پیوما (چوتھی اور آخری قسط)
<
p dir=”rtl” style=”text-align: right;”>

دو دن بعد سعدی جنوبی افریقہ سرکاری مشن پر چلا گیا تو بابین، مسز سعدی اور معصومہ نے عجب حرکت کی، بابین نے ثمر کے ڈرائیور سے گیلانی کے گھر کا پتہ پوچھ لیا اور اس کے گھر پہنچ گئیں۔ چوکیدار سے خود کو پیوما کی اسکول کی سہیلیاں ظاہر کر کے اس کا پوچھا تو وہ کہنے لگا وہ پاکستان سے باہر گئی ہوئی ہیں۔ وقت اور تاریخ روانگی کے علم میں آ جانے کے بعد پیوما سعدی تعلقات کا گٹھ جوڑ جاننا مشکل نہ تھا۔ رہی سہی آگ اس فون نے لگائی جو ادارہ روک تھام برائے منشیات میں مہرین بھابھی کے کزن نے گیلانی کو کیا۔ یہ افسر ان کا بہنوئی بھی تھا۔
گیلانی کو بلا کر اس سے منشیات کے ایک جواں سال خوبرو مرد کئیریر کے بارے میں تفتیش کی۔ کیریر کے فون سے گیلانی کا فون نمبر ملا تھا۔ ان کے کبھی آپس میں جنسی تعلقات بھی رہے تھے۔ گیلانی کو دو تین دن ادارے نے اپنی تحویل میں بھی رکھا۔ شاید بد سلوکی بھی کی ہو مگر بعد میں ثمر نے ہی مداخلت کر کے اسے چھڑا دیا۔
ثمر خود بھی مہرین بھابھی سے اس رویے سے ناخوش تھا۔ چوں کہ خود بھی بابین کے علاوہ دیگر خواتین کے ساتھ وقتاً فوقتاً ملوث ہوجاتا تھا لہذا اس کے لیے اس دکھ بھری بات کا ادراک مشکل تھا کہ ان حرکتوں کا بیگمات کی نفسیات اور احساس عدم تحفظ پر کس قدر منفی اثر پڑتا تھا۔
گیلانی کو اپنا یوں گرفتار ہونا، اپنی تحقیر اور مہرین بھابھی کے حالات کو اس ناپسندیدہ نہج تک پہنچانے کا بہت رنج تھا۔ سعدی کی شادی میں دراڑ پڑنے سے اس کی بیوی کا گھر خراب کرنے سے اور گیلانی کے دل میں سعدی کے لیے جذبۂ انتقام پیدا ہونے اور بدلہ لینے سے جوڑوں تو یہ ایک طرح کا بریک پوائنٹ کہا جاسکتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اسے پیوما اور سعدی کے غیر معمولی تعلقات پر کوئی بڑا اعتراض تھا۔ اس نے کچھ دن بہت تحمل سے کام لیا مگر پھر ایک سوچی سمجھی چال کے طور پر پیوما کے اور سعدی کے لمحات وصال کی قابل اعتراض تصاویر سے بھرا لفافہ کسی کارندے کے ہاتھ گمنام انداز میں مہرین بھابھی اور سعدی کے گھر پہنچا دیا۔ پیوما کے ملک سے باہر جانے کا عقدہ بھی ہم پر گیلانی کے ذریعے ہی کھلا۔
وہ جنوبی افریقہ نہیں بلکہ بمبئی گئی تھی۔ اس کے سوتیلے والد کلیان جی مہتہ کے بھائی مانک رام جی کا مہاکلی کیوز روڈ۔ اندھیری میں ہیروں کی پالشنگ کا بزنس تھا اور وہ چاہتے تھے کہ پیوما اپنا ٹھکانہ جنوبی افریقہ کو بنا لے تاکہ وہ اس کی مدد سے یہ کام وہاں بھی شروع کرسکیں۔ اس کاروبار کو البتہ وہ ہندوستانی نژاد باشندوں بالخصوص گجراتیوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کے پیش نظر ایک علیحدہ انداز میں کرنا چاہتے تھے یعنی گولڈ اینڈ اسٹون ٹریڈ جس کا محور قیمتی پتھروں کی بجائے کرنسی ہوتی۔ اس بزنس کے لیے وہ قانونی اور انشورنس کے مقاصد کے لیے professional replacement valuation certificates، متبادل قرضہ، جیولری اور ہیرے برائے کیش قسم کا ایک کاروباری دفتر کھولنا چاہتے تھے۔
اس کام میں نہ صرف ہیروں کی شناخت ایک اہم مسئلہ تھی بلکہ اس میں مسل پاؤر کی بھی ضرورت اس لیے تھی کہ جنوبی افریقہ میں چینی پاکستانی، بھارتی، لبنانی، روسی، اسرائیلی اور برطانوی کرمنل گینگز جو نائٹ کلبوں، اسمگلنگ، سگریٹ کے غیر قانونی دھندے کا بہت زور تھا۔ پیوما میں انہیں یہ خوبی نظر آئی کہ وہ نہ صرف کاروبار کے ظاہری پہلو کا بخوبی احاطہ کر سکتی ہے بلکہ اس میں ہونے والی مجرمانہ ریشہ دوانیوں سے بھی بہت عمدگی سے نمٹ سکتی ہے۔
مجھے جب سعدی کی ای میل ملی تو پتہ چلا کہ پیوما بھی بمبئی سے کیپ ٹاؤن آ گئی ہے۔ اس ای میل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پیوما نے گیلانی کو اپنے مکمل سفر کا روانگی کے وقت نہیں بتایا تھا۔ ممکن ہے وہ سفیان کو اپنے آئندہ منصوبوں سے باہر کر کے اس کی جگہ سعدی کی شمولیت کی گنجائش نکال رہی ہو۔ پیوما نے سعدی کی ملاقات وہاں ایشون کالو سے کرا دی۔
ایشون کالو ایک نائٹ کلب کا مینجر تھا۔ ہر وقت ہی اچھے برے لوگوں میں گھرا رہتا تھا۔ اس نے کالو کو دو طرح سے شیشے میں اتارا۔ اسے بہتر تنخواہ پر اپنی نئی فرم کے لیے کریمنل سائیڈ کو سنبھالنے کے لیے آپریشن انچارج بنانے کا وعدہ کیا۔ دوسرا سعدی کو جس مشن میں آیا تھا اس میں کامیاب کرنے کے لیے یہ کہانی سنائی کہ وہ کراچی اور لاہور میں بھی اس طرح کا کام شروع کرنے کے لیے اسے ساتھ لائی ہے۔ ان کے کراچی کے آپریشن کے لیے اسے وہ ان لڑکوں کے بارے میں معلومات دے جو وہاں سے مفرور ہو کر یہاں آئے ہیں ان میں سے چند ایک سے ملا بھی دے تو اور بھی اچھا ہو گا۔
یہ ایک پرفیکٹ۔ کور بن گیا۔ ایشون کالو نے اس کی بات کو کسی شک کی نگاہ سے اس لیے نہ دیکھا کہ اس طرح کا کاروباری سلسلہ مانک رام جی تو یہاں بہر حال قائم ہی کر رہے تھے۔ گجراتی، گجراتیوں سے چال بازی نہیں کرتے۔ وہ بھول گیا کہ نہ تو پیوما گجراتی تھی نہ سعدی۔
ایشون کے لیے مانک رام جی کی نمائش میں خود موجودگی ان کے پیوما سے میل ملاپ کا انداز اور سعدی کی تابعداری کا انداز ایسا تھا کہ سب کام آسان اور ہر تجویز قابل فہم و عمل ہو گئی۔ ایشون کے نائٹ کلب Knotty Boy میں کچھ مفرور لڑکوں کی بیویاں اور گرل فرینڈز بھی ملازم تھیں۔ وہ خود بھی کریمنل گینگز میں ایک goombah (اطالوی مافیا میں وہ فرد جو سینئر اور مددگار کے طور پر کام کرے) کا درجہ رکھتا تھا۔ زیادہ تر وہ اسے کالو گومبھا کے نام سے پکارتے تھے۔ اسے زیادہ خوش کرنا مقصود ہوتا تو ڈان گومبھا کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے لڑکے جن کی اکثریت کا تعلق علیحدگی پسند، سیکولر، مذہبی اور خالصتاً جرائم کی دنیا سے ہوتا تھا۔ وہ بصد احتیاط انہیں جانچتا، ان کے اپنے میں outfit ان کے مقام اور آئندہ افادیت کا جائزہ لیتا اور انہیں وہاں موجود ”را“ کے ہینڈلرز کے حوالے کرتا تھا۔ کئی لڑکوں کی تو وہیں یا دور دراز علاقوں میں ٹریننگ ہوجاتی اور بعض کو پڑوس کے ملک موزمبیق میں دہشت گردی کی تربیت کے لیے بھیج دیتے، پاکستان میں جاری کارروائیوں اور مطلوبہ اہداف کی روشنی میں ان میں سے زیادہ جی دار اور ہمارے ملک میں دہشت گردی کے سیلپر سیلز سے بہتر روابط میں رہنے والے لڑکوں کو لبنان، بھارت اور افغانستان بھجوا دیا جاتا۔
