مس مارول، تقسیم ہند اور ہمارے تضادات


ایک امریکن شع مس مارول جس کی مرکزی کردار ایک امریکن پاکستانی ہے وہ اپنی شناختی مسئلے کو اس ڈائیلاگ کی صورت بیان کرتی ہے

” میرا پاسپورٹ پاکستانی ہے اور میری جڑیں انڈین ہیں اور درمیان میں ایک سرحد ہے جسے خون اور دکھ سے سینچا گیا ہے“

حسب معمول یہ ڈائیلاگ ہمارے ہاں پسند نہیں کیا گیا کئی جگہ اس کے خلاف اختلافی تبصرے پڑھنے کو ملے۔ جس نے اس موضوع پہ پائے جانے والے تضاد اور ہماری حب الوطنی کی مخصوص اور محدود شرائط پہ کچھ لکھنے کی موٹیویشن دی۔

تقسیم ہند لوگوں کی تقسیم کی سب سے بڑی تاریخ تھی۔ اس میں تقریباً 12 ملین لوگوں کو اپنی بچپن کی گلیاں، گھر، قبرستان، مڈھیاں، شمشان گھاٹ، عبادت گاہیں، جانور زمینیں سب چھوڑنا پڑا۔ پانچ سے دس لاکھ کے درمیان لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لاکھوں خواتین کا ریپ ہوا سینکڑوں نے جان کو عزت پہ ترجیح دی۔ سینکڑوں کو اغوا کر لیا گیا جن کا آج تک پتہ نہ چلا اور وہ آخری دم تک اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو یاد کرتیں رہیں یوں وہ بدنصیب ان انسانوں میں شامل رہیں جن کو سب سے زیادہ عرصہ یہ عذاب جھیلنا پڑا لمحہ لمحہ انہوں نے تقسیم کی اذیت پوری زندگی مرنے تک برداشت کی۔ ابھی مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔

اب آتے ہیں ان تضادات کی طرف جو اس تحریر کا اصل موضوع ہیں۔ ہمارے ہر موضوع کی طرح یہاں بھی کافی تضاد ہیں۔ نام کو ہی لے لیجیے تقسیم ہند کے بھی یہاں ایک سے زیادہ نام ہیں۔ ایک تو وہ نسل ہے جس نے یہ عذاب اپنے جسم اور روح پہ براہ راست برداشت کیا وہ نسل اس کو ”اجاڑے“ کہتی رہی ہے۔ تقسیم کے موضوع پہ اس نسل کے لکھاریوں نے بے مثال ادب تخلیق کیا۔ آنسوؤں اور درد سے سینچی سینکڑوں تحاریر صفحوں پہ اتاریں۔ بقول گلزار ”کہ اس داستان کے صفحے نچوڑیں تو خون نکلے“ اس طرف درد ہے، صدمہ ہے، جذبات ہیں، اپنی زمین کی محبت ہے، واپس جانے کی خواہش ہے جو ہوا کے دوش پہ سرحد پار اپنی جنم بھومی کا طواف کرتی رہتی ہے اور سرحد پہ لگی خاردار تاروں سے ٹکرا کے زخم سے چور بالآخر ڈھے سی جاتی ہے۔ خواب ہیں خیال ہیں بے بسی ہے۔ وہ چیزیں ہیں جن کو کوئی دوسرا نہیں سمجھتا۔

دوسری طرف وہ نسل ہے جو اس المیے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ اس کے لیے اس واقعہ کا نام ”آزادی“ ہے۔ ریاست نے ان کو زیادہ سوچ بچار سے بچانے کے لیے تقسیم کو ”ہندوں سے آزادی“ کا نام دے رکھا ہے۔ ریاستی و درسی کتب کا زور اس بات پہ ہے کہ تقسیم کو اک لازمی اور سود مند واقعہ کی صورت ہی دکھانا ہے۔ اس پہ تنقیدی بات نہیں ہو سکتی۔ دوسرا موقف نہیں دیا جاسکتا صرف اس کے فوائد ہی بیان کیے جائیں گے۔ نتیجتاً وہاں سے آنے والوں کے بچے بھی اپنے بڑوں کی تکلیف درد اور کہانیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

ان کے درد بھرے قصوں کو محض نانا دادا کی بیڈ ٹائم سٹوریز ہی سمجھتے ہیں۔ تقسیم کو بیان کرتا کوئی بھی دوسرا پہلو ان کو بے چینی اور تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ اس نظریاتی سانچے کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ پیدائش سے ہی ڈھلے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ تقسیم کے صدمے اور تکلیف کی عکاسی کرتی چند لائنز ہی کیوں نہ ہوں۔ جیسے مس مارول کے چند ڈائیلاگ۔ یہ باتیں ان کے اندر کا حب الوطن جگاتیں ہیں جس کے مطابق ہندوستان/ہندو دشمنی اور تقسیم کے مثبت پہلو بیان کرنا ہی پاکستان سے محبت کا ثبوت ہے۔ ستر سالوں میں ہم نے پاکستان سے محبت کی کوئی دوسری صورت ابھی تک دریافت نہیں کی۔

گو کہ تکلیف تو صرف اس کی ہوتی ہے جس پہ بیت رہی ہو۔ لیکن یہ درد اتنا چھوٹا تو نہیں تھا کہ اسے یکسر نظرانداز کر دیا جاتا۔ درد اس پار ہے تو درد اس پار بھی تو ہے۔ ہو سکتا ہے اس مشترکہ درد سے آگے کے لیے کوئی دوا نکل آئے۔ تاریخ کے پہیے کا رخ موڑا نہیں جاسکتا۔ اچھا برا ماضی حقیقت ہے اس کو حقیقت مان کے ہی آگے چلا جاسکتا ہے۔ لیکن ماضی کے صدموں کو مستقبل کے انتخاب کے لیے مثال بھی تو بنایا جا سکتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کے تابناک مستقبل کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے۔ مس مارول نے جو کھڑے پانی میں پتھر پھینکا ہے اسے کچھ نہ کچھ تو ہلچل بہرحال لازمی ہوگی۔

Facebook Comments HS

One thought on “مس مارول، تقسیم ہند اور ہمارے تضادات

  • 17/07/2022 at 4:35 شام
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر

Comments are closed.