لیفٹ کی سیاست: وہ جو ہم کو یاد نہیں


موجودہ سیاسی منظر نامے میں جہاں ایک جانب رجعتی اخلاقی حقیقتیں ہر دوسری جماعت کا منشور ہیں تو دوسری جانب دم توڑتی نظریاتی سیاست اپنی باقیات پر یاس ہے۔ پبلک ڈسکورس کا محور بنیادی اکثریتی مسائل ہونے کی بجائے ایسے بناوٹی وسوسے ہیں جو عوام کے شعوری وجود پر مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ لوگوں کی سیاسی سماج کاری میں کارفرما عوامل نظریے سے یکسر خالی ہیں، بلکہ ان کی جگہ ایک مخصوص قسم کی مذہبی اور سماجی تشریح نے لے لی ہے۔

پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ یہ دائیں بازو سے تعلق رکھتی ہیں یا بائیں بازو سے ایک باقاعدہ علمی تحقیق کو دعوت دیتا ہے جس کا حاصل رجائیت کا سہارا لیتے ہوئے بھی مرکزی دائیں اور مرکزی بائیں کی صورت میں نکلے گا۔ بین الاقوامی سطح پر ما بعد نظریہ کی جو فضا قائم ہوئی اس کا ماخذ بلاشبہ سوویت یونین کا انہدام اور چینی رد انقلاب تھا جس نے ’تہذیبوں کے تصادم‘ سے لے کر ’اختتام تاریخ‘ تک جیسے افکار کو جنم دیا۔

یہ تبدیلیاں دنیا کے مختلف خطوں پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوئیں جو کہ اپنے آخری تجزیے میں فرق سیاسی، سماجی اور معاشی ساخت رکھتے تھے۔ پاکستان میں پیشتر بائیں بازو کے لوگ جو کہ حال ہی میں ضیا کی بنیاد پرست آمریت کا سامنا کر چکے تھے اس تبدیلی کے پیش نظر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے جو کہ اب نہ سوشلسٹ رہی تھی اور نہ ہی لبرل۔ دوسری جماعتوں کی طرح یہ جماعت بھی عملیت پسندی کی ایک فرسودہ شکل کو اپنا سیاسی منشور اور سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی معیشت مان چکی تھی۔ بالعموم بائیں بازو کی جماعتیں اور بالخصوص سوشلسٹ جماعتوں کو ان بین الاقوامی تبدیلیوں سے بڑا دھچکا لگا۔ البتہ ابھی بھی انفرادی سطح پر لوگ اپنے نظریات پر قائم رہے چاہے وہ عوامی ورکرز پارٹی کے سابق صدر عابد حسن منٹو ہوں، پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے سی۔ آر اسلم یا دیگر افراد۔

کمیونسٹ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد نظریے کی موت کی جس بحث کا آغاز ہوا اس کا مقصد ایک تصوراتی آپریٹس کے ذریعے دنیا پر ایک مخصوص نظریے کو مسلط کرنا تھا جو کہ اپنی اصل میں سیاسی سے زیادہ معاشی تھا۔ پاکستان میں ایک طرف نظریاتی سیاست زوال کی جانب گامزن ہوئی تو دوسری طرف نجکاری کا عمل رفتار پکڑتا گیا جس کا باقاعدہ آغاز 1991 میں ہوا اور اس کی تکمیل 2007 میں شوکت عزیز کے دور میں ہوئی۔ پاکستان میں توانائی کے بحران، جو کہ دور حاضر میں بھی موجود ہے کی بڑی وجہ آئی۔ پی۔ پیز ہیں جو اسی نجکاری کا شاخسانہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی طیف کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی تفریق ابہام کا شکار ہوتی گئی اور پچانوے فیصد جماعتوں کا ایک ہی معاشی منشور تشکیل پا گیا۔ دنیا بھر میں بائیں بازو کی معیشت اور سیاست کو منظر نامے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی جس میں کارپوریٹ سیکٹر اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا کردار نمایاں ہے۔ سوشلسٹ نظریات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور The Black Book of Communism جیسی کتابیں شائع ہوئیں۔

