سسر کا شک۔ نتیجہ گھر کی بربادی


ہمارے معاشرے میں طلاق کا رجحان اب بڑھتا جا رہا ہے، اور ہنستے بستے گھر آن کی آن میں اجڑ رہے ہیں۔ طلاق کی ایک عمومی وجہ میاں بیوی کے درمیان ذاتی اختلافات ہیں، جن کے پس پردہ بہت سے عوامل میں زن و شوہر کے درمیان شک سب سے اہم وجہ ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب حالات اس نہج پر پہنچتے ہیں تو گھر کے بزرگ، اپنی مساعی سے اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تاکہ نوبت گھر کی بربادی تک نہ جا سکے۔ تاہم گھر کے افراد میں سے ہی اگر کوئی فرد، اپنی ذاتی رنجش یا عناد کی وجہ سے زن و شوہر میں بلاوجہ شک کی کیفیت کو پروان چڑھانا شروع کردے، تو معاملہ سدھرنے کی بجائے بگاڑ کی جانب ہی جاتا ہے۔

عزیز احمد ( فرضی نام) کی شادی فرح (فرضی نام) سے ہوتی ہے، اور شادی کے بعد یہ دونوں افراد ہنسی خوشی زندگی کی پر مسرت کیفیات سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں، کہ اچانک عزیز احمد کو بسلسلہ ملازمت دوسرے شہر جانا پڑ جاتا ہے۔ عزیز احمد کی عدم موجودگی میں، فرح کا سسر جو اپنی زوجہ کو بوجہ شک طلاق دے کر مجرد زندگی گزار رہا تھا، اس کی نگاہ میں اپنی بہو جچ جاتی ہے اور وہ اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کرتا ہے، جس پر فرح انکار کر دیتی ہے۔

اس بات سے فرح کے سسر کو انتہائی رنج پہنچتا ہے، اور وہ اپنے بیٹے کو فون پر اپنی بہو کے بد کردار ہونے کی بابت مطلع کرتا ہے، اور ساتھ ہی اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا بھی حکم صادر کرتا ہے۔ عزیز احمد اپنی نادانی سے معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر، وہیں پردیس سے اپنی بیوی کے نام سندیسہ روانہ کرتا ہے جس میں طلاق درج ہے۔ فرح کو اس بات سے سخت صدمہ پہنچتا ہے مگر اب پانی سر سے گزر چکا تھا، لہذا صبر کا کڑوا گھونٹ پی کر وہ خاوند کے گھر سے رخصت ہوجاتی ہے۔

کچھ عرصے کے بعد عزیز احمد نکاح ثانی کے متعلق سوچتا ہے، اور مناسب رشتہ ملنے پر ایک خاتون سے عقد کر لیتا ہے۔ اس مرتبہ وہ چونکہ گھر پر ہی موجود تھا، چنانچہ وہ تمام حالات کا گہرائی سے جائزہ لے رہا تھا۔ عزیز احمد نے یہ بات محسوس کرنا شروع کی کہ رات کو جب بھی، میاں بیوی وظیفہ زوجیت کے لئے تیار ہوتے، تو عزیز احمد کا باپ صحن میں شور مچا کر ان کو اس عمل سے روک دیتا۔ عزیز احمد نے مگر اس کا اظہار اپنے باپ سے نہ کیا۔

لیکن ایک روز عزیز احمد کی زوجہ ثانی نے، اس سے اپنے سسر کے رویے کی شکایت کی کہ اس کی نگاہیں ہر وقت گھر میں اس کا تعاقب کرتی رہتی ہیں۔ کچھ دن کے بعد عزیز احمد کو یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اس کا باپ، اپنی بہو کو بہانے بہانے سے مختلف طریقوں سے رجھانے کی کوشش میں مصروف ہے، اعنی کبھی سامان زیبائش و ٓرائش اپنی بہو کے لئے لے کر آنا، کبھی اس کے سامنے نوٹ گننا، کبھی اس کو کسی ہوٹل میں ظہرانے کی دعوت دینا وغیرہ وغیرہ۔

عزیز احمد کی بیوی ایک سمجھدار خاتون تھیں، اور وہ اس ساری سازش کو اچھی طرح سے سمجھتی تھی، جس کا ذکر اس نے اپنے شوہر سے بھی کیا تاکہ وہ بھی گھر میں ہونے والی تمام سرگرمیوں سے آگاہ رہے۔ عزیز احمد مڈل پاس روایتی نوجوان تھا، جو ماں باپ کے سامنے اختلاف رائے کی جرات کو گناہ سمجھتا تھا، لہذا یہ سب سن کر بھی وہ اپنے باپ سے اس معاملے پر گفتگو نہ کر سکا۔ دوسری طرف عزیز احمد کے والد گرامی کو جب دوسری مرتبہ بھی اپنے مقصد کی برآوری ناممکن دکھائی دی، تو اس نے اپنے بیٹے کے دل میں زوجہ ثانی کے متعلق بھی کردار کے شک والا شبہ ڈالنا شروع کر دیا۔

مگر اسے خوش قسمتی ہی سمجھیے کہ عزیز احمد چونکہ سارے معاملے سے آگاہ تھا، لہذا اس نے باپ کی بات کو رد کر دیا۔ ادھر عزیز احمد کا والد روزانہ کی بنیاد پر اسے شک میں مبتلا کرتا، ادھر وہ اسے جھٹلا دیتا، مگر جب یہ بات عزیز احمد کی بیوی تک پہنچی تو اس نے اپنے شوہر کے سامنے اپنے سسر کے اعمال کی ساری پوٹلی کھول کے رکھ دی اور یوں گھر میں ایک نیا جھگڑا شروع ہو گیا۔ عزیز احمد اب چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پھنس چکا تھا، جس میں ایک طرف اس کی بیوی اور دوسری طرف اس کا باپ تھا۔

اگر وہ باپ کی مانتا تو بیوی سے ہاتھ دھونا پڑتے اور اگر بیوی کی مانتا تو معاشرہ باپ کا نافرمان گردانتا۔ وہ کچھ دن اسی تذبذب کی کیفیت میں مبتلا رہا، حتیٰ کہ وہ نتیجے پر پہنچ گیا۔ چنانچہ ایک دن وہ معمول کے مطابق بیدار ہوا، ناشتہ کیا، بیوی سے اس کے میکے چلنے کو کہا اور بیوی کو اس کے والدین کے پاس چھوڑ کر واپس آیا۔ اور پھر اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے دریا میں ڈوب کر خود کشی کر کے اس ذہنی کیفیت سے نجات حاصل کرلی۔

عزیز احمد کی زوجہ اب والدین کے گھر میں ایام بیوگی کاٹ رہی ہے جبکہ عزیز احمد کا والد آج بھی کسی صدمے یا دلی بوجھ کے بغیر ایک خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے۔ اگر اس چیز کو بنظر غائر دیکھا جائے تو اصل نقصان عزیز احمد کا ہوا، جس کا گھر دو مرتبہ برباد ہوا اور اس کے گھر کی بربادی میں کوئی اور نہیں بلکہ اس کا سگا باپ شامل تھا، جو اپنی جنسی جبلت کی تسکین کے لئے اپنی بہو کو استعمال کرنا چاہتا تھا۔ دوسری طرف عزیز احمد ایک روایتی دیہاتی مرد تھا جس میں اعتماد کی اس قدر کمی تھی، کہ وہ سچ جاننے کے باوجود بھی اپنے باپ سے اختلاف محض اس لئے نہ کر سکا کہ معاشرہ اسے ناخلف گردان کر اسے طرح طرح کے طعنوں سے شرمندہ کرے گا۔

وہ ایک نچلے طبقے کا غریب انسان تھا، جو اپنی بیوی کو علیحدہ مکان دینے کی قدرت بھی نہیں رکھتا تھا۔ اگر وہ اس پر قادر ہوتا تو شاید آج دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہوتے اور ان کے آنگن میں بچوں کی صورت میں بہار ہی بہار ہوتی۔ لہذا ایک انسان جب گرہستی کی جانب متوجہ ہوتا ہے، تو اسے ساری صورت حال کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اپنے اندر یہ اعتماد بھی پیدا کرے کہ وہ بیوی کے معاملے میں اپنے والدین کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اگر وہ اس اعتماد سے محروم ہو گا یا والدین کے سامنے اختلاف رائے کو گناہ تصور کرے گا تو وہ کبھی بھی اپنے گھر کو بچا نہیں پائے گا، بلکہ اسے زندگی کے کسی موڑ پر والدین یا بیوی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی آزمائش میں مبتلا ہوجانا پڑے گا اور پھر یا وہ بیوی بچا پائے گا یا والدین۔

Facebook Comments HS