ملکہ الزبتھ اور شجرہ نسب: پہلے سا رنگ روپ تمہارا نہیں رہا

پہلے سا رنگ روپ تمہارا نہیں رہا
دنیا میں اور کچھ بھی ہمارا نہیں رہا
8 ستمبر 2022 ءکو انگلستان کی ملکہ الزبتھ دوم 70 برس اور 214 روز تک برطانیہ کی آئینی حکمران رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ اپنے دور حکمرانی کے دوران ملکہ الزبتھ مختلف ادوار میں دولت مشترکہ کی 32 میں سے 15 خود مختار ریاستوں کی آئینی سربراہ بھی رہیں۔ انہیں برطانیہ میں ونسٹن چرچل اور مارگریٹ تھیچر سمیت 15 منتخب وزرائے اعظم سے واسطہ رہا۔ ملکہ کی آخری رسومات بھی ادا کردی گئیں۔ ملکہ کی وفات کے بعد کی دو خبریں میرے سامنے ہیں۔ ان میں سے ایک حال کی اور دوسری ماضی کی ہے۔
پہلے حال کی خبر پر نظر ڈالتے ہیں
یمن کا ایک شخص ملکہ کی وفات کے بعد سعودی عرب عمرہ ادا کرنے آیا۔ عمرہ کے بعد اس نے ایک بینر اٹھا کر ویڈیو بنائی اور وائرل کی کہ اس نے ”یہ عمرہ ملکہ برطانیہ کے ایصال ثواب کے لئے کیا ہے۔ خدا انہیں بہشت میں جگہ دے، ان کی روح کو سکون ملے۔“
سوال یہ ہے کہ اگر اسے ملکہ برطانیہ سے اتنی ہی محبت و عقیدت تھی تو وہ ان کی آخری رسومات میں شرکت کرتا۔ عمرہ کے بعد ایسی حرکت کی کیا ضرورت تھی جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔ موصوف کو گرفتار کر لیا گیا۔ یمن میں گرجے موجود ہیں، بہتر ہوتا یہ وہاں جا کر ملکہ کے لئے دعا اور خصوصی عبادت میں شریک ہو جاتے۔ لگتا ہے اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ حکومت برطانیہ کی نظر میں آ جائے اسے برطانیہ بلا کر شاباش ملے اور رہنے کی اجازت بھی دے دی جائے۔ اس احمقانہ اقدام پر خوب لعن طعن ہو رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر اسے بہت زیادہ دکھ تھا تو ملکہ کو اچھے الفاظ میں یاد کرتا یا کسی تقریب کا اہتمام کرتا۔ عمرہ کر کے ایسی حرکت کی کیا سوجھی، خدا ایسے احمقوں سے محفوظ رکھے۔ دوسری خبر ماضی کی ہے جو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ ملکہ برطانیہ عرب ہیں یا نہیں۔ 1986 میں برطانیہ کے ادارے برکس پیئرج نے جو برطانوی اشرافیہ کے شجروں کے بارے میں تحقیق کرتا رہتا ہے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی شاہی خاندان کی رگوں میں عرب خون دوڑ رہا ہے اور ان کا سلسلہ نسب حضرت علی سے ملتا ہے یہ خبر اس وقت کچھ زیادہ عام نہ ہو سکی البتہ 2015 میں اس خبر نے اس وقت دوبارہ سر اٹھایا جب مصر کے سابق مفتی اعظم علی جمعہ نے ایک مصری ٹیلی ویژن چینل پر کہا کہ بنی ہاشم کا ایک فرد برطانیہ میں گرفتار ہوا تھا جسے زبردستی عیسائی بنا لیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ملکہ الزبتھ کا دادا تھا اس بارے میں عربی اور انگریزی میں کئی کتابیں بھی لکھی گئیں۔
علی جمعہ کا یہ کہنا بالکل بے بنیاد تھا کہ ملکہ الزبتھ کے دادا مسلمان تھے کیونکہ برکس پیئرج کی رپورٹ کئی صدیاں پیچھے جا کر ان کا تعلق اسپین کے مسلمانوں سے جوڑتی ہے۔ انہی دنوں ایک مراکشی جریدے الاسبوع نے ملکہ کا 43 نسلوں پر مشتمل شجرہ چھاپ کر ان کا ناتا حضرت محمد سے جوڑ دیا ’تو ایک جریدے نے طنزاً لکھا کہ اب ملکہ کو دنیا کے تمام مسلم ممالک پر حکومت کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ اخبارات میں جو تفصیلی شجرے چھپے ان کے مطابق ایک ہزار سال پہلے ملکہ برطانیہ کے آبا و اجداد میں ایک مسلمان خاتون کا تعلق اندلس کے شاہی خاندان سے تھا۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے اسپین میں صدیوں حکومت کی اس دوران ایک شاہی خاندان بنو عباد نے 1023 تا 1091 اشبیلیہ میں حکومت کی۔ اس خاندان کے تیسرے اور آخری حکمران معتمد کے دور ہی میں شمالی افریقہ کے جنگجو یوسف بن تاشفین نے اندلس کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ یوسف بن تاشفین نے مسیحی حکمرانوں کو شکست دینے کے ساتھ مختلف مسلمان ریاستوں کو بھی اپنی حکومت میں ضم کر لیا جس کی زد میں معتمد کی ریاست بھی آ گئی۔
معتمد کو گرفتار کر کے مراکش بھیج دیا گیا۔ قید میں ہی اس کا انتقال ہوا۔ الاسبوع کے مطابق معتمد کی ایک بیٹی زائدہ تھیں۔ معتمد سے شکست ہوئی تو زائدہ مسیحی علاقے قشتالیہ گئیں جہاں حکمران الفانسو ششم نے انہیں اپنے حرم میں شامل کر لیا بعض مورخین کا کہنا ہے کہ زائدہ نے الفانسو کی بیٹی ازابیلا کو جنم دیا جن سے ان کا سلسلہ آگے چلا۔ اسی ازابیلا کی ایک سگڑپوتی ازا بیلا قشتالی کی شادی 13 جولائی 1372 کو برطانیہ کے شہزادہ ایڈمنڈ سے ہوئی جو ملکہ الزبتھ دوم کے جد امجد ہیں۔ انہی کی وساطت سے ملکہ برطانیہ کا سلسلہ بھی نبی کریم سے جا ملتا ہے۔
یہ کہانی دلچسپ ضرور ہے لیکن اس میں حقیقت نہیں۔ قدیم ہسپانوی تاریخ دان زائدہ کو معتمد کی بیٹی بتاتے رہے ہیں لیکن اس دور کے مسلمان مآخذ کے مطابق زائدہ معتمد کی بیٹی نہیں بلکہ بہو تھیں۔ ظاہر ہے اس سلسلے میں مسلمان ماخذات زیادہ قابل اعتبار ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر زائدہ کو معتمد کی بیٹی مان بھی لیا جائے، تب بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ معتمد حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی اولاد میں سے تھے۔
برکس پیئرج کے مطابق معتمد کا شجرہ 12 ویں سلسلے میں زہرہ بنت حسین سے جا ملتا ہے جو امام حسن کی پوتی تھیں۔ تاریخ کی مستند کتابوں میں حسین بن حسن (ان کا اصل نام زید تھا، کنیت ابوالحسین تھی) کی زہرہ نامی کسی بیٹی کا ذکر نہیں ملتا ان کی تین اولادیں تھیں، حسن بن زید، محمد اور ایک بیٹی نفیسہ۔ زہرہ کا وجود ہی تاریخ سے ثابت نہیں تو ملکہ کا شجرہ کہاں سے ملے گا۔ چنانچہ برکس پیئرج کی تمام تر تحقیقات ہوائی قلعے سے زیادہ کچھ نہیں۔
ایک وقت تھا جب آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ انھوں نے اپنے عمل (علم و اخلاق) سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں صرف فتوحات ہی حاصل نہیں کیں، بلکہ دوسرے ایسے اصلاحی کام بھی کیے جنھیں آج غیر مسلم اقوام نے اپنا رکھا ہے۔
قرآن مجید اللہ پاک کا وہ انعام ہے جس کے مطالعہ سے بہت سے غیر مسلم سائنس دانوں نے اسلام قبول کیا۔ کیتھ ایل مور کا تعلق شعبہ اناٹومی اینڈ بیالوجی یونیورسٹی آف ٹورانٹو سے تھا۔ انہوں نے قرآنی مطالعہ کے دوران ماضی اور حال کی سائنسی ایجادات پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ قرآن میں چودہ سو سال پہلے ان کا تذکرہ موجود ہے تو وہ مسلمان ہو گئے۔ پروفیسر ای مارشل جانسن کا تعلق امریکی یونیورسٹی سے تھا انہیں جنیین کے بارے میں قرآن سے راہنمائی ملی تو انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
پروفیسر جیرالڈسی گولڈ نگر یونیورسٹی آف جارج ٹاؤن، پروفیسر یوشیدی جون ماہر فلکیات جاپان، پروفیسر الفریڈ کو رنر جرمنی، پروفیسر آر مسٹرانگ امریکہ، پروفیسر ولیم بی امریکہ، پروفیسر دور جاراڈکنگ کنگ عبد العزیز یونیورسٹی جدہ، پروفیسر نیجات تیجا سن تھائی لینڈ، پروفیسر موریس بوکا ٹیل پیرس جیسے لوگوں پر قرآنی مطالعہ سے جو انکشافات ہوئے اس نے انہیں قرآن کو سچی کتاب ماننے اور اسلام کے دامن عافیت سے وابستہ کر دیا۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے قرآن اور نبوی تعلیمات سے بیگانہ ہیں۔ ہمیں چاہیے تھا کہ دنیا کو قرآنی علوم سے بہرہ ور کرتے اور دنیا کی امامت کا جو شرف ہمیں حاصل تھا اس کا حق اداکرتے۔ ہم اپنی ہی شب تاریک کو سحر نہ کرسکے اور اب عالم یہ ہے کہ اگر کوئی بڑی غیر مسلم شخصیت دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو ہم اس کے شجرہ نسب کو حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین یا حضور اکرم ﷺ سے ملا نے پر اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے متعلق اسلام کی تعلیمات انتہائی واضح ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کا اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والوں کے لیے راہنمائی مہیا کرتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ایک خادم یہودی تھا وہ بیمار ہوا تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ (بخاری)
فتح مکہ کے موقع پر آپ نے کافروں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا۔ جس میں ہندہ جیسی خاتون بھی تھیں جنہوں نے حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا۔ آپ نے غیر مسلم والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ حضرت اسماء کی والدہ مشرک تھیں حضور اکرم ﷺ نے انہیں ماں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا۔ غیر مسلم پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا۔ یہودی کا جنازہ گزرا تو آپ احتراماً کھڑے ہو گئے کسی نے کہا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر کسی نے اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم پر ظلم کیا تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے دعوے دار بنوں گا۔ سوال یہ ہے کہ اتنی واضح تعلیمات ہونے کے باوجود ہمارا طرز عمل کیا ہے۔ کسی غیر مسلم کا نسبی تعلق رحمۃ للعالمین ﷺ سے ملا کر یا ان کی طرف سے عمرے ادا کر کے اسلام یا مسلمانوں کی کون سی خدمت سر انجام دے رہے ہیں؟

