کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (1)


شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن (Anaïs Nin)، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ انائس نن 21 فروری 1903ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پرامن انسانی معاشرے کی جستجو ہے۔ انھوں نے ڈائری تحریر کرنے جیسی اہم صنف کو ادب کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1977ء میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلز میں وفات پا گئیں۔ انھوں نے 74 سال عمر پائی۔ زندگی کے آخری چند سالوں میں ان کے دو شوہر تھے۔ ایک کے ساتھ وہ نصف سال امریکہ میں اور دوسرے کے ساتھ دیگر نصف یورپ میں گزارتیں تھیں۔

بیسویں صدی کے اوائل میں، جب انائس نن اور امریکی ناول نگار ہنری ملر کی پیرس میں ملاقات ہوئی تو دونوں شادی شدہ تھے۔ انائس نن کی شادی ایک خوش حال کاروباری شخصیت سے جب کہ ہنری ملر کی شادی امریکہ میں رہائش پذیر اداکارہ ’جون‘ سے ہو چکی تھی۔ ان دنوں ہنری ملر ایک سفید پوشی کی سی حالت میں کوئی مقام بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ جب کہ انائس نائن اپنے شوہر کے ساتھ ایک آرام دہ زندگی بسر کر رہیں تھیں۔ ہنری ملر اور انائس نن کے درمیان فنکارانہ، ذہنی اور ادبی قربت پیدا ہونے لگی۔ کچھ عرصے بعد یہ ذہنی ہم آہنگی جسمانی قربت میں ڈھلنے لگی اور جلد ہی دونوں کے درمیان ایک پر جوش و مضبوط رومانوی رشتہ قائم ہو گیا۔ یہ ایسا رشتہ تھا جس نے آگے چل کر ادب اور فلسفے کو چار چاند لگا دیے۔

دونوں کا تعلق ژان پال سارتر اور سیمون دابو بواخ کے درمیان قائم ہونے والے قرب جیسا تھا۔ رومان کے اس حسین دور میں نن نے ملر کی جذباتی اور مالی مدد کی جبکہ ملر نے ڈائریاں لکھنے میں نن کی حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ ملر نے ایک بار یہ بھی پیشن گوئی کی کہ اگر نن کی ڈائریاں کبھی شائع ہوئیں تو یہ بیسویں صدی کے ادب میں شاندار اضافہ ہو گا۔ ان کی رائے تھی کہ نن کی ڈائریوں کا مقام، آگسٹین، پیٹر، نائس ابلارڈ، روؤسو اور پرؤسٹ کی نگارشات سے کسی طور کم نہیں ہو گا۔

نن جذباتی اور جنسی طور پر نہ صرف اپنے شوہر اور ملر بلکہ ملر کی بیوی جون کی محبت میں بھی گرفتار ہو گئیں تھیں۔ یہ اس وقت ہوا جب جون اپنے شوہر سے ملنے امریکہ سے پیرس آئیں۔ جون کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی محبوبہ نن ان کے شوہر کے ساتھ ہم بستری کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ نن کے اپنے تجزیہ کار کے آٹو فرینک سے بھی تعلقات تھے جو فرائیڈ کا شاگرد رہ چکا تھا اور لکھاریوں کی نفسیات اور تخلیقی لوگوں کے ذہنی عوارض میں گہری دلچسپ رکھتا تھا۔

اپنی ڈائری میں نن نے اپنے شوہر، ملر، جون اور تجزیہ کار کے ساتھ معاشقوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اپنی روح کی تصویر کشی انھوں نے سینکڑوں صفحات پر لکھ کر کی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ناولوں کا ایک مجموعہ: ”اندرون کے شہر“ (CITIES OF THE INTERIOR) کے نام سے شائع کروایا۔ نن کی خواہش کے مطابق ان کی ڈائریاں، ان کے شوہر، ملر اور جون کی وفات سے پہلے شائع نہ کی گئیں۔ نن کی ڈائریوں کی اولین جلد شائع ہونے پر ان کو دنیا بھر سے لیکچر دینے کی دعوت نامہ موصول ہوئے۔

نن جو نوجوانی میں ایک شرمیلی سی لڑکی تھیں اب ایک فصیح مقرر بن چکی تھیں۔ اور دنیا بھر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کے ساتھ ایک پرمغز اور سحر انگیز مکالمہ کر رہی تھیں۔ انھوں نے سماجی، اخلاقی اور سیاسی ممنوعات کے خلاف شعوری بغاوت کر رکھی تھی۔ وہ ذاتی آزادی کی اس قدر قائل تھیں کہ زندگی کے آخری چند سالوں میں ان کے دو شوہر تھے۔ وہ ایک کے ساتھ نصف سال امریکہ میں اور دوسرے کے ساتھ دیگر نصف سال یورپ میں گزارتی تھیں۔ نن کی ڈائریوں کی 7 جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی تقریروں کے مجموعے اور انٹر ویو بھی شائع ہو چکے ہیں۔

نن کی ڈائریوں کے مواد پر مبنی ایک فیچر فلم بھی بن چکی ہے۔ ”ہنری اینڈ جون“ نامی فلم میں تینوں محبت کرنے والوں کی زندگیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ نن جہاں کروڑوں لوگوں کے لیے متاثر کن لکھاری کے طور پر ابھری وہاں کئی لوگوں بالخصوص عالمی تحریک نسواں کے لیے درد سر بھی بنیں۔

تخلیقی ذات: نن کو اوائل عمر میں ہی ادراک ہو گیا تھا کہ بنی نوع انسان سماجی طور پر پیچیدہ اور نفسیاتی طور پر انتہائی گمبھیر مخلوق ہے۔ ان کو انسانی شخصیت کے دو پہلو دکھائی دیے۔

٭ پہلا پہلو، انسان کی روایتی ذات ہے جو والدین کی سکھلائی، اساتذہ کی تربیت اور ثقافتی روایات سے تشکیل پاتا ہے۔

٭دوسرا پہلو، تخلیقی ذات ہے جو انسان کے اپنے باطنی مشاہدے اور اپنی روح کو کھوجنے سے وجود پاتا ہے۔ نن کو اس عمل میں گہری دلچسپی تھی جس سے لوگ اپنا ’تخلیقی پہلو‘ تلاش کرتے ہیں۔

انھیں معلوم ہوا کہ یہ ایک پر آشوب مگر معرکہ آراء عمل تھا۔ اپنی تخلیقی ذات دریافت کرنے کے بعد لوگ اپنے آپ کے ساتھ دیانت دار اور دوسروں کے ساتھ مخلص ہو جاتے ہیں۔ یہ ذاتی آزادی، ذات کی دریافت اور اپنی مخفی طاقت کو عملی جامہ پہنانے کا عمل ہے۔ ان کے خیال میں : ”جب لوگ اپنی تخلیقی ذات سے ملاقات کر لیتے ہیں تو وہ بہت حساس ہو جاتے ہیں اور اپنے ارد گرد کھڑی دفاعی دیواروں کو زمین بوس کر دیتے ہیں میں ان دیواروں کو“ روح کی سلاسل کہتی ہوں۔ ”

اپنی تخلیقی ذات کی دریافت سے وہ اپنی نجی اخلاقیات بھی دریافت کر سکتے ہیں۔ وہ مذہب کی سکھلائی ہوئی اخلاقیات سے بلند ہو جاتے ہیں، گناہ اور احساس گناہ کی زنجیریں توڑ ڈالتے ہیں اور ان کے دل مطمئن اور ذہن پرسکون ہو جاتے ہیں ایک دفعہ ایک انٹرویو کرنے والے نے نن سے سوال کیا: ”جب کبھی آپ کچھ ایسا کر جائیں جو آپ دل و جان سے پسند کر رہی ہوں تو یہ ممکن ہے کہ آپ اپنے قریب ترین افراد جن سے آپ اور جو آپ سے قریب رہنا چاہتے ہیں دکھی ہو جائیں اس سے ایک ناگوار تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے“

نن کا جواب تھا: ”ایسا تنازعہ ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ یہ تنازعہ دراصل ہماری نشوونما اور ہمارے خوف کے درمیان ہوتا ہے۔ ہمیں یہ خوف ہمہ وقت دامن گیر ہوتا ہے کہ ہماری نشوونما (ارتقاء) سب پر حاوی ہو جائے گا یا کسی دوسرے کو دکھی کر دے گا۔ اب کیا کیا جائے؟ اس کا سادہ سا حل اپنی ’نجی اخلاقیات‘ بنانا ہے۔ جن میں ہمارا نجی ایقان اور نجی آداب زندگی ہوں گے اس سے آپ کی شخصیت اتنی خود آگاہ و خود بین اور خوب صورت ہو جائے گی کہ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دکھی کرنے کا تصور بھی آپ کے لیے محال ہو گا۔“

تخلیقی تھراپی (معالجہ) : نن کا ماننا تھا کہ اگر لوگ اپنی تخلیقی ذات اپنے تجربات، کتب بینی اور باطنی مشاہدے سے خود دریافت نہیں کر سکتے تو ان کو چاہیے کہ سائیکو تھراپی (نفسیاتی معالجے ) کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔ ایسا معالجہ لوگوں کو ان کے اپنی ذات کے گرد رکاوٹیں عبور کرنے میں اور عدم تحفظ دور کرنے میں مدد گار ہو سکتا ہے۔ یوں وہ اپنے اصل جوہر اور اپنے اندر موجود صلاحیتوں سے ہم کنار ہو سکتے ہیں۔

یہ معالجہ لوگوں کو احساس دلاتا ہے کہ ”ایک دائرہ ایسا بھی موجود ہے جہاں پر آپ طاقتور ہو اور اپنی روح کے مالک ہو۔“ اس عمل سے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنا سچ خود دریافت کریں اور ایک صحت مندانہ، خوشگوار اور تعمیری زندگی بسر کریں۔ اس کے بعد وہ ہمیشہ تخلیقی رشتے پا لیں گے نہ کہ تباہ کن۔ اس معالجے سے افراد کا نیا جنم ہو سکتا ہے۔ نئی ذات کی پیدائش ہو سکتی ہے۔ نن نے لکھا: ”جب آپ اپنی دریافت کے عمل سے گزر رہے ہوں تو کسی دوسرے فرد کو یہ طاقت نہ دیں کہ وہ آپ کی تخلیقیت میں اچھے برے کا فیصلہ کرے۔“

تخلیقی رشتے : نن اپنی زندگی میں کئی پر آشوب اور غیر صحت مندانہ رشتوں کے تجربوں سے گزری تھیں۔ تجزیے کے ذریعے انھوں نے (جسمانی تعلق پر مبنی) گہرے رشتوں کے منفی پہلوؤں کا ادراک حاصل کر لیا تھا۔ نن کو پتہ چلا کہ دوست جوڑے تعلق کے دوران اپنے لاشعور میں موجود نا آسودہ خواہشات اور اپنی شخصیت کے تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ لوگوں کو اپنی دوستی کی نشوونما اور ارتقاء کے دوران ایک دوسرے پر الزام لگانے کی بجائے اپنے اپنے کردار نبھانے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

نن پر امید تھیں کہ لوگ اگر خود بینی اختیار کریں تو بہت ممکن ہے کہ دیانت دار، پر خلوص اور پیار بھرے رشتوں کے بنانے اور قائم رکھنے کا راز پا لیں۔ انائس کا ماننا تھا کہ تخلیقی رشتوں میں مرد اور عورت ایک دوسرے کی بہترین صلاحیتوں کو باہر لاتے ہیں۔ اور اپنے رشتے کے نازک موڑ پر اپنے آپ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ جو ہم دوسرے پر ظاہر کر رہے ہیں کیا وہ درست ہے؟ انھوں نے لکھا: ”مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ اگرچہ رشتے میں خرابی میں قصور دونوں کا ہوتا ہے، مگر میں اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتی ہوں۔

کیوں؟ مجھے اس“ کیوں ”کا جواب رینک (RANK) سے ملا جس نے کہا:“ ہماری ذات کی ایک پرچھائیں ہوتی ہے ہم اس پرچھائیں کو دوسروں پر ظاہر کرتے ہیں حالانکہ ہماری اصل ذات یہ پرچھائیں نہیں ہوتی (گویا ہم میں سے ہر ایک نے اپنا ایک خاکہ بنا رکھا ہے وہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہے اصل میں ہم وہ نہیں ہیں۔ ) ہمیں یہ احساس ذمہ داری ہے کہ دوسرے لوگ ہماری پرچھائیں سے تعلق قائم کرتے ہیں جو ہماری ذات کا ایک حصہ ہے۔ ہمیں ایسا تعلق پیدا کرنے والوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اگر وہ کبھی باغی ہو جائیں تو ہمیں یہ قیمت چکانی ہوتی ہے۔ کیونکہ اپنے خلاف بغاوت کی قیمت ہوتی ہے۔ اس بغاوت سے میں نے اپنے چاہنے والوں کو بچا لیا کیونکہ تب میں اتنی باغی نہیں تھی جتنی اب ہوں۔ (جاری ہے )

حوالہ جات :
نام کتاب : CREATIVE MINORITY۔ DREAMS AND DILEMMAS
مصنف : خالد سہیل

Facebook Comments HS