”میموریز آف مرڈر“ (حقیقی واقعات پر مبنی فلم)


1986 میں جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول کے ایک چھوٹے سے قصبے ہواسیونگ میں ستمبر کی اندھیری سرد رات میں پولیس سٹیشن کو ایک 71 سالہ خاتون ”لی وان“ کی گمشدگی کی خبر موصول ہوئی۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار نے اسے معمول کا واقعہ سمجھتے ہوئے زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا۔ چار دن بعد اس عورت کی نعش ملی تو تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون کو عصمت دری کے بعد دردناک طریقے سے مار دیا گیا تھا۔ مقتولہ کے زیر جامہ سے اس کا چہرہ ڈھانپا گیا تھا اور اسی سے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے پولیس کو حیران کر دیا کیونکہ اس سے قبل اس انداز کے قتل سے ان کا پالا نہیں پڑا تھا۔ ابھی قاتل کی تلاش جاری ہی تھی کہ ایک ماہ کے دوران ہی ایک اور کمسن لڑکی کی نعش ملی جسے اؤل الذکر خاتون کی طرح ہی قتل کیا گیا تھا۔

معاملات مزید سنگین ہو گئے جب دسمبر میں تین ماہ سے لاپتہ لڑکی کی نعش برآمد ہوئی جسے عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ ان واقعات نے ہواسیونگ میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ان بڑھتے ہوئے واقعات کی تحقیقات کے لئے مقامی پولیس کے ساتھ قریبی شہر کی پولیس شامل تفتیش ہو گئی۔ لیکن اموات بڑھتی چلی گئیں حتی کہ پانچ سال سے بھی کم عرصے میں تیس سے زائد عصمت دری اور چودہ قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے جس میں تیرہ سالہ طالبہ سے لے کر 71 سالہ خاتون کا قتل شامل تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ان پراسرار اموات میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ رات سات سے گیارہ بجے کے درمیان برسات میں سرخ لباس زیب تن کیے خواتین کو 6 کلومیٹر کے دائرے کے اندر قتل کیا گیا تھا۔ ان واقعات نے پورے جنوبی کوریا کو ہلا کر رکھ دیا۔ میڈیا میں ان وارداتوں کو وسیع پیمانے پر کوریج ملی اور پولیس پر اس سیریل کلر کی گرفتاری کے لئے بہت دباؤ ڈالا گیا۔ ان اموات کی تحقیقات کے لیے جنوبی کوریا نے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دیں۔

تین عشروں پر محیط ان تحقیقات میں بیس لاکھ سے زائد پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا جس کے دوران ہواسیونگ کے ہر میٹر پر پولیس اہلکاروں نے دن رات چھان بین کی۔ ہزاروں کی تعداد میں خواتین پولیس اہلکار رات بھر سرخ لباس زیب تن کیے ویرانوں میں گردش کرتی رہیں بیس ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے سینکڑوں متشبہ افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے چند کو شک کی بنیاد پر قید کیا گیا اور فرد جرم عائد ہوئی۔ لیکن کچھ پولیس افسران جو اس کیس سے مسلسل جڑے رہے بے شمار شکوک و شبہات کا شکار تھے کہ کیا انھوں نے حقیقی ملزم گرفتار کر لیا یا وہ اب بھی کہیں آزاد گھوم رہا ہے۔ شاید یہ وہ سوال تھا جس نے پولیس افسران کو سالوں تک نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کیے رکھا۔ پوری دنیا میں یہ کیس توجہ کا مرکز بنا رہا۔ عالمی جریدوں میں بے شمار مضامین شائع ہوئے، لاتعداد ڈرامے اور کئی دستاویزی فلمیں بنائی گئیں۔ آج ہمارے زیر بحث کورین فلم ”میمریز آف مرڈر“ انھیں حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔

عموماً جنوبی کوریا کی فلمیں جمالیاتی لحاظ سے خوش کن، جذباتی طور پر دلکش اور حقیقت کے قریب ترین ہوتی ہیں اس کا عکس آپ کو اکادمی ایوارڈ یافتہ ہدایتکار ”بونگ جون ہو“ کی اس فلم میں نمایاں دکھائی دے گا۔ یہ فلم ہواسیونگ میں پیش آنے والے حقیقی واقعات پر مبنی ہے جسے 2003 میں پیش کیا گیا یہ فلم اپنی حقیقت نگاری، کردار سازی، لاجواب عکس بندی اور بے مثال سکور کی وجہ سے پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بنی اور بے شمار ایوارڈز اپنے نام کیے۔

اس فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ سال 2020 میں اس فلم کو امریکہ میں ایک بار پھر سینماؤں کی زینت بنایا گیا۔ اس فلم کے ذریعے بونگ نے کورین فلم انڈسٹری میں ایک سسپنس تھرلر کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے کہ ایک سسپنس تھرلر وہ نہیں جس میں مطلوبہ واقعات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ ناظر سوچنے لگے کہ کیا ہونے والا ہے؟ بلکہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ کیسے ہونے والا ہے؟ یہی بونگ کا سب سے عظیم کارنامہ ہے۔

فلم پولیس کے شعبہ میں موجود نقائص کو بڑی خوبصورتی سے پردہ سکرین پر پیش کرتی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ جب پولیس کے پاس جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کو حل کرنے کے لیے کوئی جدید اور معیاری طریقے نہیں تھے تو انھیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک ڈی۔ این۔ اے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی امریکہ سے مرتب ہو کر آتی۔ نتیجتاً ان کا واحد ذریعہ اپنی جبلتوں پر بھروسا کرنا تھا۔ کسی آسان شکار پر شک کرنا، اسے قید کرنا اور اس وقت تک مارنا پیٹنا جب تک کہ بدقسمت قیدی ان تمام جرائم کا اعتراف نہ کر لے جو اس نے نہیں کیے تھے۔

دوسری جانب قاتل نہایت سفاک، بے رحم اور چالاک ہے۔ بونگ نے ایک قاتل کے پیچیدہ رویوں اور نفسیات کو عمدگی سے پیش کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے جرائم کا بنیادی مقصد بے بس شکار پر ان کی برتری کا دعویٰ ہے، ان کی اپنی کمتری کے احساس کی تلافی اور عموماً جنسی لذت کی خواہش کا اظہار ہے۔ انھیں معاشرے کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ کسی بھی قتل کی منصوبہ بندی نہیں کرتے، ثبوتوں کو نہیں مٹاتے، لاشیں نہیں چھپاتے اور ایک عام شہری کی مانند زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے وہ ان جرائم کا ادراک نہیں کرتے جو ان سے سرزد ہوئے۔

یہی کشمکش فلم میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں تین پولیس افسران قاتل کو گرفتار کرنے کے لئے ہر ممکنہ تدبیر اختیار کرتے ہیں لیکن مسلسل ناکامی ان کو نفسیاتی مسائل میں مبتلا کر دیتی ہے اور اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے وہ خود بھی خلاف قانون ہتھکنڈے آزمانے لگتے ہیں۔ ایسی مسلسل پراسرار قتل کی وارداتوں پر متعین اہل کار کن نفسیاتی مراحل سے گزرتے ہیں فلم انھیں نہایت بولڈ اور کھلے انداز میں پیش کرتی ہے۔ فلم جب نقطہ عروج پر پہنچی ہے تو بونگ اپنے فن کی معراج پر دکھائی دیتا ہے وہ ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ

اصل قاتل کون ہے؟ قتل کیوں کیے گئے؟ کیا محرکات تھے جس نے قاتل کو نفسیاتی اذیت میں مبتلا کیا؟ کیا حقیقی قاتل کو گرفتار کیا گیا؟ کیا قاتل ایک سے زیادہ تو نہیں ہیں؟ جنھیں پکڑ کر چھوڑ دیا گیا وہ قاتل تھے یا نہیں تھے؟ ان تحقیقات کا پولیس اہلکاروں کی زندگی پر کیا اثر ہوا؟

ان تمام سوالات کی کھوج لگانے کے لیے آپ کو بونگ جون ہو کا یہ سائیکالوجیکل تھرلر شاہکار دیکھنا ہو گا۔
حوالہ جات
کورین سیریل کلر
(سی این اے انسائیڈر )
کوریا ناؤ


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احسن رسول ہاشمی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments