شالا! مینوں ہان نہ لبھے ”
شاعر: رائے محمد خاں ناصر
اکثر اس شعر کے بارے میں سوچتا اور غور و فکر کرتا کہ پیدائشی بوڑھا کیسا ہوتا ہو گا؟

آج ”مٹی کی دعا“ پوری پڑھ لی تو مجھے میرے سوال کا اطمینان بخش اور روح آسا جواب مل گیا۔ معاشرتی، معاشی، سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی حالات کیسے انسانی زندگی پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں؟ یہ حالات کبھی اتنے قیامت خیز ہوتے ہیں کہ انسان کو اس کے بچپن میں ہی بوڑھا کر دیتے ہیں۔ ایسے ناسازگار حالات اور گردوپیش میں انسانی وقار کا مذاق اڑاتی ہوئی سب محرومیوں کو استعارہ کرتے ہوئے شاعر ایسی دعا کی ترجمانی کرتا ہے جو مٹی میں ہی رہ جاتی ہے یا جسے ارباب سیاست و ریاست کی ناعاقبت اندیشیاں مٹی میں ملا دیتی ہیں، اور کبھی کارپردازوں کی بے حسی کا ماتم کرتے ہوئے خود دھرتی دعا کرتی ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے باریک بین نظر اور ذہن رسا چاہیے۔

کتاب کا عنوان اپنے اندر معنی کا ایک جہان آباد کیے ہوئے ہے۔ مٹی کی دعا سے مراد جہاں ماں کی دعا، انسان کی دعا ہے تو وہیں یہ انسانی بے بسی کا استعارہ ہے۔ انسان دعا کرتا ہے مگر اس کی دعا عرش تک پہنچ نہیں پاتی یا کچھ زمینی ان داتا مظلوموں کی دعاؤں

کو خاک میں ملا دیتے ہیں۔ پھر انسانوں کی بے حسی کا دھرتی خود ماتم کرتی ہے اور زبان حال سے پکار رہی ہوتی ہے :

”کز دام وددملولم و انسانم آرزو ست“ (رومی)
(ترجمہ: میں حیوانوں، درندوں سے تنگ ہوں۔ مجھے کسی انسان کی آرزو ہے ) ۔

یہ عنوان ظاہر کر رہا ہے کہ شاعر نے اس شاعری کے سفر کو اپنی روح میں اتار کر دل و دماغ کے طبق کھول کر طے کیا ہے۔ تب جاکر یہ معنی کی گہرائی والا عنوان نصیب ہوا۔ جو کتاب کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرتا ہے۔

ایسی مٹی میں پروان چڑھی اور ایسے حالات کی ترجمانی کرتی سلیم کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ شاعر نے بہت کچھ کہنے (مزاحمت کرنے ) کی کوشش کی ہے۔ اس لیے میرے نزدیک اس شاعری میں بے شمار امکانات نظر آ رہے ہیں۔ یہ امکانات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ شاعر اگر اسی صبر، ٹھہراؤ، ثابت قدمی، لگن، عشق کے ساتھ شاعری کرتا رہے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ادب کو ایک

انقلابی شاعر مل جائے گا۔ جو سٹیٹس کوو کو ادبی انداز میں اس کی خامیاں باور کرواتا رہے گا۔ یہ تیسری دنیا میں مزاحمت کی خوب صورت شکل ہو گی۔ میرے نزدیک طاقت ور کے خلاف ادبی مزاحمت بنیادی طور پر بہتری کی طرف سفر کا نام ہے، اگر وہ جائز و بنیادی حقوق کے لیے کی جائے۔ مگر طاقت ور اسے ہمیشہ اپنے خلاف سازش سمجھتے ہیں اور مزاحمت کاروں پر جھوٹے مقدمے بنا کر کڑی سزائیں دیتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ بنیادی حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریک کو اپنے خلاف سمجھنے کی بجائے ان کے نعروں میں چھپی اصل آواز کو سنے اور اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کر کے مزاحمت کار کی داد رسی کریں، تاکہ معاشرے میں Haves اور Haves not کے درمیان روز بروز بڑھتی خلیجوں کو ختم کر کے معاشرے میں انسانیت کی آبیاری میں اپنا کردار ادا کریں۔

ادب کی آواز دھیمے انداز میں معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے اگر اس کے پیچھے نظریہ مضبوط ہو گا تو اس کی گونج کانوں سے دلوں تک اتر جائے گی۔ جس سے معاشرے میں ایک ایسا گروہ تشکیل پائے گا جو ظلم کی مضبوط سے مضبوط دیوار کو گرانے کی صلاحیت رکھتا ہو گا۔ اس لیے ادبی سوچ سے جن تحریکوں کے نظریات پروان چرہتے ہیں ان کی کامیابی دور رس اور عمریں لمبی ہوتی ہیں۔ ایسی

تحریکیں خون خرابے اور نعرہ بازی کی بجائے انسانی سوچ کے دھاروں کو انسان دوستی، خیر خواہی اور امن و سلامتی کی طرف موڑتی ہیں جس سے معاشرے میں پیوست ہر طرح کی خرابی، نا انصافی، استحصال اور بے راہروی کو جڑ سے اکھاڑنے کی تدابیر روشن تر ہو کر سامنے آتی ہیں۔ جس سے ایک پرامن اور خوشگوار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

سلیم حسنی غزل اور نظم دونوں میں ایک جیسی مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کتاب کے لیے جس کلام کا انتخاب کیا اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اس انتخاب کے لیے ایک عرصہ غور و خوض میں صرف کیا ہے۔ اس شاعری کی وقعت اور قدرومنزلت کا بجا طور پر ادراک کرتے ہوئے ماورا پبلشرز لاہور نے اسے بڑے اہتمام سے شائع کیا ہے۔

سلیم حسنی کی شاعری سے چند نمونے پڑھیں۔
نظم ”خواب تلاشی“ کا آخری بند
”وہ میری آنکھوں میں
بھاری جوتوں سمیت آ کر
یہ پوچھتے ہیں
کہ کون ہوں میں؟
نظم ”زرینہ“ سے ایک بند
”قسم ہے تمہاری!
قسم ہے تمہاری تمہیں کچھ نہ کہتا
اگر تم مجھے بے اماں چھوڑ جاتیں
یا دشمن قبیلے سے مل کر
مرے بھائیوں، یار لوگوں کے لاشے گراتیں
۔ میں مرتا یا سہتا
۔ تمہیں کچھ نہ کہتا
نظم ”بے بسی“ سے آخری بند
”مبارک ہو صاحب
کہ بیٹے کے آسودہ ترکل کی خاطر
بہو کو بھی اب حاملہ کر دیا ہے ”
نظم ”محبت ہے تو باقی سب“ سے ایک بند
”حیا احساس سے بہکے ہوئے بوسوں کا پنجرہ ہے
انہیں آزاد کردے تو!
محبت ہے تو ڈر کیسا!
غزلوں میں سے چند اشعار
اک اداس بستی ہے، دوپہر کا سورج ہے
میں گلی میں تنہا ہوں، لوگ ہیں مکانوں میں
اس گل سے پھوٹتا ہے عدم بھی، وجود بھی
تجھ میں نجانے کون سی دلدل ہے آئنے!
آنکھ جھپکی جو سمندر کی نگہبانی میں
اک زمیں جھوم کے ابھری تھی کھلے پانی میں
میں اس کے پاس جا کر رو پڑا ہوں
وہ مجھ سے دور جا کر کیا کرے گا
ہمارا نقش لمحہ بھر ہے لیکن
یہ لمحہ دیر تک پیچھا کرے گا
شاعر نے اپنے کلام کے ذریعے جس جدوجہد کی طرف اشارہ کیا ہے وہ مائیکل ٹرویو اپنی کتاب
”Silencing the Past: Power and the Production of History“

میں بیان کرتے ہیں : ”دہشت ناک واقعات کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے“ ۔ سلیم حسنی نے یہ جدوجہد ایک ایسے ادبی زاویے کے ساتھ کی ہے جو خوب صورت پیرایا و زبان کا حامل ہے۔ سلیم حسنی اپنی مٹی پر ہونے والے ظلم کا درد، معاشرتی برائیوں، وجودی کرب، تلخی زدہ ماحول میں محبت کی آفاقیت پریقین کو ایک ساتھ حسین اسلوب میں قاری کے سامنے لاتا ہے، ”مٹی کی دعا“ کے شاعر نے مزاحمت کے لیے امن کی راہ چنی ہے جو تیسری دنیا کی صورت حال کے تناظر میں ایک بہتر اور خوب صورت راہ ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ جس منزل کا خواب سلیم حسنی نے مٹی کی دعا میں دیکھا ہے وہ جلد شرمندہ تعمیر ہو اور انسانیت، محبت اور امن کی تشدد، مادہ پرستی، نفرت، انتہا پسندی پر فتح ہو۔ آمین

Facebook Comments HS

3 thoughts on “اردو شاعری کے افق پر ایک نیا ستارہ

  • 29/06/2022 at 6:53 صبح
    Permalink

    بہت اعلی۔۔👍👍

    • 04/07/2022 at 2:27 شام
      Permalink

      جی بلکل

  • 04/07/2022 at 2:29 شام
    Permalink

    بہت اچھا لکھا

Comments are closed.