کالو گومبھا کے حوالے سے مختلف گینگز اس کی معاملہ فہمی، اثر اندازی اور مختلف کلبوں میں کام کرنے والی لڑکیوں سے تعلقات کی بنیاد پر اسے یہ فریضہ بھی سونپا گیا تھا کہ اگر مختلف کارندے آپس میں لڑ جائیں تو وہاں اپنے دھندوں سے لگے گینگز کی جانب سے اسے یہ فریضہ سونپا ہوا تھا کہ وہ ان کے آپس میں تصفیے کرا دے۔ سب ہی ان فیصلوں کو مستحسن نظروں سے دیکھتے تھے۔ اس سے آپس میں خون خرابے میں بچت ہوجاتی تھی۔
اس لحاظ سے ان لڑکوں کے ذریعے کراچی اور ملک کے دیگر مقامات پر دہشت گردی کے آپریشن، مذہبی دہشت گردوں سے روابط، ملائیشیا، تھائی لینڈ، لبنان اور کابل کی واسطے داریاں اور جنوبی افریقہ کا اس میں بطور HUB استعمال ہونا۔ ان سب معاملات کی کالو گومبھا کے ذریعے سعدی کو باآسانی سمجھ آ گئی تھی۔ چند مفرور لڑکوں نے تو اپنے وہاں پاکستانی contacts کے فون نمبر بھی دے دیے۔ سعدی سے ان کے قریبی عزیزوں کے لیے نوکریوں کے وعدے لے کر میل ملاپ کی آسانی بھی فراہم کردی۔ ان ملاقاتوں میں پیوما بھی موجود ہوتی۔ اس کی نگاہوں میں آئندہ منصوبوں کی خوابیدگی عجب سہانے دھنک رنگ اور ایرانی گلستانوں کی خوشبو بکھیرتی محسوس ہوتی۔ وہ سوچتی تھی کہ واپسی پر وہ سعدی کو لے کر یہاں کیپ ٹاؤن یا دار السلام۔ تنزانیہ آ جائے گی۔ ان خوبصورت شہروں میں سب ہی کچھ تھا۔ اس میں زندگی کی رفتار ایسی تیز نہ تھی جیسی امریکہ میں تھی نہ اس قدر سست اور بے یقیں تھی کہ جیسی پاکستان میں ہو سکتی تھی پھر سعدی اس کے ساتھ وہاں پاکستان میں رہ کر اپنی سرکاری ملازمت کے نشے سے دامن نہ چھڑا سکتا تھا جس سے اسے شدید نفرت تھی۔ یہیں اس نے سب کچھ سوچ کر ایک اور منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جو سعدی کا بچہ پیدا کرنے کا تھا۔
میرا خیال تھا کہ سعدی دو تین دن میں واپس آ جائے گا مگر مجھے گھانگرو نے بتایا کہ چند اہم لڑکے جو پاکستان اور دیگر ممالک سے دو تین دن میں واپس آنے والے ہیں ان سے مل کر مزید ایک ہفتہ جوہانسبرگ میں ٹھہر کر واپس آئے گا۔ اب وہ کچھ ایسے شہروں اور بستیوں میں ہو گا جہاں یہ لڑکے اپنے اپنے حساب سے قیام پذیر ہیں۔ اس وجہ سے فون اور انٹرنیٹ وہ اب جوہانسبرگ پہنچ کر روانگی کے وقت آن کرے گا۔ تب تک کے لیے اللہ حاٖفظ۔ یوں سعدی کی یہ یاترا کل دس دن کی بنی۔ میں نے بھی گھانگھرو کی اس اطلاع پر کامل یقین کر لیا۔ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ تیسرے دن میرے پرانے ای میل gloss-lip@yahoo.com والے ای میل ایڈریس جو بہت نجی اور چنیدہ لوگوں سے رابطوں کے لیے تھا۔
اس پر سعدی کی بہت سی تصاویر سے مزین ایک ای میل ملی۔ اس نے لکھا تھا کہ یہ تصاویر دیکھ کر Delete کر نے کے لیے ہیں۔ آیت اللہ زندگی میں پہلی دفعہ جیمز بونڈ کا کردار نبھا رہا ہوں۔ انٹیلی جینس کی کارروائیوں کے بعد انہیں دیکھئے میری سلویا ٹرینچ کو ( اداکارہ Eunice Gayson جو جیمز بانڈ کی پہلی اور دوسری فلم میں اس نام سے اس کی محبوبہ تھی) ۔ فائل ان زپ ہو کر ڈاؤن لوڈ ہوئی تو مجھے اسکرین کو سلگا دینے والی پیوما کی جھاگ جیسی بکنی میں بمشکل سماتی ہوئی کئی تصاویر دکھائی دیں۔ دو ایک تصاویر ایسی تھیں کہ بکنی کے تکلف سے مکمل یا محتاط سی لاپروائی کے انداز میں آزاد تھیں۔ ساحل پر پڑی چھوٹی بڑی چٹانوں کے درمیان پیوما کی عریانی بہت جان لیوا انداز میں چھپ چھپا کر جھانکتی تھی۔ وہ dونوں شیشلز کے دو جزائر ماہے اور پارسلین کے نیلے اجلے ساحلوں پر جسم و جاں کے عذاب دھوتے تھے۔ میں نے تصاویر کو سعدی کی ہدایت کے برعکس Delete نہیں کیا۔ ارسال کردہ تصاویر میں مقید پیوما کے حسن دلفریب کے ان بے باک نظاروں کو میں نے کئی دفعہ کبھی جل کر تو کبھی حسرت سے دیکھا۔
آپ کو یاد ہو گا کہ جب میں نے اور ثمر نے مہرین بھابھی کو سمجھانے کی کوشش کی اور انہوں نے جو تصاویر اور کاغذات ہمیں سعدی کی حمایت سے باز رہنے کے لیے دیے ان میں لیبارٹری سے تصدیق حمل کی ٹیسٹ رپورٹس اور ایک بڑے کلینک Obstetrics کی شعبۂ کے بل کی رسید کی فوٹو کاپی بھی تھی۔
اب میں مڑ کر سوچوں تو گمان ہوتا ہے کہ پیوما کی رسیدوں کی وارداتوں کے مقصد یہی ساحلی مقامات تھے۔ انہیں دلفریب نظاروں میں اس نے سعدی کے بچے کی ماں بننے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ ان دستاویزات پر مسز سعد نجم الدین لکھا تھا۔ آپ کو تو یاد ہے نا کہ سعدی کا اصل نام سعد نجم الدین تھا۔
سعدی واپس آیا اور اس کے دو دن بعد پیوما بھی آ گئی۔ سعدی کے آنے کے بعد دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف سندھ میں آپریشن میں تیزی آ گئی کافی لوگ پکڑے گے اور کچھ لوگ مشکوک حالات میں مارے بھی گئے۔ انہی کامیابیوں کا نتیجہ تھا کہ شہر میں امن و امان کی صورت حال میں واضح طور پر بہتری آ گئی۔ سعدی کو ترقی دے کر ان چار شعبہ جات یعنی اس کا اپنا ڈیپ پاکٹ، دم پخت، پستہ خنداں اور مدرسۃالبنات کو سندھ میں ایک جگہ جمع کر کے جوائینٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔
مہرین بھابھی سے سعدی کی ناچاقیوں میں اضافہ ہو گیا۔ میں اور ثمر انہیں جتنا سمجھاتے لگتا تھا وہ لیکچر اگلے دن بے اثر ہوجاتا تھا۔ سعدی نے انہیں ملک سے باہر تعطیلات پرلے جانے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہ مانیں۔ دوسری جانب گیلانی سے پیوما کی لڑائی ہوئی۔ اس کے ہاتھ پیوما کی تصدیق حمل اور اسقاط کی رسیدیں لگ گئی تھیں۔ یہ سب ایک جگہ پیوما کی اسٹڈی میں رکھی تھیں وہاں ان تک اس کی رسائی اس وقت ممکن ہو گئی جب پیوما ایک دن کے لیے اسلام آباد گئی تھی۔
مہرین بھابی نے بالآخر خلع کی درخواست دے دی۔ ہماری دونوں میں صلح کی آخری کوشش ہی وہ ملاقات تھی جس میں ہمیں وہ لفافہ دیا گیا جس میں پیوما اور سعدی کے ناجائز تعلقات کی پیچیدگی، گہرائی اور بے احتیاطی کے ثبوت تصاویر اور رسیدوں کی صورت میں موجود تھے۔ ان کے گھر میں مہرین بھابھی کے بہن، بہنوئی رہنے آ گئے اور وہ سعدی کو چھوڑ بیٹے سمیت اپنے میکے مردان منتقل ہو گئیں۔ ان کے جنوبی افریقہ اور شیشلز سے واپسی کو پانچ ماہ ہو گئے تھے۔ اسی دوران سعدی اپنی موت سے تقریباً اًیک ماہ پہلے گھانگرو صاحب کے کسی مہرباں وڈیرے دوست کے فیز ٹو والے بنگلے میں شفٹ ہو گیا تھا۔
پیوما کی ہسپتال والی رسیدیں شہود گیلانی کے ہاتھ لگیں تو یہ سب کچھ اسے معاہدے کی خلاف ورزی لگا۔ پیوما سعدی اور اس کے تعلقات کی تکون میں بچہ شامل نہ تھا۔ ان میں لڑائی ہو گئی۔ پیوما لڑائی کے نتیجے میں ناراض ہو کر کچھ دن تو اپنی خالہ امی کی طرف رہنے چلی گئی۔
پیوما اکثر رات کو ہمارے فلیٹ پر آجاتی جہاں اکثر سعدی بھی ہوتا۔ اب سعدی والے کمرے میں کافی سامان اس کا تھا، بالخصوص جوتے، میک اپ کتابیں وغیرہ۔ کک منعم بھوئیاں سے اس کی خوب بنتی تھی۔ وہ چند عربی، چینی کھانے اور پائز بہت اچھی بناتی تھی۔ منعم بھوئیاں کو اب اس کے بچوں والی چڈی پہن کر گھومنے پر اور اپنے ساتھ کچن میں مدد کرنے پر بڑی مسرت ہوتی۔ جب ہم تینوں کھانے کی میز پر ساتھ ہوتے تو میں حیران ہوتا کہ وہ سعدی کو بالکل چھوٹے بچوں کی طرح کھانے کھلانے پر بضد رہتی اس کے منہ میں چمچے سے نوالے تک دیتی تھی۔
چند ہفتے یوں ہی گزرے ایک دن میں اور ثمر دن کے بارہ بجے فلیٹ پر موجود تھے مگر جب وہ روحی کے ساتھ آئی اور اپنا بہت سا سامان لے کر چلی گئی۔ کچھ چپ چپ تھی۔ سامان کی پیکنگ بھی بددلی سے کر رہی تھی۔ ہر شے کو دیکھ بھی بہت حسرت سے رہی تھی۔ گویا ایک شہر دل فریب تھا جس کا قیام اسے عزیز تھا اور جسے وہ بادل ناخواستہ خیر باد کہہ رہی تھی۔ ثمر اور روحی باتوں میں لگے تو میں پیکنگ میں مدد کے بہانے سے کمرے میں چلا گیا۔ مجھے لگا جیسے پیوما رو رہی ہو اور اس شفٹنگ میں اس کی مرضی شامل نہ ہو۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اس پورے عمل میں وہ روحی کے احکامات کی پابند تھی۔ سعدی دفتر میں تھا۔ تین دن بعد ہم نے زیارات کے لیے ایران اور شام روانہ ہونا تھا۔
سامان اور روحی کے ساتھ وہ باہر تو نکلی مگر پھر یہ بہانہ بنا کر مین گیٹ سے اکیلی واپس آ گئی کہ وہ اپنا پرس تو کمرے میں ہی بھول گئی ہے۔ مجھے اشارے سے ثمر کو روحی کی طرف بھیجنے کا کہہ کر گلے لگ گئی اور روتے روتے انگریزی میں بتانے لگی کہ سعدی سے کہو ملک چھوڑ دے۔ وہ اس کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ گیلانی نے انہیں سب بتا دیا ہے۔ جب سے سعدی واپس آیا ہے ان کے شہر میں ان کے بہت اہم افراد مارے گئے ہیں یا پکڑے گئے ہیں۔ دو تین تو بہت ہی Key۔ Assets تھے۔ انہیں شبہ ہے کہ اس کے پیچھے سعدی کی دورے میں حاصل کردہ معلومات کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے میرے کمپیوٹر کو بھی ہیک کیا ہے۔ شیشلز کی ہماری چھٹیوں کا بھی ان کو ثبوت مل گیا ہے۔ نہیں لگتا ہے کہ میں Compromised ہو گئی ہوں۔ سعدی میری First۔ Priority بن گیا ہے۔ ہم جنوبی افریقہ یا امریکہ چلے جاتے ہیں اب مہرین بھی نہیں تو اسے کیا رکاوٹ ہے۔
کوئی اور موقع ہوتا تو میرا حاسد بدن پیوما کی قربتوں سے ماؤنٹ ایورسٹ کی برف پر صبح کی دھوپ سے پگھل رہا ہوتا مگر الفاظ کا سحر، ان میں پوشیدہ خطرات اور معلومات کا ریزہ ریزہ ہوتا ایک کوہ گراں سبھی میرے دماغ کے علاوہ پورے وجود کو سن کر گئے۔
ان دونوں خواتین کے رخصت ہونے کے بعد ہم سعدی سے ملنے دفتر گئے۔ میٹنگ ختم ہوئی تھی اور وہ گھانگھرو کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کے کمرے میں پہنچ کر ہم نے پیوما کے سامان لے جانے کا بتایا وہ اسے کارروائی سے پہلے ہی آگاہ کرچکی تھی۔ جب اسے پیوما والے انکشافات سے آگاہ کیا تو اس نے انگریزی میں paranoid اس کے لیے کا لفظ استعمال کر کے ہنسی میں اڑا دیا۔
وہ کہنے لگا کہ مہرین سے کل اس کی بہت تفصیلاً گفتگو ہوئی ہے۔ بڑی حد تک وہ اس بات پر رضامند ہوئی ہے کہ وہ اپنی عدالت میں دائر کردہ خلع کی درخواست واپس لے لے۔ ہم حیراں ہوئے تو شرما کر کہنے لگا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ مجھے کہہ رہی تھی سعدی میں نہیں چاہتی کہ ہمارا بچہ ایسے بستر پر پیدا ہو جو باپ کے سائے سے محروم ہو۔ وہ چاہتی ہے کہ پیوما اور دیگر خواتین سے میں اگر ملنے جلنے میں مکمل اجتناب کروں اور اپنا تبادلہ یہاں وزارت داخلہ میں کرا لوں تو اسے دوبارہ لوٹ کر آنے میں کوئی اعتراض نہیں۔ روحی نے آن کر پیوما اور گیلانی میں راضی نامہ بھی کرا دیا ہے۔ چند دنوں میں ہر شے نارمل ہو جائے گی۔ پیوما، کیپ ٹاؤن چلی جائے گی۔
شام کو پیوما کچھ دیر کے لیے دوبارہ آئی۔ سعدی کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔ مجھے لگا کہ انہیں لمحات وصال میں سعدی نے پیوما کو اپنا پروگرام بتایا ہے۔ وہ بہت روئی روئی، دل گرفتہ اور بے لطف لگ رہی تھی۔ کھانے پر ہمارے ساتھ ضرور شریک ہوئی مگر وہ جو سعدی کے ساتھ اس دوران مادرانہ اور عاشقانہ قسم کے چونچلے ہوتے تھے۔ ان کا کہیں دور دور بھی مظاہرہ نہ تھا۔
اگلے دن ہم ایران چلے گئے۔ وہیں ہمیں سعدی کی موت کی اطلاع ملی۔ اس نے خودکشی کی تھی۔ پنکھے سے لاش لٹکی ہوئی تھی۔ لاش لینے مہرین بھابی اور ان کے بہنوئی پہنچے اور پوسٹ مارٹم سے انکار ہوا۔ جنازہ اور تدفین بھی ان کے آبائی شہر مردان میں ہوئی۔ مہرین بھابھی عدت میں بھی بیٹھیں۔
سعدی کی موت کے ٹھیک ایک ہفتے بعد گیلانی کو اس کے دفتر سے نکلتے ہوئے کورنگی سائٹ کے ایریا میں موٹر سائیکل سواروں نے بھون ڈالا۔ دو دن سے پیوما دوبئی میں تھی۔
شام میں ہم دونوں زائرین یعنی میری اور ثمر کی ملاقات دوبئی کے رہائشی صادق بیابانی سے ہوئی۔ صادق بیابانی کا تعلق ایران سے تھا۔ اس کا زائرین کے قافلوں کا کاروبار تھا۔ میری بہن معصومہ بخاری پاکستان سے جو قافلے بھجواتی تھی ان کے قیام و طعام اور دیگر معاملات اس کی فرم کے ذمے ہوتے تھے۔ اس لحاظ سے وہ کاروباری رفیق تھے۔
دوبئی میں بھارتی افراد کے ساتھ اس کے بڑے گہرے روابط تھے۔ خود اس کا بڑا بھائی بھی ایران کی VAJA (وزارت اطلاعات جمہوریہ اسلامی ایران) میں اس شعبے میں اہم عہدے پر فائز تھا جس کے بھارت سے خصوصی روابط تھے۔ روحی کی تصویر میں نے ثمر کے بہنوئی کے مشورے سے اس کیمرے سے نکلوا لی جو ہماری بلڈنگ کمپلیکس میں لفٹ کے باہر لگا تھا۔ یہ چار زاویوں والا کیمرے کا ریکارڈ اس لیے میری دسترس میں تھا کہ میں بلڈنگ کی سوسائٹی کا صدر تھا۔ روحی اور پیوما کی تصاویر ان کی آمد کے موقعے پر وڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے مطلوبہ تصاویر کی صورت میں ہم نے محفوظ کرلی تھیں۔ یہ تصاویر ثمر کے بہنوئی کے ذریعے تو متعلقہ اداروں تک پہنچ ہی گئیں تھیں۔ بیابانی سے یہ میری پہلی ملاقات تھی مگر ہمشیرہ معصومہ کی وجہ سے وہ اس کی بیوی سارہ نوروزی اور اس کی بہن فہیمے بیابانی سب ہی ہمارے گھرانے سے بہت قربت محسوس کرتے تھے۔ سارہ اور فہیمے تو پچھلے محرم میں ہماری لاہور والی حویلی میں بھی آن کر مہمان رہی تھیں۔ دونوں ہی بہت اچھی سوز خوانی کرتی تھیں۔
بیابانی کی مدد کا لیول جانچنے کے لیے میں نے روحی کی تصویر بیابانی کو اس کے اپنے بھائی کے لیے تصدیق اور روابط کے لیے دی تو وہاں سے یہ رپورٹ ملی کہ کہ وہ پاکستانی ہے دوبئی میں جس ادارے میں وہ ملازم ہے اس کے مالکان کا ہندوستان کے ادارے ”را“ سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ایک طرح وہ ان کا بزنس کور سمجھیں۔ اس میں بہت کم غیر مسلم ملازم ہیں۔ مالکان کا رویہ اور تنخواہوں کا پیک ایج بھی بہت عمدہ ہے۔ پاکستانی خواتین کو خصوصی ترجیح دی جاتی ہے۔ وہ روحی کو پاکستان میں بڑے مخصوص نوعیت کے آپریشنز میں سہولت رساں اور منصوبہ ساز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کام کے لیے اس کی بڑی خصوصی تربیت نیپال اور ملائیشیا میں کی گئی ہے۔ بے حد ذہین اور ترتیب آشنا صلاحیتوں اور جذبات سے بلند مزاج کی مالک ہے۔ اس کے بھائی کا نام گیلانی ہے۔ پیوما کی باقاعدہ شادی تو نہیں ہوئی مگر ایک بہتر کور کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے گیلانی اور پیوما کو آپس میں ملا دیا ہے۔ خود پیوما ایک امریکی سیکورٹی ایجنسی کی ملازم ہے اور گیلانی کے ذریعے اسے اپنا کام کرنے اور پیسے کمانے میں آسانی ہو گئی ہے۔ حال ہی میں چند ایسے ناخوشگوار واقعات ہوئے ہیں جن میں گیلانی کی ٹارگیٹ کلنگ بھی شامل ہے۔ رو حی کو شبہ ہے کہ اس Hit کا بندوبست پیوما نے سعدی کا انتقام لینے کے لیے کیا تھا۔ روحی اور پیوما میں شدید ناچاقی ہو گئی ہے دونوں کے ہینڈلرز کا حکم ہے کہ وہ اب مزید روابط سے گریز کریں، دونوں جانب سے مکمل جنگ بندی ہے۔ آئندہ احکامات کا انتظار کریں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں










