اعتزاز احسن کو یہ وضاحتیں کیوں دینی پڑتی ہیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں ہی ہیں؟

اعظم خان - بی بی سی اردو، اسلام آباد


اعتزاز
پاکستان کے معروف وکیل، شاعر اور سیاستدان اعتراز احسن نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بدستور پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔

انھوں نے یہ بھی وضاحت دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے اُن کی پرانی دوستی ہے اور یہ کہ لاہور کے زمان پارک میں اُن کے گھر اور عمران خان کے گھر کی دیوار تک ایک ساتھ جُڑی ہوئی ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ اعتزاز احسن کو یہ بتانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کا ہی حصہ ہیں؟

اعتزاز احسن کی طرز سیاست کو قریب سے دیکھنے والوں کا ماننا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ انھیں اپنی سیاسی وابستگی سے متعلق وضاحت پیش کرنا پڑی ہو۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے 17 برس تک اعتزاز احسن کی وکالت اور طرز سیاست کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل ایسے مواقع آتے رہے ہیں کہ اعتراز احسن کو ایسی وضاحتیں دینی پڑی ہیں۔

گوہر علی نے کہا کہ چونکہ اعتزاز احسن جماعت کے اندر رہتے ہوئے اپنے اختلاف رائے کے حق کو بھی استعمال کرتے ہیں، اسی وجہ سے کچھ لوگ اس پس منظر کو جانے بغیر ان کے بیانات کو پیش کرتے ہیں۔

ان کے مطابق جماعت کے اندر بھی مختلف گروہوں کی آپس میں باہمی سیاست چل رہی ہوتی ہے تو پھر ایسے تناظر میں جب ضروری ہوتا ہے تو پھر اختلاف رائے رکھنے کی وضاحت دینی لازمی ہو جاتی ہے۔

اعتزاز

اعتزاز احسن کو وضاحتیں کیوں دینی پڑتی ہیں؟

ظاہر ہے اس سوال کا جواب اعتزاز احسن خود ہی دے سکتے ہیں۔ اور اس کی وضاحت دیتے ہوئے انھوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی وضاحت بھی دی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ انھیں اس وجہ سے وضاحت دینی پڑی کیونکہ اُن کے خلاف لگاتار ایک مہم چلائی جا رہی تھی اور ہر روز کوئی نہ کوئی خبر اس حوالے سے سامنے آ جاتی تھی۔

انھوں نے کہا ان کے عمران خان سمیت ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور باہمی عزت کا رشتہ موجود ہے۔

تاہم ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نواز شریف سے متعلق اُن کے ترش لہجے کی وجہ یہ ہے کہ وہ نواز شریف کو ملک میں پائی جانے والی موجودہ بدنظمی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

’پاکستان پیپلز پارٹی کبھی نہیں چھوڑی، مجھے نکالا گیا گیا تھا‘

اعتزا احسن نے بتایا کہ ان کے اپنی جماعت کی قیادت کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں اور وہ ایک دن کے لیے بھی اپنی جماعت سے اِدھر اُدھر نہیں ہوئے ہیں۔

تاہم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں تحریک استقلال میں شمولیت کے بارے میں ان کا جواب تھا کہ انھیں اس وقت پیپلز پارٹی سے نکالا گیا تھا اور یہ کہ وہ خود پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے تھے۔

ان کے مطابق جب نو اپریل 1977 کو گولی چلی تو انھوں نے اس عمل کی کُھل کر مخالفت کی تھی، جس کی پاداش میں انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ اُن کے مطابق اس کے بعد جب ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کیا تو وہ اُن کے خلاف سیاسی جدوجہد کا حصہ بن گئے، جس کی پاداش میں انھیں صعوبتیں اور طویل اسیری برداشت کرنی پڑی۔

اعتزاز احسن کے مطابق یہی وہ وقت تھا جب ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جیالے بھی جیلوں میں تھے اور پھر یہی چیز ان کی دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کی وجہ بن گئی۔

خیال رہے کہ اعتزاز احسن بے نظیر دور حکومت میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

اعتزاز احسن کے بارے میں مصنف کرسٹینا لیمب نے اپنی کتاب ’ویٹنگ فار اللہ‘ میں سخت الفاظ کا انتخاب کرتے ہوئے انھیں بے نظیر کی کابینہ میں شامل ایک ’ویمنائزر‘ وزیر کے طور پر متعارف کروایا۔

چند برس قبل سپریم کورٹ کے احاطے میں ایک میڈیا ٹاک کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے اسے بہت ’سخت لفظ‘ قرار دیتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی۔

اعتزام احسن

پرویز مشرف کے خلاف سیاسی جدوجہد کا احوال

یہ تو ایسا موضوع ہے جس پر خود اعتزاز احسن اس وقت کتاب مرتب کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی کتاب کا موضوع اس دور میں چلنے والی وکلا تحریک اور عدالت کے اندر کا ماحول ہے۔

اعتزاز احسن دو کتابوں ’انڈس ساگا‘ اور ’ڈیوایڈڈ بائی ڈیموکریسی‘ کے مصنف بھی ہیں۔

اعتزاز احسن کے مطابق جب پرویز مشرف نے مارشل لا نافذ کیا تو سب سے پہلے انھوں نے وزیراعظم ہاؤس سے نواز شریف کو باہر نکالا۔ ان کے مطابق یہ وہ عرصہ تھا جب وہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف تھے اور گذشتہ کئی برسوں سے نواز شریف اور ان کے طرز سیاست پر کُھل کر تنقید بھی کر رہے تھے۔

تاہم انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے میں انھیں نواز شریف کی یہ درخواست موصول ہوئی کہ ’میں پرویز مشرف کی طرف سے دائر کیے جانے والے مقدمات میں ان کا وکیل بن جاؤں۔‘ اُن کے مطابق اس وقت صورتحال یہ تھی کہ نواز شریف کے بہت قریبی سمجھے جانے والے نامی گرامی اور بڑے وکیل ان سے دور ہو چکے تھے۔

اعتزاز احسن کے مطابق پرویز مشرف کے مارشل لا کی پرواہ کی بغیر وہ نواز شریف کے وکیل بن گئے اور عدالتوں میں ان کا مقدمہ لڑا۔

جب پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری کو چیف جسٹس کے عہدے سے معزول کیا

اعتزاز احسن کے مطابق ملک میں وکلا کی کوئی کمی تو نہیں تھی مگر یہ ان کی ’سعادت‘ تھی کہ اس وقت کے معزول چیف جسٹس کی نگاہ ان پر جا کر ٹِکی۔ ان کے مطابق انھوں نے نتائج کی پرواہ کیے بغیر افتخار چوہدری کا مقدمہ لڑا اور وکلا تحریک کا حصہ بن گئے۔

اعتزاز احسن کے مطابق انھیں یہ کہا جاتا تھا کہ چونکہ آپ کی جماعت پیپلز پارٹی وکلا تحریک کی حمایت نہیں کر رہی ہے اس لیے وہ پارٹی اور وکلا تحریک میں سے ایک کا انتخاب کریں۔ اعتزاز کے مطابق انھوں نے وکلا سے یہ کہا کہ وہ نہ تو پارٹی چھوڑ سکتے ہیں اور نہ وکلا تحریک سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں البتہ وہ اس تحریک کی قیادت سے دستبرار ہونے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم ان کے مطابق وکلا نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آپ کی قیادت کے بغیر تحریک کو آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا۔ اور یوں وہ اس تحریک کے چیف جسٹس کی بحالی تک روح رواں رہے۔

اعتراز احسن نے وکلا تحریک کے بعد بطور وکیل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں یہ کہہ کر پیش نہ ہونے کا اعلان کر دیا کیونکہ وہ اُن کے وکیل رہے ہیں۔

اطہر من اللہ

ان دنوں وکیل یہ سوال ان سے بہت پوچھتے تھے کہ آپ کہیں ہمیں درمیان میں تو نہیں چھوڑ دیں گے؟ ’ایک روز ایسے ہی ایک تاثر پر ججز کالونی میں واقع چیف جسٹس کی رہائش گاہ کی بالکونی میں کھڑے ہو کر میں نے کہا کہ اعتزاز احسن پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔‘

وکلا تحریک کے دوران جب ریلیوں اور مظاہروں میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور سابق صدر آصف زرداری کے خلاف نعرے لگائے بلند ہوتے تھے تو وہ مائیک سنبھال کر اور کبھی خود منت کر کے وکلا سے ایسے نعرے نہ لگانے کی درخواست کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹوئٹر پر اصلی اور نقلی اعتزاز احسن کا معاملہ

’اعتزاز احسن پر سب سے بڑا اعتراض نواز شریف کے خلاف بیانات‘

’ن لیگ دیکھ لے کہ عمران کا امیدوار سوٹ کرتا ہے یا اعتزاز احسن‘

ایک بار وکیل رہنما علی احمد کرد نے سخت تقریر کی اور یہ خبریں سامنے آنا شروع ہوئی کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے تو ایسے میں ہری پور بار سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے علی احمد کرد کا دفاع ان الفاظ میں کیا کہ ’میں اعتزاز احسن من و عن علی احمد کرد کی طرف سے کی جانے والی باتوں کو تسلیم کرتا ہوں اور میں بھی وہ ہی باتیں کہتا ہوں۔‘

اپنے قریبی وکلا کو اعتزاز احسن نے بتایا کہ علی کرد کے قریب قانونی دیوار کھڑی کرنی ضروری تھی اور اب اگر کسی نے غداری کا مقدمہ بنایا تو اس کے سامنے صرف ایک شخص نہیں بلکہ پوری تحریک کھڑی ہو گی۔

وکلا تحریک

وکلا تحریک کو قریب سے دیکھنے والوں میں انگریزی اخبار ڈان کے سینیئر رپورٹر ناصر اقبال بھی شامل ہیں۔

ناصر اقبال کے مطابق ’اعتزاز احسن شروع میں بہت اچھے وکیل تھے۔ تاہم اب میں نے اعتزاز کو کافی عرصے سے کوئی کیس جیتتے نہیں دیکھا۔‘

اُن کے مطابق ایک زمانے میں جب وہ افتخار چوہدری کے مقدمے میں پیش ہوتے تھے تو کئی ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر وہ اس کیس میں دلائل دیتے تھے۔

ناصر اقبال کے مطابق وہ ان دلائل میں فن لطافت اور شاعری کا خوب استعمال کرتے تھے، مدلل دلائل دیتے تھے۔ پُرجوش ہوتے تھے، میڈیا کے ساتھ بات کرتے تھے، وہ تیاری کے ساتھ آتے تھے، بہت پراعتماد ہوتے تھے۔‘

ناصر کے مطابق اس وقت یہ اعتزاز احسن کا معمول تھا کہ ’گھنٹوں گاڑی چلانا، پریس کانفرنسز کرنا، شہر شہر جانا۔ کیس کی سماعت کے دن صبح سویرے ہی پہنچ جانا اور معاملات میں انتہائی سرگرم رہنا۔‘

ان کے مطابق اس کے بعد وہ بیمار بھی رہے اور شاید اسی وجہ سے وہ جم کر وکالت اور سیاست بھی نہیں کر سکے۔ ان کے مطابق انھوں نے افتخار چوہدری کے مقدمے کے بعد انھیں اتنا سرگرم نہیں دیکھا۔

واضح رہے کہ اعتزاز احسن سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اس مقدمے میں وکیل بن کر افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں بھی پیش ہوئے تھے جس میں عدالت نے انھیں توہین عدالت میں پانچ سال تک کی مدت کے لیے نااہل کر دیا تھا۔

تاہم اس مقدمے میں بھی اعتزاز احسن نے ایک دن میں گھنٹوں دلائل دیے اور ایک بار افتخار چوہدری کی سربراہی میں بینچ کو بتایا کہ ان کے ٹریفک پولیس میں ایک کزن نے انھیں بتایا کہ اتنا تو وہ سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں رکھنے کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جتنا بطور وکیل آپ عدالت کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔

اعتزاز احسن

’سنہ 2008 کے انتخابات کا وکلا کے فیصلے کی وجہ سے بائیکاٹ کیا تھا‘

اعتزاز احسن کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے کہ وہ افتخار چوہدری کے مقدمے کے بعد سیاسی طور پر زیادہ متحرک نہیں رہے۔ ان کے مطابق انھوں نے سنہ 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ وکلا تحریک کے فیصلے کی روشنی میں کیا تھا۔ تاہم بعد میں وہ اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے سینیٹر بن گئے تھے۔

ان کے مطابق سینیٹ میں انھوں نے متحرک کردار ادا کیا۔ اعتزاز احسن کے مطابق یہ بات سچ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی قانونی اور سیاسی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق جب وہ افتخار چوہدری کا مقدمہ لڑ رہے تھے تو اس وقت ان کی عمر 62 برس تھی جبکہ آج وہ 78 برس کے ہو چکے ہیں۔

اُن کے مطابق انھوں نے اصولوں کی بنیاد پر اس تحریک میں حصہ لیا تھا اور معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کا مقدمہ 16 ’ہوسٹائل‘ ججز اور ایک ’ہوسٹائل‘ آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف لڑا اور پھر وہ مقدمہ جیت گئے۔

جب پرویز مشرف کے دور میں اعتزاز احسن کو گرفتار کیا گیا تو ان کی رہائی کے لیے 30 امریکی سینیٹرز نے آواز بلند کی تھی جن میں سابق صدر اوباما، موجودہ صدر جو بائیڈن، جان کیری، ہیلری کلنٹن اور سینیٹر کینیڈی شامل تھے۔

متحدہ پاکستان میں سی ایس ایس میں پہلی پوزیشن اور محبت کی کہانی

اعتزاز احسن نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے سنہ 1970 میں سی ایس ایس کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت موجودہ بنگلہ دیش بھی پاکستان کا حصہ تھا۔

اعتزاز احسن کے مطابق انھوں نے سی ایس ایس کسی محبت میں نہیں کیا بلکہ انھیں سی ایس ایس کے بعد ضرور محبت ہوئی تھی۔ ان کے مطابق مقابلے کے امتحان میں ٹاپ پوزیشن کے باوجود انھوں نے اپنا سفر بطور وکیل شروع کرنے کو ترجیح دی اور پھر عملی سیاست میں بھی متحرک ہو گئے اور ہر دور میں مشکل بیانات اور فیصلے کرتے آئے ہیں۔

اپنے ایک حالیہ بیان کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں حیرت ہے کہ جو کچھ اعظم سواتی نے کہا ہے وہ بات وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور اس میں 19، 20 کا بھی فرق نہیں ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اعظم سواتی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن نے کہا کہ ’میں ہر بیان بہت سوچ سمجھ کر دیتا ہوں‘

اعتزاز احسن کے مطابق ان کی چار دہائیوں سے زائد پر محیط سیاست میں انھوں نے پارلیمنٹ کے فورم پر کبھی ایسی بات یا جملہ نہیں کہا جسے سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو حذف کرنا پڑا ہو۔

گوہر علی خان کے مطابق ہم بطور وکیل عدالتوں میں کئی برس پیش ہونے کے بعد یہ بات کرتے تھے کہ اعتزاز احسن کو غصہ کیوں نہیں آتا اور وہ ججز سے سخت الفاظ میں بات کیوں نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اعتزاز احسن اتنے ’کمپوزڈ‘ ہیں کہ ججز کو بھی کبھی انھوں نے مشتعل ہونے کا موقع نہیں دیا ہے۔

ناصر اقبال کے مطابق انھوں نے دیگر ہائی پروفائل مقدمات کے علاوہ اعتزاز احسن کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف متعدد مقدمات میں پیش ہوتے دیکھا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27653 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments