دس روز باسفورس کے کنارے
تھکاوٹ سے چور ہمارا گروپ نزدیک تنگ گلیوں میں بکلاوہ۔ ڈیلائیٹس۔ ڈرائی فروٹ۔ کپڑوں، سووینیئرز، اور ریسٹورنٹ کی انتہائی سجی دکانوں کو دور سے ( خواتین للچائی نظروں سے دوبارہ بار بار آنے نوید سناتے ) دیکھتے واپسی بس پہ سوار ہو چکا تھا اور تھوڑی دیر بعد رک کر سمندر کنارے ایک اور کھوے سے کھوا چلتے بازار میں سے گزرتے فن تعمیر کے نادر نمونہ کی مسجد کا اندر سے نظارہ کر ہم واپس ہوٹل پہنچ چکے تھے۔
ٹیکسی سے اتر میں ایک بہت شاندار دکھنے والی پرانی عمارت کے سامنے اس کے پورچ کی پیشانی پہ لکھے الفاظ، انگریزی میں، سراگان پیلس ہوٹل اور ترکش میں، سراگان سرائے، دیکھتے اندر داخل ہوا تو استقبالیہ والا علاقہ واقعی محل لگا۔ وہاں سے سمندر کنارے بنے دوسری ایک اور شان دکھاتی عمارت کی طرف رہنمائی ہوئی کہ میرے نواسے کی شادی کی تقریب کا انتظام اس طرف تھا۔ ابھی شرکاء کے آنے میں دیر تھی اور میرا تجسس آبنائے باسفورس کے کنارے کرسی پہ بیٹھ اس عمارت کا پس منظر جاننے کی خواہش انٹرنیٹ سرچ کو کر بیٹھا۔
سامنے کوئی دو سو برس پہلے کے بنے سلطان عبدالماسڈ ( عبدالمجید کا ترکش لاطینی رسم الخط کا کمال ) کے بیٹے سلطان عبدالعزیز کے محل کی کہانی تھی کہ بجائے آبائی سلطانی محل میں قیام کے ہر نئے سلطان ( مگر یہاں تو خلافت تھی، ذہن نے پلٹا کھایا ) کا سمندر کنارے اپنا محل تعمیر کرانے کا رواج آ چکا تھا۔ محل، محل، سلطان کا محل یا خلیفۂ المسلمین خادم حرمین شریفین کا محل، نہیں سراگان سرائے۔ ہاں سرائے ہی تو ہوتی ہے، کے الفاظ دوہرا میرا ذہن جھٹکا کھاتے اس طرف مڑ چکا تھا اتنا گھومتے پھرتے، پڑھتے، باتیں کرتے، گائڈ سے قصہ ہائے پارینہ سنتے کہیں خلیفہ کا لفظ سنائی دیا تھا نہ لکھا دیکھا تھا۔
بس سلطان یا بادشاہ۔ کتنی صدیاں عثمانی سلطنت خلافت اسلامیہ کے لبادہ میں لپٹی رہی۔ پوری ایک صدی قبل تک۔ سکول زمانے میں پڑھی داستانیں، تحریک خلافت، محمد علی جوہر، شوکت علی جوہر، کہتی ہے اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو، گاندھی جی اور کانگریس کی حمایت یافتہ تحریک خلافت۔ اور آج انہی خلفاء کے محلات کے مکینوں کو خلیفہ کا لفظ یاد نہیں تھا۔ سرائے ہو چکے تھے اکثر محل یا عجائب گھر یا کچھ اور۔ کہ نسلوں کو دیس نکالا دے دیا گیا تھا۔ وارث کون رہا؟
جوہر برادران نے مجھے وہ مرقد یاد دلا دیا جس پہ اپنے والد مرحوم کی قبر کی طرف جاتے رستے میں ہونے کی وجہ سے اکثر فاتحہ پڑھنے کی توفیق ملتی رہی جس کے کتبہ پہ ”ذوالفقار علی گوہر“ کے الفاظ کے نیچے محمد علی جوہر شوکت علی جوہر کے بڑے بھائی ہونے کا ذکر تھا۔ بھائیوں سے الگ دنیا میں بسنے والے اس گوہر کے لمبے اونچے قد کے رعب دار شخصیت کے مالک صاحبزادے مولانا عبدالمالک خاں صاحب سے مصافحہ کا شرف بہت دفعہ ہوا ان کی رعب دار اونچی پاٹ دار آواز کی شعلہ بیانی اکثر ان دونوں بھائیوں کی جوشیلی موثر تقاریر کا اندازہ کرواتیں۔
پاکستان میں پیدا ہونے والے، آئر لینڈ میں بڑے ہوتے کینیڈا کے کالجوں سے گزرتے پراگ میں پڑھنے والے دلہا، میرے بڑے نواسے، اور آئر لینڈ سے باہمی تعلق والے لندن میں مقیم دلہن کے خاندانوں نے کرونا کی تنہائی کو رونق میں بدلنے کے لئے خاندانی اجتماع کا مزا لینے شادی کی تقریب یہاں رکھی تھی جس میں چار براعظموں کے چودہ پندرہ ممالک سے آئے دلہا دلہن کے دوستوں سمیت سو کے لگ بھگ مہمانوں میں ایک بھی ترکی کا باسی نہیں تھا۔
اور خلیفہ کے محل میں پنجابی، اردو شادی کے گیت گونج رہے تھے۔ نصف شب کے قریب باہر نکلتے کھلے پارک میں بنی بار اور حقہ مرکز میں سہ پہر اندر آتے ہوئے ایک کونے میں بیٹھی حقہ کے کش لگاتی خاتون اب دوسرے کونے میں سامنے بوتل اور پیگ رکھے اور اسی طرح حقہ کے کش لگاتی دھت ہوئی بیٹھی تھی۔ اور خلیفہ کا محل، ہوٹل، سرائے، شادی ہال، حقہ مرکز اور بار کے الفاظ دہراتے میں ٹیکسی میں بیٹھ رہا تھا۔
آگے پیچھے تین ٹیکسیاں میرے گھرانے کو ہوٹل پہنچا چکیں۔ ایک ٹیکسی والے نے سینتیس لیرا کرایہ بنایا تھا دوسرے نے پچپن اور میں سو لیرا دے کے اترا تھا۔ تب کپڑے بدلتے مجھے پاکستان اور ترکی کے بھائی چارے کی نشانیاں یاد آئیں۔ پارہ پارہ ہوتے پاکستانی روپیہ کی طرح ”لیروں لیر“ ہوتا ترکش لیرا۔ کراچی کی ٹریفک سے سر اونچا کرتی ٹریفک کی جولانی اور ٹیکسی میٹر کی طرح کی کئی اور جگہ کی کاروباری دیانت کے ساتھ ایک بھیانک مشابہت بھی ابھر آئی۔ فوجی ڈکٹیٹر شپ میں میں منتخب وزیر اعظم عدنان میندریس ( انیس سو اکسٹھ ) اور سولہ برس بعد پاکستانی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی۔
سہ پہر کے بعد ہم چھوٹی لانچ میں بیٹھے دو گھنٹے کے لئے آبنائے باسفورس کے کنارے کنارے گھومنے نکلے تھا۔ بار بار پیش کیے گئے مشروب، ڈرائی فروٹ اور نمکین سنیکس کا لطف اٹھاتے تیز ٹھنڈی بال اڑاتی ہوا کے شور میں میں گائڈ کی اشارہ کردہ ساحل پہ نظر آتی عمارتوں محلات چوٹیوں شاندار مساجد کے متعلق اہمیت و تاریخ کا بیانیہ کبھی سمجھ آتا کبھی نہیں۔ یہ کہانیاں سنتے قسطنطنیہ کے پرانے قلعے اور دوسری طرف چھوٹے سے قلعے۔
سلطان احمت پل، گلاٹا پل اور شہدا پل کے نیچے سے گزرتے اور واپس آتے زمانۂ قبل از مسیح سے آبنائے باسفورس اور قسطنطنیہ کے ایشیا سے یورپ اور یورپ سے ایشیا کی جہانبانی کرنے والوں تاراج اور آباد ہونے کہ داستانیں ذہن میں گھوم گئیں۔ قیصر و کسری۔ سورۂ روم کی پیشگوئیاں اور فتح قسطنطنیہ کے متعلق پاک ارشادات۔ ان لطنتوں کی شان و شوکت کی کہانیاں۔ ایک تنگ پاٹ کے قریب میں گائڈ سے وہ جگہ پوچھ رہا تھا جہاں سلطان محمد فاتح خشکی سے جہاز کھینچ لا اتارے تھے اور گائڈ بتا رہا کہ جدید تحقیق نے کچھ شبہات پیدا کیے ہیں کہ ممکن ہے ایک جنگلوں سے گھری تنگ کھلاڑی میں ہی یہ جہاز بنائے گئے ہوں۔ سورج غروب ہونے کا دلکش منظر اور سنہرے کرنوں میں چمکتی عمارات، مغرب کی اذان کی سریلی اونچی آواز کے ساتھ مسجدوں کے گنبدوں ان تمام یادگاروں کی جلتی روشنیوں کے سرور میں ڈوبے ہم لانچ سے اتر ہوٹل کی طرف رواں تھے۔
ولیمے کی شام ہی اندازہ ہو چکا تھا تھا کہ ہر چوک بازار میں داتا دربار اور مدھو لال حسین کے عرسوں جیسا ماحول گھرانے کے کئی افراد، دلہا دلہن سمیت، کو کورونا کا تحفہ دے چکا ہے۔ گو پوری ویکسی نیشن ہوتے قابل برداشت حد میں رہا تھا۔ بچوں نے کیپا ڈوکیا کا دو روزہ پروگرام بنایا ہوا تھا مٹی کے ٹیلوں اور پہاڑوں کی غاروں میں بنی ازمنۂ گزشتہ کی بنی یہ بستیاں اور گرم ہوا کے غباروں میں سیر کرتے طلوع آفتاب کے دلکش نظاروں کا لالچ بھی ہم میاں بیوی کو چڑھائی اترائی کے ناقابل نہ ہونے اور صحت غبارہ کی سیر سے نا اہل کر چکی تھی۔
چھ افراد نے دو دن وہاں کے مزے لئے اور کچھ کورونا کے مزے لیتے رہے، پیچھے رہنے والی خواتین نکلتیں۔ احمت سکوائر کے گرد کی گرینڈ بازار قسم کی گلیوں سے اور ہوٹل کے نزدیکی تقسیم چوک کے ارد گرد کے بازاروں میں گھومتیں اور تھکے ہارے ہونے کے باوجود چمکتے خوشی سے باچھیں کھلاتے چہروں کے ساتھ اپنے خریداری کے شوق کو ٹھنڈ پہنچائیں اپنے لائے تھیلے ہانپتے ہوئے سامنے ڈھیر کر دیتیں۔ میں شام کو یا بیگم کو ساتھ لئے تقسیم چوک کی رونق دیکھتا رہتا۔
عروسی جوڑا مالدیپ کے ریزورٹ پہنچ اپنے سمندر کنارے کاٹیج کے نظارے اور مالی کی مساجد و نظاروں کے فوٹو بھیج رہا تھا، میں بیٹے کے ساتھ ٹورنگ بس کی کھلی چھت پر استنبول کے نظارے دیکھتے غالباً کورونا ہی کی محبت کا شکار ہو چکا تھا۔ کیپا ڈوشیا گئے بچے واپس آ حیران کن داستانیں فوٹو دکھاتے مزے لیتے سنا رہے تھے باقی کورونا کے مریض تین چار دن اس کے چسکے لے صحتیاب تھے اور رات ہم آبنائے باسفورس کے بالکل کنارے اونچی چوٹی پہ بنے سن سیٹ ریسٹورنٹ کے کسی زمانے کے لاہور کے نعمت کدہ کی طرح بھرے میزوں پر بیٹھے سمندر میں چلتے جہازوں، لانچوں، پلوں، عمارتوں مساجد کے میناروں گنبدوں سے نکلتی کرنوں اور سمندر کے پانی میں سے ان کے ابھرتے عکس کے دلکش نظاروں والی روشنیوں کا لطف لے رہے تھے۔ بچوں نے خصوصی طور پر سمندر کنارے والی نشست میر لئے محفوظ کروائی تھی کہ میری خوشی ان کی مسرت کا باعث ہمیشہ رہی۔
اگلی صبح ہم واپسی کے لئے ائر پورٹ رواں تھے۔ اسی بس اور اسی ڈرائیور کے ساتھ جو ہوٹل پہنچاتے پاکستانی ہندوستانی پنجابی گانوں کی دھنوں کے بغیر بیلٹ بندھی ڈرائیور سیٹ ایک ہاتھ سے گاڑی چلاتا ڈانس کرتا رہا تھا۔
ائر پورٹ پہ بس سے اترتے میں محسوس کر رہا تھا کہ سیاح ہاتھی کو چھوتا نو اندھوں کے گروہ میں سے ایک ہوتا ہے جس کی نظر میں ویسا ہی ہوتا ہے جس حصۂ جسم پہ اس کا ہاتھ پھرتا ہے۔ اور یہ کہ مجھ جیسے بوڑھے کو صرف استنبول سرسری گھومنے کے لئے مہینہ چاہیے۔
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے۔ اور ہم نیؔرہ نور کی طرح اس کوہ پر چڑھ چکے ہوں گے ”جہاں پہ جا کے پھر کوئی کبھی واپس نہیں آتا“

