۔ احمد ندیم قاسمی (ماہ و سال کے آئینے میں)


ولادت : 20 /نومبر 1916 ء رحلت۔ 10 جولائی 2006
تحریر و تحقیق:۔ ظفر معین بلے جعفری
حیات و معاملات
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
آنس معین
خاندانی نام : احمد شاہ
ادبی نام : احمد ندیم قاسمی
تخلص: ندیم
والد کا نام : پیر غلام نبی عرف نبی چن (وفات 1924 ء)
ولادت : 20 /نومبر 1916 ء
مقام : انگہ، تحصیل خوشاب، ضلع سرگودھا، پنجاب
سن۔ 1921۔ 20 ء : انگہ کی مسجد میں درس قرآن مجید
سن۔ 1925۔ 21 ء: انگہ پرائمری سکول سے پرائمری پاس کی۔
سن۔ 1929۔ 25 ء: گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل سکول، کیمبل پور
سن۔ 1931۔ 30 ء: میٹرک، گورنمنٹ ہائی سکول، شیخوپورہ
سن۔ 1935 ء: بی۔ اے، صادق ایجرٹن کالج، بہاول پور
سن۔ 1927۔ 26 ء: پہلا شعر کہا۔

سن۔ 1931 ء: پہلی مطبوعہ نظم، عنوان ”مولانا محمد علی جوہر“ ، روزنامہ سیاست، لاہور (سرورق پر شائع ہوئی)

سن۔ 1936 ء: پہلا افسانہ ”بدنصیب بت تراش“ ، رسالہ رومان، لاہور
سن۔ 1937۔ 36 ء:کمشنر لاہور کے دفتر میں بحیثیت ریفارمر، تنخواہ20 روپے ماہانہ، ہفتہ وار ”تہذیب نسواں“
کے لیے غیرملکی افسانوں کے تراجم، ٹیلی فون آپریٹر، اوکاڑہ (صرف نو دن کام کیا) ۔
سن۔ 1940 ء: پہلا افسانوی مجموعہ ”چوپال“
سن۔ 1941 ء: پہلا شعری مجموعہ ”دھٹرکنیں“
سن۔ 1941۔ 39 ء: سب انسپکٹر ایکسائز

سن۔ 1947 ء ( 14 اگست) :قیام پاکستان کے بعد پہلا قومی نغمہ ”پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو“ ریڈیو

پاکستان پشاور سے نشر ہوا اور بے حد مقبول ہوا۔
سن۔ 1946۔ 48 ء: اسکرپٹ رائٹر، ریڈیو پشاور
سن۔ 1948 ء: شادی قریبی عزیزوں میں وادی سون کے ایک گاؤں ”سوزگی“ میں
(دو بیٹیاں ناہید اور نشاط ایک بیٹا نعمان )
سن۔ 1954۔ 48 ء: سیکرٹری جنرل ”انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان“
سن۔ 1956 ء: پاکستانی اخبارات کے مدیران کے وفد کے ہمراہ عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کیا۔
سن۔ 1964 ء: روزنامہ ”جنگ“ میں کالم نگاری کا آغاز
سن۔ 1970 ء: روزنامہ ”جنگ“ سے علیحدگی، روزنامہ ”حریت“ سے وابستگی۔
سن۔ 1972 ء: دوبارہ روزنامہ ”جنگ“ سے وابستگی
سن۔ 2006۔ 1974 ء: ناظم مجلس ترقی ادب، لاہور
خدمات بحیثیت مدیر
سن۔ 1945۔ 41 ء: ہفت روزہ ”پھول“ لاہور
سن۔ 1945۔ 41 ء: ہفت روزہ ”تہذیب نسواں“ لاہور
سن۔ 1946۔ 42 ء: ماہنامہ ادب لطیف ”لاہور
سن۔ 1948۔ 47 ء: ماہنامہ ”سویرا“ لاہور
سن۔ 1949۔ 48 ء: ماہنامہ ”نقوش“ لاہور
سن۔ 1959۔ 50 ء: روزنامہ ”امروز“ لاہور
سن۔ 2006۔ 63 ء: سہ ماہی ”فنون“ لاہور
افسانوی مجموعے
سن۔ 1940 ء: چوپال
سن۔ 1941 ء: بگولے
سن۔ 1942 ء: طلوع و غروب
سن۔ 1943 ء: گرداب
سن۔ 1943 ء: سیلاب
سن۔ 1944 ء: آنچل
سن۔ 1946 ء: آبلے
سن۔ 1948 ء: آس پاس
سن۔ 1949 ء: در و دیوار
سن۔ 1952 ء: سناٹا
سن۔ 1955 ء: بازار حیات
سن۔ 1959 ء: برگ حنا
سن۔ 1963 ء: گھر سے گھر تک
سن۔ 1973 ء: کپاس کا پھول
سن۔ 1980 ء: نیلا پتھر
سن۔ 1995 ء: کوہ پیما
شعری مجموعے
سن۔ 1941 ء: دھٹرکنیں (مجموعہ قطعات)
سن۔ 1944 ء: رم جھم
سن۔ 1947 ء: جلال و جمال (نظمیں، غزلیں )
سن۔ 1953 ء: شعلہ گل (نظمیں، غزلیں )
سن۔ 1964 ء: دشت وفا (نظمیں، غزلیں، قطعات)
سن۔ 1976 ء: محیط (غزلیں اور قطعات
سن۔ 1980 ء: دوام
سن۔ 1989 ء: لوح خاک
سن۔ 1995 ء: بسیط
سن۔ 2006 ء: ارض و سما
تنقید
سن۔ 1974 ء: تعلیم اور ادب و فن کے رشتے
سن۔ 1975 ء: تہذیب و فن
سن۔ 1977 ء: اقبال، سوانحی کتابچہ
سن۔ 2003 ء: پس الفاظ
سن۔ 2003 ء: معنی کی تلاش
خاکے
سن۔ 2002 ء: میرے ہم سفر
سن۔ 2006 ء: میرے ہم قدم۔
صدمات
سن۔ 1992۔ 6 اپریل 1992 شریک حیات داغ مفارقت دے گئیں
سن۔ 1995۔ 4 جون 1995 نشاط قاسمی (بیٹی) ڈاکٹر کی لاپرواہی کی بھینٹ چڑھ گئیں
فلمیں
سن۔ 1940 ء: منٹو کی دعوت پر فلم ”دھرم پتنی“ کے مکالمے اور گیت، فلم ریلیز نہ ہو سکی۔
سن۔ 1941 ء: فلم ”بنجارا“ کے گیت، یہ فلم بھی ریلیز نہ ہو سکی۔
سن۔ 1948 ء: منٹو کی کہا نی :آغوش ”کے مکالمے
سن۔ 1960 ء: فلم ”دو راستے“ کے مکالمے
سن۔ 1964 ء: حمایت علی شاعر کی فلم ”لوری“ کے مکالمے
سن۔ 1995۔ 64 ء: متعدد فلموں کے مکالمے
بچوں کی کتابیں
سن۔ 1943 ء: تین نا ٹک، دوستوں کی کہانیاں
سن۔ 1944 ء: نئی نویلی کہانیاں
متفرقات
سن۔ 1943 ء: کیسر کیاری، طبع زاد اور ماخوذ مزاحیہ تحریروں کا مجموعہ
سن۔ 1944 ء: انگڑائیاں، نامور افسانہ نگاروں کے منتخب افسانے
سن۔ 1947 ء: نقوش لطیف، نامور خواتین افسانہ نگاروں کے منتخب افسانے
سن۔ 1962 ء: منٹو کے خطوط، ندیم کے نام سعادت حسن منٹو کے خطوط
سن۔ 1980 ء: نذز حمید احمد خان، حمید احمد خان کے پسندیدہ موضوعات پر اہل فکر کے مقالات کا مجموعہ
قید و بند
سن۔ 1951۔ مئی 1951 سے نومبر 1951 سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی
سن۔ 1958۔ اکتوبر 1958 ء فروری 1959 ء: سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی
سن۔ 1969۔ نومبر 1969 ء: مقامات قید :لاہور، راولپنڈی، کیمبل پور جیل، شاہی قلعہ لاہور
مطالعہ
٭ غالب، اقبال، عرفی، ہومر، افلاطون، ایلیٹ، پاؤنڈ
٭ روس، جرمنی، فرانس، انگلستان کا فکشن
٭ انگریزی شا عری:۔ گوئٹے اور شیکسپیئر، بحیثیت پسندیدہ شا عر
٭ مطا لعہ:۔ شیلے، کیٹس، ورڈ زورتھ
٭ فکشن:ٹالسٹائی اور فلابیر بحیثیت پسندیدہ مصنف
٭ فلسفہ :برٹینڈرسل، ابن خلدون، ٹوائن بی
٭ نفسیات:فرائیڈ اور ژنگ

٭ قرآن پاک، حضرت مجدد الف ثانی ؒ، مولانا ابوالکلام آزاد، سر سید احمد خان، مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی تحریریں

اعزازات
سن۔ 1968 ء: تمغہ حسن کارکردگی
سن۔ 1980 ء: ستارۂ امتیاز
سن۔ 1997 ء: کمال فن ایوارڈ
سن۔ 1999 ء: نشان امتیاز
ادبی تنظیم قافلہ اور احمد ندیم قاسمی
نمبر 1۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ”قافلہ“ کے بانی سید فخرالدین بلے ممتاز دانشور، محقق شاعر، صحافی، ادیب، نقاد اور ڈیڑھ سو سے زائد مطبوعات و تالیفات کے مولف تھے۔ انہوں نے ادبی تنظیم ”قافلہ“ کے زیر اہتمام دنیائے ادب و صحافت کی کثیر الجہت شخصیت احمد ندیم قاسمی کی سالگرہ کے جشن سب سے زیادہ تعداد میں سجائے۔ ان تقاریب میں جناب اشفاق احمد۔ ڈاکٹر برہان الدین فاروقی علیگ۔ ڈاکٹر آغا سہیل۔ کلیم عثمانی۔ محمد علی (اداکار) ڈاکٹر سلیم اختر۔

منیر نیازی۔ طارق عزیز۔ طفیل ہوشیارپوری۔ انتظار حسین۔ شبنم رومانی۔ احمد فراز۔ محسن بھوپالی۔ علامہ غلام شبیر بخاری۔ اختر حسین جعفری۔ خالد احمد۔ نجیب احمد۔ شہزاد احمد۔ حفیظ تائب۔ سراج منیر۔ اسرار زیدی۔ بانو قدسیہ۔ صدیقہ بیگم۔ ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا۔ مرتضیٰ برلاس۔ ڈاکٹر خورشید رضوی۔ ناہید قاسمی۔ عطاءالحق قاسمی، امجد اسلام امجد۔ سینئر اداکار منور سعید۔ منصورہ احمد۔ بیدار سرمدی۔ محسن نقوی۔ سلطان ارشد القادری۔ سرفراز سید۔ شاہد واسطی۔ حسن رضوی۔ ظفر علی راجا۔ اشفاق نقوی۔ سائرہ ہاشمی، سیما پیروز، ڈاکٹر اجمل نیازی سمیت دیگر ممتاز ملکی اور غیرملکی ادبی شخصیات نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

نمبر 2۔
ادبی تنظیم قافلہ کے زیراہتمام
احمد ندیم قاسمی سے مکالمہ
نمبر 3۔

سید فخرالدین بلے کی زیر ادارت ہفت روزہ ”آواز جرس“ لاہور نے دو مرتبہ احمد ندیم قاسمی کی کثیر الجہت شخصیت کے حوالے سے اشاعت خاص اور قافلے کا خصوصی پڑاوٴ ڈال کر ان کے ساتھ یادگار مکالمے کا اہتمام کیا۔

نمبر 4۔

ادبی تنظیم قافلہ کے بانی سید فخرالدین بلے کے فرزند ظفر معین بلے نے احمد ندیم قاسمی کے یوم ولادت پر خوبصورت اور دیدہ زیب تہنیتی کارڈز چھپوانے کے سلسلے کا آغاز کیا تھا جو احمد ندیم قاسمی صاحب کی زندگی میں ان کی آخری سال گرہ تک جاری رہا اور بھارت کی ادب نواز شخصیت اور نامور شاعر گلزار صاحب نے بھی اس سلسلے کا خیر مقدم کیا۔ اور علمی ادبی حلقوں کی طرف سے بھی اس کی بھرپور انداز میں پذیرائی کی گئی

بین الاقوامی سطح پر مقبولیت اور شہرت
٭ افسانوں کے دو اور نظموں کے ایک مجموعے کا روسی زبان میں ترجمہ
٭ افسانوں کے مجموعے کا جاپانی زبان میں ترجمہ
٭ چینی کے علاوہ انگریزی اور دوسری یورپی زبانوں میں افسانوں کے ایک مجموعے کا ترجمہ
٭ پشتو، پنجابی، سندھی، بنگلہ، مراٹھی، گجراتی اور فارسی زبانوں میں کہانیاں اور نظموں کا ترجمہ
رحلت
بروز پیر 10 جولائی 2006 ء (لاہور)

Facebook Comments HS