پیپلز پارٹی کا سیاسی سفر، نا امید اور مایوسی!


آج 30 نومبر کو پیپلز پارٹی کا 55 واں یوم تاسیس ہے۔ پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس ملک بھر میں منایا جا رہا ہے۔ سندھ میں ڈویژنل سطح پر پروگرام منعقد ہو رہے ہیں۔ آج کا دن یقیناً جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لئے مبارک دن ہو گا مگر کرپشن ۾ بادشاہت پر یقین رکھنے والوں کے لئے آج کا دن کسی عید سے کم نہیں ہو گا۔ مسٹر بھٹو سمجھتے تھے کہ وہ نئی پارٹی بنا کر ملک میں جمہوریت قائم کریں گے، عوام کو ان کے حقوق دیں گے۔

مسکین غریب ہاریوں کو ان کے چھینے گئے حقوق واپس کروائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست میں ایک انوکھے کردار تھے۔ جنہوں نے امیروں کی سیاست کو غریب کی دہلیز پر آ کھڑا کر دیا۔ ووٹ کی پرچی اور شناختی کارڈ کی پہچان طاقت سے انہوں نے غریبوں کے جیسے مردہ جسموں میں جان سونپ دی ہو۔ مسٹر بھٹو پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے۔ صدر ایوب سے نہ بنی تو اپنی پارٹی بنا کر الگ سیاسی جماعت قائم کی کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کی اشد ضرورت۔

کیونکہ وزیر خارجہ بننے کے بعد انہوں نے سیاسی جماعتوں میں خد و خال دیکھے۔ 70 ع کے دہائی میں عام انتخابات ہوئے تو وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو پہلے وزیر اعظم پاکستان بنے۔ پاکستان کو متفق کے طور پر 73 ع کا آئین دیا۔ جسے تمام سیاسی جماعتوں، مختلف شعبوں اور مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی عوام، لوگوں نے نہ صرف اسے دل سے قبول کیا بلکہ سراہا بھی گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقہ 73 ع کہ اس آئین کو اسلامی آئین کا درجہ تک دیا گیا ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہاں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ایٹم بم بنانے کی بنیاد رکھی اور یہاں تک کہ دیا کہ وہ گھاس کھائیں گے مگر کسی پابندی کی پرواہ کیے بغیر وہ گھاس کھانا پسند کریں گے، مگر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں ایٹم بم بنایا گیا۔ آج پاکستان جتنا محفوظ اور طاقتور ہے وہ اعزاز کریڈٹ بھی پیپلز پارٹی کو ہی جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے روس کے تعاون سے کراچی میں اسٹیل مل لگا کر پاکستان کو بڑا تحفہ دیا۔

(جو آج بڑے خسارے میں ہے اور اس کے سینکڑوں ملازمین فارغ ہیں اور کسی بھی وقت ملز کی نجکاری کی جا سکتی ہے ) جبکہ پاکستان میں فتنہ احمدیت، قادیانیت کو بھی پارلیمنٹ میں بحث و مباحثہ کے بعد اکثریت رائے سے غیر مسلم قرار دے کر ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا۔ پیپلز پارٹی نے عوام کو شناخت دینے کے لئے شناختی کارڈ کا اجرا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت 5 جولائی 1977 ع میں ختم کردی گئی اور دو سال بعد 1979 ع میں احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے جھوٹے قتل کے مقدمے میں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔

اس کے بعد اس کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف ایم آر ڈی تحریک میں حصہ لیا۔ جلاوطنی کاٹنے کے بعد وطن واپس آئی اور میدان میں اترتے ہوئے ضیاء الحق کی آمریت کا مقابلہ کیا۔ محترمہ  16 نومبر اور 19 نومبر 1988 ع کے عام انتخابات کے بعد پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئی۔ دو سال بعد مدت پوری ہونے سے قبل ہی حکومت ختم کردی گئی۔ نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد دوبارہ تین سال بعد 1993 ع میں عام انتخابات ہوئے پیپلز پارٹی نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی، محترمہ بے نظیر دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئی مگر ٹھیک 3 سال بعد 1996 میں پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر لغاری نے اسمبلیاں تحلیل کردی۔

وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح کام نہ کر سکی یا اسے کام نہیں کرنے دیا گیا! مگر انہوں نے ثابت کیا کہ وہ واقعہ ہی لیڈر تھی۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو یا محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف کوئی کرپشن سمیت سنگین الزام نہیں لگا سکتا، ! نہ ہی ان کو کسی نے کرپٹ یا چور کہا ہے۔ محترمہ کے خلاف کیس بنے، جیلیں کاٹی، مگر مقدمات جھوٹے ثابت ہوئے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر انہوں نے عوام کی خبر لی۔ ورکرز کا خیال رکھا تھا۔ عوام کے بھلائی کے لئے کام کیے آج بڑے بڑے منصوبے پراجیکٹس اس کا ثبوت ہیں۔ ورکرز کو نوازا نوکریاں دی، غریب ہاریوں آباد کاروں میں زمینیں تقسیم کی۔

آپ پیپلز پارٹی کے کتنے ہی کٹر مخالف اور سیاسی حریف کیوں نہ ہو، ! لیکن آپ کو ماننا پڑے گا کہ ملک میں 6 دہائیوں سے اگر کوئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جمہوری پارٹی رہی ہے تو وہ پیپلز پارٹی ہی ہے۔ جس کے پاس عوام کی اثاث ہوا کرتی تھی! وہ الگ بات ہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد لیڈرشپ نہ ہونے کی وجہ سے اثاث نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ موجودہ پیپلز پارٹی مسٹر زرداری ڈاکٹرائن کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی واقعہ عوامی پارٹی تھی!

ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور سے پارٹی کی بنیاد ڈال کر اپنی پارٹی کو غریبوں کی جھونپڑیوں، مزدوروں کے کارخانوں میں پہنچایا۔ وہیں چاروں صوبوں میں بسنے والے عوام میں اپنی جگہ بنا ڈالی۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی الیکشن کیمپین شروع کی تو بھٹو کو کہا گیا کہ! آپ کے ساتھ کون ہے۔ ؟ کون آپ کو سپورٹ کرے گا۔ ایک وقت تھا کہ چاروں صوبوں میں پیپلز پارٹی کا ہی سکہ چلتا تھا۔ کیا پنجابی، پشتون، سندھی بلوچی، یا کشمیری یہاں تک کہ کراچی کے اردو بھائی ہوتے ایم کیو ایم میں تھے مگر ان لوگوں کی دل پیپلز پارٹی کے ساتھ دھڑکتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو ہو یا بے نظیر بھٹو ان کے ایک اشارہ پر ہزاروں لاکھوں افراد امڈ آتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے پاس اثاث تھی، سوچ تھی، فکر فلسفہ تھا۔ تب ہی ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کہ یہاں دو بھٹو ہیں ایک میں ہوں دوسرا آپ پی ہیں۔ تب پارٹی تنظیم سازی نظم و ضبط ہوا کرتا تھا۔

دوسری جانب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 ع کی الیکشن میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے، اور پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی نے پانچ سال مکمل کیے ۔ 18 ترمیم کی گئی اور کئی محکمہ صوبوں کو دے دیے گئے۔ یوں ایک بار بڑا موقع تھا کہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ عوام کے پاس جاتی ان کے دکھ درد پوچھتی، زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے پیپلز پارٹی جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی اسی پارٹی کو جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں کی پارٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔

اگر پیپلز پارٹی میں جان ڈالی جاتی، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح دوبارہ پیپلز پارٹی کو عوامی پارٹی بنا کر چاروں صوبوں میں مزید پھیلا کر کام کیا جاتا۔ تو آج پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کرپشن بدعنوانی، قبضہ گیری، قبیلائی دہشتگردی، بدامنی، پولیسنگ، منی لانڈرنگ میں نہ ڈوبی ہوئی ہوتی۔ اور نہ ہی نیب میں جیل قید بھگتتے!

2008 ع سے لے کر 2013 ع تک پانچ سال وفاق جبکہ سندھ میں 2008 ع سے لے کر 2013 ع سے 2018 ع کے عام انتخابات سے لے کر اب 2022 ع تک گزشتہ 15 سالوں سے پیپلز پارٹی براہ راست اقتدار میں ہے۔ اب موجودہ پیپلز پارٹی جسے زرداری لیگ بھی کہا جاتا ہے وہ کہاں کھڑی ہے؟ اب آتے ہیں 18 ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی کے نظم و ضبط اور تنظیم سازی کی کی طرف۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے پاس ووٹ تو ہے مگر وہ بھی نظریاتی ووٹ نہیں پٹواری، چوکیداری، کلرک کی نوکری والوں کا ووٹ ہے۔ بلکہ سرداروں، وڈیروں، جاگیرداروں، نوابوں ڈکیتیوں کا ووٹ ہے جو پولیس کی مدد سے کرمنلز کی مدد سے بندوق پیسے لالچ خوف کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی میں جو لوگ محترمہ بے نظیر کے قریب تھے، ان کو تھلے لگادیا گیا۔ جنہوں نے وفاداری تبدیل کی ان کو قبول کر دیا گیا۔ نئے نئے چہرے شامل ہو گئے، ایسے ایسے افراد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے جن کے شمولیت کے بعد کارکردگی سفر ہو گئی ہے۔

اس وقت حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سرکار چاروں صوبوں کے بجائے سندھ کے سرداروں وڈیروں، کرمنلز اور پولیس کے رحم و کرم پر سانس لے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی جہاں لاہور میں بنیاد ڈالی گئی لاہور میں وہاں سے ختم ہو کر آزاد کشمیر، کے پی کے سے ختم ہوتی ہوئی پنجاب میں مکمل صفایا ہونے کے بعد بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں سے بھی پیپلز پارٹی صاف ہوتی ہوئی سندھ میں گزشتہ 15 سالوں سے سرکار جبری مسلط کی گئی ہے۔ صرف لاڑکانہ اور سکھر ریجن تک بچی ہوئی ہے۔ جہاں جے یو آئی اس وقت دونوں ریجن میں پیپلز پارٹی کو ہرانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کو 60 سیٹس کے بجائے 99 سیٹوں تک سیٹیں دے کر جے ڈی اے، ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے امیدواروں کو ہرایا گیا۔ جس کے بعد ان کو یقین ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ، پیسے کے بغیر اور سرداروں، جاگیرداروں، وڈیروں کے بغیر جیتنا ممکن نہیں ہے! اس میں کوئی شک نہیں ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی نے عوام کی خدمت کرنے کے بجائے سندھ میں لوٹ کھسوٹ کرپشن بدعنوانی کی بازار گرم کر رکھی ہے۔ گزشتہ 15 سالوں میں صرف ورکس اینڈ سروس محکمہ میں 1500 سو ارب سے زیادہ کرپشن ہوئی ہے۔

تعلیم کا ستیہ ناس کر دیا گیا۔ رشوت خوری۔ کمیشن نے تمام اداروں کا بیڑہ ہی غرق کر دیا ہے۔ صرف تھر، عمر کوٹ میں بھوک اور خوراک کی کمی کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ شہید بھٹو کے آبائی گڑھ لاڑکانہ میں ایڈز کی خطرناک بیماری میں ہزاروں معصوم بچے افراد مبتلا ہو گئے ہیں جس میں سینکڑوں بچے افراد موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ صرف سندھ میں ہیپاٹائٹس اے بی، سی میں 50 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔

جبکہ سینکڑوں اس بیماری اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے قبروں تک جا پہنچے ہیں۔ سندھ بھر میں سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ویکسین تک فراہم نہیں کی جا رہی۔ لاڑکانہ، جامشورو اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد اور بچوں کو کتے کاٹ چکے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی یہ صورت حال ہے کہ 10 سالوں میں تعلیمی اداروں کی ریپیئرنگ کے مد میں آنے والی ساری رقم کرپشن کے نظر ہو گئی ہے۔ سندھ کے محکمہ خوراک میں اربوں کھربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔

وزیر، مشیر، ایم این اے۔ ایم پی اے۔ یا ان کے چہیتے کروڑ، ارب پتی بن گئے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا تک نہیں ہے۔ محکمہ انفارمیشن میں 39 سیٹیں 17 گریڈ کی نوکریاں بغیر پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے اپنے اپنے من پسند افراد میں بانٹی گئی۔ جو ڈگری ہولڈر تھے وہ نظر انداز ہو گئے اور آج بھی وہ عمر بڑھنے کی وجہ سے نوکریوں کے لئے دھکے کھا رہے ہیں۔ جبکہ میرٹ کی سرعام خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ پبلک سروس کمیشن جیسے معتبر ادارے میں سیاسی افراد کو تعینات کر کے پیسوں اور سفارش پر نوکریاں بیچی جا رہی ہیں۔

حقیقت ہے کہ جس پیپلز پارٹی کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 ع میں رکھی تھی بدقسمتی سے اب وہ پارٹی ملٹی نیشنل کمپنی زرداری لیگ بن کر رہ گئی ہے۔ بس آپ اس پارٹی میں بزنس کے لئے سیاست کریں اور رقوم بٹورتے جائیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود قبضہ خوری، پولیس گردی، امن امان کی خراب صورتحال، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ، قتل و غارت گری، انتقام کی سیاست عروج پر ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے سندھ کو کھنڈر بنانے کی وجہ اور کام نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں مایوسی ہے۔

لوگوں میں احساس محرومی بڑھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ بس اسٹیبلشمنٹ کی آئی سی یو میں پیپلز پارٹی کو عارضی چلانے کی مشق ہو رہی ہے۔ سندھ کی عوام اس وقت سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ کون سا راستہ اپنائیں۔ مگر ایک بات طے ہے کہ پیپلز پارٹی میں بدعنوانی، کرپشن کی وجہ سے وہ اپنی اثاث کھو بیٹھی ہے۔ حالیہ بارشوں میں سندھ کو جان بوجھ کر ڈبویا گیا۔ کٹ دے کر شہروں کو برباد کیا گیا۔ فصلیں، لائیو اسٹاک اور ایگریکلچر تباہ ہو گیا افسوس کہ ساری دنیا سے ملنی والی امداد ہڑپ کردی گئی۔

برسات متاثرین کی امداد، راشن، خیمے، ٹینٹ، گرم کپڑے اور ضروری سامان گوداموں اور ہاؤسز پر رکھ دیا گیا ہے اور الیکشن کے لئے خرچ کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ موجودہ پیپلز پارٹی نہ تو شہید بھٹو والی ہے نہ بے نظیر بھٹو والی ہے۔ سندھ میں پولیس کو اتنا کمزور کر دیا گیا ہے کہ پولیس خود ڈکیتیوں کے رحم و کرم پر ہے۔ صحافیوں کو بھی بخش نہی کیا جاتا ہے۔ جتنے مقدمات صحافیوں کے خلاف درج ہوتے ہیں اگر اتنے کرمنلز کے خلاف ہوتے تو آدھا امن ہوجاتا۔

نوشہرہ فیروز میں صحافی عزیز میمن اور اجئے کمار لالوانی کے قتل کے نشانات بلاول ہاؤس جا ملتے ہیں۔ مسٹر زرداری سندھ کے مخالف صحافیوں کو چیٹر اور بدعنوان کہتے ہیں لیکن خود پارٹی سمیت اسی گنگا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سندھ میں دیکھا جائے تو قبیلائی دہشت گردی، قتل و غارت۔ اغوا برائے تاوان۔ زمینوں، ملکیتوں، پلاٹوں پر قبضہ ہو رہے ہیں ان میں براہ راست پیپلز پارٹی ملوث ہیں۔ سندھ میں متبادل کے طور پر کون سامنے آ رہا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

پیپلز پارٹی 35 سال کی ہو کر 55 سال میں سفر کر رہی ہے۔ جب تک پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے رویے تبدیل نہی کرتی یقین کیجیے پہلے سے نقصان میں جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے وزیر خارجہ بن گئے ہیں۔ اب اس کے زمیواری ہے کہ وہ پارٹی کو دوبارہ پارٹی کو نوابشاہ سے لاڑکانہ لے جائیں ورنہ زرداری کے بعد ہو سکتا ہے کہ پارٹی کی قیادت مرتضیٰ بھٹو شہید کے بچوں کے ہاتھوں میں نہ آ جائے اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔

Facebook Comments HS