پیوما (چوتھی اور آخری قسط)


واپس آن کر پیوما سے ملاقاتوں کا کچھ احوال تو پہلے ہی بیان ہو چکا ہے۔ علم ہوا کہ وہ اب امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ ایک ماہ بعد خاکسار کمپپویٹرز کی ایک نمائش کے لیے ایران کی خاطر کچھ خریداری کرنے گیا تھا۔ ایران کے امریکہ سے ان دنوں تعلقات بہت خراب تھے۔ صادق بیابانی کے انیٹلیجنس ایجنسی واجا والے بھائی زین بیابانی کو ان کے شعبہ کمپیوٹر سرویلنس کے حوالے سے کچھ ضروری پروگرام اور مشینیں درکار تھیں، خاکسار اس طرح کی فری لانسنگ یہاں پاکستان میں کرتا رہتا ہے۔ دفاعی اداروں کی جانب سے اسے جو سیکورٹی کلئیرنس حاصل ہے اس وجہ سے اس طرح کے ساز و سامان کی خریداری آپ کے اس خادم کے لیے الحمدللہ ہر گز دشوار نہیں ہوتی۔ پاکستان کی جانب سے خریداری میں صرف آرڈر کے آئٹمز میں ایران کے لیے آئٹمز کی تعداد میں خاموشی سے اضافہ ہی کافی تھا۔ جب ایران کا مال منگواتے ہیں تو احتیاط یہ کرتے ہیں کہ پہلے وہ دوبئی آئے۔ دوبئی آتے ہی ایران کے سامان کو علیحدہ کر کے لانچوں کے ذریعے تہران روانہ کر دیا جاتا۔

نمائش میں پیوما مجھے مل گئی۔ اس کی کمپنی کے پاس کچھ مطلوبہ آئٹمز تھے۔ میں نے آرڈر اس کے ذریعے دیا تو اسے خاصا کمیشن ملا۔ کچھ اور آئٹمز جو وہاں رکھے ہوئے نہ تھے وہ بھی اس کی مدد سے مل گئے تو ہم دونوں کے کمیشن میں وارے نیارے ہو گئے۔ نمائش کے اختتام پر ہم کئی دن ساتھ گھومے پھرے۔ وہ پاکستان کو مس کرتی تھی۔ سلیکون ویلی کی جس کمپنی کے لیے وہ کام کرتی تھی وہ واک تھرو گیٹس اور سیکورٹی سے متعلق سامان کی ڈیزائننگ اور پروگرامنگ کی ماہر ہونے کے ساتھ سی آئی اے کے کنٹریکڑ کا بھی کام کرتی تھی۔ پیوما کو امریکہ میں بہت مقابلے کا سامنا تھا وہ دوبارہ پاکستان لوٹ کر آنا چاہتی تھی۔ سعدی کی موت کو سال سے اوپر کا عرصہ ہو چلا تھا۔ اگست کی اس امگی ہوئی رات کو جب ہم Stadium Promenade سے فلم، دیکھ کر رات گئے لوٹ رہے تھے۔ برسات ایسی تھی کہ دل بے اختیار بھیگنے کو دل کرتا تھا۔ شام کو نمائش ختم ہوئی تب تک یہ فیصلہ نہ ہوا تھا کہ وہ میرے ہوٹل جائے گی کہ اپنے ہوٹل۔

وہ اپنے قیمتی سینڈلز بارش کے پانی سے بچانے کے لیے ننگے پیر چل رہی تھی۔ پیوما نے چست نیلی فگر ہگنگ جینز جو آدھی پنڈلیوں تک لپٹی تھیں ان پر آبی رنگوں کا پھولدار ڈورریوں والا ہالٹر بغیر برا کے پہنا تھا یہ اس کی ناف سے کافی اوپر جھجک کر تھم گیا تھا۔ کمر بھی مکمل ننگی تھی جس کی ٹھنڈک اور ریشمی پھسلن اور گہرے کٹاؤ کا مجھے فلم دیکھتے ہوئے اور واپسی پر کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے کئی دفعہ ادراک ہوا۔

بھیگی رات کے وسطی پہر سنسان ایسٹ بال روڈ پر جو میرے ہوٹل سے بہت قریب تھی میں نے اسے ایک عمارت کے شیشے کے سامنے روکا مختلف رنگ کی روشنیوں کے زاویے ایسے تھے کہ تجارتی کھڑکیوں کے بڑے شیشے آئینے جیسے بن گئے تھے۔ پیوما کے کاندھے تھام کر اسے اپنے آگے کھڑا رکھ کراس کا عکس اسے دکھایا۔ معاملہ کچھ بن گیا کہ پیچھے کھڑے ہوئے خاکسار کے عکس نے اسے آئندہ کے سپنے دکھائے۔ وہ کچھ پگھلی تو بوس و کنار کے طویل وقفوں والے سلسلے وہیں دراز ہوئے۔

مجھ میں اس کے مچ مچانے اور سسکیوں کا مردانہ شعور اجاگر ہوا تو میں نے گردن کے پیچھے ہونٹوں سے ہالٹر کی ڈوریاں کھول دیں۔ ڈوریاں کھلنے کا احساس اگر اسے ہوا بھی تو انہیں سامنے کی طرف گر کر عریاں سینہ دکھانے سے روکنے کی مہلت نہ ملی۔ رفاقتوں کے اس سوز نہاں کا سلسلہ کھنچ کھنچا کر میرے ہوٹل کے کمرے تک دراز ہوا اور ہم دونوں نے پیمان باندھا کہ یہاں امریکہ میں تو ہم Open Relationship میں سما کر رہیں گے۔ اسی نے تجویز دی کہ دستاویزات میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں مگر نکتہ چینوں کا منہ بند رکھنے کے لیے ہم پاکستان میں ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی بھی کہلائیں گے۔ وہ رہے گی بھی میرے پاس۔ ہمارے درمیاں جائیداد، پیسہ کوئی ایشو نہیں ہو گا، جو میرا ہے وہ میرا رہے گا۔ جو اس کا ہے وہ اس کا رہے گا۔ بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ باقاعدہ اور تحریری معاہدے کے تحت امریکہ میں ہو گا۔ رہائش، طعام اور سفری اخراجات میرے ہوں گے۔ پاکستان میں میرے علاوہ کسی مرد سے جنسی اور جسمانی تعلق نہیں رکھے گی۔ یہ کم و بیش گیلانی والا ہی ماڈل تھا۔ ہم ایک دوسرے کے ماضی پر سوال جواب نہیں کریں گے۔ نہ ہمارا ماضی ہمارے موجودہ اور آئندہ تعلقات پر اثر انداز ہو گا۔ سعدی یا گیلانی کے بارے میں وہ خود کچھ بتائے تو یہ اس کی صوابدید ہو گا مگر میں سوال نہیں کروں گا۔ اپنے تعلقات کی بنیاد پر میں اس کی روحی سے گیلانی والے گھر کے حصول میں مدد کروں گا۔ اس لیے کہ وہ دستاویزات کے حساب سے گیلانی کی بیوی ہے۔ اس لحاظ سے اس قیمتی جائیداد میں اس کا معقول حصہ ہے۔ روحی نے اس کے والد کی جمع کردہ کچھ قیمتی تصویریں، پرانے کیمرے، اور قدیمی کتابی نسخوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے وہ اسے واپس لے کردوں گا، یہ ان نجی ذخیرہ کی پانچ نسلوں سے خاندان میں چلا آ رہا ہے۔ اس میں دعاؤں کی کچھ ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جو اس کی پرنانی اپنے ساتھ منگولیا سے باسل اس وقت لے گئیں تھیں جب انہیں الان بطور میں ایک عیسائی پادری سے عشق ہو گیا تھا جس کا تعلق باسل سوئزرلینڈ سے تھا۔ وہ الان بطور اس کے ساتھ ہی بھاگ لی تھیں۔

ہمارا یہ ساتھ بے حد خوشگوار اور پر لطف تھا۔ ہر ایک دو ماہ میں وہ پاکستان ہو کہ امریکہ دو تین دن کے لیے غائب ہوجاتی تھی۔ اس کا انکشاف مجھے اس کے رول آن بیگ کو دروازے کے پاس دیکھ کر اس وقت ہوتا جب وہ سعدی کی اصطلاح میں کہتی تھی ”آیت اللہ آئی ایم آف۔ سی یا لیٹر۔ یہ وقفہ تین د ن سے زیادہ نہ ہوتا۔ وہ گھر سے جب روانہ ہوتی تو پچھلی گلی میں کوئی کار کھڑی ہوتی جس کا نمبر مجھے کبھی بھی پتہ نہ چل پایا۔

