لبیڈو: ایک تخلیقی صلاحیت
ٹین ایج لائف کو ناسمجھی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ لڑکا یا لڑکی جذبات کی رو میں بہہ رہے ہوتے ہیں اور زندگی کے تلخ حقائق سے نابلد اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ ایسے میں وہ ایک نئی چیز سے متعارف ہوتے ہیں جو ان کے اذہان پر بم پھوڑتی ہے۔ وہ ہے لیبیڈو، یعنی انسان کے تخلیقی اعضا کی وہ عنایت جو قدرت نے ایک اہم مقصد کے لیے پروگرام کی ہے مگر نوجوان اس کی رو میں بہہ کر کچھ غلط فیصلے کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اور ان کے والدین تو خجالت کا سامنا رہتا ہے۔ کیا اس ہیجان کو تخلیقی سمت دی جا سکتی ہے۔ اور اس کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں یہ ایک دلچسپ موضوع ہے، جسے ہم امثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نون والدین کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس کے ابا جی بیرون ملک ہوتے ہیں۔ والدہ گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔ ایسے میں وہ کالج سے آ کر، اور دوران کالج کس ہیجانی کیفیت سے گزر رہا ہے، اس کا بخوبی اندازہ آپ کو بھی ہو گا۔ اس کا گھر میں واحد مشغلہ موبائل فون اور ٹی وی وغیرہ ہے جہاں وہ نت نئی فلموں اور ڈراموں سے جی بہلاتا رہتا ہے۔ کالج میں اس کے یار دوست ہر وقت لڑکیوں کا ذکر خیر کرتے رہتے ہیں جو اس کے جذباتی الاؤ میں چندن کے تختے کا کام کرتا ہے اور خوشبو سے دل و دماغ کو منور رکھتا ہے۔ ایسے میں نون کیا کرے۔ وہ وقت کیسے کاٹے، ایسے حالات میں گھر سے باہر رہنا خطرے سے خالی نہیں، اکیلے میں تنہائی اسے کاٹنے کو دوڑتی ہے۔ نتیجتاً وہ لبیڈو کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ اس کی والدہ اس سب سے آگاہ ہے، وہ کیا کریں۔ اول تو اس عمر میں لڑکے ہوتے ہی ایسے ہیں، دوم وہ گھر میں رہ کر سکون سے اس ہیجانی عمر کو گزار دے تو یہ بہتر نہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ کسی اسنوکر کلب یا چائے خانے میں بیٹھے مزید برے اطوار سیکھے۔
الف بھی حال ہی میں کالج گئی ہے۔ وہ بھی ٹین ایج کی بہار میں ہے۔ آنلائن گیمز کھیلتی ہے۔ لڑکوں سے ہمکلام اور ہم خیال رہتی ہے۔ اس کی ماں ٹی وی پر چلتی خبروں سے پریشان ہے۔ کیسے وہ اپنی بچی تو ظالم سماج سے بچائے۔ جبکہ الف اپنی ماں کا دقیانوس اور رجعت پسند اور اولڈ فیشن سمجھتی ہے۔
آج کل دور تخلیقی مہارتوں کا ہے۔ مہنگائی شدید تر ہونے والی ہے۔ اور منہ کا نوالے پورے نہیں ہوتے، ایسے میں کوئی سبلائیم آرٹس کی طرف کیسے توجہ کرے۔ آخر کھانی تو روٹی ہے، کتابیں تو چبائی نہیں جاتی۔ اب ہر کسی کے پاس تو اتنی ذہنی قابلیت نہیں کہ گرافک ڈیزائنر بن جائے یا اور طرح کے آنلائن کورسز کرے اور آنلائن کمانا شروع کردے۔ یہ سب تو ذہنی پختگی کے ساتھ آتا ہے۔ نون اور الف کے پاس آخری حل کیا ہے۔ کھیل کے میدان ہیں نہیں، کتابیں پڑھنا بہت کوفت بھرا کام ہے، سلائی کڑھائی ماں کو نہیں آتا وہ بچوں کو کیا سکھائے اور کیوں سکھائے۔ یہ بھی بھلا کوئی کرنے کے کام ہیں۔ بعض والدین تو گھر میں ناول، رسائل بھی برداشت نہیں کرتے۔ اور انٹرنیٹ بھی اپنی ضرورت کے تحت لگواتے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو انسانی لا ابالی پن کا جتنا بھی تنوع ہے اسی کی بدولت ہے۔ آپ کوئی بھی اوٹ پٹانگ خیالات کے حامل ہیں، آپ کو قدر دان مل جائیں گے، اور آپ کی اپنی کمیونٹی بن جائے گی۔ بات لبیڈو کی ہو رہی تھی۔ یہ قدرت کی طرف سے وہ کینچوا ہے جو وہ فش ہوک میں لگا کر انسان کو قابو کرتی ہے۔ نو بیاہے جوڑے کو کیا پڑی تھی کہ ایک بچے کی ذمہ داری اٹھائیں، اس کے بول و براز بھی دھوئیں، پڑھائیں، اور آخر شادی بھی کریں۔ یہ تو قدرت ان کو سرپرائز دیتی ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کی گود میں اچھالتے رہتے ہیں، صحیح ہی کہتے ہیں دس سیکنڈ کا سکھ، لے گیا عمر بھر کا دکھ۔ الفاظ میں نے جان بوجھ کر الٹا دیے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے حساب سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ مردوں میں ٹیسٹاسٹیرون، ان ہی غدودوں میں پائے جانے والے لے ڈیگ سیلز (Leydig cells) میں بنتا ہے۔ وہ پرائمری، سیکنڈری جنسی خصوصیات کے علاوہ خون اور پٹھے بنانے میں بھی شامل عمل ہے۔ اسی طرح عورتوں میں ایسٹروجن، اووری یا بیضا دانی میں بنتا ہے اور جسم کی ساخت، آواز، میٹا بولزم سمیت، ہر سسٹم کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہی غدودوں میں تخلیقی عمل کے ذریعے ایک نئے انسان کی تعمیر کیا لیے بنیادی خلیے یعنی سپرم اور ایگ/ بیضے بنتے ہیں، جو بعد ازاں سیکس کے عمل کے ذریعے رحم مادر میں بچے کو پیوست کرتے اور اس دنیا میں لانے کی اساس ہیں۔ پرانے انگریزی ادب میں اس کے لیے ایک اچھی اصطلاح پاؤر آف پروکریئیشن بھی ہے، جو آدم کو عطا کی گئی اور دنیا کا روزگار شروع ہوا۔ اب کیسے انسان نے اپنے اس سچے جذبے کو گناہ سے نتھی کیا، یہ پھر کسی دن پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اور موضوع کی گمبھیرتا بھی ایک لمبی ڈسکشن کی متقاضی ہے۔


