علامہ سید صبیح حیدر شیرازی صاحب سے بات چیت
عموماً مختلف طبقہ ہائے فکر کے جید افراد کی سرگزشت شوق سے پڑھی جاتی ہے۔ ایک تاثر ہے کہ سرگزشت کسی گیت نگار، فنکار، اہل قلم، موسیقار، خطاط یا مصور وغیرہ کی ہوتی ہے۔ سوال ہے کہ کیا سرگزشت کسی عالم کی نہیں ہو سکتی؟ میری ایک اہل تشیع عالم سے اتفاقا ملاقات ہوئی جو بعد ازاں دوستی میں بدل گئی۔ علامہ سید صبیح حیدر شیرازی صاحب لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ مہینے دو مہینے بعد میرا لاہور جانا ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر علامہ صاحب سے ملاقات رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک ملاقات میں ان کی بیرون ملک تعلیم کا ذکر ہوا تو وہ قدرے تفصیل سے بتانے لگے۔ اسی دوران مجھے خیال آیا کہ علامہ صاحب کی سرگزشت کیوں نہ قلم بند کی جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کے دور میں اور گئے زمانے میں بھی اپنے وطن سے باہر جا کر علم حاصل کرنا کبھی آسان نہیں تھا۔ ہمارے علامہ صاحب کس پس منظر میں پاکستان سے باہر علم کے حصول کے لئے گئے؟ وہاں انہیں کیا مصائب پیش آئے؟ پھر علامہ ہونے تک کن مشکلات کا سامنا رہا؟ ظاہر ہے ان سوالات کے جوابات ایک لمبی نشست ہی میں دیے جا سکتے تھے لہٰذا خاکسار، علامہ موصوف سے پہلی نشست کی روداد قلم بند کرتا ہے :
علامہ صاحب کی گفتگو:
” بہت شکریہ! جزاک اللہ! شاہد بھائی اللہ تعالیٰ آپ کو سلامتی دے کہ آپ نے اس قابل سمجھا۔ میں تو ظاہری طور پر اپنے آپ کو ایک طالب علم ہی سمجھتا ہوں۔ صرف ذات محمد و آل محمد ہی وہ ہستیاں ہیں جو عالم کہلانے کے لائق ہیں۔ مجھے اس در کا ایک ادنیٰ سا گداگر سمجھ لیں۔ میں تو طالب علم کی حیثیت سے ہی بات کروں گا۔ میری ساری زندگی میں محمد اور آل محمد کے احسانات اس قدر ہیں کہ شاید میں گنوا بھی نہیں سکتا۔ کچھ ایسے معجزات اور واقعات میری زندگی میں گزرے ہیں جن میں سے کچھ کو بیان کرنے کی کوشش کروں گا“ ۔
اسکول کا زمانہ اور مولانا قاری الیاس صاحب:
میں اپنی بات کا آغاز اسکول دور سے کرتا ہوں جب صرف پاکستان ٹیلی وژن ہو تا تھا۔ اس میں ایک پروگرام ”فہم القرآن“ نشر ہوتا تھا۔ اس میں مختلف مسالک کے علماء آ کر قرآن مجید کی سورۃ یا آیت کی تفسیر بیان کیا کرتے تھے۔ ان کے دو چار نام تو مجھے اب بھی یاد ہیں۔ جیسے مولانا متین ہاشمی، علامہ طالب جوہری اور علامہ رضی جعفر نقوی وغیرہ۔ میں بچپن سے ہی علماء کے لباس اور ان کی علمی باتوں سے متاثر ہونے لگا۔ میرے والد صاحب ایک چھوٹے سے سرکاری افسر تھے اور ہماری رہائش باغ جناح لاہور میں تھی جہاں میرے والد صاحب ہارٹی کلچر میں فیلڈ اسسٹنٹ کے فرائض انجام دیتے تھے۔
خوش نصیبی کی بات ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے وہیں کی جامع مسجد دار السلام میں ایک مولانا قاری الیاس صاحب مقرر ہوئے۔ ہم ان سے ناظرہ قرآن پاک پڑھنے جاتے تھے۔ انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ تیسویں پارے کی آخری سورتیں زبانی یاد کروانا شروع کر دیں۔ میں اس وقت بمشکل سات آٹھ سال کا ہوں گا۔ مجھے پچیس تیس کے قریب سورتیں زبانی یاد ہو گئیں۔ اس وقت بچپن تھا اور یہ کام مشکل لگتا تھا کیوں کہ اس وقت قاری حضرات سختی بھی کرتے تھے اور بچے اس سے جان چھڑاتے تھے۔
میرا بھی دل کرتا تھا کہ اس سے جان چھوٹ جائے۔ ہمیں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں اور ہم بچے اپنی والدہ کے ساتھ گاؤں چلے گئے۔ میرا گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک بہت معروف گاؤں ہے اس لئے کہ پورا گاؤں جعفری شیرازی سادات پر مشتمل ہے۔ میرے والد اور میری والدہ دونوں اسی گاؤں کے ہیں۔ شہر سے والد صاحب ہمیں ملنے آئے تو علم ہوا کہ مولانا قاری الیاس صاحب کو انتظامیہ نے تبدیل کر دیا ہے۔ پھر دوبارہ میری ان سے ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن مجھے وہ آج تک یاد ہیں اور میں انہیں اپنے لئے ایک اثاثہ تصور کرتا ہوں کیوں کہ جس وقت انہوں نے ہمیں وہ سورتیں حفظ کروائیں وہ آج تک بالکل اسی طرح ہمیں حفظ ہیں۔ اس کے بعد بھی جو سورتیں حفظ کیں وہ اس طرح سے حفظ نہیں ہیں جیسی مولانا قاری الیاس صاحب نے کروائیں! بعد میں احساس ہوا کہ وہ کتنے بڑے محسن تھے ”۔
جامعۃ المنتظر میں تعلیم حاصل کرنا :
پھر یہ ہوا کہ والد صاحب جہاں بیٹھتے تو مجھے کہتے کہ فلاں سورت مبارکہ تلاوت کرو۔ وہ مجھ سے زیادہ تر سورت التین کی تلاوت کرنے کو کہتے۔ پھر والد صاحب نے کہنا شروع کیا کہ دنیا تو کسی انسان کی کبھی پوری نہیں پڑتی تو میں اپنے بڑے بیٹے کو انشاء اللہ عالم بناؤں گا! یہ میٹرک کر لے پھر میں کسی دینی درسگاہ میں داخل کرواؤں گا۔ میری آمادگی بھی اس میں تھی کیوں کہ میں تو پہلے ہی علماء کے لباس، طرز تکلم وغیرہ سے متاثر تھا لہٰذا خوش دلی سے اسے قبول کیا۔
ادھر میرے میٹرک کے امتحان ہوئے ادھر میرے والد صاحب نے مجھے لیا اور لاہور میں واقع جامعۃ المنتظر میں لے گئے۔ حالاں کہ ابھی نتیجہ آنا باقی تھا۔ میرے تایا، مولانا ابرار حسین شیرازی جو محکمہ انکم ٹیکس میں ملازمت کرتے رہے لیکن تمام زندگی مجالس اور قومیات کے ساتھ رہے۔ جامعۃ المنتظر ٹرسٹ بنانے میں ان کا ہاتھ تھا۔ پھر بہت سے ادبی رسالے بھی نکالتے تھے جن میں ’المنتظر‘ ، ’الہادی‘ شامل ہیں اور ’پیام عمل‘ جو امامیہ مشن پاکستان کا ایک پرانا ادارہ ہے اس کی سربراہی بھی کرتے رہے۔
اس کے علاوہ وہ ’انجمن وظیفہ سادات و مومنین‘ کے مینیجنگ ٹرسٹی بھی رہ چکے تھے۔ اس طرح ان کا قومیات میں بہت اثر و رسوخ تھا۔ انہیں آج تک ان کے رفقاء محبت اور پیار سے یاد کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں میرے تایا مجھے صبح کی سیر کو لے جاتے جب وہ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ ہماری باقی چچاؤں سے زیادہ ان سے شناسائی تھی ”۔
” تو ان سے والد صاحب نے بات کی جس پر تایا نے جامعۃ المنتظر میں فون کر دیا کہ میرا بھتیجا آ رہا ہے اس کو داخلہ دیا جائے۔ میرے والد صاحب تایا جی مرحوم کے کہنے کے مطابق ہی مجھے لے کر وہاں گئے تھے۔ جب ہم مولانا غلام حسین نجفی صاحب کے کمرے میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ وہ کرسی پر تشریف فرما ہیں اور نیچے قالین پر بیٹھے ہوئے بچے ان سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بخوشی میرا داخلہ کیا۔ مجھے زبان کے جتنے لہجے وہاں سننے کو ملے کہیں اور کبھی نہیں ملے۔
پورے پنجاب بلکہ پوری دنیا سے افراد وہاں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ کوئی سرائیکی بولتا، کوئی جھنگ کا لہجہ، کوئی ڈیرہ غازی خان کا ، کوئی پشتو بولنے والے، کوئی بلتستان اور دیگر علاقوں اور ممالک کے تھے۔ میں نے یہاں چار سال 1992 سے 1996 تک پڑھا۔ اس دوران یہاں کے امتحانات بھی پاس کیے لیکن میرا دل وہاں نہیں لگتا تھا کیوں کہ ظاہری طور پر نوجوانی کی دلکشی کے مواقع وہاں نہیں تھے۔ حتیٰ کہ لباس کی تنگی تھی کہ آپ شلوار قمیص ہی پہن سکتے ہیں پھر مخصوص وقت پر سونا اور بیدار ہونا ہے، اتنے بجے مباحثہ اتنے بجے مطالعہ وغیرہ۔ سوچتا تھا کہ کہاں پھنس گیا! آپ کو جوانی میں کئی چیزیں متاثر کرتی ہیں لیکن قدرت نے ہمیں شاید اس چیز میں بچائے رکھا اور میں نے اس ماحول میں تعلیم کو جاری رکھا“ ۔
اعلی تعلیم کے حصول کی بھاگ دوڑ :
” 1996 میں وہاں رہتے ہوئے اردو فاضل کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ اس وقت وہاں کی اسناد کی اتنی قدر نہیں تھی حالاں کہ وہ ایم اے عربی اور اسلامیات کے برابر تھی۔ اب بعد میں سنا ہے کہ مشرف صاحب نے اس میں زیادہ بہتری کی تھی۔ ایچ ای سی نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ ہمارے زمانے میں جامعۃ المنتظر سے فارغ التحصیل ہو کر بہت سے طلباء اسلامیات یا عربی کے ٹیچر بھرتی ہو جاتے تھے لیکن میرا تو اس طرف دھیان نہیں تھا۔ بلکہ میں ایران یا کسی اور ملک میں مزید تعلیم کے لئے جانا چاہتا تھا۔
سرکاری نوکری پر رہتے ہوئے والد صاحب کے پاس اس سلسلے میں اخراجات کی زیادہ گنجائش نہیں تھی۔ اس دوران ایک عزیز آئے اور کہا کہ بچہ فارغ ہے اس کو سیلز مین لگوا دیتے ہیں۔ لہٰذا میں نے ایک دو ماہ مٹھائی کی دکان ’شیریں محل‘ میں سیلز مینی بھی کی۔ مجھے اس سے پہلے معلوم بھی نہیں تھا کہ سیلز مین کیا ہوتا ہے! وہاں کام کے دوران میرا دل کہتا تھا کہ میں اس جگہ پر غلط ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں ہے کہ چند روپوں کی خاطر اپنا وقت ضائع کر دوں۔
میں اس سے بہت آگے جانا چاہتا ہوں اور جا سکتا ہوں! میں نماز پڑھتا اور دعا مانگتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسباب پیدا کیے۔ ایک دوست نے والد صاحب کی اعانت فرمائی اور انہوں نے میرے لئے شام کے ویزے کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔ کسی ذریعہ سے وہاں ان کا کوئی تعلق تھا۔ میں ان کے کسی دوست کے ساتھ ’روضۃ امام الخمینی‘ میں داخلے کا خط اور ضروری کاغذات لے کر پہلی مرتبہ اسلام آباد گیا۔ یہ خط دراصل میرے نام فیکس تھا۔ اس زمانے میں تیز رفتار ذریعہ مواصلات یہی فیکس ہوتا تھا۔ سفارتخانے والوں نے صبح میرا پاسپورٹ اور میرے داخلے کا فیکس لے کر شام کو خالی پاسپورٹ یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ آپ کو ویزہ نہیں دیا جا سکتا۔ سمجھ نہیں آتا تھا۔ حالاں کہ میرا داخلہ ہو چکا ہے لیکن شام کا سفارتخانہ ویزہ نہیں دے رہا ہے۔ پریشانی تھی کہ اب کیا ہو گا؟“ ۔
مملکت شام میں تعلیم حاصل کرنے جانا:
” پھر اس دوران ایک سینیٹر صاحب کی معرفت دوبارہ کوشش کی۔ سفارتخانے والوں نے اگلے روز جواب دینا تھا لیکن بہتری کے آثار نظر نہیں آتے تھے۔ اس زمانے میں اسلام آباد سے انگریزی کا اخبار ’دی مسلم‘ شائع ہوتا تھا۔ اس کے مالک آغا مرتضیٰ پویا تھے۔ اب بھی حیات ہیں لیکن علیل ہیں۔ میرے تایا جی کی ان کے ساتھ دوستی تھی اور میں نے ان کو دیکھ رکھا تھا۔ میں نے پنڈی میں اپنے ایک عزیز کے گھر سے آغا صاحب سے رابطہ کیا اور تمام صورت حال بتا کر ان سے اپنے معاملہ میں معاونت کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے مجھے دن کے گیارہ بجے بات کرنے کا کہا۔ اگلے روز مجھے بتایا گیا کہ آغا صاحب کی شام کے سفیر جناب طہٰ حسین صاحب سے بات ہو گئی ہے اور میں ملک شام کے سفارت خانے جا کر اپنا ویزہ لے لوں۔ اس سے پہلے ایک بات میں سند کے طور پر کہتا ہوں کہ صفر کے مہینے کی 28 تاریخ کو امام حسن مجتبیٰ کا تابوت موچی دروازے سے برآمد ہو کر اندر گلیوں سے ہوتا ہوا دوبارہ موچی دروازے ہی میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ میں نے سن رکھا تھا کہ تابوت امام حسن پر مانگی گئی دعائیں قبول ہوتی ہیں تو میں نے وہاں دعا مانگی کہ مولا یہ میرا راستہ کھول اور مجھے ویزہ مل جائے۔ تو آغا مرتضیٰ پویا سے بات بعد میں ہوئی پہلے میں نے یہ دعا مانگی تھی۔ جب ویزہ لگ گیا تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ میں نے تو امام حسن علیہ السلام کے تابوت پر یہ دعا مانگی تھی جو کہ ظاہری طور پر پوری ہو چکی۔ اور پھر میں ملک شام روانہ ہو گیا“ ۔
دمشق پہنچنا:
” حسن اتفاق کہ میں اسلام آباد میں اپنے ایک عزیز، سید زاہد شیرازی کی طرف ٹھہرا ہوا تھا۔ انہوں نے میری بہت مدد فرمائی۔ اس وقت وہ موٹر وے پولیس میں ایس پی تھے۔ ان کے بھائی ملک شام میں ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ائر لائن کے ٹکٹ لیتے ہیں اور آپ میرے ساتھ چلیں۔ عمرے کے پیکیج میں سستے ٹکٹ مل جائیں گے۔ اس وقت آنے جانے کا ٹکٹ فی کس 20000 روپے کا پڑا۔ مجھے وہاں شام میں اقامہ مل گیا اور واپسی کا ٹکٹ پاکستان بھجوا دیا جس کے 5000 روپے والد صاحب کو مل گئے۔
گویا 15000 روپے میں، میں دمشق میں حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی بارگاہ اور علاقے میں پہنچ گیا۔ میں بنیاد سے انکار نہیں کرتا لیکن سمجھتا ہوں کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس شہزادی بنت امیر المومنین حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے در اقدس کا صدقہ ہے۔ اس فیوض و برکات کاجو میں نے وہاں رہتے ہوئے حاصل کیے اور زبان عربی پر عبور حاصل کیا۔ میں پاکستان سے بھی قواعد اور دیگر چیزیں پڑھ کر گیا تھا لیکن اس کا عملی ثبوت وہاں رہ کے دینا پڑا۔ وہاں کی بول چال اور دروس بھی عربی زبان میں ہوتے تھے۔ اب تک کی پڑھی ہوئی عربی کا عملی جامہ وہاں جا کر پہنایا۔ آہستہ آہستہ وہاں کی عربی مجھے آ گئی اور میں نے بولنا، سمجھنا اور سمجھانا بہ آسانی شروع کر دیا۔ میں تقریباً چار سال ملک شام میں رہا“ ۔
” میں نے اس درس گاہ میں تفسیر، علم الکلام، عربی لغت، حدیث کی کتب، اور دیگر اخلاقیات کے مضامین پڑھے۔ اس وقت وہ سند وہاں کے ایم اے کے برابر تھی۔ ہمارے بعد اس ادارے کو تہران یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کر دیا گیا اور پھر ایم فل کی بھی سند ملنے لگی۔ ہمارے زمانے میں بھی اس ادارے کا بین الاقوامی نام تھا۔ ہمارے ہاں تعصب اس قدر ہے کہ شیعہ درس گاہ سے فارغ التحصیل ہونے والے کی زیادہ قدر نہیں کی جاتی“ ۔
سر پر عمامہ رکھنا:
” وہاں ’مکتب خامنائی‘ میں خوشی کی تقریب ( جیسے 13 رجب حضرت امیرالمومنین کے یوم ظہور پر نور، 03 شعبان اور 17 ربیع الاول کی مبارک تاریخیں، چہاردہ معصومین علیہ السلام ) میں باقاعدہ عمامہ پہنانے کی رسم ہوتی تھی۔ وہاں کے مسؤل سید یوسف طبا طبائی صاحب جو آیت اللہ کے درجے کے تھے، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے میرے سر پر عمامہ رکھا۔ تب سے لے کر اب تک شہزادی کے صدقہ میں دنیا میں ایک شیعہ عالم کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہوں“ ۔
حسینیہ خامنائی میں مجلس پڑھنا:
” یہ سرگزشت یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ مجھے شہزادی کے دروازے پر روزانہ جانے کا شرف حاصل ہوتا تھا۔ ہمارے ہاں اہل تشعیوں میں مجلس پڑھی جاتی ہے۔ جیسے ہر کوئی تو تقریر نہیں کر سکتا اسی طرح ہر ایک شخص مجلس نہیں پڑھ سکتا۔ میں اسکول دور میں تقریریں کرتا رہا۔ میں گورنمنٹ ہائی اسکول گورنر ہاؤس لاہور سے پڑھا ہوں۔ ہمارا بزم ادب ہوتا تھامیں بہت شوق سے وہاں تقریریں کرتا تھا۔ جناب حکیم محمد سعید نے بزم نونہال بنا رکھی تھی۔
فلیٹیز ہوٹل میں پروگرام ہوتے تھے۔ میں نے بھی یہاں تقریری مقابلوں میں پہلے اور دوسرے انعامات جیتے ہوئے تھے۔ پھر بھی بچپن میں تقریر کرنا اور ہے اور مجلس پڑھنے کا علمی انداز اور ہے۔ یہاں شام میں ہندوستان والوں کے اپنے دو تین امام بارگاہ اور پاکستانیوں کے اپنے دو تین امام بارگاہ تھے۔ جنہیں حسینیہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ تو ہمارے بھی حسینیہ تھے۔ حسینیہ پاکستانیہ اور حسینیہ خامنائی۔ محرم میں ہوتا یہ تھا کہ دس مجالس ہیں اور سارے ہی طلاب۔
تو ایک آپ پڑھ لیں دوسری وہ پڑھ لے۔ تو میرے حصے میں بھی چوتھی یا پانچویں مجلس آ گئی۔ میں بی بی پاک سے دعا مانگ کے گیا۔ پہلے تو میرا خبریں پڑھنے والا اسٹائل اور انداز گفتگو تھا لیکن جب میں منبر پر بیٹھا تو مجھے آج تک یاد ہے کہ میرا وہ اسٹائل مجلس پڑھتے ہوئے تبدیل ہو گیا۔ نیچے سے مجمع داد دینا شروع ہوا۔ مجمع بھی طلاب کا ! جیسے مجھ میں اچانک کوئی صلاحیت پیدا ہو گئی جو شاید اس سے پہلے نہیں تھی۔ یعنی یہ ایک طرح سے معجزہ تھا یا اس دعا کی قبولیت کا ثمر!
زبان میں وہ روانی اور انداز گفتگو پیدا ہو گیا جو ایک مجلس پڑھنے کا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد ہم نے دروس کے ساتھ ساتھ مجلس پر بھی توجہ دینا شروع کر دی۔ میرے ایک دوست کا تعلق لکھنو سے تھا میں ان سے مدد لیتا تھا کیوں کہ وہ مجھ سے بہت اچھی مجلس پڑھ لیتے تھے۔ کچھ دن انہوں نے مجھے مشق بھی کروائی جس سے میری صلاحیت مزید بہتر ہو گئی“ ۔
حج بیت اللہ:
” پھر وہاں رہتے ہوئے سیدہ زینب بنت امیر المومنین علیہ السلام کے صدقے سے مجھے دو مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ جب میں ملک شام میں نیا آیا تو پتا چلا کہ یہاں سے طلاب حج کے لئے سڑک کے ذریعہ جاتے ہیں۔ شام کے ساتھ اردن ہے جس کے ساتھ سعودی عرب واقع ہے۔ اس وقت 20 سے 25 ہزار روپیہ سڑک سے جانے میں لگتا تھا۔ میں نے یہ سوچا کہ ہمیں ادارے کی طرف سے مہینے کے کھانے پینے کے اخراجات کے لئے شہریہ ملتا تھا میں اس میں سے ہر ماہ کوئی ہزار لیرا بچا کر گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان چلا جاؤں گا۔
دو سال تو مجھے ہو چکے تھے تب ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ میرے والد صاحب نے حج نہیں کیا۔ دادا نے حج نہیں کیا تو میں کیوں نہ حج پہ چلا جاؤں؟ اور اس سال کے بجائے آئندہ سال پاکستان چلا جاؤں۔ میں نے اس سلسلے میں ضروری کاغذی کارروائی شروع کر دی اور حج کرنے چلا گیا۔ الحمدللہ جب حج کرنے کے بعد واپس پلٹا تو جتنے پیسے خرچ کیے تھے اس کے نصف تو میری جیب میں باقی تھے۔ پتا نہیں کس طرح سے بچت ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں جتنے بھی فقیہ ہوتے ہیں ان کے وہاں مکاتب ہوتے ہیں۔ ان کی طرف سے علماء کو مشاہرہ کی صورت اعانت فرمائی جاتی ہے۔ اس میں سے ہمیں وہاں کچھ پیسے مل گئے۔ یعنی حج بھی ہو گیا اور جو خرچ ہوا وہ واپس بھی مل گیا“ ۔
علامہ صاحب کے دوسرے حج کی دلچسپ کہانی:
” پھر اگلے سال مجھے حج کی سعادت دوبارہ حاصل ہوئی۔ میرے پاسپورٹ کے ختم ہونے میں تین ماہ رہتے تھے اور سفر کا بین الاقوامی قانون کہتا ہے کہ ٹکٹ لیتے وقت پاسپورٹ کم از کم آئندہ چھ ماہ تک کارآمد ہونا ضروری ہے۔ اس وقت ملک شام میں پاکستانی سفارت خانے میں غالباً سبط حسن نقوی صاحب سفیر تھے جو نامور خطاط اور مصور صادقین صاحب کے بھتیجے تھے۔ میں اپنا پاسپورٹ تجدید کے لئے لے کر گیا۔ مجھے بتلایا گیا کہ اس میں مہینہ دو مہینے لگیں گے۔
جب کہ حج پر جانے کے لئے پندرہ بیس دن یا اس سے بھی کچھ کم وقت رہ گیا تھا۔ کہا گیا کہ ایک صورت ہو سکتی ہے کہ آپ کو چھ ماہ کے لئے ایک پاسپورٹ جاری کیا جائے گا پھر آپ حج سے واپس آ کر نئے پاسپورٹ کی درخواست دیجئے گا۔ میں نے کہا کہ مجھے قبول ہے اس لئے کہ مجھے اتنی بڑی سعادت دوبارہ نصیب ہو رہی ہے۔ میں حج کے بعد اپنے سفارت خانے گیا کہ نئے پاسپورٹ کی فیس لیں اور جاری کر دیں۔ انہوں نے اسی پاسپورٹ کی تجدید کر کے اس کی مدت مزید پانچ سال بڑھا دی“ ۔
زیارات عراق:
” اسی طرح کربلا معلیٰ جانے کی سعادت ملی۔ اس وقت عراق میں صدام حسین کی حکومت تھی۔ عراق میں داخلے کے وقت ہر زائر سے 400 امریکی ڈالر داخلہ فیس اور خون ٹیسٹ کے تقریباً 50 ڈالر لیتے تھے۔ کیوں کہ عراق پر اقتصادی پابندیاں تھیں اس لئے وہ خون لینے کا ایک نام نہاد سسٹم تھا۔ خون لے کر ہمارے سامنے ہی پھینک دیتے تھے۔ شام میں پوری دنیا سے زائرین آتے تھے ان میں کوئی کسی کی معرفت ملاقات بھی کرتا تھا کہ ان کی راہنمائی ہو سکے۔
ایسے ہی لندن کے رہنے والے ایک میرے محترم سید نجم الحسن نقوی صاحب نے میری تشنگی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو زیارت پر لے کر جاؤں گا۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا مدد ہو سکتی تھی۔ 450 ڈالر خرچ کرنا میرے لئے ناممکنات میں سے تھا۔ یوں پہلی مرتبہ یہ مجھے شرف حاصل ہوا اور میں لندن کے اس قافلے میں شامل ہو گیا۔ اس قافلے کی سالار شیلا نام کی ایک خاتون تھیں۔ وہ لندن سے خوجہ کمیونٹی کے زائرین کو لاتی تھیں۔ خود ان کا تعلق بھی اسی کمیونٹی سے تھا۔ ان کو بھی یہ فائدہ ہوا کہ عربی زبان کی وجہ سے میں ان کا بہتر راہبر ثابت ہوا۔
میں جس جگہ بھی گیا وہ میرا پہلا موقع تھا لیکن میں وہاں کے تمام مقامات سے واقف تھا۔ میں وہاں جا کر زیارت بھی کرواتا اور صاحب قبر کا مختصر تعارف بھی کروا دیتا تھا کہ ہم جہاں پر کھڑے ہیں یہ کون ہیں اور ان کی کیا تاریخ ہے! اس حوالے سے خود مجھے بھی پہلی مرتبہ عراق کی زیارات نصیب ہوئیں۔ اور پھر یہ بھی ایک معجزہ ہی ہے کہ اس دور میں رات کے 8:00 بجے وہ بند ہو جاتا تھا۔ وہاں کے کلید بردار سے بات کی اور رات دس بجے ان خاتون قافلہ کی وجہ سے دوبارہ کھلوا کر داخلے کا شرف ملا۔ صرف ہم زائرین ہی تھے۔ چاہے ہم جھاڑو کشی کریں یا زری امیر المومنین سے لپٹے رہیں۔ پھر میں نے پہلی مرتبہ ان زائرین کے سامنے حرم امیر المومنین میں مجلس پڑھی۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور خوش نصیبی کیا ہو گی کہ باب مدینۃ العلم کی بارگاہ میں مجھ جیسے حقیر کے کلمات اس حرم میں گونجے۔ یہ قافلے والے مجھے اپنے خرچ پر لے کر گئے اور مجھ پر پیسے خرچ کیے۔
پھر اگلی دفعہ وہی خاتون اپنے خرچے پر مجھے بحیثیت عالم دین ساتھ لے کر گئیں۔ وہ روضۃ اربعین تھا یعنی اربعین کی زیارت تھی۔ جناب امام علی ابن حسین جنہیں چوتھے امام کہا جاتا ہے ان کے مطابق مومن کی کچھ نشانیاں ہیں۔ جیسے : عقیق کی انگوٹھی پہننا، بسم اللہ کو بالجہر نماز میں اونچی آواز سے پڑھنا، اربعین کے روز امام حسین کی زیارت کرنا، اکاون رکعات روز پڑھنا، خاک شفاء پر سجدہ کرنا۔ ان میں سے ایک نشانی روضۃ اربعین کی زیارت پوری ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شہزادی سلام اللہ علیہ کا صدقہ تھا کہ بی بی کی اپنی والدہ، جنت البقیع اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت اس دوران نصیب ہوئی۔ پھر ان ہی صدقے میں کربلائے معلیٰ بھی گیا“ ۔
زیارت امام علی رضا:
” پھر جب میں نے پاکستان واپس جانا تھا تو اس وقت تک میری تقریباً تیرہ معصومین کی زیارت ہو چکی تھی۔ صرف امام علی رضا کی زیارت نامکمل تھی۔ لہٰذا سوچا کہ پی آئی اے یا کسی اور ہوائی کمپنی کے بجائے ایران ائر سے کیوں نہ سفر کروں؟ حالاں کہ ایران ائر کراچی جاتی اور مجھے لاہور آنا تھا۔ اب اسے معجزہ کہیں یا اتفاق یا مولا کی کرم نوازی کہ بین الاقوامی ٹکٹ کے ساتھ انہوں نے مجھے تہران۔ مشہد۔ تہران کا مفت ٹکٹ جاری کیا اور یوں میں نے حضرت امام علی رضا کی زیارت حاصل کی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب یہاں پتا نہیں کب دوبارہ آنا نصیب ہو! تو یہ دیکھئیے کہ میں چھ ماہ بعد اسی جگہ پر کھڑا تھا تب مجھے اپنا یہ جملہ یاد آیا۔ یوں پھر زمانہ طالب علمی کا وہ باب بند ہوا اور پاکستان آ کر میری شادی ہو گئی“ ۔
عجیب واقعات:
علامہ صاحب نے اپنے زمانہ طالب علمی کے عجیب واقعات کے بارے میں بتایا: ”ذاتی حیثیت میں حضرت زینب کے روضہ پاک، حضرت حسین اور حضرت امیر المومنین کے روضہ اور مشہد مقدس میں امام علی رضا کے روضہ پر پیش آنے والے بہت سے معجزات اور کرم نوازیاں بیان کر سکتا ہوں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ مثلاً ملک شام میں دمشق کے بعد دوسرا بڑا شہر حلب ہے جسے الیپو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہاں وہ پتھر ہے کہ جس میں اس وقت کے ایک عیسائی راہب نے شامی افواج کے پڑاؤ میں امام حسین کے سر مبارک کو جب دیکھا تو فوراً بول اٹھا یہ تو کسی شریف النفس شخص کا سر ہے۔ اس نے کچھ سکے افواج شام کو دیے کہ ایک رات کے لئے یہ سر مجھے دے دو ۔ اس راہب نے جناب حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو اس پتھر پر غسل دیا تھا۔ وہ پتھر آج بھی دمشق میں مرجہ خلائق بنا ہوا ہے۔ آج تک اس پتھر پر امام عالی مقام کے خون کے ذرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا “ ۔
” میں وہاں ایک درس گاہ سے منسلک بھی رہا۔ صدام دور میں عراق کے زیادہ تر علماء ملک شام میں ہجرت کر آئے تھے۔ اس میں حکیم خاندان بھی تھا۔ ان میں سے آیت اللہ یاسین الموسوی بھی تھے۔ میں نے اپنے طور پر ان سے درس لینا شروع کیا۔ پھر انہوں نے مجھے اجازۃ روایت عطا فرمایا۔ یہ ایک طرح سے نقل حدیث سرکار دو عالمﷺ سے روایت ہے۔ اس کے بعد حضرت علی نے اسے روایت کیا، امام حسن نے کیا، امام حسین نے کیا، امام زین العابدین نے کیا۔
تو اسی طرح اجازۃ روایت زیارت عاشورہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت ہے جو کہ امام علی نقی علیہ السلام نے بتلائیں۔ جیسے : زیارات وارثہ، زیارت امین اللہ اور زیارت عاشورہ۔ یہ جو الفاظ ہیں وہ کسی عام شخص کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ امام علی نقی علیہ السلام کی طرف سے ہیں۔ ان زیارات میں سے ایک زیارت وارثہ ہے جو امام حسین کے ساتھ مخصوص ہے۔ ہمارے ہاں اجازۃ روایت فقیہ ہونے کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ امام علی نقی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ہماری غائبت کے دور میں کچھ ایسے افراد جن میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہوں، عوام ان کی طرف رجوع فرمائیں اور ان سے دینی احکامات لیں۔ اب ظاہری طور پر مجھے استاد محترم کی جانب سے فقیہ ہونے کی سند مل گئی جو میرے لئے اثاثہ ہے۔ پاکستان میں شاید چند علماء ہوں گے جن کے پاس اجازۃ روایت ہو۔ یہ استاد محترم جناب علامہ آیت اللہ یاسین الموسوی آج کل حرم امام حسین میں روز شب جمعہ درس دیتے ہیں“ ۔
علامہ سید صبیح حیدر شیرازی صاحب سے گفتگو میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ کافی رات بیت گئی۔ لہٰذا یہ طے پایا کہ آئندہ جب میں انشاء اللہ لاہور آؤں تو ان کی سرگزشت مکمل کی جائے گی۔



