ہمارا نکاح نامہ، وہ تو چوہے کھا گئے!


ہمارے نکاح کے وقت نہ یو ٹیوب تھانہ کمپیوٹر اتنا عام تھا اور نہ ہی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) جیسی کسی چڑیا کا وجود تھا بس موصوف جیسے Super Intelligent Gentleman، وہ بھی خال خال یعنی آٹے میں نمک کے برابر دستیاب تھے، ہماری شادی پندرہ اپریل کی ایک کشمکش زدہ رات کو ہوئی، بارات تیار کھڑی تھی، دوست احباب، اور سارے باراتی (اسٹوڈنٹس) بے قراری سے کرفیو پاس کے منتظر تھے جو بیچارا دولہا بنوانے گیا تھا۔ ادھر کو سموپولیٹن ہال میں ہم، دلہن بنے ٹوٹے دل کے ساتھ پہلو بدل رہے تھے۔

قسمت کی ستم ظریفی زندگی میں پہلی بار پارلر جانے کا موقع ملا تھا وہ بھی فسادات کی نذر ہو گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم نے ٹوپیوں کا کاروبار شروع کیا تو سر کٹے پیدا ہونے لگیں گے۔ مہمانوں کے ساتھ جب سارے رشتے دار مایوس ہو گئے کہ اب منی کے سہرے کے پھول ملک عدم میں ہی جا کر کھلیں گے کیونکہ بتیاں بجھانے کا وقت قریب تھا کہ شور مچا۔ منی کی بارات آ گئی۔ فوراً، احترام ماما جو رشتے داری کی سزا کاٹ رہے تھے رجسٹر کھول کر بیٹھ گئے۔

اور یوں ہماری شادی، موصوف سے ہو گئی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، ہمارا نکاح نامہ ہم دونوں کے لئے مقدس کتاب کی طرح تھا۔ دونوں کے ہی تین سے چار رشتے کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹے تھے اس کی حفاظت سب سے اہم اور مقدم فریضہ تھا (اس وقت پلاسٹک کوٹنگ کا بھی چلن نہیں تھا)۔ لہذاً جہاں دیدہ موصوف نے چھاچھ کے جلے کی طرح، اسے بہت۔ بہت۔ اور بہت سنبھال کر رکھ دیا اور ایسا سنبھالا کہ ہمارے نکاح کے جملہ گواہان ( نکاح، خواں سمیت) کے، ملک عدم جانے سے پہلے ہی بے چارہ اس دار فانی سے کوچ کر گیا!

کچھ لوگ تو عمر کے معاملے میں صرف چور ہوتے ہیں، مگر ہم دونوں تو پورے ’ڈاکو‘ ہیں۔ اور اس پر سے ستم یہ کہ ہمارے پاس کوئی بھی ثبوت نہیں کہ ہم دونوں ’سگے‘ میاں بیوی ہیں۔ اس مغالطے کی غالباً ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک طویل عرصے تک ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم دونوں کی شکلیں اور عادتیں اتنی ملنے لگی ہیں کہ ہم ایک ہی فرمے کے بنے ہوئے لگتے ہیں۔ اس پر سے ان کا حد ادب، رکھ رکھاؤ، جھینپو پن اور نام نہاد وضع داری اور سب سے بڑھ کر وہ شفقت جس میں سے ایک عجیب سی ’برادرانہ بو‘ آتی ہے، یعنی کریلا وہ بھی نیم چڑھا۔ ان کے ساتھ چلو، تو خود ہمیں نہیں لگتا کہ ’اپنے‘ میاں کے ساتھ چل رہے ہیں۔

جس دن ہم نے پہلی دفعہ ٹی وی اسٹیشن میں قدم رکھا، تو دور تک کئی سوالیہ نظروں نے ہمارا پیچھا کیا۔ چھوٹے چھوٹے ایک ہی انداز کے نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے، بس صرف یہ فرق تھا کہ ہمارے بالوں کا پونی ٹیل بندھا ہوا تھا اور ان کے بال ’کھلے‘ تھے۔

یاسین صاحب (سابقہ ایڈمن افسر ) نے بڑے خلوص سے کہا، ”مبارک ہو آپ کو۔“ پھر ان کی نظریں ہم سے ہوتی ہوئی ’ان‘ پر ٹک گئیں۔ ”غالباً آپ دونوں بھائی بہن ہیں۔“ وہ مسکرائے۔

”کیا؟ بھائی بہن!“ یہ تڑپ گئے۔ ”ارے! میں تو ان کا میاں ہوں۔“
”اچھا؟ معاف کیجیے گا، آپ لوگ شکل سے قطعی میاں بیوی نہیں لگتے۔“ وہ گڑبڑا گئے۔
”ان کی شکلیں کیسی ہوتی ہیں؟“ یہ بڑی مسکین سی شکل بنا کر بولے، ”کوئی خاص شکل؟“

”جی نہیں، وہ کوئی ایسی بات تو نہیں ہے۔ ایک تو آپ لوگ بڑے چھوٹے چھوٹے سے میاں بیوی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ آپ ایک دوسرے کو بڑی پرخلوص نگاہوں سے دیکھ رہے تھے!“

”یعنی یہ مجھ پر اتنی ہی شفقت بھری نگاہ ڈال رہے تھے، جیسے ایک بھائی بہن پر ؟“ ہم نے وضاحت چاہی۔
”ارے نہیں۔“ وہ بری طرح جھینپ گئے۔ ”دراصل آپ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ یوں تھام رکھا تھا کہ۔“
”جیسے بڑے بھائی چھوٹی بہنوں کا ہاتھ تھامتے ہیں؟“ ہم نے مزید وضاحت چاہی۔
”وہ دراصل آپ کی حرکات و سکنات سے قطعی نہیں لگ رہا تھا کہ آپ دونوں۔“

”کیا آفس میں ’اس کی‘ اجازت ہے؟“ شرارت ان کی آنکھوں میں کو ندی کہ ”یہ۔ یہ آپ کے کاغذات تیار ہیں۔“ وہ بوکھلا گئے اور اس سے پہلے کہ مزید وضاحتیں ہوتیں، یہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر مسکراتے ہوئے باہر نکل آئے۔

امیر امام صاحب نے بھی (جو ان دنوں پی ایم تھے ) آتے جاتے ہمیں خاصی مشکوک نظروں سے گھورا۔ کئی سوال ان کی آنکھوں میں مچل رہے تھے۔ مثلاً، یہ کون ہے؟ اور کس کے ساتھ بیٹھی ہے؟ کیا کہیں سے بھاگ کر آئی ہے؟ ایکٹنگ کے شوق میں؟ یہ اسکول کیوں نہیں جاتی؟ وغیرہ۔ اب آپ ہم سے پوچھیں گے کہ تمہیں کیسے پتا چلا ان سوالوں کا ؟ تو اس کے ہمارے پاس تین جواب ہیں :

ایک تو یہ کہ ہم جتنے کھڑے ہیں، اتنے ہی گڑے ہیں۔ قد چھوٹا ہونے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے (اگر یہ مکاری ہمارے قدم زمین کے اندر جما کر نہ رکھتی تو ہم بھی عالم چنا کی طرح پورے زمین سے اکھڑے ہوئے ہوتے )۔

دوسرے یہ کہ جب ہم نے امام صاحب کو بتایا کہ ہمارا اپائنٹمنٹ بطور معاون پروڈیوسر کے ہوا ہے تو ہمیں صاف پتا چل گیا کہ وہ اچھے خاصے ’ذہنی شاک‘ سے دوچار ہیں۔ ان کے چہرے پر منڈلاتے حسرت و یاس کے گہرے بادلوں اور آنکھوں کی حیرت نے ہمیں صاف صاف بتا دیا تھا کہ ان کے ہمارے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ دراصل وہ ہمارے چہرے کے بھولپن سے دھوکہ کھا گئے۔ یا شاید وہ یہ محاورہ بھول گئے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور تیسرے یہ کہ انہوں (موصوف) نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور بڑے گھاگ ہیں۔

اب یہ اور بات ہے کہ سارے گھاٹوں کا پانی ہضم کر گئے اور اپنے جثے پر بال برابر فرق نہیں آنے دیا۔ کبھی آپ ان کی آنکھوں میں جھانک کر تو دیکھیں۔ ان کی پتلیوں میں چھپی مکاری صاف نظر آ جائے گی (یہ عمل خوب صورت لڑکیوں کے لیے ممنوع ہے۔ اس سے ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ہاں البتہ کسی کا ایمان ضرور خطرے میں پڑ جائے گا)۔ ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ ہمارے میاں ہمیشہ سے دل کی بات پہلے ’پا‘ لیتے ہیں (شاید یہی وجہ ہے کہ صرف منگنیوں کے اعتبار سے ہمارا نمبر چوتھا ہے)۔ لہٰذا امام صاحب کی آنکھوں نے انہیں وہ سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا، جسے وہ اپنی لکھنوی وضع داری کی وجہ سے صاف چھپا گئے تھے۔

ہماری شادی کی سالگرہ کا دن 15 اپریل ہے اور ٹی وی میں جوائننگ ڈیٹ 14 اپریل ہے، یعنی ہماری نوکری ہماری شادی سے صرف ایک دن چھوٹی ہے، لہٰذا اگلے ہی دن دونوں دنوں کو ’منانے‘ کے لیے ہم ایک ریستوران میں پہنچے۔

کھانا کھانے کے بعد جب ہم ہاتھ دھونے گئے تو ایک ویٹر دوسرے ویٹر سے کہہ رہا تھا، ”یار! آج کل کالج کے لڑکے لڑکیاں تو بہت آنے لگے ہیں، آج تو ایک نیا جوڑا آیا ہے، بڑا ہی ڈھیٹ اور پکا لگتا ہے، ذرا زمانے کا ڈر نہیں۔ لگتا ہے سیدھا یونیورسٹی سے آ رہا ہے۔ تم دیکھنا کیسا ایک دوسرے میں مگن بیٹھا ہے۔“

”کون سا جوڑا؟“
”وہی پانچ نمبر والا۔“
”ارے! وہ تو میاں بیوی ہیں۔“
”تمہیں کیسے پتا چلا؟“
”بھئی لڑکا کہہ رہا تھا کہ ہماری بیگم مرچیں نہیں کھاتیں۔“

”مکار کہیں کا ، یہ کبھی بھی میاں بیوی نہیں ہوسکتے۔ آخر کو ہمارا برسوں پرانا ’ویٹرانہ‘ تجربہ ہے۔ میاں بیوی کے چہروں پر تو ایک خاص قسم کی بیزاریت اور اکتاہٹ ٹپکتی ہے اور آنکھوں میں کانٹے سے اگے ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک دوسرے پر بڑی پیار بھری نظریں ڈال رہے تھے سہج سہج۔ اور لڑکی کی آنکھوں میں تو زمانے کا خوف بھی شامل ہے۔ لگتا ہے، ابھی نیا نیا عشق شروع ہوا ہے، تارے گننے والا، چھپ چھپ کر ملنے والا۔“

”ہاں بھئی ہو سکتا ہے کہ تمہارا شبہ درست ہو۔“ اس نے ہار مان لی۔ ”ویسے یار! یہ آج کل کے لڑکے لڑکیاں کتنے چالاک ہو گئے ہیں، یعنی کہ ہمیں ہی بیوقوف بنا دیا؟“

”ارے آج کل کے لڑکے لڑکیاں؟ وہ تو پالنے سے پاؤں اتارتے ہی عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اماں ابا کی پلکوں کی چھاؤں تلے ان کا عشق آنکھ مچولیاں کھیلتا ہے، مگر اماں ابا کو انڈین فلموں سے فرصت ملے تب ناں۔ ان کے سر پر تو جب گولا پھٹتا ہے، جب ’گھنٹیوں‘ چلتا ہوا انگوٹھا چوستا عشق ان کے قدموں میں آ بیٹھتا ہے۔ ارے! ایک دن تو میں نے ایک سات سالہ بھائی اور پانچ سالہ بہن کو دیکھا، جن کے آدھے کپڑے غائب، مگر اماں کے دو پٹے سر پر لیے گٹھے باندھے پھیرے لگا رہے تھے۔ اب خود ہی سوچو کہ جہاں عشق پالنے میں ہی انگڑائیاں لینے لگے، تو اس قوم کا کیا حشر ہو گا۔“

”یار تم نے خوب تاڑا۔ میں تو قائل ہو گیا۔“

”ہاں تو اور کیا؟ اب دیکھنا رشوت کے طور پر یہ ایک بڑی ٹپ دے کر جائیں گے۔ میں یوں ہی تو نہیں ان کی میز کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔“ اور ہم نے بڑی ’ٹپ‘ دے کر ان کا شبہ پکا کر دیا۔

ایک دن ہم نقوی صاحب کے کمرے میں بیٹھے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے ریسیپشنسٹ (Receptionist) بولا، ”رفعت ہمایوں سے ملنے ایک لڑکا آیا ہے۔“

”کون لڑکا؟“ نقوی صاحب حیرت سے بولے۔

”وہی جو چھوٹی سی گڈی میں آتا ہے۔ ان سے ملنے، بغیر مونچھوں والا (یہ ریسیپشنسٹ بغیر مونچھوں والے ’لڑکوں‘ کو صنف سخت سے ہی ’خارج‘ سمجھتا ہے)۔ یونیورسٹی سے، جس کے ساتھ کبھی کبھی وہ چلی بھی جایا کرتی ہیں۔“

”احمق! فوراً اس کا پاس بنا کر اندر بھیجو۔ وہ ’لڑکا‘ نہیں ہے، اس کا میاں ہے۔“ اور اس نے سٹپٹا کر ریسیور رکھ دیا۔

جب کمرے کا دروازہ کھلا تو معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ لڑکے کے دانت بھی کھلے ہوئے ہیں اور ہونٹ ناکام ہیں کہ انہیں اندر واپس لے کر جائیں۔

شہناز عزیز نے امریکہ سدھارنے سے پہلے ہمیں دو نصیحتیں کی تھیں۔ ایک تو یہ کہ آفس میں کبھی کسی کو بھائی نہ کہنا اور دوسرے یہ کہ اپنے میاں کی بڑی بہن ہرگز مت لگنا۔ کوشش کرنا کہ صرف عقل ہی ’موٹی‘ رہے، ورنہ کسی دن کوئی تمہیں فٹ بال سمجھ کر ’کک‘ (Kick) نہ لگا دے۔ اور یہ ’کوئی‘ تمہارا میاں بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی یہ بات ہم نے پلے سے باندھ لی اور آج تک آفس میں کسی نے بھی ہماری کسی بھی بات کا برا نہیں مانا۔ دراصل ہم کسی کو احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ ہم ’شادی شدہ‘ ہیں (یا وہ ہمارا بھائی ہے )۔

ایک دفعہ تو شہزاد خلیل (جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے اب بھی قلم کانپتا ہے ) نے کہا تھا، ”رفعت! اب تو ہم بھولتے جا رہے ہیں کہ تم بھی شادی شدہ ہو۔“ (یہاں اس بات کا بھی ذکر کرتے چلیں کہ ’امراؤ جان ادا‘ کا خطاب بھی ہمیں شہزاد صاحب نے ہی دیا تھا)۔ عقل آتے ہی وہ حلیہ اور پہناوا ہم نے ترک کر دیا، جو ہماری شادی شدہ زندگی کے ’عکاس‘ تھے۔ اور تو اور ہم ’ان‘ کا نام بھی نہیں لیتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ ہماری انتہائی درجے کی مشرقیت اور بھولپن ہے، حالاں کہ نام نہ لینے کی پٹی ہمیں ہماری دادی اماں نے پڑھائی تھی۔

ان کے خیال میں کلوپٹرہ (قلو پطرہ) نہایت ’گدھی‘ تھی، جو گدھی کے دودھ میں روزانہ نہاتی تھی (انہیں اس خیال سے ہی ابکائی آتی تھی کہ گدھی کا دودھ کتنا مچیندھا ہوتا ہو گا)۔ ’توبہ ہے۔ ‘ وہ بولا کر اگالدان سامنے کر لیتیں اور اپنی دانست میں وہ قلوپطرہ کو پیک میں نہلا دیتیں، اور پھر چھنگلیا کی پور سے بڑی نفاست سے ہونٹ کے کنارے صاف کرتے ہوئے فرماتیں، ”بھئی! ہمارے خیال میں تو اگر وہ ساری زندگی اپنے مجازی خدا (یا خداؤں ) کا نام نہ لیتی تو زندگی بھر اس کا بھولپن اور حسن باقی رہتا۔

بھلا یہ کیا تک ہوئی کہ کچھ اور سجھائی نہ دیا تو گدھی کے دودھ میں ہی ڈبکی لگا لی۔ ارے کچھ ہم سے پوچھا ہوتا، اس مرادوں جلی نے تو کچھ ہم ہی بتا دیتے۔ اب خود ہی سوچو کہ کس قدر بدنما جانور ہے اور اس کے دودھ میں غسل؟ اس کا تو پرچھاواں بھی پڑ جائے کسی پر تو کان لمبے لمبے دکھائی دینے لگیں ہیں۔ اے بٹیا! اس کی آواز کیسی تھی؟“ ان کے لہجے میں خاصی تشویش تھی۔

”کس کی؟ گدھی کی؟“
”ارے نہیں، وہ ہی اپنی کلوپٹرہ کی۔“

امام صاحب تو اس ’یہ‘ ’وہ‘ ’ان‘ ان ’سے اتنا چڑتے ہیں کہ اکثر دانت پیس کر کہتے ہیں، ”غالباً آپ اپنے آفس کے کسی‘ سوئپر ’ (جمعدار) کی بات کر رہی تھیں۔“

”ارے نہیں ہمارا مطلب ہے کہ ’یہ‘ کہہ رہے تھے۔“ ہمارے لہجے میں خاصی شرم گھلی ہوتی۔
”ارے صاحب! کون ’یہ‘۔ کیا اب کسی سیکیورٹی گارڈ کا ذکر ہے؟“ وہ مزید جھلا جاتے۔

”نہیں! ’یہ‘۔ ہم ’یہ‘ پر اتنا ہی وزن رکھ دیتے، جتنا کہ خود ہمارا ہے، مگر وہ دانت پیس کر کہتے، ’یہ‘ کون؟ بھئی؟ نام لیا کرو میاں کا۔ کوئی نکاح نہیں ٹوٹ جائے گا۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر صرف نام لینے سے نکاح ’ٹوٹا‘ کرتے تو پاکستان میں کم ازکم ستر فیصد عورتیں ’آزاد‘ ہوتیں، جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کاش ایسا سچ مچ ہوتا!

محمد قاسم ماکا سے ہماری ملاقات نائٹ ایڈیٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ ہم اور ساحرہ ’حوا کی بیٹی‘ ایڈٹ کر رہے تھے اور نقوی صاحب ’سرجو سفر‘ کی ایڈیٹنگ میں مصروف تھے۔

نائٹ ایڈیٹنگ میں ہمارا حلیہ خاصا ’گھریلو‘ سا ہوتا ہے۔ اکثر چپل پہن کر چلے جاتے ہیں کہ اگر ہری آنکھوں اور پھولے گالوں والا بلا ہمیں بھی ملا (جس کے بارے میں اکثریت کا خیال ہے کہ وہ کوئی جن ہے) تو فٹ چپل اٹھا کر اسے دے ماریں گے۔ اور کہیں بھوت، پریت یا الٹے پلٹے آسیب ہمارے بالوں پر عاشق نہ ہوجائیں، اس ڈر سے ہم کس کر دو چٹیا باندھ لیتے ہیں، تاکہ بھوتوں کو ہمارے بالوں کی اصل لمبائی اور گھنائی کا پتا ہی نہ چل سکے اور وہ ہم پر عاشق ہونے سے بچ جائیں، ورنہ پتا ہی نہیں چل سکے گا کہ اصل ’بھوت‘ کون ہے اور کسے چمٹا ہے۔

ماکا صاحب نے ہمیں دیکھا اور تھوڑا سا حیران ہوئے۔ نقوی صاحب نے ہمارا تعارف کرایا کہ بھئی یہ ہیں ہماری جونیئر ساتھی، رفعت ہمایوں، معاون پروڈیوسر۔ وہ حیران سے ہو گئے۔ ”اچھا؟ دو تین دفعہ میں نے اس ’بچی‘ کو دیکھا تو سوچا یہ کون ہے اور یہاں کیوں آتی ہے؟ رات کو اس کا کیا کام؟“ (اس جملے میں شک کا پہلو نمایاں تھا، لہٰذا قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر اسے ہمارا مطلب ہے شک کو حذف نہیں کیا گیا)۔ وہ بولتے چلے گئے۔

”پھر سوچا کہ ساحرہ کی کوئی عزیز ہوں گی (خاک کو آسمان سے کیا نسبت؟ ) اچھا تو یہ پروڈیوسر ہیں؟ حیرت ہے؟ اتنی چھوٹی سی؟“ ہم حلق تک کڑوے ہو گئے۔ اب اتنا چھوٹا بننے کا بھی ہمیں شوق نہیں کہ بونے میاں بلخی کی طرح بیبیاں ہمیں بھی گود میں اٹھا لیں اور جب ہم کمبل کا بکل ہٹائیں تو ہماری مونچھیں دیکھ کر چیخیں مار کر نیچے پٹخ دیں (یہ قصہ کبھی اور سنائیں گے )۔

ہم یہ مانتے ہیں کہ ہاں ہوتی ہے لڑکیوں کے دل کے ’چور خانے‘ میں عمر چھپانے کی خواہش (جیسا کہ ہمارے دل میں بھی ہے) مگر جہاں لوگ آپ کو ’انڈراسٹیمیٹ‘ کرنے لگیں اور بالکل ہی ’تدبر‘ کے خانے سے خارج کر کے الھڑ ایکسٹراز کا رول دے دیں (جن کا چیک صرف پچاس روپے کا بنتا ہے) تو خاصی کوفت ہوتی ہے۔ اور ویسے بھی ہم پر احمق اور بیوقوف کا لیبل چپکا ہوا ہے، جسے ہم اب تک نہیں اتار سکے۔ بعض اوقات اسی بھولپن سے متاثر ہو کر ’یہ‘ ہم سے یوں پیش آتے ہیں کہ جیسے ہم ان کی ’دختر نیک اختر‘ ہوں اور شادی کے بعد ان کے گھر میں جنم لیا ہو۔ اکثر دوستوں سے فرماتے ہیں کہ بھئی میں تو ’بیوقوف‘ کا میاں ہوں۔ لہٰذا ہم بڑے ’مدبرانہ‘ انداز میں ذرا سنبھل کر بولے، ”جی ہاں مسز رفعت ہمایوں۔“

”اچھا تو آپ شادی شدہ بھی ہیں!“ انہوں نے مزید آنکھیں پھاڑیں۔
”جی ہاں اور دو بچے بھی ہیں۔“
”ماشاء اللہ ماشاء اللہ! کیا کرتے ہیں آپ کے میاں؟“ وہ خاصے مرعوب ہو کر بولے۔

”اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔“ ہمارے لہجے میں ایک عجیب چھچھورا سا تفاخر گھل گیا اور گردن تھوڑی سی اکڑ گئی۔ ”ڈاکٹر سید ہمایوں۔“

”اچھا، پی ایچ ڈی ہیں آپ کے میاں؟“ وہ نجانے کیوں تھوڑا سا اداس ہو گئے۔

کچھ ہی دنوں بعد ہم نے نقوی صاحب سے کہا کہ ہمیں سندھیالوجی ڈپارٹمنٹ (جام شورو) جانا ہے، ’روپ سروپ‘ کے سلسلے میں۔ وہ خوش ہو کر بولے، ”ارے ماکا صاحب ہی تو اس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ میں ان سے فون پر لائن اپ کر لیتا ہوں۔“

انہوں نے جب سنا کہ ہم ’اندرون سندھ‘ جا رہے ہیں تو بولے، ”بھئی میں تمہیں اکیلا نہیں جانے دوں گا۔“

ہم نے کہا، ”ابھی تو ہم صرف جامشورو تک جا رہے ہیں۔ ریکارڈنگ کے لیے تو ہم تھرپارکر بھی جائیں گے۔ یہ تھرا گئے۔ تھر جاؤ گی؟“

”ہاں تو اور کیا؟“

”نہیں رفعت! میں تمہیں نہیں جانے دوں گا۔ وہاں راستے میں ڈاکو ملتے ہیں، منہ پر ڈھاٹا باندھے، داڑھی والے، سنا ہے لڑکیوں کو بڑے شوق سے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔“

”ارے! ڈاکو اگر غلطی سے ہمیں اٹھا کر لے بھی گئے تو دوسرا دن نہیں لگائیں گے واپس کرنے میں، بلکہ وہ آپ کو کچھ رقم بھی ساتھ دے جائیں گے کہ اس ’بلا‘ کو خود ہی سنبھالیں۔ اور اگر اتفاق سے اس دن کوئی کامیاب ڈاکا مار لیا تو ممکن ہے جاتے جاتے ایک گولڈ میڈل بھی پہنا جائیں آپ کے ’کمال ضبط‘ پر کہ کیسے اس بلا کو۔“

”مذاق کی نہیں ہو رہی۔ رفعت! میں سنجیدہ ہوں۔“

”نہیں جناب آپ ہمایوں ہیں، سنجیدہ نے سنا تو برا مان جائے گی۔ یہ ٹھیک ہے کہ ٹیلی فون پر اکثر مرد آپ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کون بول رہی ہیں تو آپ خواہ مخواہ برا مان جاتے ہیں۔“

”رفعت پلیز سمجھنے کی کوشش کرو، میں واقعی سنجیدہ ہوں۔“
”ہم نے کہا ناں۔“

”اب بکواس بند کرو۔“ یہ باقاعدہ جھلا گئے۔ ہم نے سوچا کہ اب یہ کہیں اپنی بوٹیاں نوچنے نہ بیٹھ جائیں (جو کہ پہلے ہی کم ہیں) انہیں یہ آفر دی کہ چلیں صاحب کیا یاد کریں گے کہ کس سے پالا پڑا ہے، آپ بھی ساتھ چلیے۔

نقوی صاحب نے ’ان‘ کا تعارف کرایا ’ماکا صاحب! ان سے ملیے۔ یہ ہیں‘ ڈاکٹر سید ہمایوں۔ ’اور وہ اچھل پڑے۔ اپنے سامنے کل کے‘ لڑکے ’کو دیکھ کر ، یقین ہی نہیں آیا۔ دوبارہ دیکھا۔ ان کے چہرے سے لگتا تھا کہ اب چھو کر بھی دیکھیں گے، مگر پھر اطمینان کا سانس بھر کر بولے، ”شکر ہے خدا کا۔“

”کیوں کیا ہوا۔“ ہم سب حیران رہ گئے۔

وہ جھینپے ہوئے لہجے میں بولے، ”وہ دراصل ان کے لہجے کے احترام اور آنکھوں کی عقیدت سے میں دھوکہ کھا گیا تھا۔ میں تو دل ہی دل میں افسوس کر رہا تھا کہ اتنی چھوٹی سی ’بچی‘ کا میاں پروفیسر ہے، وہ بھی ڈاکٹر؟ سچی میرے ذہن میں تو سفید بالوں والا، موٹا سا، دوہری تھوڑی والا آدمی تھا، جو کم ازکم پچاس سال کا تو ہو ہی گا۔ آپ تو بالکل لڑکے ہیں۔“

اور لڑکے کے دانت پھر اندر جانے کو تیار نہیں ہوئے۔

”ہمارے خیال میں تو آپ کے ذہن میں بھی مرگھلا سا، کالا سا ’بنگالی‘ ہونا چاہیے تھا، جیسا کہ ہمارے ذہن میں بھی تھا، شادی سے پہلے، بکری داڑھی اور چندھی آنکھوں والا، جس میں سے ’پاپلیٹ مچھلی‘ کی بو آتی ہو۔“ ہم سوکھا سا منہ بنا کر بولے، کیوں کہ ہمیں لڑکے کے دانت خاصے زہریلے، بلکہ نوکیلے لگ رہے تھے۔

ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب دلیپ کمار جی کراچی اسٹیشن تشریف لائے تھے۔ سارے لاؤنج میں پھول ہی پھول تھے۔ خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی، جس میں محبت کی باس گھلی ہوئی تھی۔ ہماری ساس اماں اپنی جوانی سے لے کر اب تک دلیپ جی پر فدا رہی ہیں۔ ہمارے سسر جی سے مختلف جھگڑوں میں کئی کی بنیاد دلیپ جی کا ’عشق‘ رہا ہے اور ورثے میں یہ محبت اور عقیدت ہمارے میاں جی کو بھی ملی ہے، مگر ہمیں یہ بھی اطمینان ہے کہ دلیپ جی کوئی ابھرتی ہوئی انڈین اداکارہ نہیں ہیں، ورنہ سسر جی کا جلاپا ہمیں بھی مل جاتا۔ ہم نے سوچا کہ چلو میاں جی تو دلیپ کمار کو صرف اسکرین کی حد تک ہی دیکھ سکے ہیں۔ یہی پچھتاوا ہماری ساس اماں کو بھی ہے۔ اب ہم ان کو جلائیں گے کہ آپ نے تو صرف فلمیں دیکھی ہیں، ہم تو اپنی آنکھوں سے ان کے درشن کر کے آئے ہیں۔

اس وقت دلیپ جی کا انٹرویو ہو رہا تھا۔ اسٹوڈیو کے سارے دروازے بند تھے۔ ’اسٹوڈیو ڈی‘ کے آگے بے چین معتقدین کی ایک لائن لگی ہوئی تھی۔ ہم شاہین انصاری کے پاس جا کھڑے ہوئے، کہاں شاہین کا سرو قد اور کہاں ہم؟ ہمیں اللہ میاں سے ہمیشہ یہ گلہ رہا ہے کہ 4 فٹ گیارہ انچ چند سینٹی میٹر کی جگہ کھینچ تان کر کسی طرح پورے پانچ فٹ پر ہی لے آتے۔ کیا تھا، بس ذرا سا ہاتھ ہی تو ہلانا تھا۔ خیر صاحب! دروازہ کھلا اور ہماری توقع سے کم بوڑھے اور زیادہ پرکشش دلیپ جی ہنستے مسکراتے باہر نکلے اور ایک ایک سے ہوتی ہوئی، ان کی نظریں ہم پر آ جمیں۔ ہمیں یوں لگا کہ ان کی آنکھوں سے جیسے روشنی سی پھوٹ رہی تھی اور ایک سحر سا طاری ہو گیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر یوں مسکرائے، جیسے کسی بچے نے ’پھول‘ دیکھ لیا ہو! اور ہم پر نظریں جمائے جمائے آگے بڑھے اور ہمارے سر پر ہاتھ رکھ دیا اور بچوں کی طرح ہلا کر ہمارے بال بکھیر دیے اور بولے،

”اچھا! تو آپ ہی سب سے ’چھوٹی‘ ہیں یہاں۔“ اور ہم جو ایک سحر میں جکڑے مسحور سے کھڑے تھے، تلملا کر رہ گئے۔ اب اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے ہمارا قد۔ ہم نے سر کو جھٹکا، تو ہماری نظر شاہین پر پڑی تو اپنے ’اتنے‘ چھوٹے ہونے کا راز فوراً کھل گیا (ہم دونوں اگر ساتھ کھڑے ہوں تو بالکل ایسا لگتا ہے کہ تاڑ کے درخت کے نیچے ایک ’منا سا ڈیزی‘ کا پودا اگ آیا ہو)۔ کاش! ہم رجو (رضیہ) کے ساتھ کھڑے ہوتے (اس کا قد ایک صحت مند ’ناگ پھنی‘ کے پودے جتنا ہے، یعنی ہم سے بھی تین چار سینٹی میٹر چھوٹا)۔

بہرحال، دلیپ جی اپنی سحر انگیز شخصیت اور بیگم کے ساتھ باہر نکل گئے اور پورے اسٹیشن میں شور مچ گیا کہ رفعت کے سر پر دلیپ کمار نے ہاتھ رکھا ہے۔ انہوں (موصوف) نے جب یہ سنا تو اسے ایک نیک شگون قرار دیا اور فرط عقیدت سے جھکے اور اس جگہ بوسہ دیا، جہاں ہمارے بیان کے مطابق دلیپ جی نے ہاتھ رکھا تھا (شکر ہے کہ آفس والوں کو یہ خیال نہ آیا)۔ اور سنا ہے کہ جب ہماری ساس اماں کو یہ خبر ملی تو وہ بھی برقع سر پر رکھ کر باہر نکل گئیں کہ ہماری ’بوؤ ماں‘ کے سر پر دلیپ کمار نے ہاتھ رکھا ہے۔ سنا ہے کہ کئی پڑوسنیں جل گئیں اور ہماری ساس اماں کو یہ پٹی پڑھا دی کہ ’بوؤ ماں‘ کے وہ بال مونچنے سے اکھڑوا کر منگوا لو، جن پر دلیپ کمار کا ہاتھ لگا ہے۔ ہم ’تبرکاً‘ انہیں اپنے پلو میں باندھ کر رکھیں گے۔ اگر ہماری ساس اماں کو بروقت عقل نہ آ گئی ہوتی تو اب تک ہمارے سر پر ایک گول سا ’چاند‘ اگا ہوتا۔

کیمپس میں آج کل ’ادھم بازوں اور فسادیوں‘ سے بچاؤ کی خاطر رینجرز لگے ہوئے ہیں، جو کیمپس کو پرسکون اور پرامن بنانے کے لیے روزانہ ادھم مچاتے ہیں۔ بسوں اور ویگنوں کا داخلہ اندر منع ہے۔ کیمپس والوں کی ذاتی گاڑیوں پر سفید پاس چپکا ہوا ہوتا ہے، جس کے حروف مٹ جائیں تو یہ رینجرز انہیں صاف ’پڑھ‘ سکتے ہیں۔ نئے اور تازہ ’پاس‘ کو خاصی شک بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے نئے اور ’تازہ‘ پروفیسر کو۔ اکثر نوجوان پروفیسر آج کل ان رینجرز کے ہاتھوں میں ٹنگے ہوئے ہوا میں ٹانگیں چلاتے رہتے ہیں اور ان کی ٹانگیں اس وقت تک زمین پر واپس نہیں آتیں، جب تک وہ وہیں لٹکے لٹکے اپنی ’پروفیسریت‘ ثابت نہ کر دیں۔

اور اکثر بے چارے کر بھی نہیں پاتے، کیوں کہ ان کا ’ٹینٹوا‘ رینجرز کے ہاتھوں میں جو دبا ہوا ہوتا ہے۔ اتفاق سے کوئی ’فارغ البال‘ پروفیسر وہاں سے گزرا اور اس نے غریب کو پہچان لیا تو اکھڑی ہوئی گردن سمیت بڑی احتیاط سے اسے زمین پر واپس رکھ دیتے ہیں اور پاؤں جوڑ کر بڑے سلیقے سے سلوٹ جھاڑتے ہیں، پھر بڑی معصومیت سے ان کی گرد جھاڑتے ہوئے فرماتے ہیں، ”اوجی! تساں نے پہلے ہی دسیا ہوتا۔ جی سانوں کی پتا کہ تسی وی پر فیسر ہو۔“ (او جی آپ نے پہلے ہی بتایا ہوتا۔ ہمیں کیا پتا کہ آپ بھی پروفیسر ہیں)۔

بہرحال، قصہ مختصر اسٹاپ سے ہمارا گھر کوئی پون میل کے فاصلے پر ہے۔ شروع شروع میں جب یہ افتاد پڑی تو ہم خاصے پریشان ہوئے کہ آفس میں بھی بھاگتے رہو اور اب گھر جانے کے لیے بھی اتنا پیدل چلو۔ دن کی روشنی میں تو ذرا سا حوصلہ رہتا ہے، کچھ نہیں، کچھ نہیں تو گیٹ سے لوفر لڑکے پیچھا کرتے کرتے اسٹاپ تک ’بخیریت‘ پہنچا ہی دیتے ہیں۔ بخدا اگر چار چھ لڑکے روزانہ پیچھا کریں تو خاصی ڈھارس بندھی رہتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ آپ کو کچھ کہیں، آپ بس پر سوار ہوچکے ہوتے ہیں۔ مگر جب ذرا شام ڈھلنے لگتی ہے تو بڑا ڈر لگتا ہے، کیوں کہ ان لڑکوں میں بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ اتنے ’میچیور‘ نہیں ہوتے کہ رات کو بھی شریف لڑکیوں کی اسٹاپ یا گیٹ پر حفاظت کیا کریں۔ اور نہ ہی یہ کم بخت رینجرز گھر تک پیچھا کرتے ہیں۔ دراصل ان میں سے اکثر ’اخلاقی جرات‘ کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔

ایک دن جب ہم بہت تنگ آ گئے، تو رونے لگے۔ ’انہوں‘ نے ہمارے آنسو پونچھے (آنسو پونچھنے کی تفصیل بھی بتائی جا سکتی تھی، مگر موصوف کی ناراضگی کے خیال سے یہ حصہ ’بادل ناخواستہ‘ حذف کیا جاتا ہے ) اور کہا، ”رفعت! اگر دیر ہو جایا کرے تو چلنے سے پہلے فون کر دیا کرو۔ میں وقت کا حساب لگا کر تمہیں لینے آ جایا کروں گا۔ میں یہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کروں گا کہ میری ’پیاری‘ سی بیوی اور اتنا پیدل چلے“ (اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں ہے کہ محبت اندھی ہوتی ہے تو کسی دن فرصت نکال کر ہمیں دیکھنے آ جائیے، یقین آ جائے گا)۔ خیر صاحب! اس دن چلنے سے پہلے ہم نے ایک فون کھڑکا دیا۔ اب منظر کچھ یوں تھا۔

ایک لڑکا، اسمارٹ سا، ہرے رنگ کی بائیک پر ہرے رنگ کا سوئیٹر پہنے، ”PSO“ کے پیٹرول پمپ پر کافی دیر سے بے مقصد کھڑا ادھر ادھر تاک رہا ہے۔ صرف آتی جاتی لڑکیوں کو نہیں دیکھ رہا (شاید نظر کمزور ہے) ورنہ اس نے سامنے پھدکتی چڑیا کے پر بھی گن لیے ہیں۔ ایک بڑے میاں کو دیکھ کر دانت بھی نکالے ہیں، جس سے اندازہ ہوا کہ اس کے دانت کافی لمبے لمبے ہیں۔ شاید اس کے کانوں کی لمبائی اس کے دانتوں سے کم ہے۔ چہرے مہرے سے پرلے درجے کا کاہل اور کام چور لگتا ہے۔ لگتا ہے کہ اس کے آباؤ اجداد نے کبھی ہل کر پانی نہیں پیا ہو گا۔ پھر بیزاری سے سرجھکا کر نظریں اپنے ناخنوں پر جما دی ہیں۔ لگتا ہے کہ اپنے گندے ناخنوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ کل ضرور کاٹ لوں گا۔ تین چار بار منہ کھول کر جمائیاں بھی لے چکا ہے اور منہ کی آخری حدیں کھول کر جمائیاں لے رہا ہے کہ حلق کا کوا تک بیزاری سے پھڑکتا ہوا صاف نظر آ رہا ہے۔ بالکل تیار بیٹھا ہے، مگر کس کے لیے؟ سمجھ میں نہیں آتا۔

آسمان کے بادلوں کا بھی جائزہ لے چکا ہے۔ کوئی فراق کا مارا ایسا عاشق لگتا ہے، جسے محبوبہ کے ماموں نے لان سے محبوبہ کے قدموں سے اکھاڑ کر باہر پھینک دیا ہو، اور جو محبوبہ کے قدموں سے اکھڑتے وقت اس کے جوتے اتارنا نہ بھولا ہو کہ گوشۂ تنہائی میں اپنے سر پر ان سے دھو لیں رسید کرے گا اور آئندہ ایسی محبوبہ سے عشق کرنے کا سوچے گا، جس کا کم ازکم ماموں نہ ہو۔ اگر ممکن ہوا تو ایسی محبوبہ تلاش کرے گا، جس کے ماں باپ ہی نہ ہوں کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی کھوپڑی!

رینجرز کے دل میں طرح طرح کے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں کہ یہ ’لڑکا‘ ہرے رنگ کی بائیک لیے، ہرے رنگ کا سوئیٹر پہنے یہاں کیوں کھڑا ہے؟ کہیں یہ کسی قسم کا ’خفیہ اشارہ‘ تو نہیں؟ یہ یونیورسٹی جاکر کلاشنکوف کیوں نہیں چلاتا۔ ابھی تو اس کی عمر ’گولیوں‘ سے کھیلنے کی ہے، ’دھماکے‘ کرنے کی ہے، پلوں میں شگاف ڈالنے کی ہے، یہ یہاں بلاوجہ اپنا قیمتی وقت اتنی معمولی سی بائیک پر بیٹھے بیٹھے کیوں ضائع کر رہا ہے؟ کہیں یہ پیٹرول پمپ لوٹنے کے چکر میں تو نہیں، کہیں اس کے ساتھی ادھر ادھر تو نہیں چھپے بیٹھے؟

کہ اتنے میں ایک تیز رفتار وین آ کر رکتی ہے اور اس میں سے ایک معصوم شکل لڑکی لدی پھندی اترتی ہے، جس کے ہاتھ میں ایک اسٹیل کا ڈونگا ہے۔ پتا نہیں اس میں کیا ہے؟ کوئی بم وم؟ جس کے چہرے پر ہرنیوں والی وحشت ہے۔ وہ ڈری، سہمی اپنی غزالی آنکھیں ادھر ادھر نچاتی ہے اور پھر ایک نکتے پر آ کر اس کی نظریں جم جاتی ہیں، لبوں پر ایک معصوم سی مسکراہٹ تیر جاتی ہے اور وہ بے اختیار ہو کر آگے بڑھتی ہے۔ ویگن کا ڈرائیور بھی ٹھٹھک کر مشکوک نظروں سے اس بے اختیاری کو دیکھتا ہے۔

لڑکی کی نظریں اسی نکتے پر جمی ہوئی ہیں۔ ذرا نہیں ہٹتیں۔ ’لڑکا‘ بے اختیار سا ہو کر اپنی ہری بائیک کو کک (Kick) لگاتا ہے۔ اس کی بے صبری اس بات کی مظہر ہے کہ یہی تھی وہ کہ جس کا اسے انتظار تھا۔ جس کے فراق میں گھلتے ہوئے وہ اپنے گندے ناخنوں کو دیکھتا رہا تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے پر نظریں جمائے آگے بڑھتے ہیں۔ دونوں کی ایک ایک ادا سے والہانہ پن ٹپک رہا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹ ہے، آنکھوں میں چمک ہے، لڑکی کو بھی ادھر ادھر کا ہوش نہیں، لڑکے کو بھی وہ مچھر یاد نہیں، جو اس کے پاؤں پر کاٹ رہے تھے۔ لڑکی اچک کر بائیک پر چڑھتی ہے اور لڑکے کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے۔ لڑکا بائیک موڑتا ہے اور یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف آتا ہے کہ ایک دم سے بندوق کی دو نالیں آگے آتی ہیں اور ایک گرجدار آواز پوچھتی ہے،

”رک جاؤ! یہ تم کہاں جا رہے ہو؟“
”اندر۔“
”اندر کہاں؟“
”کیمپس میں۔“
”کیمپس میں کیا کرنا ہے؟“
”ہم وہاں رہتے ہیں۔“
”تم کیا کرتے ہو؟“
”میں پڑھاتا ہوں۔“
”کس کو ؟“
”ظاہر ہے کتے، بلیوں کو تو پڑھانے سے رہا۔“
”کیوں جھوٹ بولتے ہو؟“
”جھوٹ نہیں بول رہا، یہ رہا میرا کارڈ۔“
”یہ کون ہے؟“
”کون؟“
”یہ جو تمہارے پیچھے بیٹھی ہے؟“
”بیوی ہے میری۔“
”بیوی؟“
”ہاں تو اور کیا؟“
”یہ تم اس کو ’کس طرح؟‘ اندر لے جا رہے ہو؟“
”جس طرح ساری دنیا کے شوہر اپنی بیویوں کو لے کر جاتے ہیں۔“
”کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ یہ تمہاری بیوی ہے؟“
”شکل سے نہیں لگتی؟“
”نکاح نامہ کہاں ہے؟“
”چوہے کھا گئے۔“
”کیا؟“
”بھئی کہا ناں، چوہے کھا گئے۔“
”یہ کیا بکواس ہے؟“

”بکواس نہیں حقیقت ہے۔ حفاظت کے خیال سے کتاب کے کور“ Cover ”کے اندر رکھ دیا تھا اور وہ کتاب چوہے کتر گئے۔“

”بکو مت، سیدھی طرح چلو بڑے صاحب کے پاس۔ وہ تمہیں بتائیں گے کہ نکاح نامہ کیسے برآمد ہوتا ہے۔“

اور وہ اس لڑکے، لڑکی، ہری بائیک اور اسٹیل کے ڈونگے کو بڑے صاحب کے پاس لے گئے۔ انہوں نے جو ’لڑکے‘ کا جواب سنا تو ان کی آنکھیں بند ہونا بھول گئیں۔ کافی دیر تک پھٹی پھٹی نظروں سے ہمیں دیکھتے رہے، پھر ہونٹوں پر زبان پھیر کر بھرائی ہوئی آواز میں بولے، ”کیا آپ نے چوہے کے دانتوں کے ’فنگر پرنٹس“ Finger Prints ”لیے تھے؟ کیا وہ واقعی‘ چوہا ’تھا؟ جو آپ کا نکاح نامہ کھا گیا؟“ پھر آگے کو جھک کر سرگوشی میں بولے،

”یار! واقعی تم دونوں ’سگے‘ میاں بیوی ہو؟ کوئی کاغذی ثبوت؟“

Facebook Comments HS