پاکستان میں نظریے کی سیاست کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بائیں بازو کی سیاست کی۔ بائیں بازو کی سیاست نے اپنی بنیاد میں ہمیشہ نظریہ کو اہمیت دی اور فکری بحثوں میں حصہ لیا اس سے قطع نظر کہ کس حد تک ان نظریات کو عملی جامہ پہنایا جا سکا۔ اس سب کا آغاز پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے ہوا جس پر راولپنڈی سازش کے تناظر میں 1954 میں پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ جماعت خفیہ طور پر تو اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی مگر پھر کبھی اس طرح سے منظم نہ ہو سکی۔

1957 میں قائم ہونے والی نیشنل عوامی پارٹی دوسری اہم جماعت تھی جو بائیں بازو کے نظریات کی علمبردار بنی جس پر دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایوب آمریت میں پابندی لگا دی گئی۔ بہت سے اہم لوگ اس کا حصہ بنے۔ سینو۔ سوویت سپلٹ اور پابندی ہٹنے کے بعد یہ جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک حصہ جس کی قیادت مولا نا بھاشانی کر رہے تھے ماؤسٹ نظریات کا پیرو ہو گیا اور دوسرا سٹالنسٹ ماسکو کی طرف جھک گیا۔ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کو فروغ دینے میں مقامی طلباء، مزدور، کسان اور نچلے طبقے کی تحریکوں کا بھی اہم کردار رہا ہے۔

ساٹھ کی دہائی میں امریکہ سے لے کر فرانس تک ہونے والی طلبا تحریکوں کا ترجمہ یہاں پر طلباء کے 69۔ 1968 میں آمریت مخالف مظاہروں کی صورت میں ہوا جو کہ دن بدن شدت اختیار کرتے گئے اور معاشرے کے دوسرے استحصال شدہ طبقوں کو بھی تحریک میں شامل کر لیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام کی بنیاد میں جو سوشلسٹ منشور دیا گیا وہ ایک طرف افراد کے نظریات اور دوسری طرف پرولتاریا کے رجحانات کا عکاس تھا۔ اسی دوران مزدور کسان پارٹی اور دیگر نظریاتی جماعتیں قائم ہوئیں جنہوں نے چند مخصوص علاقوں میں مقبولیت حاصل کی۔

ستر کی دہائی میں قائم ہونے والی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے جہاں مبشر حسن کی معاشی قیادت میں تاریخ کا سب سے عوامی بجٹ دیا تو دوسری جانب بہت سی سیاسی آزادیاں ختم ہوتی نظر آ رہی تھیں۔ پاکستان میں بائیں بازو کی نظریاتی سیاست نے آخری کرن 1978 میں افغانستان میں ہونے والے ثور انقلاب میں دیکھی اور اس کے بعد ایک ایسا دور شروع ہوا جس نے اس خطے کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ جس کے مظاہر آج تک موجود ہیں۔

ضیا الحق کی انتہا پسند رجعتی آمریت نے بائیں بازو کے لوگوں پر بدترین سیاسی جبر کیا۔ لکھاری سے لے کر سیاسی کارکن تک سب کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نظیر عباسی جیسے نوجوانوں کو تشدد کر کے شہید کر دیا گیا۔ بہت سے لوگ ملک چھوڑ نے پر مجبور ہو گئے۔ ایک واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب ڈاکٹر لال خان کا سامنا راولپنڈی میڈیکل کالج میں ضیا الحق کی بیٹی سے ہوا تو ان کو ان کے ساتھی خالد جاوید جان کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کی بنا پر وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ضیا الحق کی آمریت نے طلباء تنظیموں پر پابندی لگا کر نظریاتی سیاست کے اس کارخانے کو مقفل کر دیا جو کسی بھی معاشرے میں دانش اور علمی مباحث کا مرکز ہوتا ہے۔ بائیں بازوں کے لوگوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف مزاحمت کی اور سنگین نتائج کا سامنا کیا۔ مقامی سیاسی ماحول اور سماجی بنیاد پرستی نے جہاں ایک طرف نظریاتی سیاست کو نقصان پہنچایا تو دوسری جانب نوے کی دہائی میں ہونے والی بین الاقوامی تبدیلیوں نے اسے مفلوج کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اس دوران جو بائیں بازو کے علمبردار بنے ان میں ڈاکٹر لال خان کا نام نمایاں ہے جو کہ ایک کلاسیکی مارکسسٹ اور لیون ٹراٹسکی کے نظریات سے متاثر تھے۔ ہالینڈ میں قیام کے دوران انہوں نے The Struggle کے نام سے ایک ٹراٹسکیسٹ تنظیم قائم کی۔ اسی طرح لوگ انفرادی حیثیت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے مگر بائیں بازو کی سیاست کا اجتماعی ظہور نہ ہوسکا۔ اور آج صورتحال یہ ہے کہ اکثریت اس سیاسی روایت سے واقف ہی نہیں۔ لوگوں نے کبھی بشیر بختیار کا نام سنا ہے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ حسن ناصر کون تھے۔

اس سیاسی و سماجی زوال کی توجیہ کی جائے تو فرینکفرٹ اسکول کی مغربی معاشرت پر تنقید کو ذہن میں رکھنا نا گزیر ہے۔ کس طرح سے سیاسی اشرافیہ، میس میڈیا اور تفریحی ذراؤں کے گٹھ جوڑ سے ایک ایسے نچلے درجے کی مقبول ثقافت کا جنم ہوا جس میں رائے عامہ کا براہ راست تعلق صارفیت سے تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استحصال شدہ طبقے اپنا طبقاتی وجود بھول کر اسی سرمایہ دارانہ نظام میں ضم ہو گئے۔ ہماری معاشرت بھی مختلف اشکال میں ایک ایسی فالس کانشیسنس کا شکار ہوئی کہ انہوں نے ایک مخصوص دائرے سے باہر سوچنا ہی چھوڑ دیا۔

بہت سے بائیں بازو کہ لوگ سابق ہو گئے اور عوامی جدوجہد بکھرنے کے بعد معدوم ہو گئی۔ ان تبدیلیوں کے پس پشت سیاسی وجوہات کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ میڈیا اور مقبول ثقافت بھی ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب ’الف‘ جیسے پروگرام ٹی۔ وی کی زینت ہوا کرتے تھے جس میں نامور دانش ور اور سکالر ما بعد الطبیعات جیسے موضوعات پر بحث کرتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ چاہے موسیقی ہو یا فلمسازی، نثر ہو یا شاعری، نیز انسانی فن کی ہر وہ چیز جو اس کے جذبات کو جدوجہد کا رنگ دے سکتی تھی مارکیٹ کی قوتوں کی محکوم ہو گئی۔ فیض احمد فیض جیسے شعرا کو نظریاتی بانجھ قرار دے کر ان کی شاعری کو جمالیاتی شاہکار تک محدود کر دیا گیا۔ رہی سہی کسر نو آبادیاتی نظام کی باقیات نے پوری کر دی۔ نظریے سے خالی ایک ایسا سیاسی گروہ پروان چڑھا جس نے روپے، مذہب، شناخت اور مقامی تعصبات پر سیاست کی۔

پوری دنیا میں بائیں بازو کی سیاست نے منفی رجحان دیکھا مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ہر جگہ لوگ بحالت موجودہ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں جرمی کوربن ہوں، امریکہ میں برنی سیندرز، سپین میں مقبولیت پانے والی پودیمس پارٹی یا چلی میں حال ہی میں صدر منتخب ہونے والے گیبریل بوریچ۔

دو ہفتے قبل آنے والی خبر نے سب کو حیران کر دیا جب کولمبیا کے عوام نے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گسٹاوو پیٹرو کو اپنا نیا صدر منتخب کیا۔ اسی طرح فرانس میں ژان لوک میلونشو تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ معاشی و سیاسی بحران کے پیش نظر یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایک ایسی بائیں بازو کی جماعت قائم ہو جو نچلے طبقے کی امیدوں اور مطالبات کی سیاسی تشریح کرے اور استحصالی قوتوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS