گڈ بائے مسٹر چوہدری


میرا دکھ یہ ہے کہ میرے پیارے جنہوں نے مجھے جینا اور پیار کرنا سکھایا، ایک ایک کر کے ہمیشہ کے لئے چھوڑے چلے جا رہے ہیں۔ اکلاپے کا دکھ سہا نہیں جاتا، تنہائی کھانے کو دوڑتی ہے اور چاروں اور پھیلتی وحشت ڈراتی ہے۔ میری روح کی گہرائی میں کچھ جذبات ہیں جو لفظوں کا جامہ پہننے پر راضی نہیں، وہ میرے دل کے نہاں خانے میں جاگزیں ہیں اس لئے روشنائی کے ساتھ کاغذ پر منتقل ہونا نہیں چاہتے۔ میں ان دکھ بھرے الفاظ کو ٹھنڈے سانس بھر کر کس طرح گنگناؤں، کسے سناؤں کہ وہ میرے خانہ دل کی گہرائی کے مکین ہیں، جنہیں خامشی فضا میں بکھیرتی اور دنیا کا ہنگامہ سمیٹ دیتا ہے، خواب دہراتے ہیں اور بیداری چھپا دیتی ہے۔

میں تلخ حقیقت سے راہ فرار اختیار کر کے نیند سے چمٹتا ہوں تو رات کی بے شما ر آنکھیں مجھ پر گڑ جاتی ہیں اور بیدار ہوتا ہوں تو دن کی آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈال پاتا۔ بے بسی سی بے بسی ہے لیکن کیا کروں کہ یہ غم فراق ہی میرا رفیق ہے جو زمانے کی سختیاں شدید ہونے پر مجھے تسلی دیتا ہے اور زندگی کے مصائب یکجا ہو جانے پر میری غمگساری کرتا ہے۔ عباس اطہر، انور قدوائی، جواد نظیر، مولوی سعید اظہر، قدرت اللہ چوہدری اور ریاض صحافی کے بعد میرا ایک اور غم گسار چلا گیا۔

آدمیوں سے بھرے اس جنگل نما معاشرے میں وہ ایک جیتا جاگتا، ہنستا مسکراتا اور اپنی مرضی کی زندگی جینے والا باشعور انسان تھا۔ بلا کا خوبصورت، اتنا حسین کہ اسے دنیا کی بے ثباتی بھی حسین لگتی۔ خوش شکل، خوش پوش، خوش اخلاق، خوش گفتار اتنا کہ اگر صحافی نہ ہوتا تو یقیناً کئی فلموں کا ہیرو ہوتا اور وہ بھی چاکلیٹی۔ مسکراہٹ دیگر نقوش کی طرح اس کے چہرے کا دائمی نقش تھی۔ تحمل اور بردباری اس قدر کہ برے سے برے حالات میں بھی طمانیت اس کے چہرے سے غائب نہ ہوتی۔

غصہ تو جیسے اسے آتا ہی نہ تھا اور اگر خدانخواستہ کبھی اس کے آثار نمودار ہوتے تو مد مقابل سے لڑائی تو درکنار، دشنام طرازی تک سے احتراز برتتے برتتے خود ہی لال پیلا ہو کر کانپنے لگتا۔ عاجزی اور انکساری اس کے رگ و ریشے میں خون بن کر دوڑتی، دھیمے انداز میں گفتگو کے دوران اس کا آہنگ کبھی اتنا اونچا نہ ہوتا کہ آواز کمرے سے باہر جائے بلکہ بسا اوقات تو اس کی بات غور سے سننے کے لئے سامع کو مکمل خاموشی کے ساتھ اپنے کانوں کو بار بار صاف کرنا پڑتا۔

یہ تھا خالد چوہدری، جس نے صحافت کو اپنا پیشہ بنانے کے بجائے ایک مقدس مشن سمجھا اور پھر یہی اس کا جنون ٹھہرا۔ رپورٹنگ سے لے کر متعدد اخبارات کی ایڈیٹر شپ تک کا سفر اس نے اپنی نظریاتی وابستگی اور اصولوں کے ساتھ طے کیا جس میں سمجھوتہ نام کا کوئی لفظ اس کی ڈکشنری میں موجود ہی نہ تھا بلکہ ایک غیر تحریر شدہ استعفیٰ ہمیشہ اس کی جیب میں موجود ہوتا۔ وہ صحافت سے اتنا کماتا نہ تھا جتنا اپنے ساتھیوں پر خرچ کر دیتا، جن میں کسی کے منصب اور عہدے کی کوئی تخصیص نہ ہوتی، دفتر کا نائب قاصد بھی اس کے لئے اتنا ہی محترم تھا جتنا کوئی چیف رپورٹر یا چیف نیوز ایڈیٹر۔ جمہوری روایات، اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی پاسداری اس کی سرشت میں شامل تھیں۔ وہ کسی کے ساتھ ظلم کرتا نہ ہی ظلم ہوتا دیکھ سکتا، ہر مظلوم اس کا دوست اور اس کی مدد اس نے از خود اپنے آپ پر فرض کر رکھی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی اس کی محبت اور بھٹو کا وہ عاشق تھا۔ ضیاء آمریت کے دور میں جب بڑے بڑے سورما گرفتاریوں، جیلوں اور کوڑوں کی سزاؤں سے ڈر کر اپنے نظریات سے منحرف ہو کر پیپلز پارٹی چھوڑ گئے، وہ سینہ تان کر میدان میں کھڑا رہا، جرات رندانہ کی سزا بھگتی، گرفتار ہوا، تشدد سہا، کوڑے کھائے، شاہی قلعہ کی بدنام زمانہ قید کاٹی لیکن اپنے نظریے اور اصولوں پر ڈٹا رہا، کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہ کی۔ اس کی نظریاتی وابستگی کی سزا صرف اسے ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کو ملی لیکن سب نے آمریت کی اس افتاد کو اپنے سینوں پر تمغہ شجاعت کی طرح سجائے رکھا۔

بی بی شہید کو وہ پاکستانی قوم کا نجات دہندہ سمجھتا تھا اور ان کی شہادت کو پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے بعد اس کی ساری امیدیں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے لگ گئیں۔ بلاول کی شکل میں اسے بھٹو کی شبیہ اور بے نظیر کا عکس دکھائی دیتا۔ بسا اوقات تو ان کے تذکرے پر فرط جذبات سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں نمی تیرنے لگتی اور وہ بمشکل اپنے آپ پر قابو پاتا۔ اصل میں وہ جیالا تھا، اصلی اور نسلی جیالا جس نے ساری زندگی پیپلز پارٹی کے لئے وقف کرنے کے باوجود اپنی ذات کے لئے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔

خالد چوہدری سے میری شناسائی عباس اطہر کی زیر ادارت نکلنے والے اخبار روزنامہ صداقت سے ہوئی جہاں وہ چیف رپورٹر اور میں سیکرٹری ٹو چیف ایڈیٹر تھا۔ اس دور میں بڑے بڑے نامور صحافیوں اور ادیبوں کی جو گرما گرم محفلیں بپا ہوتیں، خالد چوہدری اور میں ان کے ”خاموش تماشائی“ ہوتے۔ پھر یہ شناسائی تعلق میں تبدیل ہو گئی۔ عجب اتفاق کہ روزنامہ مساوات سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے خالد چوہدری نے بطور ایڈیٹر آخری خدمات بھی اسی اخبار کے لئے سرانجام دیں۔

اس سے بڑھ کر وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی نظریاتی وابستگی کا اور کیا ثبوت دیتا؟ اس کے بعد اس کی صحت خراب ہو گئی اور وہ گوشہ نشیں رہنے لگا۔ دوستوں کے اصرار پر ہفتہ میں ایک آدھ دن ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں شرکت کرتا کرتا یک دم غائب ہو گیا۔ تشویش ہوئی، فون ملایا اور پروگرام سے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو جواب ملا۔ یار، ان جاہل لوگوں کے ساتھ میں نہیں بیٹھ سکتا۔ اور پھر سارا ماجرا بیان کرتے ہوئے قدرے تلخ لہجے میں بولا کہ آج ظہیر کاشمیری کا یوم وفات تھا، میں نے پروگرام کے میزبان سے ان کی شخصیت اور شاعری پر بات کرنے کو کہا تو اس سمیت دیگر شرکاء کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور انہوں نے حیرت سے پوچھا، کون ظہیر کاشمیری؟ اب تم ہی بتاؤ جنہیں ظہیر کاشمیری کا نہیں پتہ، ان کی جہالت میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے ۔ اور پھر اس کے بعد وہ واقعی اس پروگرام میں کبھی نہیں گیا۔

یہ تھا خالد چوہدری اور اس کا نظریہ، جسے سینے سے چمٹائے وہ میانی صاحب کی مٹی میں جا سویا، جہاں جواد نظیر، مولوی سعید اظہر اور ریاض صحافی جیسے دوست پہلے سے اس کے منتظر تھے ویسے بھی قحط الرجال میں یہ دنیا اب اس کے رہنے کے قابل کہاں تھی۔ اسے دیکھ کر جانے کیوں مجھے میٹرک میں پڑھا جانے والا ناول ”گڈ بائے مسٹر چپس“ یاد آ جاتا۔ ایک مشفق، رحم دل اور پیار کرنے والا استاد جو اپنے شاگردوں کا دل بہلانے کے لئے لطیفے اور قصے کہانیاں سناتا، انہیں دعوت پر گھر بلاتا اور چائے اور کیک سے تواضع کرتا، کبھی کسی غلطی پر انہیں جسمانی سزا نہ دیتا بلکہ ہر بات محبت اور پیار کی زبان میں سمجھاتا۔

جنگ عظیم اول میں اپنے وطن سے بے پناہ محبت کے باوجود برطانوی فوجیوں کے غیر انسانی رویوں پر تنقید کرتا۔ جسے شادی سے پہلے اس کی محبوبہ نے ازراہ مذاق کہا تھا ”گڈ بائے مسٹر چپس“ اور آخری بار جب وہ اپنے کمرے میں بستر علالت پر دراز تھا تو اس کے ایک شرارتی طالب علم نے یہی جملہ دہرایا۔ ”گڈ بائے مسٹر چپس“ ۔ اور مسٹر چپس آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لئے اپنی محبوب بیوی کی یادوں میں گم ہو گیا۔

خالد چوہدری کی موت کا افسوس اپنی جگہ لیکن وہ اپنی مرضی کی زندگی بہادری سے جیا اور اپنی مرضی کی موت مرا۔ وہ بہادر تھا اور خوش نصیب بھی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ میرے پیارے جنہوں نے مجھے جینا اور پیار کرنا سکھایا، ایک ایک کر کے ہمیشہ کے لئے چھوڑے چلے جا رہے ہیں لیکن میں نے یہ دکھ جھیلنا ہے کہ یہی میری قسمت ہے۔ خالد چوہدری اب جس دنیا کا مکین ہے وہ اس مادیت پسند دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہے، اللہ اسے وہاں بھی خوش رکھے۔

گڈ بائے مسٹر چوہدری۔ گڈ بائے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments