جماعتی صالحین کا یوم حیا بمقابلہ کفار کا یوم محبت
ہم پھول کو عزت دینے سے اتنا خائف کیوں ہیں؟ ہمیں پھول میں سیکس کیوں دکھائی دینے لگتا ہے؟ کیا محبت کو عزت دینے کا مطلب مباشرت کرنا ہوتا ہے؟ ہماری اس غلط فہمی کے پیچھے کیا منطق ہو سکتی ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر صرف ہوس ناکیاں ہی ہوتی ہیں؟ جس نے کسی کو پھول دے کر ہوس مٹانی ہے کیا وہ آپ کے فرامین کو خاطر میں لائے گا؟ ہمیں انتہاؤں کے بیچ جھولتے رہنے کی عادت سی کیوں ہو گئی ہے؟ ہمیں یہ کیوں لگتا ہے کہ ہمارے ایک دن یوم حیا منا لینے سے ویلنٹائن ڈے کی کشتی میں ایک بڑا سا سوراخ ہو جائے گا اور ایک دن یہ کشتی ڈوب کر غرق ہو جائے گی؟
اس قسم کے سوالات اس وقت ذہن میں پیدا ہوئے جب ایک دوست نے جماعتی صالحین کی یوم حیا کے حوالہ سے لگائے گئے ایک اسٹال کی فوٹو کھینچ کے بھیجی، پہلے تو عجیب سا لگا کہ ہم کس طرف چل دیے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ہم اب یوم حیا کے اسٹال بھی لگانے لگے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ اس منظرنامہ کو عدم تحفظ کہیں یا یہ سمجھیں کہ ہم میں حیا بالکل ہی ناپید ہو چکا ہے، اسی وجہ سے شاید ویلنٹائن ڈے کے موقع پر جماعتی بھائیوں کو ہمیں یاد دلانا پڑتا ہے کہ
”حیا ہمارا زیور ہے“
اب ایسی قوم کے حیا میں بھی کتنا دم خم ہو گا جنہیں ہر سال دعوت کی صورت میں اس زیور کی طرف راغب کرنا پڑے؟ جماعتی صالحین کے اسٹال کی فوٹو بھیجنے والے دوست سے میں نے درخواست کی کہ بھیا پلیز چند مناظر پھولوں والی ریڑھیوں کے بھی بھیج دو تاکہ موازنہ کیا جا سکے کہ زیادہ رونق کہاں ہے؟ یقین مانیں حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے محبت کا دن منانے والوں کو پھولوں کے سٹال پر ٹوٹتے دیکھا اور لوگ دھڑا دھڑ پھول خریدنے میں مصروف تھے۔
جبکہ دوسری طرف جماعتی صالحین کے اسٹال بے رونق اور ویران تھے اور جماعتی اسٹوڈنٹ خود گھیر گھار کے لوگوں کو یوم حیا کے پمفلٹ دینے میں مصروف تھے۔ یہ تو خیر لاہور کے مناظر تھے کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ بڑا شہر ہے یہاں تو یہ معمول کا سلسلہ ہوتا ہے مگر میں جنوبی پنجاب کی ایک چھوٹی سی تحصیل میاں چنوں کا حوالہ دینا چاہوں گا جہاں میں نے پھولوں کے اسٹال پر بہت زیادہ گہما گہمی ملاحظہ کی اور لوگ حیا اور بے حیا کے پیمانوں سے بے نیاز صرف پھول خریدنے میں مصروف تھے۔
یقین مانیں ان کے چہروں پر صرف اور صرف خوشی و سرشاری دیکھی کہیں سے اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ یہ ہوس کے مارے ہوئے لوگ ہیں نہ ہی ان کے پھولوں کے گلدستوں پر آویزاں سیکس کا کوئی ٹیگ دیکھا۔ حیرت تو جماعتی صالحین پر ہوتی ہے کہ ان کی آنکھوں میں آخر ایسا کون سا کیمرا یا عدسہ نصب ہوا ہوتا ہے جو انہیں فوراً اس بات کی نشاندہی کر دیتا ہے کہ پھول دینے والا ہاتھ نجس ذہنیت کا مالک یا جنسی درندہ ہے؟ اگر آپ کے حساب سے ویلنٹائن ڈے میں سے فحاشی جھانکتی ہے تو باقی بین الاقوامی دنوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کیونکہ مدر ڈے، فادر ڈے یا ٹیچر ڈے بھی تو کفار کا ہی انسانیت کو دیا گیا تحفہ ہے جنہیں ہم بڑے اہتمام سے مناتے ہیں اور ایک دوسرے کو لمبے لمبے میسج کرتے ہیں۔ یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ سوائے مورل پولیسنگ کرنے کے ہمارا اپنا کیا ہے جس سے انسانیت کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچا ہو؟ یہ فحاشی و عریانی اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب ہمارے جماعتی صالحین اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یورپ بھیجتے ہیں جہاں ان کے مطابق دن رات صرف بد فعلیاں ہی ہوتی ہیں؟
ویسے پوچھنا تھا کہ اگر لڑکیوں کو پھول دینا حرام ہے تو کیا دو مرد آپس میں پھولوں کا تبادلہ کر سکتے ہیں؟ پوچھنے کی وجہ یہ ہے کہ جماعتی بھائیوں کے اسٹال پر ایک معروف مولانا صاحب اپنی جماعت کے امیر سراج الحق کو پھول پیش کر رہے تھے تو ہم جیسے گناہ گار اس جیسچر کا کیا مطلب سمجھیں؟ اگر قوم واقعی آپ کو کوئی اہمیت دیتی ہے تو ہر سال کی طرح آپ کے اسٹال ویران اور پھولوں والی ریڑھیوں پر میلہ سا کیوں لگا رہتا ہے؟
کتنے کمال کی بات ہے کہ صالحین کے یوم حیا کی وجہ سے جو لوگ ویلنٹائن ڈے سے بالکل ہی بے خبر تھے وہ اب باخبر ہونے لگے ہیں، اتنا تو شاید حیا کا جذبہ بھی پیدا نہ ہوا ہو گا جتنا اس دن کے حوالے سے آگاہی پھیلی ہوگی۔ کتنا عجیب سا لگتا ہے کہ حیا کے اسٹال لگے ہوں اور حیا ہی ناپید ہو، ہمیں تو اہل کفار کا تہہ دل سے شکر گزار ہونا چاہیے جو ہمیں ہر سال یہ احساس دلاتے ہیں کہ
”حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے“ آخر میں پوچھنا تھا کہ
اتنا عرصہ یوم حیا منانے سے کیا قوم میں رتی بھر بھی حیا کا جذبہ پیدا کر پائے؟


