کھو ثقافت میں دم توڑتی ہوئی داستان گوئی کی روایت


زبان و ثقافت ایک جاندار چیز ہے جو زمانے کی تبدیلی سے اثر لیتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔ آج کی دنیا جدید ایجادات کی وجہ سے ایک عالمگیر گاؤں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اب کسی بھی علاقے میں رونما ہونے والے واقعات، ایجادات، زندگی کی آسائشیں اور معلومات ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ اس وجہ سے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور جدید ایجادات کا چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کو متاثر کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔ معاشرے میں آنے والی ان تبدیلیوں سے کسی بھی ایک علاقے کی ثقافت اور زبان کو ان سے الک کر کے نہیں رکھا جا سکتا اور نہ معاشرے کے لوگ ان تبدیلیوں سے بالکل الک تھلگ رہ کر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہیں وجہ ہے دنیا میں آنے والی ان تغیرات نے زبان و ثقافت میں تبدیلی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔

اس وقت جدید ایجادات کے ذریعے سے معمولات زندگی بدل جانے سے معاشرے میں رائج پرانی ثقافتی سرگرمیاں اور روایات معدوم ہو رہی ہیں۔ ان معدوم ہوتی ہوئی سرگرمیوں میں سے ایک کھو معاشرے میں داستان گوئی کی روایت ہے۔ جو صدیوں سے کھو معاشرت کا حصہ رہا ہے، لیکن معاشرے میں ٹی وی، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے اثر اور لوگوں کے طرز زندگی کے بدل جانے سے یہ رواج ختم ہو رہا ہے۔

کھو معاشرے میں کہانی سنانے کی روایت بہت گہری اور صدیاں پرانی ہے۔ جب یہ علاقے باقی دنیا سے الگ تھلگ تھے۔ روزمرہ زندگی میں کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی بس اپنی خوراک کا انتظام کرنے کے بعد انسان اپنی زندگی جی رہا ہوتا تھا، تب سے داستان گوئی کا رواج پڑا۔ پیٹ کی ضروریات سے فارغ ہو کر لوگ ایک جگے میں جمع ہو جاتے، ایک دوسرے کو زندگی کے بارے میں اپنی تجربات بتاتے، کوئی کسی جگے کی سیاحت کر کے آ جاتا، شکار کر کے واپس لوٹتا یا مہم جوئی وغیرہ سرانجام دیتا، تو واپسی میں اپنے ساتھ بہت سارے نئے معلومات لے آتا تو فارغ لوگ ان کے پاس جمع ہو جاتے، اور آنے والوں سے وہ اپنے ساتھ بیتے واقعات کو چسکے لگا کے بیاں کرتے اور سنے والا ان واقعات کو سن کے لطف اندوز ہوتے۔ یوں کھو معاشرے میں داستان گوئی کی روایت پڑ گئی ہوگی اور وقت گزاری کا ایک دلچسپ ذریعہ وجود میں آ گئی۔

داستان گوئی کے اس تفریح سے مہتران چترال (مقامی حکمران ) سے لے کر علاقے کے علماء اور یہاں تک کہ عام دیہاتی تک سب لطف اندوز ہوتے۔

مہتران چترال کے دربار میں ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی جو کہانیاں سنا کر مہتر اور ان کے مصاحبین کو تفریح مہیا کرتے، اور رات دیر تک لوگوں کو مصروف رکھتے۔ مہتر کے ساتھ ساتھ ان کے درباری بھی یہ سن کر محظوظ ہوتے۔ کبھی کبھی یہ داستانیں اتنی لمبی ہوتی کہ کئی راتوں تک ایک ہی داستان جاری رہتا۔ داستان گو بہت سارے قسم کے قصے سناتے۔ ان میں کچھ فارسی، عربی اور دوسری زبانوں سے لیے ہوئے ہوتے، جو کچھ کرداروں کی معمولی تبدیلی کے ساتھ یہاں کی کہانیوں میں شامل ہو چکی ہوگی۔

کچھ قصے، کہانیاں یہاں کے مقامی ہوتے اور کچھ لوگ اپنی طرف سے بھی قصے کہانیاں بنا کر حاضرین کے لیے پیش کرتے۔ بادشاہوں کے درباروں میں سنائے جانے والے قصوں میں زیادہ تر مہم جوئی، جنگی بہادری، بادشاہوں کے ساتھ وفاداری، ، بذلہ سنجی، بادشاہوں کے انصاف، وزیروں کی حاضر دماغی، پہلوانوں کا آپس میں مقابلہ، پہلوانوں کا دیو وغیرہ سے مقابلہ جیسے قصے ہوتے۔

گاؤں کے بڑے اور عام لوگ بھی ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے اور داستان گو بلاتے۔ ان کی ضیافت کا اہتمام کرتے اور وہ راتوں کو کہانی سنا کر لوگوں کو محظوظ کرتے۔ خاص کر چترال میں سردیوں کی لمبی راتوں کو گزارنے کا یہ واحد ذریعہ تھی۔ ان کہانیوں کے خاص کرداروں میں خوبصورت پریاں، خوبرو جوان کا کانا دجل سے مقابلہ، ہنسنے والا راج، جنات کے قصے مشہور ہوتے۔ یہ کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتیں کہ رات گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ کہانی سنانے والوں میں جو دلچسپ اور لمبی داستان سناتا وہ شیلوغ دیاک (داستان گو) کے نام سے پورے علاقے میں مشہور ہوجاتا۔

بچوں کے لیے کہانیاں اکثر گھروں میں دادی اماں سنایا کرتیں تھی۔ یہ کہانیاں اپنے الفاظ، ترتیب، علم اور معلومات کے لحاظ سے مختلف ہوتی۔ بچوں کے لیے سنائی جانے والی ان کہانیوں میں اخلاقیات کا پہلو نمایاں ہوتا، جیسا کہ معذور کی مدد کرنا، ماں باپ کا کہا ماننا، بڑوں کی تابعداری، سچ کی فتح، رحم دلی کے قصے، ظالم کا برا انجام، کسی اچھی کردار کے مشکل میں ہوتے پر غیبی مدد، مشکل میں پڑنے پر اپنی طرف سے کوئی حل ڈھونڈنا، جھوٹ کا انجام، ماحول سے دوستی جانوروں سے پیار اور وفاداری، لالچ کا برا انجام، بہت سارے ایسے واقعات بیاں ہوتے۔ گھروں میں بچوں کو بہلانے کے لیے بھی لوری اور قصہ کہانیاں سنا کر بچوں کو بہلائے جاتے۔

کسی بھی علاقے کی لوک کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ علاقے کی تاریخ، ایک زمانے کا بیانیہ، اور معاشرے میں تربیت پانے، سیکھنے اور کچھ کرنے کے لیے رہنمائی، زندگی گزارنے کے لیے مہارتیں سیکھنے کا ذریعہ، مقامی دانش، تجربات کے حاصل ہونے کے ساتھ اپنی تاریخ سے جڑے رہنے کا ایک وسیلہ بھی مافوق الفطرت خیالات، علاقے میں پائے جانے والے تصورات، توہمات، پرانے زمانے میں زندگی گزارنے کے طور طریقے، سوچنے کا طریقہ یا انداز یہ سب ان لوک کہانیوں میں بیاں ہوتے ہیں۔ جیسا کہ عام طور پر لوک کہانیوں کا خاصہ ہے۔

ان کہانیوں میں نہ صرف بچے بچیوں کی اخلاقی تربیت، بلکہ اپنے علاقے، خاندانی ادب اور معاشرتی اقدار سے جانکاری ہوتی۔ قومی غیرت اور حب الوطنی بھی ان کہانیوں سے ہی سکھائے جاتے۔ اس طرح معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کا ادراک اچھے برے کی تمیز بھی ان کہانیوں کے ذریعے ہوتی۔ جس میں اٹھنے، بیٹھنے سے لے کر بولنے تک کے آداب شامل ہوتے۔ اس تربیت کی بنا پر کھو معاشرے میں اچھے اور برے کا معیار قائم تھا۔

کھوار میں کہانی سنانے کا بھی اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے۔ اکثر کہانی سنانے والے کہانی کچھ اس تمہید کے ساتھ شروع کرتے ہیں کہ ”وختہ مائی وخت بیرائے، اوا تہ چنگیم، تو مہ چنگیس، بس بسو چنگیر، انوس انوسو چنگیر، کاکی چنگیتائے، چنگاکو گردانہ۔ ای دیہا ای باچھا بیرائے“ وغیرہ۔ اس کا ترجمہ اردو میں کچھ یوں بنتا ہے کہ ”ایک دفعہ کا ذکر ہے، میں آپ سے جھوٹ بولوں، آپ مجھ سے جھوٹ بولے، دن دن سے جھوٹ بولے اور وقت، وقت سے جھوٹ بولے، اور جو بھی جھوٹ بولے گا، گناہ اسی جھوٹے کو ملے گا۔

کھو ثقافت میں داستان گو کہانی سنا رہا ہوتا تھا تو سامعین کے لیے لازمی ہوتا تھا کہ وہ کہانی سنتے وقت ”خائے خائے“ یعنی اچھا اچھا کی تکرار کرتا رہے، تاکہ کہانی سنانے والے کو سامعین کی دلچسپی کا پتہ چلتا رہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پرانے زمانے میں راتوں کو روشنی کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔ عموماً سردیوں کی لمبی سرد راتوں کو کہانی سننے کی محفلیں منعقد ہوتی۔ اس لیے کہانی سنانے والا رات کو بستر میں گھس کر کہانی سنار ہا ہوتا اور سننے والے بھی بستر میں گھس کر کہانی سن رہے ہوتے تھے، اور (خائے خائے ) کہہ کر یہ بتانا مقصود ہوتا، کہ ہم سن رہے ہیں ہم سوئے نہیں ہیں۔

کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کہانی سنانے والا ان آوازوں پر توجہ نہ دیتا اور کہانی سناتا رہتا، لیکن کہانی سننے والے کپ کے سورہے ہوتے۔ اس طرح سے کھو کمیونٹی میں کہانی کو ختم کرنے کا بھی اپنا ایک دلچسپ انداز ہوتا ہے جو کہ ”ہتیت ہتیرہ اسیتانی اوا ہاتام، یا نغزیانو باخی دروݯ، ای نوغا تاؤ دریئے ای نوغا پر وزیرو“ کچھ اس طرح کے الفاظ ہوتے۔ اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ ”وہ وہاں پر موجود تھے میں لوٹ آیا، وہ خوشی میں نہال ہو رہے تھے میں چلا آیا، جیسے خوشی کے اظہار کے ساتھ کہانی کا خاتمہ ہوجاتا۔

جب سے کھو معاشرہ ترقی کر کے سوشل میڈیا کے زمانے تک پہنچا ہے تو تربیت کے یہ سارے مقامی ذریعے ختم ہو گئے ہیں۔ گھر کی دادی امائیں بھی یہ کہانیاں بھول چکی ہیں۔ بچے، بچیاں بیرونی دنیا سے بہت کچھ اچھے برے سیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے علاقائی یا مقامی علم سے محروم ہو رہے ہیں۔ اب یہ واحد حل ہے کہ ان کہانیوں کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے، ان کہانیوں پر مشتمل ویڈیو گیم ترتیب دینے، اور ان کہانیوں کو آواز دے کر کرداروں کی شکل میں پیش کر کے معاشرے سے ہم آہنگ بنایا جائے۔ کیونکہ کھو کمیونٹی کے بچے ان قصے کہانیوں سے مانوس ہوں اور اپنے معاشرے کے بارے میں بہتر طریقے سے جان سکے۔ اس طرح سے یہ مواد بھی آنے والی نسل تک پہنچ پائیں گے۔ اگر اب بھی ان روایات کو محفوظ کرنے کا انتظام نہ ہوا تو ہم دادی اماؤں کی گود میں بیٹھ کر کہانیاں سن کر تربیت پانے والی آخری نسل ہوں گے ۔

Facebook Comments HS