اب مڑ کر دیکھوں تو ہمارے اس تعلق کو سال سے اوپر ہو چلا تھا۔ اس کے نوادرات کی وصولی یوں آسان ہوئی کہ گھانگھرو کی ایک ٹیم کی مدد سے ایک ڈکیتی کی گئی۔ روحی گیلانی والے گھر پر قابض تھی۔ وہ اس کی حقیقی ہم شیرہ تھی۔ جس کا پیوما کو علم بھی تھا۔ وہ دو تین دن کے لیے کہیں غائب تھی۔ گھانگرو کے آدمیوں نے پہلے تو چوکیداروں کو نشہ آور بریانی کھلائی۔ انہیں اپنے سیف ہاؤس کے کمرے میں بند کیا۔ پیوما نے بعد میں گھانگرو کی فراہم کردہ سرکاری سوزوکی بھر کر اپنی مطلوبہ اشیا وہاں سے خالی کر لیں۔ پیوما اس ڈکیتی میں نہ صرف خود شریک ہوئی بلکہ وہ دعاؤں کی وہ کتاب مل جانے پر بہت خوش ہوئی حالانکہ مذہب سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ گیلانی والے گھر کے حوالے سے کوئی زیادہ مشکل نہ ہوئی۔ وکیل صاحب کا نوٹس ملا تو روحی نے ثمر کے ذریعے اس سے آؤٹ آف کورٹ راضی نامے کی پیشکش کی، دونوں خواتین کے لیے مقدمات ان کے ہینڈلرز کے لیے درد سر ہوتے۔ نصف حصہ لے کر دونوں خوش ہو گئیں۔ میں اور پیوما جب امریکہ میں اپنی رفاقتوں کو ایک معنی آفریں استحکام بخش رہے تھے۔ ایک حادثہ یہ ہوا کہ زیارت پر گئی ہوئی بابین عراق میں بغداد ہوٹل والی دہشت گردی کی واردات میں اللہ کو پیاری ہو گئی۔

ہم کوئی پانچ ماہ بعد جب پاکستان پہنچے تو ثمر اور روحی کے تعلقات میں گہرائی کا علم ہوا۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ ثمر کے بہنوئی شجاعت بھائی کے پاس اب نہ صرف وزارت داخلہ میں پہلے والا اہم عہدہ تھا بلکہ انہیں صدر صاحب کی خصوصی عنائیت سے اس خفیہ بیورو کا چیف بھی بنا دیا گیا تھا۔ وہ اب اس حوالے سے براہ راست صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو رپورٹ کرتے تھے۔

میرا معاملہ ان کے ساتھ یہ تھا کہ وہ ہمارے قریبی عزیز بھی تھے اور ان کے برے دنوں میں ابا نے ان پر بڑی مہربانیاں کیں تھیں۔ کم سنی میں والدین کے انتقال کے بعد سے ان کو مقابلے کے امتحان تک ہمارے گھر میں ہی رہنے کا موقع دیا گیا تھا۔ چند ماہ کے لیے وہ ایک کالج میں لیکچرر ہونے کے باوجود جس طرح بچپن سے ہمارے ہاں ہی رہتے تھے۔ سچ پوچھو تو ثمر کی بہن سے ان کی شادی میں ابا کی ہی ضد نے کام دکھایا تھا ورنہ ثمر کے والدین کو ان کے گھرانے پر اہل سادات نہ ہونے پر کافی اعتراض تھا۔

پیوما اور میں ان دنوں پاکستان تھے۔ یہ وہی صبحیں ہیں جن کا ذکر آپ نے کہانی کے آغاز میں پڑھا ہے۔ پیوما یہاں پاکستان میں بھی آن کر دو تین دن کے لیے اپنا رول آن بیگ لے کر غائب ہوجاتی تھی۔ میں اس وقت تو اندازہ نہ لگا پایا مگر اس کی غیر حاضری کے دوران یا فوراً بعد کوئی نہ کوئی دہشت گردی کی واردات ضرور ہوتی جس کی تفصیلات وہ بہت دل جمعی سے اپنے کمپیوٹر میں فیڈ کرتی۔ اس کے کمپیوٹر میں یہ سب تفصیلات then came a spider والی ہیڈنگ میں درج ہوتی تھیں۔ اس کا احوال بھی آگے ہے۔

پیوما کو ایسے ہی ایک دورے پر روانہ ہونے سے پہلے بیک وقت دو تکالیف نے گھیر لیا۔ ایک تو دانت میں درد کی۔ جسے اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ جہاں جا رہی ہے وہاں سے علاج کرا لے گی۔ دوسری تکلیف یہ تھی کہ اس کے لیپ ٹاپ نے دھوکا دے دیا۔ بجلی کا کرنٹ اوپر نیچے ہونے سے کچھ ایسا ہوا کہ ہارڈ ڈسک بری طرح سے گرم ہوئی جس سے ڈیٹا کرپٹ ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید پیوما اس کی درستگی کا خود اہتمام کرتی مگر اپنا کام چلانے کے لیے وہ میرا پرانا لیپ ٹاپ ساتھ لے گئی۔ تب تک پاکستان میں نوکیا 3310 بہت دھانسو فون سمجھا جاتا تھا۔ ایپل اور دوسری کمپینوں کے فون ابھی تک مارکیٹ میں نہ آئے تھے۔ انٹرنیٹ نے اپنا دائرہ کار فونز تک نہ بڑھایا تھا۔ پیوما اپنا لیپ ٹاپ چھوڑ گئی۔ میں نے بھی ڈرا دیا کہ ہارڈ ڈسک اگر گرم ہو جائے تو اسے ٹھیک کرنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔

جاتے وقت جلدی میں پیوما مجھے کہہ گئی کہ میں اس کی آمد تک یہ لیپ ٹاپ اور ڈسک ٹھیک کرا لوں۔ ڈسک ٹھیک کرانے میں دیر نہ لگی۔ رات گئے تنہائی کا عالم تھا۔ میں اس کے کمپیوٹر سے کھلواڑ کر رہا تھا تب مجھ پر یہ بھیانک انکشاف ہوا کہ سعدی کو مارنے کے منصوبے میں پیوما اگر برابر کی شریک نہ تھی تو روحی کو اس رات سعدی کے اپنے پاس سے رخصت ہونے کی اطلاع پیوما نے ہی دی تھی۔ اس کی ایک ڈیجیٹل ڈائری تھی۔ سعدی کو مارنے کے فیصلے سے پہلے پیوما نے روحی اور گیلانی کو سعدی کو مارنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

وہ تنکا جس نے اونٹ کی کمر توڑی وہ بظاہر ایسے ایک مذہبی رہنما کی ہلاکت تھی جس کی ٹارگٹ کلنگ کا سارا شبہ فوراً ہی ان کی مخالف مذہبی جماعت پر گیا تھا۔ میڈیا میں بھی اس حوالے سے خصوصی زاویوں کو جو اسی نوعیت کے مخالفین کی طرف اشارہ کرتے تھے اجاگر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ہٹ ٹیم کی پشت پر سعدی کا ادارہ تھا۔ یہ رہنما اس بہت بڑے غیر ملکی نیٹ ورک کا اہم رکن تھا جس کے آستانے پر کنفیوژن اور افراتفری پھیلانے والے تمام عناصر تحلیل اختلافات، تقسیم مالیات اور ترویح اہداف کے لیے جمع ہوتے تھے۔

سعدی کی ہلاکت کا منصوبہ اعلی الصبح کا تھا۔ سعدی کو پیوما کے گھر ہی زہر دیا گیا۔ وہ اسے یہ بتانے گیا تھا کہ اس کے مہرین سے ازدواجی تعلقات بحال ہونے کو ہیں۔ مہرین معترض ہے کہ وہ اس سے تعلق کو یوں ہی جاری رکھے۔ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ پارٹی از اوور۔

کمپیوٹر کی ڈائری میں درج معلومات کو سامنے رکھوں تو سعدی کو راستے کی رکاوٹ ایک عرصے سے سمجھا جا رہا تھا۔ پیوما سے تعلقات ہر مرتبہ اس کو مارنے کے منصوبوں کے آڑے آتے تھے۔ ان منصوبوں میں شدت اس وقت آئی جب کالو گومبھا کے ذریعے ”را“ والوں کو سعدی کی تصویریں اور کچھ لڑکوں سے ملاقات کا علم ہوا۔ وہ واچ کرتے رہے کہ جس کاروباری سیٹ اپ کا خواب پیوما نے کالو گومبھا کو دکھایا ہے اس کی کوئی شاخ پاکستان میں بھی قائم ہوتی ہے کہ نہیں مگر جب سعدی کی واپسی پر اہم کارکنان کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی فصل کٹنا شروع ہوئی تو انہیں لگا کہ کالو گومبھا کو بے وقوف بنایا گیا۔ ہلے کالو کو انہوں نے وہاں drive by shooting میں مارا اور پھر سعدی کو یہاں پاکستان میں ٹپکانے کا منصوبہ بنا۔ پیوما کو انہوں نے کیوں معاف رکھا شاید اس لیے کہ وہ کسی امریکی پرائیویٹ کنٹریکٹر فرم کی ملازم تھی جیسا بعد میں پاکستانی عوام کو ریمنڈ ڈیوس کی صورت میں دکھائی دیا۔

اس رات گیلانی کی دعوت پر سعدی ان کے گھر گیا تھا۔ روحی بھی وہاں موجود نہ تھی۔ وہ سن سیٹ بلوارڈ کے قریب ہی ایک گلی میں واقع ایک گھر میں اپنی ہٹ ٹیم کے ساتھ موجود تھی۔ میرے لیے یہ بات آج بھی راز ہے کہ زہر دینے کا علم پیوما کو تھا یا نہیں۔ پیوما میٹھی اشیا سے مکمل گریز کرتی تھی۔ سوائے آم اور بیر کے۔ سعدی ہر طرح کے میٹھے کا دیوانہ تھا۔ شاید ایسی ہی کوئی ڈش ہوگی جس میں زہر ملایا گیا ہو گا۔

پیوما ہی نے اسے میرے فلیٹ سے پک کیا تھا اور رات گئے وہی اسے گھانگرو کے دوست کے گھر چھوڑ کر آئی تھی۔ واپسی پر جو ٹیم اسے اور پاؤر کرنے ایک ہلاکت آمیز انجکشن دے کر اس کی لاش پنکھے سے لٹکانے کے لیے گئی تھی وہ گیلانی کی اطلاع پر روحی کی سربراہی میں روانہ ہوئی۔ خاتون کا ر میں بیٹھی ہو تو تلاشی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ان دنوں پولیس کے ناکے جابجا دکھائی دیتے تھے مگر روحی کو سامنے کی نشست پر بیٹھا دیکھ کر اور سوزوکی کئیری پر پریس کا پرچہ دیکھ کر پولیس والے ڈر سے گئے۔ یوں بھی سیاسی تنظیموں نے اپنے لڑکے پولیس میں اس قدر کثرت سے بھرتی کر دیے تھے کہ پولیس موبائیلوں کے ناکے بے اثر ہو گئے تھے۔ ٹیم میں احتیاطاً انہوں نے دو لڑکیاں اور بٹھائی ہوئی تھیں جب کہ اسلحہ بھی سیٹ کے نیچے رکھا تھا۔ اصلی زور آور کچھ آگے کچھ پیچھے دو عدد موٹر سائیکلوں پر چل رہے تھے۔ سوزوکی کئیری ان میں سے سامان کا ایک تھیلا اور دو عدد لڑکے اتار کے ڈیفنس مارکیٹ پہنچ گئی۔

اس ڈائری میں روحی پیوما کے حوالے سے ایک مکالمہ بہت دل چسپ تھا جس میں روحی نے اسے سمجھایا تھا کہ محبت ابتدائی ایام میں بلی کے نوزائیدہ بچوں کی طرح بینائی کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے مگر بعد میں یہ صلاحیت ایسی بیدار ہوتی ہے کہ اندھیرے میں بھی سب صاف دکھائی دیتا ہے۔ پیوما کے ہینڈلرز مختلف تھے انہیں سعدی کی ہلاکت میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ جب کہ روحی کو اس کام کے لیے خصوصی طور پر دوبئی سے بھیجا گیا تھا۔

میں نے اس ڈیٹا کا بیک اپ USB دو عدد میں فون سے Secure حفاظت سے منتقل کیا۔ اگلی صبح گھانگرو کے دفتر سے شجاعت بھائی کو فون کیا تو وہ لاہور سے چل پڑے۔ ایک ٹیم اسلام آباد سے بھی روانہ ہوئی۔ بلوچ کالونی کے پاس جو ایک مشہور رہائشی کالونی ہے وہاں ہم سب جمع ہوئے۔ یو ایس بی کو میں presentation کی صورت میں روحی، سفیان، پیوما کی تصاویر کے ساتھ ڈھال کر اس ٹیم کے سربراہان کو دکھایا گیا۔

اسلام آباد سے فیصلہ آنے میں پورے پندرہ دن لگے۔ شجاعت بھائی کو یہ بدگمانی تھی کہ میرا پیوما سے لگاؤ اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ہو گا شاید ایسا ہی کچھ دوستوں کے گرویدہ روحی کے نئے عاشق ثمر کے بارے میں بھی سوچا گیا۔ یہ ان کی غلطی تھی۔ ثمر نے ہی انہیں روحی کے دوبئی آنے جانے کے پروگرام سے آگاہ کیا تو اس کے پیچھے پیچھے ایک ٹیم یہاں سے چل پڑی۔ واپسی پر اسی ٹیم نے روحی کو تو بلاتکلف اغوا کیا۔ وہ دوبئی سے واپس آئی تھی اور ائرپورٹ سے جس ٹیکسی میں گھر آنے کے لیے روانہ ہوئی وہ ڈیفنس کی بجائے ملیر کی طرف ایسی مڑی کہ ٹیکسی اور مسافر دونوں کی خبر ہی نہ ملی۔

پیوما کو مارنے کا فیصلہ ذرا گمبھیر تھا۔ پیوما دورے سے واپس آئی تو کہنے لگی یار وہاں ملتان میں مجھے کوئی ایسا ڈاکٹر نہ ملا جو قابل بھروسا ہو۔ ڈینٹسٹ نے پین کلر دے کر آرام تو دے دیا مگر روٹ کینال پر میرا دل راضی نہ ہوا میں نے اسے یہاں کراچی میں دو ایک مشہور ڈینٹسٹ دوستوں کا حوالہ دیا۔ کام کو ذرا مشکل بنایا گیا۔ گھانگرو کی سفارش کے ذریعے ایک جاننے والے بڑے ڈاکٹر صاحب سے معاملہ طے ہوا۔ گھانگھرو، سعدی کی موت کے بعد اپنے طور پر اس کے قاتلوں کی تلاش میں رہتا تھا۔ اسے یہ خیال مارے ڈالتا تھا کہ اس کی موت میں ادارے کی اندرونی لیکج کا ہاتھ تھا۔ اسے پیوما کے کمپیوٹر اور سعدی کی ساؤتھ افریقہ کی کارروائیوں کا علم نہ تھا۔

میرا کام یہ تھا کہ میں ڈینٹسٹ صاحب کو گھانگرو صاحب کے گوٹھائی (سندھی میں گاؤں والے ) نائب نور محمد کوزہر کا وہ وائل (VILE) فراہم کروں جو وہ پین کلر کے ساتھ انجکشن میں بھر کر دو مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو دے گا۔ Castor Bean جسے ہم۔ اریٹھا کہتے ہیں اور جس سے امی جان بال دھویا کرتی تھیں۔ اس سے جب تیل نکل جاتا ہے تو اس میں ایک سفید مواد باقی رہ جاتا ہے۔ اس کو کیمیکل Refine کر کے ایک زہر بناتے ہیں جسے Ricin کہتے ہیں۔ اس کا نہ رنگ نہ کوئی نمایاں ذائقہ ہوتا ہے۔ اسے سوئی کے ذریعے کے طریقے سے مطلوبہ شخص کے بدن میں داخل کرتے ہیں۔ ingestion کے راستے یعنی نسوں میں داخل ہونا زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ اس کے اثرات چار گھنٹے میں نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ سینہ جکڑا جاتا ہے۔ شدید کھانسی سے پھیپھڑوں میں بے تحاشا درد ہونے لگتا ہے۔

