نوشی بٹ کی کتاب: ہمارے جسم تمہاری مرضی؟
خاکہ نگاری کی روایت اردو ادب میں بہت پرانی بھی ہے اور مضبوط بھی۔ فرحت اللہ بیگ اور سعادت حسن منٹو سے لے کر مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر آفتاب احمد تک ایک کہکشاں موجود ہے۔ تاہم اس فہرست میں دو شخصیات منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ممتاز مفتی اور احمد بشیر۔ نجانے کیوں نوشی بٹ کی یہ کتاب پڑھتے ہوئے یہ دونوں شخصیات بے طرح یاد آئیں۔ مفتی جی نے نیلم بشیر کو یا غالباً پروین عاطف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ افسانے نہ لکھ پکوڑے تل پکوڑے۔ لوگ سی سی کر اٹھیں۔ احمد بشیر نے اسی طرح جب کشور ناہید کا خاکہ لکھا تو اسے چھپن چھری کا خطاب دے ڈالا۔ نوشی کی کتاب پڑھتے ہوئے ممکن ہی نہیں کہ قاری سی سی نہ کر اٹھے۔ نوشی حقیقتوں کی ہانڈی جذبات کے چولہے پر چڑھا کر اس میں احساسات کے ایسے بارہ مصالحے ڈالتی ہے کہ قاری کہیں بلبلا اٹھتا ہے تو کہیں قہقہہ مارنے پر مجبور ہوجاتا ہے، کہیں یاس کی اتھاہ گہرائی میں اتر جاتا ہے تو کہیں رجائیت کے بادلوں میں پرواز کرتا ہے مگر بحیثیت مجموعی سی سی کرنے پر مجبور ٹھہرتا ہے۔
اسی طرح احمد بشیر کی بہت دلدادہ نوشی بٹ انہی کی چھپن چھری کی مانند آپ کو زندگی کی نیا بیچ منجدھار میں سے تنہا، محض اپنی قوت ارادی اور کمال بے خوفی سے، کنارے لگاتی ہے۔ اس کو روایت کی پرواہ ہے نہ رواج کا ڈر، وہ زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے جیتی ہے اور چیلنج دیتی ہے کہ آ اگر ہمت ہے، تو مجھ پر چھپن وار کرو، پھر بھی مجھے گھائل نہ کر سکو گے۔
عکس پبلشرز کی شائع کردہ اس عمدہ طباعت شدہ کتاب کا موضوع وہی ہے جو ہمارے معاشرے میں ٹیبو ہے۔ عورت کا وجود، اس کا جسم، اس سے جڑی خواہشات، عمومی رویے، معاشرتی کھوکھلا پن، صنفی عدم مساوات۔ یہ تمام مختلف واقعات پر نوشی بٹ کے تبصروں اور اس کی اپنی زندگی کے واقعات سے کشید کردہ ہیں۔ نوشی ابتدا میں ایک انتہائی پراثر بیانیہ لکھنے کے بعد جب ”اس تخیل کے نام“ خدا سے کچھ سوالات کرتی ہے تو قاری کا ماتھا ٹھنک جاتا ہے۔ ماورائی تصور بارے بات کرنا ایک بہت مشکل امر ہے خاص طور پر ہمارے یاس زدہ کم شعور معاشرے میں مگر نوشی اتنی مہارت سے یہ سوال لکھتی ہے کہ بے مثال رائٹر محمد حنیف کے شاہکار ناول ریڈ برڈز کے اختتامیہ کی یاد آ جاتی ہے۔ اس کے بعد تو گویا ہزار داستان کا دبستان کھل جاتا ہے۔ عورتیں، کہانیاں، لباس، ریپ۔ نوشی کے قلم کی تیز دھار روایت کے بتوں کو پاش پاش کرتے نئے جہان وا کرتی ہے۔ اس کی تحریر کی ایک بہت خاص بات اس کی روانی ہے۔ کردار اور واقعات آپس میں اتنے مربوط جڑے اختتام تک قاری کو اپنے سحر میں باندھ کر رکھتے ہیں۔ نوشی ان تحریروں میں المیوں پر بین ڈالنے کی بجائے کسی چٹان کی سی مضبوطی سے سوال اٹھاتی ہے۔ وہ مردوں سے سوال اٹھاتی ہے، وہ دکھ دیتی ان عورتوں سے سوال اٹھاتی ہے جو اپنی پست ذہنیت کے باعث اپنی ہی طرح کی عورتوں پر حیات تنگ کرتی ہیں۔ نوشی طارق جمیل سے سوال اٹھاتی ہے، عمران خان سے اس کی حماقتوں پر سوال اٹھاتی ہے، سی سی پی او سے اس کے دلآزار بیان پر سوال اٹھاتی ہے، وہ معاشرے کی فرسودہ روایتوں پر سوال اٹھاتی ہے، وہ سماج کے بیہودہ چلن پر سوال اٹھاتی ہے۔ ایسی بلند حوصلہ عورت اپنی زندگی بھی کھول کر رکھتی ہے اور اپنی خوشیاں، غم، کجیاں، خوف، خواہشیں، حسرتیں سب ایسے بے تکلف پیرائے میں بیان کرتی ہے جیسے قاری اس کا گہرا دوست ہو۔ آپ اس کی زندگی کی پرتیں دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ اس نے کہی اور ان کہی کے درمیان فاصلے کو اتنی چھوٹی عمر میں جان اور سمجھ لیا تھا جو کسی کسی کا خاصہ ہے۔
کتاب کی زبان جہاں بہت شستہ اور رواں ہے وہاں ابتدا میں اس میں انگریزی الفاظ جیسے کانسیپٹ، سٹیٹمنٹ وغیرہ پڑھ کر تھوڑی سی مایوسی ہوتی ہے کہ شاید گوگل نسل کی زبان ہی مستعمل ہو اور اچھی زبان پڑھنے کو نہ ملے مگر اس کے بعد تو ایسی شستہ اور عمدہ اردو ہے کہ واہ واہ۔
نوشی نے اپنے نانا اور ماموں کی کتاب میں شاندار تعریف کی ہے اور انہیں خوبصورت خراج تحسین پیش کیا ہے اور بد قسمتی سے ان کی پوری زندگی میں صرف یہی دو مرد تھے جو ان کی توصیف کے حقدار ٹھہرے۔ مانا کہ موٹرسائیکل پر بیٹھے ان پر پانی گرا کر ٹھٹھا اڑانے والے بھی مرد ہی تھے اور بچپن میں ان کی معصومیت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش والے بھی کچھ مرد۔ ان پر پندرہ سال کی عمر میں ڈورے ڈالنے والا بھی مرد تھا اور عورت کی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اس کا استحصال کرنے والا بھی مرد مگر کیا ہمارے معاشرے میں اکثریت ایسے مردوں کی ہے؟ اگر یہ جواب ہاں میں ہوتا تو ایک خاتون ادھر قومی اسمبلی کی سپیکر نہ بنتی، سپریم کورٹ کی جج نہ بنتی، وزیر خارجہ نہ ہوتی، مریم نواز حتیٰ کہ بے نظیر بھی نہ ہوتی۔ میری دانست میں نوشی مردوں کی بات کرتے ہوئے اقلیت کی بات کر گئی ہیں، اکثریت کی نہیں۔
کتاب کا ایک اور قابل ذکر پہلو فیمینزم پر ان کی متعدد تحاریر ہیں۔ میں اس سے اختلاف کرتے ہوئے باور کرانا چاہوں گا کہ مغرب میں تو کوئی صنفی امتیاز نہیں، وہاں تو عورتیں برابر ہیں تو پھر پچھلے ایک سو سال میں جب سے فیمینزم عروج پایا، وہاں سے کتنی خواتین سائنسدان نکلیں؟ کتنی مشہور ڈاکٹر نکلیں؟ کتنی بڑی انجینئیر آئیں؟ باقی تو چھوڑئیے کتنی فلسفی آئیں؟ کتنی مزاح نگار آئیں؟ میں بات کو زیادہ نہیں بڑھاتا مگر ان سوالات میں ہی ان کے جوابات ہیں۔
نوشی نے سیکس پر بھی ڈنکے کی چوٹ لکھا ہے اور خوب لکھا ہے۔ وہ سماج کو آئینہ دکھاتے ہوئے سیکس کو تلذذ کی بجائے ایک حقیقت سمجھنے کا مشورہ دیتی ہے۔
یہ کتاب نوشی کی داستان حیات کا ایک باب بھی ہے۔ جس طرح وہ زندگی کے تھپیڑوں کو تن تنہا سہتے اپنی بے پناہ قوت ارادی اور عزم صمیم سے ارادوں کو حقیقتوں میں بدلتی ہے وہ بہت قابل تحسین ہے۔ شادی کے بعد میٹرک کرنا اور پھر بی ایس کرنا، پارلر کھولنا اور اسے کامیاب کرنا، یہ اس کی بلند حوصلگی کے نشان ہیں۔ کتاب کا ایک دلچسپ پہلو اس کا کہیں کہیں شگفتہ انداز بیان ہے۔ خاص طور پر مولانا طارق جمیل کو لکھے خط میں تو بہت لطیف پیرایہ بیان ہے۔
یہ ایک باشعور اور نڈر پاکستانی عورت کا نوحہ ہے۔ آپ اس سے اختلاف تو کر سکتے ہیں مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔



