میں ہوں جہاں گرد


”میں ہوں جہاں گرد“ سیاحت کی اس وقت کی داستان ہے جب ایران میں خمینی انقلاب جوبن پر تھا، ترکی میں کنعان ایورن کا مارشل لاء عروج پر تھا اور بلغاریہ میں کمیونزم جوان ہو چکا تھا۔ تین دہائیاں بیت جانے کے بعد ، اپنے مشاہدات اور واقعات کی روداد کو اپنی ڈائری پر لکھے چند ایک نوٹس اور یادداشتوں سے کرید کرید کر رقم کرنا مصنف کے لیے خاصا دشوار کام تھا۔ یہ مصنف کی کورونا کے دوران دو سال گھر میں قید کا بہترین نتیجہ ہے۔

مصنف کی جہاں گردی ایران سے شروع ہوتی ہے جہاں وہ تہران میں واقع ”دانش گاہ تہران“ پہنچنے پر لکھتے ہیں : یہ دانش گاہ رضا شاہ پہلوی کے خلاف تہران میں انقلاب کا سب سے بڑا مورچہ تھی۔ یہ یونیورسٹی در حقیقت ترقی پسندوں، کمیونسٹوں اور روشن خیال قوم پرستوں کا گڑھ تھی اور یہی لوگ انقلاب کا پہلا قطرہ بنے۔ مگر امام خمینی کے اسلامیانے کے عمل میں دانش گاہ تہران سب سے زیادہ اسلامائزیشن کا نشانہ بنی۔ 18 اپریل 1980 کو امام خمینی نے کہا: ”ہمیں اقتصادی پابندیوں اور بیرونی فوجی مداخلت سے کوئی نہیں ڈرا سکتا۔ ہمیں کوئی ڈر ہے تو مغرب کی یونیورسٹیوں اور ان کے تحت تربیت یافتہ نوجوانوں سے ہے، جو مغرب کے مفادات کے لیے مشرق میں تعلیم یافتہ کیے گئے ہیں“ ۔

ایران میں اسلامیانے کے لئے تقریباً تین سال کے لیے تعلیمی ادارے بند رکھے گئے۔ سارا نصاب تبدیل کیا گیا اور یونیورسٹیوں سے ہزاروں کی تعداد میں روشن خیال اور بائیں بازو کے اساتذہ اور طلبہ کو بے دخل کر دیا گیا۔ دانش گاہ تہران جو اسلامی انقلاب سے قبل روشن خیال یونیورسٹی جانی جاتی تھی، اسے مغربی افکار اور مغربی افکار رکھنے والے اساتذہ اور طلباء سے پاک کر دیا گیا۔

مصنف ایرانیوں کی مہمان نوازی اور ملنساری سے خوب محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی ایک مثال اصفہان کے نوجوان موٹر سائیکل سوار علی ہادی کی ہے، جس نے ایک انجان سیاح (فرخ سہیل گوئندی) کو اپنی موٹرسائیکل پر چند گھنٹوں میں اصفہان کے تمام اہم مقامات کی سیر کروا دی۔ تہران کی گشت گیری میں فرخ سہیل گوئندی لکھتے ہیں : بس کے اندر میرے ساتھ والی نشست پر درمیانی عمر کی ایرانی خاتون براجمان تھی جسے ایک مرد کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے میں کوئی عار نہیں تھی اور نہ ہی اسے کوئی خطرہ تھا کہ ایک مرد اس کے ساتھ بیٹھا ہے۔

اس اطمینان اور تحفظ کا تعلق ایرانی سماج کی جدیدیت اور ریاست کے قانون پر عملدرآمد سے تھا۔ اس نے سر کو خوبصورت سکارف سے ڈھانپا ہوا تھا اور جینز اور شرٹ اس کا لباس تھا۔ انقلاب سے قبل اور بعد از انقلاب بھی ایرانی خواتین کا لباس جینز، پتلون اور سکرٹ ہی ہے، صرف ایک چادر کا اضافہ ہوا ہے۔ وہ خاتون ذوالفقار علی بھٹو کی مداح تھیں، اسی سلسلے میں رخصت ہوتے ہوئے گوئندی صاحب کو یہ کہہ کر لاجواب کر گئیں، ”اوہ! تم لوگوں نے اتنے بڑے لیڈر کو اپنے ہاتھوں سے مار دیا“ ۔

فرخ سہیل گوئندی نے اپنی جہاں گردی میں ایران سے اگلا قدم ترکی میں رکھا۔ ترکی قدم رکھتے ہی گوئندی صاحب کا سامنا ایک بوڑھی عورت سے ہوا جو خود ڈالر نہیں گن سکتی تھی۔ میرے (فرخ سہیل گوئندی) پوچھنے پر بوڑھی عورت نے بتایا:

میں علی کی ملنگنی ہوں۔ بی بی پاک دامن لاہور کے دربار میں رہتی ہوں۔ حیاتی بھر کی خواہش تھی کہ میں دمشق کی گلیوں میں بی بی زینب کے قدموں کے نشان پر ننگے پاؤں چلوں، جو مولا علی نے پوری کر دی۔ بس میری خواہش ہے کہ جب میں بی بی زینب کے قدم چوم لوں تو میری روح وہیں پرواز کر جائے اور میں وہیں، اسی دھرتی میں دفن ہو جاؤں جہاں بی بی زینب دفن ہیں۔

گوئندی صاحب نے مختلف مقامات کے حوالے سے اپنے جذبات کو الفاظ میں ڈھالا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر مقام کی مختصر تاریخ بھی لکھی ہے۔ گوئندی صاحب نے ترکی میں سب سے پہلے ”اسحاق پاشا محل“ دیکھا جس کی پرلی طرف آرمینیا ہے۔

یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں ایک ہی طرح کے حوالے سے کوہ ارارات کو مقدس جانا جا تا ہے۔ وہ مقام کہ جہاں حضرت نوعؑ کو پیغمبر ماننے والے سیلاب عظیم سے بچ کر ان کی تین منزلہ کشتی میں سوار ہو کر جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

بقول مصنف: میں کوہ ارارات کے وسیع و عریض پہلو میں کھڑا تھا۔ حیرانی اور خوشی سے اسے تکتا جا رہا تھا۔ اور بالکل خاموش۔ میں جہاں کھڑا تھا، یہ ساری سرز مین طوفان نوح میں ڈوب گئی تھی۔ وسیع میدان اور اس میں آسمان کو چھوتا ہوا ارارات۔ 16,854 فٹ بلند چوٹی اور اس پر صدیوں سے جمی برف۔ اسی برف میں صدیوں سے حضرت نوح ؑکی کشتی دھنسی پڑی ہے۔ جب ان کے دور میں عذاب الہی کی شکل میں سیلاب آ گیا تو حضرت نوحؑ نے اپنے ماننے والوں کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور کشتی طوفان تھمنے کے بعد کوہ ارارات کی چوٹی پر آ ٹھہری۔

ارارات کے ساتھ ہی چھوٹا ارارات ہے، اس کی بلندی 12,782 فٹ ہے۔ صدیوں سے قصے کہانیوں اور بنتی مٹتی تہذیبوں کے گواہ۔ خاموش، بالکل خاموش۔ بڑا ارارات اور چھوٹا ارارات، نبی اور پیغمبر آتے چلے گئے، تہذیبوں نے جنم لیا، عروج پا یا، زوال ہوا اور پھر مٹ گئیں، مگر یہ دونوں پہاڑ آج بھی خاموش کھڑے ہیں، اور اپنے اردگرد بر پا تاریخ اور تماشوں کے گواہ ہیں۔

ارارات کے اس طرف آرمینیا، سوویت سوشلسٹ ریپبلک ہے۔ آرمینیوں کو ارارات سے اس قدر تہذیبی و مذہبی لگاؤ ہے کہ سوویت یونین کی اس جمہوریہ کے سرکاری لوگو میں بھی ارارات تھا۔ آرمینیا سوشلسٹ ریپبلک کے سرکاری نشان میں گندم کے خوشے، انگور اور انگور کی بیلیں، زیتون اور درمیان میں نمایاں طور پر ارارات پہاڑ تھا اور اس کے اوپر اشترا کی روس کا قومی نشان ہتھوڑا اور درانتی تھا۔ ارارات کے سوویت یونین کی ریپبلک آرمینیا کے سرکاری لوگو پر ترکی کو اعتراض ہوا کہ یہ پہاڑ تو ہماری مملکت کے اندر ہے، بھلا آپ کیسے اسے جمہور یہ آرمینیا کے سرکاری لوگو پر استعمال کر سکتے ہیں۔ ترکی نے سرکاری طور پر سوویت یونین سے اس پر احتجاج بھی کیا۔ اس پر سوویت یونین نے جواب دیا:

”آپ کے جھنڈے پر چاند اور ستارا ہے تو کیا وہ آپ کی ملکیت ہیں اور کیا وہ آپ کے ہاں موجود ہیں؟“
مصنف کو ان علاقوں کے سفر کا بھی تجربہ رہا جہاں کردوں کی علیحدگی کی تحریک چل رہی تھی۔

فرخ سہیل گوئندی ”یعقوتیہ مدرسہ“ بھی گئے، یہ چودھویں صدی کی ایک یادگار سلجوقی عمارت تھی جو 1310 ء میں مکمل ہوئی۔ ارض روم کے گورنر یعقوت نے اسے تعمیر کروایا اور مدرسے کا نام ان کے نام پر رکھا گیا۔ مصنف مدرسہ یعقوتیہ سے باہر نکلے تو ترکوں کا ایک غول مسجد میں نماز کے لیے رواں دواں تھا اور مسجد کی پیشانی پر ترک جمہوریہ کا پرچم لہرا رہا تھا۔ جہاں جہاں تر کی ہے، شہر، گاؤں، قصبہ، پہاڑ یا ٹیلہ، ترک پر چم ہر طرف لہراتا نظر آئے گا۔

ان پہاڑیوں کی چوٹیوں پر بھی جہاں کوئی نہیں رہتا، بس جہاں بلندی ہوگی، وہیں پر چم نصب نظر آئے گا۔ اور کبھی پرانا پرچم نہیں، ترک اپنا پرچم پرانا ہونے سے پہلے ہی بدل دیتے ہیں اور ایسے ہی مسجد، دفتر، ہوٹل، گھروں کی بالکونیوں، بسوں کے اندر، کاروں کے اندر حتی کہ کاروں کے بونٹ پر بھی۔ بس کوئی اچھا مقام ہو، وہاں ترک پرچم اور ایسے ہی اتا ترک کا مجسمہ ضرور ہو گا۔ کوئی شہر، قصبہ ایسا نہیں جہاں جدید ترکی کے بانی کا مجسمہ نصب نہ ہو۔ کئی نو جوان لڑکے لڑکیاں تو اپنے بازوؤں پر بھی اتاترک کے دستخط کے ٹیٹوز بنواتے ہیں۔ یعقوتیہ مدرسے کے ساتھ مسجد پر لہراتا ہوا تر کی کا پر چم دیکھ کر مصنف سوچنے لگے کہ کیا ہم نے بھی کبھی دیکھا ہے کہ پاکستان کی کسی مسجد پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہو؟

فرخ سہیل گوئندی نے ترکی کا سفر اس وقت کیا جب پاکستان اور ترکی دونوں میں ایک ہی طرز حکومت چل رہی تھی۔ ایک طرف جنرل ضیاء کا مارشل لاء تو دوسری طرف جنرل کنعان اقتدار پر قابض تھا۔ فرخ سہیل گوئندی، جنرل کنعان کی اپنے مخالفین کو قید کرنے کے لیے بنائے گئی جیل ”اولوجزا ایوی“ کے دیدار کو بھی گئے۔ اسی قید خانے میں ناظم حکمت بھی قید رہے اور معروف ترک ادیب یشار کمال بھی۔ یلماز گنائے، معروف مارکسسٹ، کرد ناول نگار، اداکار اور فلم ڈائریکٹر بھی اسی جیل میں قید رہے۔ مارشل لا ء کے ایام میں اس ناول نگار کو 19 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ مگر اپنی قید کے پانچویں سال میں وہ جیل سے فرار ہو کر فرانس پہنچنے میں کامیاب ہوا، جہاں اس نے کرد موضوع پر معروف فلم ”Yol“ بنائی۔

اسی سفر میں مصنف ترکی کے سابق وزیراعظم بلند ایجوت (جن پر اس وقت جنرل کنعان حکومت کی طرف سے میل جول پر پابندی عائد تھی) کی بیوی راشان ایجوت سے ملاقات کرنے بھی گئے، ایسی ہی ملاقات جیسی مصنف جلاوطن پاکستانی شاعرہ فہمیدہ ریاض صاحبہ سے بھارت میں کر چکے تھے، جب انہوں نے اپنی معروف نظم ”خفیہ ملاقاتیں“ لکھ کر دی۔

کتاب میں فاتح استنبول کی مختصر مگر دلچسپ تاریخ بھی موجود ہے۔ استنبول کے سات برج اور حضرت ایوب انصاری کے مزار کی عکس بندی، ساتھ لکھی گئی تاریخ اس عکس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔ یہ سفرنامہ سکندر اعظم کے تابوت اور اس سے جڑی تاریخ سے گزر کر باسفورس تک جاتا ہے، جسے 1970 میں ایشیا اور یورپ کے براعظموں کے مابین سمندری خلیج کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا۔ اس خلیج کو ختم کرنے کا پہلا تصور فارس کے حکمران دار یوش اول نے دیا تھا۔

مصنف کا اگلا حملہ ”بلغاریہ“ پہ ہوا جہاں کا پہلا قانون یہ پڑھنے کو ملا کہ ”ٹرین میں کسی بھی قسم کا فروٹ کاٹنا اور کھانا سخت منع ہے“ ۔

گوئندی صاحب نے ایک بلغارین امیگریشن افسر سے کہا:
”.I am Socialista (Socialist)“
پاکستان۔ پاکستان۔ آئی ایم سوشلسٹ۔
وہ میرے اس جملے کو سن کر مزید حیران ہوا اور سوالیہ انداز میں بار بار کہے جا رہا تھا:

”سوشلسٹ اور پاکستان؟ سوشلسٹ اور پاکستان؟“ ، پھر وہ بولا: ”جنرل ضیا الحق، جہاد افغانستان، ہیروئن، امریکی امپیریل ازم۔“ اس کے ایک ہاتھ میں میرا پاکستانی پاسپورٹ اور دوسرے ہاتھ میں اسلام آباد میں بلغارین سفارت خانے کا دیا ہوا خاص زرد رنگ کا رقعہ تھا جو کہ ’ویزا اوپر ویزا‘ جیسی کوئی دستاویز تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے دوسرے ساتھی کو آواز دی اور اسے حیرانی سے کہنے لگا، ”دیکھو سوشلسٹ اور وہ بھی پاکستان سے۔“ پھر بولا کہ: ”تم افغانستان میں امریکہ کی سر پرستی میں جاری جہاد میں شامل کیوں نہیں؟“ میں نے کہا، ”میں سوشلسٹ ہوں۔ میں امریکی جہاد کا مخالف ہوں۔“

اس نے حیرت، مزاح اور طنز میں کہا: ”سنا ہے تمہارے ہاں بس دو ہی کام ہو رہے ہیں، افغانستان میں جہاد اور نوجوانوں کی پشتوں پر کوڑے“ ۔

بلغاریہ کے شہر ”صوفیہ“ کی سیر میں مصنف لکھتے ہیں : ہمارے ہاں تو کہا جاتا ہے کہ کمیونسٹ ممالک میں تمام عبادت گاہوں پر قفل لگے ہیں، کیا سائنا گاگ اور کیا چرچ و مسجد، سب ہی بند ہیں۔ میں صوفیہ کے نظاروں کے لطف میں گم تھا کہ چند ہی ساعتوں بعد میں نے کیا دیکھا۔ میرے بائیں جانب ایک قدیم مسجد ہے۔ اس کا سیاہ گنبد اور مینار ایک ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ مسجد اور کمیونسٹ ملک میں؟ پھر سوچا قفل لگے ہوں گے۔ دیکھا تو چند نمازی ٹوپیاں پہنے مسجد سے نماز ادا کر کے باہر نکل رہے تھے۔

میری تو آنکھیں حیرت سے پلک بھی جھپکنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ کمیونزم اور نماز کی اجازت؟ بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ مگر وہاں سے تو نمازی بھی نکلتے دیکھے۔ کمیونزم میں نماز، مسلمان اور اسلام۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کیوں کہ ہمارے ہاں یقین کروایا گیا تھا کہ کمیونسٹ ممالک کی سب عبادت گاہوں پر قفل لگا دیے گئے ہیں۔

مصنف کے پاسپورٹ پر بلغاریہ کی مہر ثبت ہو چکی تھی اس لیے انہیں ڈر تھا کہ کہیں پاکستان واپسی پر ان سے تفتیش نہ ہو کہ ایک کمیونسٹ ملک میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ صرف سیاحت کی بات پر کوئی یقین نہیں کرے گا اس لیے مصنف نے طے کر لیا تھا کہ واپسی پر تفتیش ہوئی تو کہوں گا:

”ہاں، میں جنت سے ہو آیا ہوں“ ۔

Facebook Comments HS