نور محمد دانتوں کے اس ڈاکٹر صاحب کا اسسٹنٹ تھا۔ اس کو گھانگرو صاحب ہی گاؤں سے لائے تھے اور ڈاکٹر صاحب کے پاس انہوں نے ہی ملازم رکھوایا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ یہ باہر کی دوائی ہے۔ سرنج میں دو دفعہ بھرنی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو اس کا بالکل نہیں بتانا۔ استعمال کے بعد اس کی خالی بوتل وہ مجھے چپ چاپ دے گا۔ پہلی بڑی ڈوز (Dose) وہ اس وقت سرنج میں بھر کر دے گا جب ڈاکٹر صاحب فون سننے باہر جائیں گے اس کا اہتمام کچھ یوں تھا کہ انہیں کمرے سے باہر لانے کے لیے میں گھانگرو کو مس کال کروں گا۔ وہ جواباً ڈاکٹر صاحب کو پارت رکھنے ( سندھی میں خیال رکھنا) کا فون کریں گے۔ اسی دوران وہ خالی بوتل دی جائے گی۔ جسے میں نے کلینک سے کہیں دور دو تلوار کے پاس پھینک دینا ہے۔

Georgi Markov بلغاریہ کا ایک نامور مصنف تھا۔ اسے مبینہ طور پر کے جی بی نے اس زہر سے مارا تھا۔ چھتری کے نوکیلے کنارے جس میں ricin بھرا تھا بظاہر حادثاتی طور پر لندن میں واٹر لو برج کے اوپر گھونپ کر مارا گیا تھا۔

اندرون سندھ سے برآمد شدہ نور محمد کا ذہن اس سے آگے کام کرنے سے قاصر تھا۔ وہاں پہنچتے ہی پانچ سو روپے کا ایک نوٹ جب میں نے پیوما کے سامنے اسے دیا تو وہ کہنے لگی تم بھی نا ہر جگہ لوگوں کی عادتیں خراب کرتے ہو۔ اس کی اب ہر ایک مریض سے یہی آس ہو گی۔

قتل کی سازش میں یہ قلیل معاوضہ ہی تھا جس نے پیوما کی ہلاکت کا دروازہ کھولا۔ سب کچھ ایسے ہی ہوا۔ ڈینٹسٹ صاحب گھانگرو کا فون سننے باہر آئے۔ میں نے اندر جاکر خاموشی سے نور محمد کو بوتل دی۔ خالی بوتل سرنج میں بھرنے کے بعد واپس لی اور پیوما کی روٹ کنال سرجری کے بعد اسے کمر میں ہاتھ ڈالے گھر لے آیا۔

اب میں یاد کروں تو ایک تو این ہائم۔ کیلی فورنیا میں برسات میں بھیگتے ہوئے عکس دیکھتے دیکھتے اس سے بوس کنار بہت یاد آتا ہے اور بارہا اس کا اٹھلا کر تم بھی نا کہنا۔ ڈاکٹر صاحب کے ہاں سے نکل کر گھر آئے تو وہاں کچھ دیر بعد اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ وہیں سے میں اسے خالہ امی کی طرف لے گیا طبیعت خراب ہوئی۔ کہنے لگی آیت اللہ لگتا ہے میرے اندر کوئی آگ سی لگی ہے۔ کوئی دوائی لڑ گئی ہے۔ میں نے جھوٹ موٹ کہا بھی کہ چلو تو ہسپتال لے جاؤں وہ کہنے لگی نہیں صبح تک دیکھتے ہیں۔ پہلی دفعہ اس نے میری ہی تجویز پر آئس کریم کھانے پر رضامندی ظاہر کی کہ جس میں مزید رسین شامل تھا۔ رات کے اسی پہر جب سعدی کو انجکشن دے کر زہر دیا گیا ہو گا میں نے حب الوطنی اور جذبۂ انتقام کے ملے جلے جذبات سے اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کی رہی سہی سانسوں کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan