نسلوں کا زہر – ایک نیٹو امریکن لڑکی کی دردناک کہانی


جنجر سے میری ملاقات امریکہ کے شہر ڈیٹرائیٹ کی وین اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہوئی۔ جہاں ہم دونوں سوشل ورک میں ماسٹرز کر رہے تھے۔ گوری رنگت، ہلکے بھورے بال، لمبا قد۔ دھیما لہجہ، نرم آواز میں بات کرتی، ایثار کا پیکر اور پڑھائی میں میری معاونت کے لئے ہر وقت تیار۔ مجھے اس سے دوستی کرنے میں کچھ وقت نہ لگا۔ اس نے بتایا کہ وہ انگزائٹی، پینک اٹیک اور ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے باقاعدگی سے دوائیاں لیتی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ خالصتا یورپین نژاد نہیں بلکہ اس کی رگوں میں نیٹو امریکن خون کی آمیزش ہے۔ اور یہ کہ اس کی ذہنی کیفیت لا شعوری سطح پہ نسلوں میں منتقل ہونے والے تاریخی صدمات یا ٹراما کی دین ہے۔

وہ میرا امریکہ نقل مکانی کا ابتدائی زمانہ تھا اس وقت جب مجھے نہیں پتہ تھا کہ تاریخی یا نسلی صدمات بحیثیت مجموعی وہ جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی، زخم ہیں جو کسی مخصوص نسلی گروہ میں ڈپریشن، پیٹی ایس ڈی، خوف، غصہ، منشیات کی لت وغیرہ جیسے رویے کا مظہر اور جسمانی بیماریوں کا محرک ہیں۔ آج بطور سوشل ورکر میں نسلوں میں منتقل ہونے والے صدمات یا ٹراما کے ان اثرات سے بخوبی واقف ہوں کہ جو امریکہ کی سرزمین پہ نسلی تفریق کی وجہ سے سیاہ فام ایفرو امریکی اور نیٹو یعنی مقامی باشندوں پہ مرتب ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک مضمون پہلے بھی چھپ چکا ہے۔ ملاحظہ کریں۔

نیٹو امریکنز وہ مقامی افراد ہیں جو یورپین قوم کی امریکہ آمد سے پہلے یہاں بسے ہوئے تھے۔ اور جن کی موجودگی امریکہ آ کر بسنے والی، نسلی برتری کا شکار یورپین اقوام پہ بہت گراں گزرتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مفاد کے لیے ان کی نسل کشی کے تمام حربے استعمال کیے۔ ‎رنگ و نسل کی تفریق کی بنیاد پہ مفاد کی غرض سے یورپین اگر سیاہ فام غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر امریکہ لائے گئے تو امریکہ میں آباد مقامی باشندوں کو ان کی متاع اور گھروں سے بے دخل کر کے لیے دور کہیں مقامات بسنے پہ مجبور کیا۔

ان کی امن کی بستیوں کو مقتل گاہوں میں بدل دیا گیا۔ ان کے بچوں کو گھر سے دور بورڈنگ اسکولوں میں رہنے پہ مجبور کیا تاکہ وہ اپنی زبان، ثقافت اور روحانیت سے جڑی روایات اور مذہب سے یکسر ناتا توڑ لیں۔ بورڈنگ اسکول میں پڑھنے والے ایک بزرگ نے بتایا کہ جب وہ بچپن میں انگریزی سے نا بلند ہونے کی وجہ سے اپنی زبان بولتے تو ان کا منہ کئی بار صابن سے دھلوایا جاتا تاکہ وہ اپنے منہ کو اپنی مادری زبان سے پاک کر لیں۔

ایسی تو بے شمار کہانیاں ہیں لیکن آج میں آپ کو اپنی دوست جنجر کی کہانی اس کی ہی زبانی سنا رہی ہوں جس کی رگوں میں اپنے نیٹو امریکی آبا اجداد کا خون دوڑ رہا ہے۔ اس کی نسلوں نے اسی قسم کے تفریقی رویہ کو رویہ کو سہا۔ جس کا اثر ڈپریشن، انگزائٹی، پی ٹی ایس ڈی، غصہ، ندامت منشیات اور الکوحل کے نشے کی صورت نسلوں میں منتقل ہوکے نسلی ٹراما کی مثال بنا۔

اس نے بتایا۔

” میری والدہ، جین، 1943 میں اور ان کا بھائی،“ ہیرالڈ، 1946 میں ڈیٹرائٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین بہت غریب اور شرابی تھے۔ میری نانی کے والد کا تعلق نیٹو امریکی نسب سے تھا۔ جین اور ہیرالڈ کو کمسنی سے ہی اپنے والدین کی بے توجہی کا سامنا تھا۔ جس کی وجہ سے چائلڈ پرو ٹیکٹو سروسز کی ایجنسی نے میری ماں اور ان کے بھائی کو فوسٹر (رضاعی) گھرانوں میں دینے کا فیصلہ کر لیا۔ میری ماں نے بتایا کہ وہ ان اذیت ترین لمحات نہیں بھولیں کہ جب ایک دن انہیں اور چھوٹے بھائی ہیریلڈ کو گاڑی میں لے جاتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے والدین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے اور انہیں فوسٹر کیئر میں رکھا جائے گا۔ حالانکہ جین اور ہیرالڈ کی ایک خالہ بھی تھیں لیکن انہوں نے بہن کے بچوں کو نگراں ماں بن کے اس لیے ان کی ذمہ داری نہ لی کیونکہ ان بچوں کی رگوں میں امریکی خون کی آمیزش تھی۔ کسی قانونی مسئلہ کی وجہ سے میرے نانا کو کینیڈا واپس کر دیا گیا۔ نانی نے ان سے طلاق لے لی، اور وہ واپس کینیڈا چلے گئے۔

نانی نے یہیں رہ کر ایک سفید فام آدمی سے شادی کر لی۔ ان کے اور بچے بھی ہوئے لیکن پہلی شادی سے ہونے والے بچوں کا خون مقامی باشندے کا تھا، جو قابل قبول نہیں تھا۔ آخر کار، ہیرالڈ اور جین، میری ماں اور ماموں کئی رضاعی گھروں (فوسٹر ہوم) میں رہتے رہے۔ ہیرالڈ کا آخری رضاعی گھر ایک فارم میں تھا۔ جبکہ جین جب اپنے آخری رضاعی گھر پہ پہنچی تو اس کی عمر نو سال کی تھی۔ جہاں ایک جوڑے ( چیٹ اور لیونا) نے اسے گھر میں تین چھوٹے بچوں کی پرورش میں مدد کرنے کے لیے اپنایا لیا تھا۔ جین پچھلے گھروں کے تلخ تجربات کے نتیجے میں اکثر اپنا کھانا اپنی خواب گاہ میں چھپا دیتی۔

رضاعی ماں کا جین کے ساتھ بہت ناروا رویہ تھا۔ اس نے جین پہ اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلقات کا بھی الزام لگایا۔ جبکہ میری ماں، جین نے مجھے بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جب جین تقریباً 16 سال کی ہوئیں تو ان کی ملاقات میرے والد سے ہوئی۔ جو ماں کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے فوراً بعد شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رضاعی والدین کو یہ بات منظور نہیں تھی۔ تاہم دونوں نے پھر بھی شادی کر لی۔ اس وقت میری ماں اٹھارہ سال تھی اور وہ حاملہ تھیں مگر ان کا حمل چھ ماہ میں ضائع ہو گیا۔

