غلام عباس کی زندگی اور فن پر ایک نظر


غلام عباس اردو ادب کے نامور ادیب ہیں جو 17 نومبر 1909 کو امرتسر کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ساتویں جماعت میں انھوں نے پہلی کہانی لکھی جس کا عنوان تھا ”بکری“۔ اپنے سکول کے استاد مولوی لطیف علی پابند سے حوصلہ افزائی پا کر انہوں نے انگریزی نظموں اور کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرنا شروع کر دیا۔

والد کا انتقال ہوا اور ذمے داریاں بڑھیں تو نویں جماعت میں تعلیم کو ترک کر دیا۔ انھیں تین روپے ماہانہ تنخواہ کی آفر ہوئی اور کام یہ بتایا گیا کہ آپ نے آٹے چاول کی بوریوں پر نشان لگانے ہیں، غلام عباس راضی نہ ہوئے اور کہہ دیا کہ اتنے پیسے تو میں اپنے قلم سے بھی کما سکتا ہوں۔ غلام عباس کو اپنی تحریر کا پہلا معاوضہ 1929 میں اس وقت ملا جب وہ بیس سال کے تھے۔

غلام عباس کو جس افسانے سے ادبی شہرت حاصل ہوئی وہ ٹالسٹائی کے افسانے ( Long Exile) کا ”جلا وطن“ کے نام سے ترجمہ تھا جو 1925 میں ”ہزار داستان“ میں شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز بچوں کے رسالے ”پھول“ سے کیا اور اس کی ادارت سنبھالی۔ پھول کی ادارت کے دور میں ان کا تعارف پطرس بخاری، عبدالمجید سالک اور غلام رسول مہر سے ہوا اور یہ تعارف گہری دوستی میں بدل گیا۔

غلام عباس کے آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں کے رسالے ’آواز‘ میں مدیر تعینات ہونے کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ جنگ کا زمانہ تھا اور رسالے کی ایڈیٹری پہلے آغا اشرف اور بعد میں مجاز کے پاس رہی اور بعد میں پطرس بخاری کی سفارش پر غلام عباس کو اس کی ادارت سونپی گئی۔ مرزا ظفر الحسن غلام عباس سے ملاقات کے پس منظر میں لکھے مضمون میں لکھتے ہیں :

"ان کی تقرری پر اس دور کے مرکزی قانون ساز اسمبلی میں سخت اعتراض ہوا اور الزام عائد کیا گیا کہ ریڈیو میں جانبداری ہو رہی ہے اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ معترض نے غلام عباس کا نام بھی لیا اور کہا کہ ان کے پاس یونیورسٹی کی کوئی سند نہیں ہے۔ پطرس نے (جو اس وقت آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل تھے) اس کے جواب میں لکھا کہ اس شخص کو غیر تعلیم یافتہ کہا جا رہا ہے جس نے بنگالی، روسی اور مغربی ادیبوں کے چالیس پچاس شاہکاروں کے تراجم مختلف معتبر رسائل میں شائع کیے ہیں، جن میں سے بیشتر ناموں سے خود معترض ناواقف ہوں گے۔ پطرس کو بڑا افسوس ہوا کہ جس وقت اسمبلی میں جواب دیا جا رہا تھا، معترض صاحب موجود نہیں تھے۔ ”

پطرس بخاری نہ صرف غلام عباس کا احترام کرتے بلکہ ان کی لیاقت کے بھی معترف تھے۔ پطرس نے مزاحیہ مضمون لکھا تو ان سے اس کا موزوں عنوان نہیں بن پا رہا تھا، غلام عباس سے مشاورت کی تو انہوں نے کہا کہ اس کا عنوان ”میبل اور میں“ رکھ دیجیے اور یہی عنوان آج ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح ریڈیو پاکستان کے رسالے ”آہنگ“ کا نام بھی انہی کی طرف سے آیا۔ رسالہ ’آہنگ‘ کی ادارت کے دوران انہیں بی بی سی والوں نے بلایا۔ یہ وہیں چلے گئے، اچھی خاصی تنخواہ تھی اور ایک برطانوی میم ’کرس‘ سے شادی کرلی، اس پہ طرہ یہ کہ انہیں برطانوی شہریت کی پیشکش بھی ہوئی لیکن حب الوطنی اور پاکستان دوستی۔

پاکستان واپس آئے اور یہاں حسب توقع بہت خجل ہوئے۔ سر چھپانے کی فکر دامن گیر ہوئی۔ برطانیہ سے جو کچھ کما کر لائے تھے سب خرچ ہو گیا۔ کرا چی کی ایک سوسائٹی میں ادھار پکڑ کر گھر بنانے میں کامیاب ہوئے۔ گزر اوقات کے لیے ’ماہ نو‘ میں کہانیاں لکھنی شروع کر دیں۔ گوندنی والا تکیہ بھی انہی معاشی مجبوریوں کا ادبی ثمر ہے۔

غلام عباس نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز اس وقت کیا جب اردو افسانہ انگریزی، روسی اور فرانسیسی زبانوں کے جدید ادب اور ترقی پسند تحریک کے سبب کافی ترقی پا چکا تھا۔ غلام عباس کے ہم عصر ادیبوں میں کرشن چندر، منٹو، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، احمد علی اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ ایک وقت میں ان پر ٹیگور کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اس اثر کی یادگار ان کے دو افسانے ’محبت کا دیپ‘ اور ’مجسمہ‘ ہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے لیے الگ راہ بنائی۔ وہ خود ایک انٹرویو میں کہتے ہیں :

”اس کے بعد ہمارے مطالعے میں روسی افسانے آنے شروع ہوئے۔ ہم نے چیخوف، گورکی کو پڑھا۔ پھر خیال ہوا کہ افسانے تو یہ ہیں۔ بعد میں انداز فکر ہی بدل گیا۔ میں نے نہ تو کسی ایک مصنف کی نقل کی اور نہ کسی ایک سے متاثر ہوا۔ میرے جو پسندیدہ ادیب ہیں ان میں ڈی ایچ لارنس شامل ہیں۔ ویسے چیخوف، گورکی، موپاساں اور ترگنیف۔ یہ چار ایسے ادیب ہیں جن کا میں بڑا دلدادہ ہوں۔“

غلام عباس کو اصناف ادب میں افسانوں کے بعد سوانح کی صنف سب سے زیادہ پسند تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ گریٹا بو اور کؤسلر کی سوانح سے لے کر سموئیل باسویل اور جانسن کی سوانح تک سب ہی کو شوق سے پڑھ چکے ہیں۔ دستو وسکی کی سوانح جو ان کی رفیقہ حیات سونیا نے لکھی، وہ غلام عباس کو بہت پسند تھی۔

افسانہ نگاری سے ہٹ کر انہیں موسیقی میں نہ صرف دلچسپی تھی بلکہ انہیں وائلن نواز کی نوکری کی پیشکش بھی ہوئی اور اس کی تنخواہ پھول اخبار سے کچھ زیادہ ہی تھی۔ انہوں نے یہ پیشکش قبول نہ کی اور وہ خالص ادب کے ہو رہے۔ وائلن کے بعد انہوں نے گٹار بجانے میں مہارت حاصل کی۔

موسیقی کے بعد ان کی دلچسپی شطرنج کے کھیل میں تھی۔ یہ شوق انہیں ن م راشد کے ذریعے سے منتقل ہوا۔ شوکت صدیقی، اختر حسین رائے پوری اور ناصر کاظمی کے ساتھ ان کی شطرنج کی بازیاں ہوتیں۔

غلام عباس نے بچوں کے ادب پر بھرپور کام کیا اور شاید بچوں کے ادب سے منسلک ہونے کی وجہ تھی کہ ان کا اسلوب بہت سادہ، رواں اور آسان رہا۔

طنز و مزاح کے میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا اور ماہنامہ ’تازیانہ‘ کے لیے مزاحیہ کالم اور مضامین لکھے۔

منٹو اور وغیرہ کے افسانوں پر تنقید تو ہو رہی تھی غلام عباس کا افسانہ ’دھنک‘ ان کے لیے متنازع ٹھہرا۔ اس افسانے میں انہوں نے عدم رواداری، مذہبی جنون اور عصبیت خصوصاً ڈپٹی نذیر احمد کے ساتھ کیے جانے والے ملاؤں کے سلوک خاص طور پر ان کی تصنیف ’امہات الامہ‘ کو بار بار نذر آتش کرنے کے عمل کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔

اردو ادب کا یہ بڑا افسانہ نگار یکم اور دو نومبر 1986 ع کی درمیانی رات کو 75 برس کی عمر میں چل بسا۔ غلام عباس نے پسماندگان میں دو بیویاں ( ذاکرہ، کرس) اور چھے بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے۔

Facebook Comments HS