شہید بی بی آپ کا خون ایک دن ملک کو تمام ناسوروں سے ضرور نجات دلائے گا

شعراء حضرات دسمبر کو ہمیشہ اداس مہینہ قرار دیتے آئے ہیں مگر یہ اداس مہینہ نہیں بلکہ دکھوں بھرا مہینہ ہے، جب بھی دسمبر شروع ہونے والے والا ہوتا ہے، دل میں اداسیاں ڈیرہ ڈال لیتی ہیں اور جب دسمبر شروع ہوتا ہے تو اداسیوں کے ساتھ ساتھ دکھوں کا سمندر امڈ آتا ہے، میری شادی بھی دسمبر میں ہی ہوئی، 12 دسمبر 1998 ء مگر ٹھیک اسی روز 2022 ء میں میری سب سے بڑی بہن عترت اشفاق کینسر کے موذی مرض کے باعث 38 سال کی عمر میں اپنے چار معصوم بچوں، شوہر علی اشفاق اور پورے خاندان کو روتا چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئیں، ان کی وفات کا صدمہ دل میں آج بھی ہرا ہے جو کسی لمحے بھی بھولا نہیں جاتا، والدہ بیٹی بچوں کو آج بھی دیکھتی ہیں تو ان کو دیوانہ وار چومتی اور پیار کرتی ہیں
بہن کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہو گئے ہیں مگر ماں کا دکھ ان کی آنکھوں کو آج بھی نم کر دیتا ہے، بہن کی وفات کے وقت ان کے سب سے چھوٹے بیٹے حسام کی عمر صرف ڈیڑھ برس تھی، اب وہ انوائرمنٹل انجینئر بن چکا ہے، مگر ماں کی موت نے اس کو خاموش طبع بنا دیا ہے، اس کو ہنسانے کی کوشش کریں تو صرف مسکرا دیتا ہے، اب جس دن شادی کی سالگرہ ہوتی ہے ہم بہن کی برسی کا ختم پڑھ رہے ہوتے ہیں، زندگی نے جو یہ دکھ دیا ہے وہ مر کر ہی ختم ہو گا
زندگی نے جو دوسرا دکھ دیا وہ بھی دسمبر میں ہی دیا، 27 دسمبر 2007 ء کی شام بھی 12 دسمبر 2002 ء جیسی ہی اذیت ناک تھی، میری سب سے بڑی بیٹی بہجت فاطمہ کی عمر اس وقت آٹھ برس تھی، دو سال سے ضد کر رہی تھی کہ بابا مری دیکھنا ہے، پھر اس کے چاچو عاصم نے خواہش پوری کرنے کے لئے مری جانے کا پروگرام بنالیا، 26 دسمبر کی شام کزن شاکر محمود کے گھر پہنچ گئے، اگلے روز 27 دسمبر کو مری جانے کا پروگرام تھا، رات کو میں نے بیٹی اور بھائی کو کہا کہ کل بی بی کا لیاقت باغ میں جلسہ ہے، 1996 ء میں بی بی کا جلسہ ملتان کے قلعہ قاسم باغ میں دیکھا تھا، بی بی کو سامنے دیکھنے کی خواہش تھی، رضی الدین رضی اور چاچا یوسفی بھی جیالے تھے، پروگرام بن گیا، ایک پی پی رہنما نے ہم تینوں کو سٹیج کے پیچھے اس جگہ کھڑا کر دیا
ایک گھنٹہ انتظار کے بعد بی بی سیڑھیوں سے ہاتھ ہلاتی ہوئی اتریں اس طرح ان کی قریب سے زیارت نصیب ہوئی، بیٹی اور بھائی سے کہا کہ راولپنڈی کے صحافی بھی دوست ہیں اس لئے آج کا پروگرام کینسل کریں تاکہ جلسہ میں بی بی زیارت کرلوں، بھائی تو مان گیا مگر بیٹی ضد کرنے لگی کہ نہیں ہمارا پروگرام خراب نہ کریں، اب اتنی چھوٹی بچی کو کیا علم بی بی کیا ہیں؟ پھر ہم صبح مری کے لئے روانہ ہو گئے
راستے میں مری سے پیپلز پارٹی کے جیالوں کے قافلے نعرے لگاتے لیاقت باغ سٹیڈیم کی طرف جا رہے تھے جس پر دل بار بار مچلتا رہا ہے، دو بجے مری میں یخ بستہ ہوائیں چلنے لگیں، بیٹی کو مکمل پیک کیا ہوا تھا مگر بیٹی کے ہونٹ سفید ہوتے دیکھ ایک ہوٹل میں گھس گئے، سوپ پینے کے بعد بیٹی کو سکون ملا تو کہنے لگی بابا مری بہت گندا ہے، بہت سردی ہے، واپس چلیں
واپس راولپنڈی روانہ ہوئے، چھتر سے آگے آئے تو کزن حسن کاظمی کا فون آ گیا پوچھا کہاں بتایا راول ڈیم دس منٹ میں پہنچنے والے ہیں تو اس نے کہا پھر میری طرف آجائیں، حسن کا گھر راول ڈیم کی کالونی میں تھا، پانچ منٹ بعد پھر حسن کا فون آیا کہ آگے نہ نکل جانا میری طرف آؤ، بیوقوفی نہ کرنا، میں نے جواب دیا شاہ جی آرہے ہیں، آپ کو یقین کیوں نہیں آ رہا، جس پر حسن نے کہا کہ ابھی ٹی وی پر خبر چلی ہے کہ نواز شریف کے قافلے پر راولپنڈی کے قریب فائرنگ ہوئی ہے حالات خراب ہیں، آگے مت جانا، دس منٹ کے بعد ہم حسن کے گھر پہنچ گئے
اس وقت ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلی کہ بینظیر بھٹو کی گاڑی پر حملہ۔ یہ دیکھ اوپر کی سانس اوپر ہی رہ گئی، پندرہ منٹ بعد اے آر وائی نے خبر دی کہ بم حملہ ہوا ہے مگر بی بی وہاں سے جا چکی تھیں، یہ خبر سن کر ہم فوراً وہاں سے نکل پڑے، مری روڈ رحمان آباد خالہ پہنچے تو گیٹ پر شبیر شاہ میرے گلے لگ گیا اور بتایا کہ بی بی شہید ہو گئیں، میں نے پوچھا کب؟ ، اس نے بتایا جب آپ نے ہارن دیا اسی وقت بریکنگ نیوز چلی ہے، سب جلدی سے اندر چلی آئے
پھر ٹی وی تھا اور ہم سب گھر والوں کے آنسو تھے، خالہ مشرف کو بد دعائیں دے رہی تھیں، بابر اعوان نے بی بی کی شہادت کا اعلان کیا، یہ بالکل ویسا ہی لمحہ تھا جب ڈاکٹر نے مجھے میری بہن کی انتقال کی خبر آ کر سنائی تھی، دل سے آہ نکلی واہ دسمبر، ایک اور وار کر دیا، کزن کے گھر سے سینٹرل ہسپتال دس منٹ کے فاصلے پر تھا (بعد میں اس ہسپتال کا نام بے نظیر کے نام پر رکھ دیا گیا) ، دماغ شل ہو رہا تھا کہ بی بی اتنے قریب بی بی کی میت پڑی ہے، ایک بار اٹھا کہ ہسپتال جاتا ہوں، خالہ نے روک دیا اور شبیر شاہ کو کہا کہ دروازوں اور گیٹ کو تالے لگا کر چابیاں چھپا دو، اس کا کوئی پتہ نہیں یہ نکل جائے، باہر جلاؤ، گھیراؤ شروع ہو چکا تھا، ٹی وی پر مری روڈ پر جلانے کے کلپ چل رہے تھے، انتہائی وحشت ناک عالم تھا، پھر سب کچھ ٹی وی پر ہی دیکھا
رات بھر آنکھوں سے آنسو ہی نہ تھمے، لگتا تھا، عترت بہن کے بعد اب بے نظیر بہن بھی ہمیں چھوڑ گئیں، دکھ کا احساس وہی جانتا ہے جس کا دل چیر اور کلیجہ پھٹ گیا ہو، بے نظیر ایک سیاستدان نہیں تھی، 80 ء کی دہائی کے نوجوانوں (جب ہم جوان تھے ) کی امید تھی بلکہ اس ملک کی امید تھی کیونکہ ہم نے جنرل ضیاء الحق کی بدترین آمریت دیکھی تھی، جب ہم صرف یہی پڑھ سکتے تھے، ”بول کہ لب آزاد ہیں تیرے“ مگر ہم بول نہیں سکتے تھے، اس وقت کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا، سرکاری ٹی وی تھا جس پر آمر ضیاء الحق کی آواز سننے اور تصویر دیکھنے کو ملتی تھی
بے نظیر صبر کا وہ پہاڑ تھیں جس کے سامنے دکھوں کے بڑے بڑے پہاڑ تھے مگر ان کے صبر نے دکھوں کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دیا، آمر ضیاء الحق کا روحانی بیٹا نواز شریف بھی بی بی کے صبر کے سامنے ڈھیر ہو گیا اور بی بی کی شہادت پر ہسپتال پہنچ گیا، نواز شریف جس نے بی بی شہید کی زندگی میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے کو اپنی بہن کہہ دیا، یہ بی بی کا صبر ہی تھا کہ ان کے خاندان کا دشمن اور ملک کا آمر ضیاء الحق ہوا میں ریزہ ریزہ ہو گیا، زمین نے بھی اس کو جسم کو قبول نہ کیا کیونکہ اللہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ ہوتا ہے ظالم کے ساتھ نہیں
کہاں ملک کے وزیر خارجہ اور پھر پاکستان کے وزیراعظم کی بیٹی پنکی، ناز، نخروں سے پلی ہوئی پنکی جس پر دکھوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اس کا آغاز ایک آمر نے کیا تھا، زندگی کا کون سا دکھ تھا جو بی بی شہید نے نہ سہا، باپ کو پھانسی دیدی گئی، بوڑھی ماں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، ایک بھائی کو پیرس میں قتل کر دیا گیا، دوسرے بھائی کو پولیس نے اس وقت گولیوں سے بھون دیا جب بی بی خود اس ملک کی وزیراعظم تھیں، ظالموں کو پھر بھی چین نہ آیا اور ان کی حکومت بھی ختم کردی گئی۔
ضیاء الحق کی گیارہ سالہ آمریت کا مقابلہ کیا پھر 12 اکتوبر 1999 ء کو ایک اور آمریت کا سامنا کیا، آمروں کو عوامی لیڈر کہاں برداشت ہوتے ہیں، بے نظیر نے اپنی ذہانت اور مدبرانہ قیادت سے مشرف کی آمریت کا مقابلہ کیا اور اس کو آہستہ آہستہ پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا، جس کا آمر کو بخوبی اندازہ تھا کہ بی بی کے ہوتے ہوئے اس کی دال نہیں گلنے والی، آمر نے 2007 ء کا الیکشن کا جیتنے کے لئے بی بی کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کیا (بی بی کی شہادت پر الیکشن 2008 میں ہوئے )
بی بی کا راستہ روکنے کے لئے پہلے انہیں وطن واپس آنے سے روکنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے آزمائے، پیغامات بھیجے گئے کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے، پاکستان واپس آئیں تو مار دی جائیں گی، بی بی ایسی دھمکیوں سے ڈرنے والی کہاں تھیں، آخر وہ بھی شیر کی بچی تھیں، وہ اس باپ کی بیٹی تھیں جس نے پھانسی کا پھندا چوم کر گلے میں ڈال کر کہا تھا کہ Finish it
بی بی واپس آئیں، کراچی میں عوام کا سمندر استقبال کے لئے امڈ آیا، نذیر ناجی نے لکھا تھا کہ بی بی کا استقبال دیکھ کر آمر نے کارساز کے مقام پر بم دھماکوں کا فیصلہ کیا، 17 اکتوبر 2007 ء میں سانحہ کارساز میں 200 سے زائد جیالے شہادت پا گئے، جان نثاران بے نظیر نے ان کو حفاظت سے وہاں سے نکال لیا مگر 27 دسمبر 2007 ء کو خونخوار بھیڑیوں نے ان کو لیاقت باغ میں خود کش حملے میں شہید کر کے جمہوریت کی علمبردار اور عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا
بی بی نے جتنی قربانیاں دیں اتنی پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں کسی سیاستدان نے نہیں دیں، ان کی قربانیاں لازوال اور بے مثال ہیں، وہ نام ہی نہیں حقیقت میں بے نظیر تھیں، آج ان کی 15 برسی منائی جا رہی ہے، دکھ اس بات کا ہے بی بی نے جمہوریت کے لئے اپنے خون سے آبیاری کی وہ 15 سال بعد بھی وہیں کھڑا ہے بلکہ اس سے بھی برے حالات میں گھر چکا ہے، اب تو ملک کا وجود ہی خطرے میں نظر آ رہا ہے، منصوبہ سازوں کے نئی نئی مہم جوئیاں ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہیں، بی بی کی شہادت کے بعد کبھی کوئی مولوی مداری بن کر اسلام آباد میں ناچتا ہے تو کبھی گستاخ کی ایک ہی سزا کے نام پر فیض آباد بند کر دیا جاتا ہے
اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو ایک انوکھا لاڈلہ ٹیسٹ ٹیوب سے پیدا کیا جاتا ہے جس کا فتنہ اب تک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، بی بی آ کر دیکھو تمھارا خون بھی کسی کام نہ آیا، ملک آج تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے، سیاستدان آج بھی کرسی کے لئے تڑپ رہے ہیں، عوام دو وقت کی نہیں بلکہ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، زندگی کی سانسیں بحال رکھنا ممکن ہی نہیں رہا، کاش بی بی آج آپ ہمارے درمیان ہوتیں تو پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی، مگر آپ آج بھی محب وطن پاکستانیوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گی، مجھے یقین ہے کہ شہید بی بی کا خون ایک دن ملک کو تمام ناسوروں سے ضرور نجات دلائے گا۔