پھر میں 1963 میں پیدا ہوئی۔ میری پیدائش کے وقت میری ماں جین 19 سال کی تھیں۔ میرا نام جنجر رکھا گیا جو مجھے کبھی بھی پسند نہیں آیا۔ شاید اس لیے کہ میں نے خود کو کبھی پسند نہیں کیا۔ بہت چھوٹی عمر سے میں بہت کم گو تھی۔ شاذ و نادر کسی سے بات کرتی تھی۔ میرے اندر ایک نا معلوم سا خوف مستقل رہتا۔ ماں ہمیشہ غصہ میں رہتیں۔ وہ ہمارے ساتھ تو تھیں پر ہمیں تحفظ اور سلامتی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مجھے ان سے ڈر لگتا تھا۔ میں چاہے جتنا بھی اچھا کرلوں ان کی نظر میں وہ ٹھیک نہ ہوتا۔ میرا چھوٹا بھائی اور میں، نظر تو آتے مگر کبھی سنے نہیں جاتے تھے۔ دراصل تو میں اور بھائی خود ان کی نگاہ میں نہیں آنا چاہتے تھے۔ کیونکہ میری ماں اپنے رویہ سے کسی بھی طرح سے ہماری روحوں کو توڑ سکتی تھیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آخر وہ ہمیں اس دنیا میں لائی ہی کیوں تھیں؟ جس پر انہوں نے کہا تاکہ وہ ثابت کر سکیں کہ ان کے بچے ہو سکتے ہیں اور وہ انہیں اس طرح نہیں چھوڑیں گی جیسے انہیں ان کے والدین نے چھوڑ دیا تھا۔ انہیں اس کا احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم پہلے ہی جذباتی اور نفسیاتی طور پر انہیں چھوڑ چکے ہیں۔ اپنے اندر کے جس ناسور جس کے ساتھ وہ پروان چڑھی تھیں وہ ہم تک منتقل ہو چکا تھا۔ دکھوں کے بوجھ اب ہمارے وجود میں سرایت کر گئے تھے۔ صرف ایک ہی چیز کے لئے میں ان کی شکر گزار ہوں کہ وہ شراب نوشی نہیں کرتی تھیں جو نیٹو امریکنز میں عام ہے۔ نشہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پہ سہی ان کے غم کو غلط کرتا ہے۔

میرے ماموں، ہیرالڈ، نوعمری سے ہی شرابی تھے۔ ایک بالغ نوجوان ہونے کے باوجود ان کے پاس رہنے کے لیے کبھی بھی کوئی گھر نہ رہا تھا۔ میری ماں نے بطور بڑی بہن میری ماں نے انہیں ساتھ رکھنے کی ذمہ داری محسوس کی۔ آخر عزیمت اور تنہائی کے سفر میں دونوں کا درد مشترک تھا۔ ہم ایک چھوٹے سے لاگ کیبن میں رہتے تھے۔ وہ سامنے کے پورچ میں رہتے تھے۔ وہ اونچی آواز میں گانے سنتے، گانجا استعمال کرتے، سگریٹ نوشی کے عادی اور ہمیشہ شراب پیتے رہتے۔ ان کے عورتوں سے بھی تعلقات تھے۔

پھر ایک رات میرے والدین کی لاعلمی میں وہ میرے کمرے میں آئے۔ انہوں نے مجھے جگایا۔ اور جنسی بد فعلی کی۔ میری عمر صرف سات سال کی تھی۔ مجھے وہ بھیانک اور تکلیف دہ واقعہ صرف ٹکڑوں ہی میں یاد ہے۔ ماموں کا مجھے ڈانٹا اور سختی سے ہاتھ پکڑنا، تاکہ میں انہیں روک نہ سکوں۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس طرف مت دیکھو اور شور نہ مچاؤ۔ شدید تکلیف کے عالم میں میں نے اپنی دیوار پر صلیب کی طرف دیکھا اور خدا سے مدد کی التجا کی۔ میں نے سوچا کہ آخر میں نے کیا غلط کیا تھا کہ اس درد کی مستحق ہوں۔ پھر مجھے یاد ہے کہ میرا سر نڈھال ہوکے ایک جانب کو ڈھلک گیا۔

جب صبح کے وقت میری آنکھ کھلی تو میرا ننھا سا ذہن سوچ رہا تھا کہ شاید میں مر چکی ہوں۔ پھر یہ بھی سوچا کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔ کیا میں مر چکی ہوں اور یہ میری دوسری زندگی ہے؟ میں نے اپنی کھڑکی سے باہر اپنے والدین کو اور رشتہ داروں سے باتیں کرتے دیکھا۔ باہر جانے کے لیے اٹھی تو مجھے چلنے میں بہت تکلیف ہوئی۔ میں بمشکل باہر گئی کہ کوئی مجھے سنبھال لے۔ کیونکہ میرے اندر شدید خوف تھا۔ میرے والد نے مجھے گود میں اٹھایا لیکن مجھے تکلیف ہوئی، میں نیچے اتر آئی۔

اس دن میں نے سنا کہ وہ میرے ماموں کی بات کر رہے تھے۔ جنہوں نے کل رات خود کو مارنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کچن میں چاقو سے اپنی کلائی کاٹ لی تھی۔ جب میرے والد نے انہیں کام سے واپس گھر پہنچنے کے بعد اس حالت میں دیکھا تو فوری طور پہ ایمبولینس کو بلایا۔ میں نے اپنے ماموں کو کئی سالوں تک دو بارہ نہیں دیکھا۔

میں بہت چھوٹی تھی اور میرے پاس اس رات کی یادیں ٹکڑوں میں ہی تھیں۔ عرصے تک مجھے لگتا تھا کہ مر چکی ہوں۔ جب میں اسکول جاتی تو میں دیوار پر لگے چارٹ کو دیکھتی کہ آیا اس پر میرا نام ہے یا نہیں۔ کیا میں وہی جنجر ہوں یا کوئی اور۔ مگر میں نے تھوڑی بہت محبت و توجہ کے ٹکڑوں پہ جینا سیکھ لیا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی عہد کیا کہ کہ اگر میرے بچے ہوں تو میں ان کو اپنی پوری محبت دوں گی۔ اپنے غصہ اور خوف کو اپنے بچوں میں نہیں منتقل کروں گی۔ مجھے ماں کے رویہ کے چکر کو توڑنا ہو گا جو نسل میں منتقل ہونے والے صدمے کی دین ہے۔

میں جب سمجھدار ہوئی تو میں نے ویب سائیٹ کی مدد سے اپنے نیٹو قبیلے کو تلاش کرنے کا قصد کیا۔ ویب نسب، ڈی این اے ٹیسٹنگ اور کول ویل ریزرویشن کے سفر کے ذریعے میں نے دو بزرگوں سے ملاقات کی۔ جنہوں نے میرے شجرہ نسب کو مکمل کرنے میں میری مدد کی۔ میں نے انہیں اپنی ماں کے رویہ کی کہانیاں سنائیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ نیٹو امریکی خون والے بچوں کے ساتھ ایسی پرورش بہت عام ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ میں جس قبیلے سے ہوں وہ اوکانوگن ہے۔ مقامی قبائل کے متعدد بار منتقل ہونے کی وجہ سے، اوکانوگن قبیلہ ریاست واشنگٹن میں کو لویل ریزرویشن پر قبائل کے کنفیڈریشن کا حصہ بن گیا۔

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے 2018 کے موسم گرما میں اپنے نسب کی تلاش کے اس سفر نے میرے وجود کے بہت سے گمشدہ ٹکڑوں کو جوڑنے میں مدد دی۔ مجھے اپنی ماں کے غصہ کو سمجھنے اور ان کے رویے کو معاف کرنے میں مدد ملی۔ بطور نیٹو امریکن میں نے بہت کچھ کھویا ہے لیکن کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ پچھلی نسلیں ثقافت کو اگلی نسل تک پہنچاتی ہیں۔ لیکن وہ صدمات اور ذہنی دباؤ اور انکزائٹی کو بھی منتقل کرتی ہیں۔ لیکن اگر علم و آگہی ہو تو اس نسلی صدمہ کی اگلی نسل تک منتقلی کو روکا بھی جا سکتا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ یہی کیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments