عالم آف لائن اور موت کے ذمہ داران کی فہرست
وہ عورت زارو قطار رو رہی تھی۔ سادہ دل ناظرین کا ایک ہجوم حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت کے زیر اثر اپنی نظریں ٹی وی کی اسکرین پر جمائے ہمہ تن گوش تھا۔ عذاب الہی کے خوف سے دل سینوں میں دہلے جارہے تھے اور ہونٹوں پر توبہ استغفار کا ورد جاری تھا۔ اور کیوں نا ہوتا بات ہی کچھ ایسی تھی۔ وہ عورت مردہ عورتوں کو غسل دینے کا کام انجام دیا کرتی تھی کیونکہ یہی اس کا روزگار تھا لیکن وہ لالچ میں آگئی اور جادو ٹونہ کرنے والوں سے چند سو روپوں کی وصولیابی کے عوض غسل دینے کے دوران میتوں کے منہ کھول کر ان میں تعویز رکھنے کا کام کرنے لگی۔ بہت عرصہ یہ کام کرنے کے بعد اور پائی پائی جوڑنے کے بعد جب وہ فریضہ حج کی ادائیگی کے قابل ہوئی اور اپنے رب کی خوشنودی کے حصول کی خاطر اس فرض کی ادائیگی کے لئے مکہ شریف پہچی تو اسے ایک بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ اس کا رب اس سے کچھ اس طرح روٹھا تھا کہ جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ پتھر اور مٹی سے بنا ہوا اللہ تعالی کا گھر یعنی خانہ کعبہ جو کبھی کسی بھی گناہ گار، ظالم، قاتل، مفسد، کافر، مرتد، زندیق، مشرک کی نظر سے اوجھل نا ہوا تھا اس عورت کی نظروں سے اوجھل ہوگیا جو تمام ترعیوب کے ہوتے ہوئے بھی صاحب ایمان تھی اور اپنے دین کی محبت میں اس حد تک سرشار تھی کےاس سے متعلقہ فرض کی ادائیگی کی خاطر برسوں پائی پائی جوڑ کر اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹ کر مکہ شریف پہچی تھی۔
وہ عورت صاحب ایمان افراد کے ایک بہت بڑے ہجوم کے لئے نشان عبرت تو تھی ہی لیکن "عالم آن لائن” کی مثبت ریٹنگ کی ضمانت بھی تھی جس کی میزبانی کوئی اور نہیں بلکہ عامر لیاقت حسین کر رہا تھا۔ جس وقت لوگ اس عورت کی گنہگاری اور غفور و رحیم رب کائنات کی اس سے ناراضگی پر انگشت بہ دنداں تھے عامر لیاقت کیمرے کے پیچھے ان کی حماقت پر قہقے لگا رہا تھا اور انھیں وہ گالی دے رہا تھا جو عموما حد درجہ بے وقوف افراد کو دی جاتی ہے اور کیوں نا دیتا، وہ عالم آن لائن کا عالم فاضل میزبان جو تھا جو لوگوں کی بے وقوفیوں، توہم پرستیوں اور جہالتوں کا مذاق اڑانے کا حق پیدائشی طور پر محفوظ رکھتا تھا۔
عامر لیاقت کتنا انسان دوست اور کتنا حساس تھا اس کا اندازہ لیک شدہ ان کلپس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جن میں اسے دل و جان سے عالم فاضل تسلیم کرنے والی ایک خاتون عالم آن لائن میں ایک مولوی سے سوال پوچھ رہی تھیں کہ اگر کوئی عورت اپنی عزت بچانے کی خاطر (یعنی ریپ سے بچنے کے لئے) اپنی جان دے دے تو کیا اس کی بخشش ہوجائے گی ؟ یہ سوال اگرچہ بہت نازک نوعیت کا تھا مگر عامر لیاقت حسین جس کی معاملہ فہمی اور انسان دوستی کے جھنڈے دو دہائیوں سے اور مظلومیت کے جھنڈے پچھلے ایک ماہ سے ہل رہے ہیں اس سوال پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔ اگرچہ پاکستانی معاشرے کا پروردہ ہونے کے باعث وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ اگر اس معاشرے میں کوئی عورت جنسی زیادتی کا نشانہ بن جائے تو زندگی نا صرف اس پر بلکہ اس کےخاندان کی سات پشتوں پر تنگ ہوجاتی ہے۔ ریپ کے دوران ہونے والی اذیت سے کئی گنا زیادہ اذیت وہ ہوتی ہے جو ریپ کے بعد لوگوں کے طعنوں کے باعث سہنی پڑتی ہے اور اسی اذیت سے بچنے کی خاطر ریپ کا نشانہ بننے والی اکثر وبیشتر خواتین زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگتی ہیں۔
عامر لیاقت حسین کی اس قسم کی متعدد ویڈیوز لیک ہوئیں جن کے باعث لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس باریش نورانی نقاب کے پیچھے چھپے اس کے اصل چہرے سے آگاہ ہوگئی۔ اس قسم کی ویڈیوز لیک کر کے عامر لیاقت کی انسان دوستی اور نیک نامی پر داغ لگانے والے بھی اس کی موت کے ذمہ داران میں شامل ہیں کیونکہ دو ڈھائی ماہ قبل وائرل ہونے والی برہنہ ویڈیوز سے پہلے اگراس قسم کی ویڈیوز منظر عام پر نا آئی ہوتیں تو یقینا ناظرین کی ہمدردیاں عامر لیاقت کے ساتھ ہوتیں اور ان کی ملامت کا رخ عامر لیاقت کے بجائے برہنہ ویڈیوز لیک کرنے والے کی جانب ہوتا۔
بہرحال ویڈیوز لیک کرنے والے اور ویڈیوز پر چٹخارے لینے والے یوٹیوبرز، سوشل میڈیا صارفین اور دیگر "کم ظرف” افراد ہی عامر لیاقت کی موت کے تنہا ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ذمہ داران کی فہرست آگے بھی کافی طویل ہے۔
میڈیا میں اپنے کیرئیر کے شروعاتی دنوں میں اس نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ اس نے سن انیس سو پچانوے میں لیاقت میڈیکل کالچ جامشورو سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور سن دو ہزار دو میں ٹرنٹی کالج یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
سن دوہزار چھ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عامر لیاقت کی ڈگری کو جعلی قرار دے دیا۔ اس سے پہلے سن دو ہزار تین میں گارڈین کی ایک رپورٹ میں ٹرنٹی کالج یونیورسٹی کو فراڈ قرار دیا جا چکا تھا اور اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص اس جعلی یونیورسٹی سے اٹھائیس دن کے اندر اندر محض ایک سو پچاس پاؤنڈز کے عوض جعلی ڈگری خرید سکتا ہے۔
سن دو ہزار دو میں جب جنرل الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے گریجویشن کی شرط لازمی قرار دی گئی تو عامر لیاقت کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو کی جانب سے جاری کردہ ایم بی بی ایس کی ڈگری شامل نا تھی بلکہ کراچی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ بی اے کی ڈگری شامل تھی جسے سن دو ہزار پانچ میں کراچی یونیورسٹی کی جانب سے جعلی قرار دے دیا گیا۔ سن دو ہزار پندرہ میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ایک اور انکشاف سامنے آیا کہ عامر لیاقت کا پروفائل جعلی ڈگری سیلر "ایگزیکٹ” کے مین سرور پر پایا گیا تھا بعد ازاں عامر لیاقت نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ اس نے ایش وڈ یونیورسٹی سے جعلی ڈگری گیارہ سو چھتیس ڈالرز کے عوض خریدی تھی۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ عامر لیاقت کی موت کے ذمہ داروں میں اس کی ڈگریوں کو جعلی قرار دینے والے ہائر ایجوکیشن کمیشن، کراچی یونیورسٹی اور ایف آئی اے کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ یہ بھی عامر لیاقت حسین کی جگ ہنسائی کا باعث بننے والوں میں شامل ہیں۔
اس آرٹیکل کا مقصد ایک مرے ہوئے شخص کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ہرگز نہیں ہے بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ عامر لیاقت کوئی مثالی کردار نا تھا بلکہ ایک عام سا شخص تھا جو لوگوں سے جھوٹ بھی بولتا تھا، سادہ دل لوگوں کو بے وقوف بھی بناتا تھا، خود پر بھروسہ کرنے والوں کا مذاق بھی اڑاتا تھا دکھی لوگوں کے آگے ہمدردی کا چارہ ڈال کر ان کے زخموں پر نمک بھی چھڑکتا تھا یعنی وہ ان یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا صارفین سے قطعی مختلف یا بہتر نا تھا جن کو اس کی موت کا ذمہ دار ٹہرایا جارہا ہے۔ رہی بات دانیہ ملک کی تو تمام تر مبینہ عیوب سے قطع نظر وہ خود عامر لیاقت حسین کے بقول چودہ یا پندرہ برس کی ہے یعنی عامر لیاقت حسین کی بیٹی سے غالبا چھ سات سال چھوٹی ہے۔ ایک پچاس سالہ جہاندیدہ میچیور مرد کا دل اگر پندرہ سالہ لڑکی کی وجہ سے ٹوٹتا ہے یا وہ پندرہ سالہ لڑکی کی وجہ سے بدنام ہوتا ہے تو یقینی طور پر اس میں قصور جہاندیدہ مرد کا ہی ہوتا ہے نا کہ بچی کا جسے اپنی ناک بھی ڈھنگ سے صاف کرنی نہیں آتی تو ازدواجی رشتہ نبھانا کیا خاک آئے گا؟


