کیا آپ ماہر نفسیات ولیم جیمز کی شخصیت اور نظریات سے واقف ہیں؟


ہم سب جانتے ہیں کہ بیسویں صدی میں انسانی نفسیات نے بہت ترقی کی۔ اس صدی میں بہت سے فلاسفروں ’دانشوروں اور محققوں نے نفسیات کے علم میں گرانقدر اضافے کیے۔ ان دانشوروں میں سے بعض سگمنڈ فرائڈ اور کارل ینگ کی طرح شہرت اور مقبولیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے لیکن بہت سے گمنام بھی رہے۔ ان گمنام دانشوروں میں سے ایک ولیم جیمز ہیں۔ چونکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اور نفسیات اور روحانیات کے طالب علم کی حیثیت سے میں ان کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کا ان کی ذات اور ان کے نظریات سے تعارف کرواؤں۔

ولیم جیمز کی تحقیق سے پہلے روحانی تجربات یا تو مذہبی کتابوں اور یا سنتوں سادھوؤں اور صوفیوں کی سوانح عمریوں کا حصہ تھے۔ ولیم جیمز ان تجربات کو مذہبی کتابوں سے نکال کر نفسیاتی اور سائنسی کتابوں میں لے آئے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ماہرین نفسیات انسانی زندگی کے باقی تجربات کا سائنسی تجزیہ کرتے ہیں اسی طرح انہیں روحانی تجربات کا بھی سائنسی و نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہیے۔ اس طرح ولیم جیمز نے ۔ مذاہب کی سائنس۔ کی بنیاد رکھی۔

ولیم جیمز اتنے جید عالم تھے کہ ان کی نہ صرف ان کے دور کے برٹنڈرسل جیسے دہریہ ریاضی دان نے تعریف کی بلکہ ہمارے دور کے ایک دانشور سٹیون پنکر نے بھی ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا

’ ولیم جیمز جدید انگریزی ادب کے عظیم ترین لکھاریوں میں سے ایک ہیں‘

ولیم جیمز کا موقف تھا کہ روحانی تجربات چاہے وہ عام انسانوں کے ہوں یا سنتوں سادھوؤں اور صوفیوں کے ہوں وہ ہماری سنجیدہ توجہ کے حقدار ہیں۔ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ ان تجربات کا انسانی دماغ ’ذہن اور شخصیت سے کیا تعلق ہے اور وہ تجربات انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔

ولیم جیمز نے ماہرین نفسیات کو بتایا کہ روحانی تجربات کا ذہنی بیماری سے تعلق کم اور سچ کی تلاش سے تعلق زیادہ ہے۔ انہوں نے روحانی تجربات کی ایسی سیکولر اور سائنسی تشریح و تفہیم پیش کی جو مذہبی ’غیر مذہبی اور لا مذہبی سبھی کے لیے قابل قبول تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روحانی تجربات انسانی تجربات ہیں اور وہ کسی بھی مذہب کسی بھی مسلک اور کسی بھی روایت کے پیروکار کو ہو سکتے ہیں۔ وہ تجربات دہریوں کو بھی ہوسکتے ہیں چاہے وہ اسے روحانی تجربات کا نام نہ دیں۔

ایسا تجربات لازمی نہیں کہ کسی مسجد مندر یا گرجے میں عبادت یا چلہ کاٹنے کے دوران ہی ہوں وہ تجربات غروب آفتاب کا منظر دیکھتے ہوئے‘ موسیقی سنتے ہوئے ’رقص کرتے ہوئے‘ شام کی سیر کرتے ہوئے ’رات کو خواب دیکھتے ہوئے یا باغ میں بچوں سے کھیلتے ہوئے بھی ہوسکتے ہیں اور انسان کی زندگی میں اہم تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔

جب ہم ولیم جیمز کی سوانح عمری پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ولیم جیمز کے دادا 1789 میں آئرلینڈ سے ہجرت کر کے امریکہ تشریف لائے تھے۔ ان کی مہاجر زندگی کا آغاز غربت و عسرت سے ہوا لیکن انہوں نے اپنی محنت مشقت اور ریاضت سے اپنے کاروبار میں کامیابی حاصل کی اور ایک مالدار انسان بن گئے۔

ولیم جیمز کے والد نے اپنے والد کی دولت کو پانی کی طرح بہایا اور نوجوانی میں عیاشی کی زندگی گزاری لیکن جب وہ زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہوئے تو انہوں نے ایک مذہبی ادارے میں تعلیم حاصل کرنی شروع کی لیکن وہ جلد ہی مذہب سے دلبرداشتہ ہو گئے اور ایک آزاد خیال انسان بن گئے۔

پھر وہ ایک دختر خوش گل میری وولش کی زلف کے اسیر ہو گئے اور ان سے ایک غیر روایتی انداز سے شادی کر لی۔ انہوں نے اپنی محبت کو معتبر و مستند و معزز بنانے کے لیے کسی گرجے یا پادری سے رجوع کرنا مناسب نہ سمجھا۔

ولیم جیمز کے والد ہنری سینئر کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ایسی کتاب جو کسی کی سمجھ میں نہ آئی کیونکہ ان کے لکھنے کا انداز بہت مشکل ’ثقیل‘ دشوار ’پیچیدہ اور گنجلک تھا۔ ولیم جیمز نے اپنے والد سے یہ تو نہ سیکھا کہ کتاب کیسے لکھنی چاہیے لیکن یہ ضرور سیکھا کہ کتاب کیسے نہیں لکھنی چاہیے۔ اسی لیے ولیم جیمز کی تخلیقات عام فہم انداز میں لکھی گئی ہیں جسے عوام و خواص سب پڑھ سکتے ہیں‘ سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔

ولیم جیمز کے والد لکھاری تو اچھے نہ تھے لیکن گفتگو بہت دلچسپ ’دل پذیر اور لچھے دار کرتے تھے اور شہر کے بہت سے ادیب شاعر اور دانشور ان کی باتیں سننے آتے تھے۔ اسی لیے ولیم جیمز کی خوش بختی کہ انہیں بچپن اور نوجوانی میں ایسا ماحول میسر آیا جہاں انہوں نے دانشوروں کے مکالمے اور مباحثے سنے اور بہت کچھ سیکھا۔ اس طرح ان کی ادبی و نظریاتی تربیت ہوئی۔

ولیم جیمز کی نوجوانی میں ایک فن کار ولیم ہرٹ سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے ولیم جیمز کا فنون لطیفہ سے تعارف کروایا۔ ولیم جیمز ان سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے تھے لیکن پھر وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئے اور کافی عرصہ نفسیاتی عارضے کی وجہ سے ذہنی طور پر پریشان رہے کیونکہ ان دنوں ڈپریشن کا کوئی تسلی بخش علاج میسر نہ تھا۔

ولیم جیمز ڈپریشن سے بہتر ہوئے تو انہوں نے جرمنی کا سفر کیا جہاں پہلے انہوں نے کیمسٹری کا مطالعہ کیا اور پھر ان کا تعارف چارلز ڈارون کی کتابوں اور نظریہ ارتقا سے ہوا۔ ڈارون نے ولیم جیمز کو بہت متاثر کیا۔ انہوں نے ڈارون کی تحقیق پڑھنے کے بعد سوچا کہ ہمیں بیالوجی کی طرح سائیکالوجی کو بھی مذہب سے علیحدہ کرنا چاہیے۔ ولیم جیمز کا خیال تھا کہ فریڈرک ہیگل کے فلسفے کی زیریں لہر میں مذہبی نظریات اور روحانی خیالات موجود ہیں۔ ولیم جیمز نے سوچا کہ ہمیں فلسفے اور نفسیات کی عمارت کو سیکولر بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہیے۔

ولیم جیمز نے میڈیکل سکول میں داخلہ لیا اور ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی۔

ولیم جیمز جرمنی سے امریکہ لوٹے تو انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ وہ اپنے دور میں بہت مقبول ہوئے۔ جن مقبول و مشہور شخصیات نے ان کی شاگردی کی اور ان سے فیض حاصل کیا ان میں امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ, شاعرہ و ادیبہ گرٹروڈ اسٹائن اور فلسفی و سماجی کارکن ڈوبو شامل ہیں۔ ڈوبو نے لکھا ہے کہ انہوں نے ولیم جیمز سے مدلل بات کرنا اور لکھنا سیکھا۔

ولیم جیمز کی ملاقات ایک پری چہرہ الیس گبنز سے ہوئی تو وہ ان کی زلف کے اسیر ہو گئے اور انہیں اپنا شریک سفر اور شریک حیات بنا لیا۔ ایلس کو روحانی تجربات میں کافی دلچسپی تھی اور انہوں نے ولیم جیمز کو مشورہ دیا کہ وہ ان تجربات کا نفسیاتی تجزیہ کریں۔

ولیم جیمز نے دس سال کی تحقیق کے بعد نفسیات کے موضوع پر ایک تین ہزار صفحات پر مبنی ایک زخیم کتاب لکھی جس کا نام

PRINCIPLES OF PSYCHOLOGY
رکھا۔ ولیم جیمز نے ماہرین نفسیات کا جن نظریات اور تصورات سے تعارف کروایا ان میں
STREAM OF CONSCIOUSNESS
DISSOCIATION
MULTIVERSE
TIME LINE
شامل ہیں۔

اس کتاب کے چھپنے کے بعد ولیم جیمز مذہبی اور روحانی تجربات پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنا اور ان تجربات کو سائنس اور نفسیات کی روشنی میں دیکھنا شروع کیا۔

جب ولیم جیمز کو ایڈنبرا سے دعوت آئی کہ وہ وہاں آ کر لیکچر دیں تو انہوں نے اپنے لیکچرز کا موضوع مذہبی اور روحانی تجربات چنا۔ بعد میں وہ بیس لیکچرز جمع کیے گئے اور 1902 میں چھاپے گئے۔ اس کتاب کا نام

THE VARIETIES OF RELIGIOUS EXPERIENCE
رکھا گیا۔

اس کتاب میں انہوں نے مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگوں کے تجربات شامل کیے۔ ان لوگوں میں عام لوگ بھی تھے خاص لوگ بھی۔ زندہ بھی تھے مردہ بھی۔ انہوں نے جن مشہور شخصیات کی سوانح عمریوں سے استفادہ کیا ان میں سسٹر ٹریسا, مارٹن لوتھر, گوئٹے, سپینوزا, الغزالی, رچرڈ بیوک اور
والٹ وٹمین شامل ہیں۔

ماہر نفسیات ہونے کے ناتے ولیم جیمز نے مذہب کے سماجی اور سیاسی کردار کی بجائے انفرادی تجربے کو زیادہ اہم جانا اور یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی کہ مذہبی اور روحانی تجربات انسان کے دماغ ’اس کے جسم‘ اس کی زندگی اور اس کی شخصیت کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔

ولیم جیمز نے روحانیات کی نفسیات کے علم کی بنیاد رکھی جس پر بعد میں وکٹر فرینکل اور ابراہم میسلو جیسے ماہرین نفسیات نے بلند و بالا عمارت تعمیر کی۔

ولیم جیمز ایک ماہر نفسیات ہی نہیں ایک فلسفی بھی تھے اسی لیے انہیں امریکہ کی نفسیاتی اور فلسفیانہ دونوں ایسوسی ایشنز نے مختلف اوقات میں اپنا صدر چنا۔

نفسیات کے سنجیدہ طالب علم اور استاد ولیم جیمز کی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی وہ سگمنڈ فرائڈ اور کارل ینگ کی کرتے ہیں۔ میں نے جو باتیں ان سے سیکھیں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ انسان کا تجربہ اس کے عقیدے سے زیادہ اہم ہے۔ بدھا نے بھی فرمایا تھا کہ انسانی تجربہ اس کا سب سے بڑا استاد ہے۔ ولیم جیمز نے جو خیالات و نظریات 1902 میں اپنی کتاب THE VARIETIES OF RELIGIOUS EXPERIENCE میں پیش کیے تھے ان ہی خیالات و نظریات کو ان کے مداح دو نفسیات کے پروفیسروں ڈیوڈ یاڈن اور اینڈریو نیوبرگ نے بیسویں صدی کی جدید سائنسی تحقیق کے ساتھ اپنی 2022 کی کتاب THE VARIETIES OF SPIRITUAL EXPERIENCE میں پیش کیے۔ یہ کتاب روحانیات کی نفسیات کے سنجیدہ قاریوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 567 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments