اینجلینا جولی اور ہمارے آرٹسٹ


دو تین دن سے دیکھ رہی ہوں کہ اس قسم کی پوسٹ گردش کر رہی ہیں کہ یہ گوری آرٹسٹ سیلاب زدگان کی مدد کو آئی ہے اور

ہمارے آرٹسٹ کینیڈا پہنچے ہوئے ہیں، ادھر اینجلینا جولی سر پہ چادر اوڑھے کتنی تمیز کی لگ رہی ہے ادھر ہمارے آرٹسٹ مغربی لباس میں گھوم رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

لوگو! بغیر سوچے سمجھے ٹرک کی بتی کے پیچھے کیوں بھاگتے ہو؟

اینجلینا جولی ایک بہت بڑا نام ہے اور سوشل ورک سے وابستہ ہے، ہمیں اس کے اس قدم کی بہت پذیرائی کرنی چاہیے لیکن اس کے لیے اپنے لوگوں کو خواہ مخوا رگیدنا اور ان کی بے عزتی کرنا بالکل بھی درست نہیں، اب چند باتیں ذرا دل و دماغ کھول کے سن لیں اور ان کو سمجھ کے غور کرنے کی بھی کوشش کریں۔

پہلی یہ کہ شوبز سے بہت سے لوگ منسلک ہوتے ہیں لیکن ہر کوئی ایک سے لیول کا سوشل ورک نہیں کرتا۔

مثلاً یہ بھی سوچیے کہ اتنی بڑی ہالی ووڈ انڈسٹری سے صرف ایک اینجلینا جولی ہی کیوں آئی؟ اسی طرح ہمارے ملک کے بہت سارے آرٹسٹ اپنے طور پہ بھی سوشل ورک کرتے ہیں اور بہت ساروں کی اپنی اپنی تنظیمیں بھی ہیں مثلاً حدیقہ کیانی آج کل ”وسیلہ“ کے نام سے سیلاب زدگان کے لیے کام کر رہی ہیں اور اسی سلسلے میں مختلف علاقوں کا دورہ بھی کرتی رہتی ہیں، اب یہاں آپ یہ توقع کریں کہ ہر اداکار اور گلوکار جا کے پانی میں مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کے آپ کو دکھائے تو ہی آپ اسے بخشیں گے تو یہ بیوقوفی ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے آرٹسٹ مثلاً بشریٰ انصاری، بہروز سبزواری، نعمان اعجاز وغیرہ اکثر انڈس ہسپتال کے فنڈ ریزر دوروں میں سفر کرتے پائے جاتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی مختلف فنکار اور با اثر شخصیات کینیڈا اور امریکہ کی مختلف تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف مسائل کے لیے فنڈ ریسنگ ڈنرز میں شرکت کرتی رہتی ہیں لیکن کیونکہ ہمیں اپنے لوگوں کی عزت کرنا ہی نہیں ہے تو بس ہمیں اینجلینا جولی دکھائی دیتی ہے۔

اب آئیے ”پہناوے“ پہ، یہ جگہ اور کسی بھی علاقے کی ثقافت اور ماحول پہ منحصر ہے، آپ کا کیا خیال ہے اینجلینا جولی پسماندہ علاقوں اور غرق ہوئی فصلوں، بیمار اور مصیبت زدہ لوگوں کے بیچ فیشن پریڈ کرے گی؟ اور آپ کیا سوچتے ہیں کہ جہاں ہمارے بڑے شہروں کے مرد عام لباس پہنی خواتین کا ایکس رے لینے کو بیتاب ہوتے ہیں گاؤں دیہات کے مردوں کے درمیان وہ ”اپنی“ طرز کے کپڑوں میں آرام دہ محسوس کرے گی؟

اور کیا انجلینا جولی بس اپنے ملک سے یونہی پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈائریکٹ کود پڑی ہوگی؟

بھولے بادشاہو! ایسے لوگوں کی آمد سے پہلے بھی ایک بہت بڑی پلاننگ ہوتی ہے، ایک ٹیم ہوتی ہے، ان کو اسسٹ کرنے والے، ان کا پلان ترتیب دینے والے، ان کی مارکیٹنگ کرنے والے، ان کا پہناوا، ان کا آنا جانا، فوٹوگرافی اس میں سب شامل ہوتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے یہ ہلکی پھلکی دیدہ زیب چادروں میں انجلینا جولی اور ساتھ مسکراتے ہوئے بچوں کی تصویریں کسی آن دی اسپاٹ غریب ہاری کے کیمرے کی مرہون منت ہوں گی؟ اگر ایسا ہے تو یہ اتنی خوبصورت اور اتنی کلیئر کیسے ہیں؟

اس کا کام بے انتہا قیمتی اور قابل ستائش ہے لیکن اس کا اپنے لوگوں سے مقابلہ کرنا اور انہیں تنقید کا نشانہ بنانا سراسر احمقانہ حرکت ہے۔

اب آئیں ”ہم ایوارڈز“ کی طرف، میں نہ تو اس کی پروموشن کا حصہ ہوں اور نہ مارکیٹنگ کا لیکن یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہوں کہ اتنے بڑے ایونٹ کو پلان کرنے کے لئے کم از کم سال بھر پہلے کی پلاننگ کی جاتی ہے۔ وینیو کی بکنگ سے لے کر اتنے سارے آرٹسٹوں، رائٹرز، ڈائریکٹرز، ٹیکنیکل اسٹاف، ریہرسل کریو، سب کے ویزے، فلائٹس، ہوٹل کی بکنگ، کھانے کا انتظام، ٹورز اور ایٹریکشن کے ٹکٹ اور بھی دس ہزار انتظامات ہوتے ہیں جس کے بعد اس لیول کا ایک دن کا ایونٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کتنا پیسہ، کتنی کمپنیوں کی سپانسر شپ اور میڈیا کوریج ہوتی ہے وہ ایک الگ ذمے داری ہے۔

یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ کینیڈا کے وزٹ ویزے کا پروسیس کم از کم دو مہینوں پہ مشتمل ہوتا ہے جس کے پیچھے ہر آدمی کی ایک لمبی ڈاکومینٹیشن اور فیس ہوتی ہے اور یہ ویزہ عموماً تین ماہ کے لیے ویلڈ ہوتا ہے (دوسری طرف ہمارے ہاں آنے والوں کو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا)

اور ایسے میں عوام چاہتی ہے کہ انجلینا جولی سے سبق لیا جائے اور سب کینسل کر دینا چاہیے۔

اب آئیے سیلاب زدگان کی مدد کی جانب، جو جہاں ہے اور جس طرح مدد کر سکتا ہے اسے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  انڈسٹریز کی طرح ”انٹرٹینمنٹ“ بھی ایک انڈسٹری ہے، جیسے کوئی کرکٹ میچ نہیں رکا اور ورلڈ کپ بھی ہونے جا رہا ہے اور اس کہ ذریعے سے ہمارے کھلاڑی سیلاب کی مد میں کروڑوں اکٹھا کرپا رہے ہیں اسی طرح اس وقت فنکاروں کا کینیڈا آنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے گھر میں ماں بیمار ہو اور ایک بیٹے کو بیرون ملک نوکری مل جائے تاکہ علاج ہو سکے۔

کل ہم ٹی وی کے فنڈ ریزر میں یہ خبر دیکھ کے خوشی ہوئی کہ بابر اعظم کے دستخط ہوئے بیٹ کے آکشن میں بارہ ہزار ڈالر کی بولی لگی اور بارہ ہزار ڈالر ہی ایک نامعلوم کینیڈین ڈونر نے میچ کیے سو گویا صرف ایک بیٹ چوبیس ہزار ڈالر کا فنڈ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوا۔ ٹوٹل فنڈ جو اکٹھا ہوا وہ ایک لاکھ چالیس ہزار  ڈالر کے لگ بھگ ہے، اس کے علاوہ ایوارڈز کی آمدنی کا ایک حصہ بھی اسی فنڈ میں جائے گا۔ آج کل کیونکہ یہاں بہت سارے آرٹسٹ موجود ہیں تو بہت سی لوکل تنظیمیں بھی اس کے ذریعے فنڈ ریزر کر رہی ہیں۔

ذہن کو دھوپ اور ہوا لگایا کریں، ہر خبر پہ اچھلنے اور بڑھ بڑھ کے تنقید کرنے اور لوگوں کی بے عزتی کرنے کے بجائے تھوڑا گہرائی میں جا کے سوچا کریں، ادھر سے اس وقت ایک ڈالر بھی ادھر جائے گا تو فائدہ ملک والوں کا ہی ہے۔

سب سے سنجیدگی سے سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ نے ان سارے حالات میں اپنا کیا حصہ ڈالا؟

Facebook Comments HS