لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ


آپ بیرون ملک کسی بھی پاکستانی کو مطمئن نہیں پائیں گے ان کو اپنی بے بسی کا مکمل احساس ہے۔ اس وقت اس ملک میں بھی مہنگائی کا بہت ہی شور ہے۔ ایسے میں حکومت کوشش کر رہی ہے کہ مہنگائی میں عوام کو اخلاقی مدد سے محروم نہ کیا جائے اور ایک خاص بات جتنے بھی بڑے روزمرہ کی ضروریات کے سٹور ہیں ان پر تمام اشیا کی قیمتیں منجمد کر دی گئی ہیں۔ اگرچہ یہ وقتی حل تو ہے جبکہ اس کے مقابلہ پر پاکستان میں مہنگائی کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔

اس وقت کی جمہوری سرکار اس معاملہ میں مکمل بے بس نظر آ رہی ہے۔ ہمارے مشہور زمانہ وزیر باتدبیر کا فرمان ہے ”پاکستان کو رب نے بنایا ہے وہ ہی اس کی حفاظت کر رہا ہے“ مگر کیا مہنگائی بھی رب کی منشا سے ہو رہی ہے۔ جب ہمارے سیاسی لوگوں نے ملک کے طاقتور حلقوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ عمران خان کی جماعت ملک کو چلانے میں دنیا کے اہم ملکوں کو نظرانداز کر رہی ہے تو انہوں نے مروجہ جمہوری طریقہ اپنایا اور ایک متحدہ محاذ بنایا اور ان کی اس پرکشش تدبیر کے پیچھے ہمارے سابقہ صدر جناب آصف علی زرداری نمایاں رہے اور سابق کپتان کو اسمبلی میں شکست سے دوچار کیا اور پی ڈی ایم کے نام سے مشترکہ سرکار بنائی اور جس میں ان کے جانشین اور سپوت بلاول زرداری وزیر خارجہ بنے۔

مگر ہمارے دونوں مہربانوں نے بہت مشقت ضرور کی اگر وہ محنت کرتے تو ملک کی حالت بدل سکتی تھی مگر جب قسمت ہی خراب ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ ہمارے پنجاب کے سابق صوبے دار بہادر جن کو وزیر اعظم بنایا گیا ہے۔ ان کے بھاشن بھی بہت کمزور سے نظر آ رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں ہمارے عسکری ادارے اس جمہوری سرکار کی مدد میں نمایاں نظر آ رہے ہیں اور مکمل کوشش کر رہے ہیں، ان کے لوگوں نے سابق وزیراعظم سے رابطہ بھی کیا۔ مگر فریقین ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان شدید مشکلات سے دوچار ہے اور عوام کسی پر بھی اعتبار کرنے پر تیار نہیں۔ ایسے میں انتخابات سے ملک کی مشکلات کم ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے۔

کیا ہم اپنی تاریخ پر فخر کر سکتے ہیں۔ کم از کم مجھے تو اندازہ ہے کہ ہماری جو بھی تاریخ ہے۔ وہ ایسی ہے کہ اس کی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ جب متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم ہو رہی تھی۔ ہندوستان کی راکھیل سرکار بھی جنگ میں حصہ دار تھی اور مشکلات سے دوچار تھی۔ برطانیہ، امریکہ اور روس اس جنگ کے اتحادی تھے۔ جنگ کے خاتمہ پر جرمنی تقسیم ہو چکا تھا۔ امریکہ نے جاپان پر قبضہ کر لیا تھا۔

برطانیہ نے امریکہ اور روس سے مشاورت کر کے ہندوستان جو آزادی کے بعد بھارت کہلاتا ہے اس کو من ریاست کا رکن بنایا اور دیگر نوآبادی ممالک بھی اس کے رکن بن گئے۔ پاکستان دو حصوں میں نیا ملک بنا۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔ متحدہ پاکستان کی فوج کا پہلا کمانڈر ایک برطانوی تھا۔ مسلم لیگ کا کردار ختم ہو چکا تھا۔ 1954 ء میں مشرقی پاکستان میں انتخابات ہوئے۔ مولوی فضل الحق جو بنگال کے سابق وزیراعلیٰ بھی رہے انہوں نے جگتو فرنٹ بنایا اور مسلم لیگ کو شکست دی مگر ان کی سرکار کو بھی 54 دن کے بعد فارغ کر دیا گیا۔

بنگالی جن کی وجہ سے پاکستان بنا ان کو شدید مایوسی کا سامنا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان مشرقی پاکستان کے کمانڈر تھے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد جب مسلم لیگ تقسیم ہو چکی تھی تو ایوب خان پاکستان کے کمانڈر بنے۔ سکندر مرزا گورنر جنرل بن چکے تھے۔ ایوب خان نے ان کو شیشہ میں اتارا اور پاکستان کی مشکلات کا حل مارشل لاء بتایا۔ ان کو صدر پاکستان بنا دیا گیا اور ایوب خان مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ فوج ملک پر مکمل قبضہ چاہتی تھی۔

سکندر مرزا کو ملک بدر کر دیا گیا۔ برطانیہ نے سکندر مرزا کو پناہ دی۔ امریکہ اس ساری سازش کے پیچھے تھا۔ ایوب خان کے زمانہ میں ذوالفقار بھٹو وزیرخارجہ تھے۔ وہ امریکہ کو قبول تھے۔ پھر 1965 ء کی جنگ نے بھٹو کو ایوب خان سے بدظن کر دیا اور امریکہ نے بھٹو کو قبول کیا۔ دوسری طرف 1971 ء میں مشرقی پاکستان سے مجیب الرحمن جیت چکا تھا اور مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب چھا گئے تھے مگر فوج نے سابقہ کردار ادا کر کے ”ادھر تم ادھر ہم“ کا نعرہ ایک صحافی سے لگوایا اور پاکستان کو دولخت کر دیا۔

جب جنرل ایوب کے خلاف تحریک چل رہی تھی اور متحدہ اپوزیشن کا خیال تھا کہ اس سیاسی بحران میں قومی اسمبلی کا سپیکر صدر پاکستان بن کر نئے انتخابات کروا سکے گا مگر فوج نے حسب ریت مداخلت کی اور ملک میں مارشل لاء لگا دیا۔ جنرل یحییٰ خان ایڈمنسٹریٹر بن گئے پھر انتخابات کا فیصلہ ہوا۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب جیت گئے اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو۔ فوج کو دونوں ہی ناپسند تھے۔ 25 مارچ کو متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا تھا اور بھٹو صاحب مجیب سے ملنے ڈھاکہ گئے۔

اس زمانہ میں جنرل خادم حسین راجہ مشرقی پاکستان کے کمانڈر تھے۔ مارچ میں ان کو بدل کر جنرل نیازی کو مقرر کیا گیا۔ جنرل خادم حسین راجہ نے ایک کتاب بھی لکھی ان کی کتاب کا نام ”اپنے ملک میں اجنبی“ ۔ وہ فوج کی سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، مجیب الرحمن پر الزام لگایا جاتا ہے۔ یاد رہے مجیب الرحمن نے ایوب خان کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا۔ پھر دسمبر 1971 ء میں فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ مغربی پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو بھی فوج کے کردار سے واقف ہو چکے تھے انہوں نے فوج کے اہم عہدوں میں تبدیلی کی اور جنرل ٹکا کو چیف بنا دیا گیا۔ پھر بھٹو صاحب نے قبل از وقت انتخابات کا فیصلہ کیا۔ متحدہ اپوزیشن سے مذاکرات شروع ہوئے اور جب سب کچھ طے پا گیا تو فوج کو اپنی اہمیت کا احساس ہو اور جنرل ضیاء الحق نے شب خون مارا اور جبری مارشل لاء لگا دیا گیا۔ اس ساری سازش کے پیچھے ہمارا قدردان اور مہربان دوست امریکہ تھا۔ جو ہمارے ہاں اپنے مفادات کے کارن مداخلت کرتا رہتا تھا اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے خیال میں ہم ایٹم بم بنانے کے اہل ہی نہیں تھے اور اس نے تمام معاملات آسان ہی خود کیے۔

ہماری فوج کا سب سے زیادہ اور اچھا تعلق امریکہ سے رہا۔ ان کی تربیت او ران کا اسلحہ ہمارے ساتھ رہا اور وہ اسلحہ صرف امریکہ کی اجازت سے استعمال ہو سکتا تھا اور اب یوکرین کی جنگ میں وہ اسلحہ ہم یوکرین کو دے رہے ہیں مگر سول سرکار کو خبر نہیں اور وزیردفاع خواجہ آصف بھی امریکہ کے پسندیدہ ہیں اور خصوصی تعلق رکھتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس میں فوج کا کردار بہت ہی نمایاں نظر آ رہا ہے۔ ملک بھر میں صحافت ناقابل اعتبار نظر آ رہی ہے۔ اس کو عوام کی رائے عامہ کا بالکل خیال نہیں۔ عوام جن مشکلات کا شکار ہے ہماری جمہوری سرکار ان میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے اور اس وقت معلوم نہیں کہ انتخابات کب ہوں گے۔ پاکستان الیکشن کمیشن پر الزام ہی نہیں بلکہ دعوی ہے کہ الیکشن کمشنر راجہ سلطان سابق جنرل باجوہ کی مشاورت سے لگائے گئے تھے۔

ان کا کردار بھی حیران کن ہے۔ اگر آئین کے مطابق ملک پر قانون کی حکمرانی ہو تو ان سب مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہماری جمہوری سرکار آئین کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے اور ہماری عدلیہ آزادی کے نعرے کو قانون کی نظر میں قابل گرفت خیال کرتی ہے۔ ملک بھر میں صوبائی عدالتیں قابل توجہ ہیں۔ ان کے جج اعلیٰ مراعات کے باوجود اپنا منصفانہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ چاروں صوبوں میں پولیس کا رویہ ناقابل اعتبار ہے اور ایسے میں میڈیا میں کام کرنے والے فوج کے عتاب سے محفوظ نہیں۔

اس وقت بھی امریکہ ہمارے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس کا خصوصی وفد بہت ہی خاموشی سے آیا اور شہباز شریف کے خصوصی لوگوں سے ملا اور فوج سے مشاورت بھی کی۔ سنا ہے کہ ایک نئی طرز کی حکومت کا پلان آئندہ چند دنوں میں سامنے آئے گا، جس کی مدد سے انتخابات کو قومی مشکلات کے باعث کچھ اور عرصہ کے لیے موخر کر دیا جائے گا۔ اس وقت اگر انتخابات کو نظرانداز کر بھی دیا جائے تو بھی ملک کو چلانا مشکل ہے۔ محترمہ مریم صفدر کی پاکستان آمد ہمارے قانونی نظام پر ایک دھبہ ہے۔ وہ سزایافتہ ہیں۔ ان کو جو قانونی مراعات دی جا رہی ہیں اس سے عام شہری محروم ہے۔ اور لگتا یوں ہے کہ اگر کوئی اچھا اور مناسب حل سوچا بھی گیا تو فوج حسب سابق اور حسب روایت مداخلت کرے گی اور یہ کب ہو سکے گا وہ جلد نظر تو نہیں آ رہا۔ مگر مایوسی اور بے بسی میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہی نہ ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments