اچھوت کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے
سب سے پہلے میں لمز یونیورسٹی کا شکر گزار ہوں کہ جس نے میری سندھی شاعری کے سرائیکی ترجمے کی تقریب رونمائی رکھی۔ مجھے، میری شاعری کو اور دو خطوں کی مادری زبانوں کو قبولیت کا اعزاز بخشا۔ ہم تھر اور تھرپارکر سندھ کے رہنے والے ہیں اور اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں انتہائی مجبوری کے عالم میں بولتے ہیں۔ اس لیے میری اس اردو گفتگو میں کسی بھی طرح کی کمی بیشی کو در گزر فرمایا جائے۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ میں پاکستان کے انتہائی اہم تعلیمی ادارے میں اپنی شاعری میں ابھرنے والے نئے سورماؤں کی داستان بیان کروں گا۔
اور اپنے محبوب پہاڑ کارونجھر کا مقدمہ پاکستان کے انتہائی ذہین اور مستقبل کی قیادت کرنے والے طلبا اور طالبات کے سامنے رکھوں گا۔ ہم صدیوں سے ظلم و جبر کی آندھیوں سے لڑتے آئے ہیں اور اس وقت بھی ہمیں اچھوت اور جنگلی کہا جاتا ہے لیکن کوئی بھی ہتک، طنز اور تذلیل ہمیں اپنی دھرتی سے محبت اور ماں بولی بولنے سے نہیں روک سکتی۔ ہماری نظر میں اپنا لباس اور زبان بدلنے والا بہروپیا کہلاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی بد قسمتی کیا ہو سکتی ہے ہم اپنی فطری پہچان کو بھلا دیں۔
ہمیں دھرتی، زبان، نمک کے میدان، پہاڑ، جنگل اور دریا قدرت نے عطا کیے لیکن ہم وہ بد نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دریا بیچ دیے، پہاڑ فروخت کر رہے ہیں، جنگل کاٹ رہے ہیں اور ما بولیوں کو بھول رہے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے نصابی ہیروز وہ ہیں جنہوں نے ہماری دھرتی پر حملہ کیا۔ مردوں کو غلام بنایا اور معزز خواتین کو اپنے ملک میں لے جا کر اپنے شہروں کے چوراہوں میں کنیزیں بنا کر بیچا۔ اپنی پہچان اور نئے شعور کا یہی اظہار تھا کہ جب ون یونٹ کے زمانے میں سندھ کا نام لینے پر بندش تھی تو مارشل لا ڈکٹیٹر ایوب خان نے سندھ کے عظیم شاعر شیخ ایاز سے ایک تقریب میں پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں تو انھوں نے جواب دیا:
”میں سندھ کا رہنے والا ہوں“
ایوب خان نے کہا:
”سندھ تو بڑا ہے“
شیخ صاحب نے جواب دیا:
”میں بھی بڑا ہوں۔“
اسی تقریب میں شیخ ایاز نے اپنی یہ نظم پڑھی
میری قیمت پوچھتے ہو آمر
تو میرا ایک گیت بھی نہیں خرید سکتا
اس کے بعد ان کی کتابیں بین ہوئیں اور انہیں ساہیوال جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہی وہ دور تھا کہ جب سندھی شاعری نے ایک نئی کروٹ لی اور ہم نے تھوپے ہوئے حملہ آور ہیروز کی جگہ اپنے سورماؤں کو گایا۔ اور آج میں آپ کے سامنے اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنے شاعری میں نئے سورما اور سورمیوں کا اضافہ کیا ہے۔ یہ سورما اور سورمیاں وہ ہیں جنہیں اچھوت اور جنگلی کہہ کر نظر انداز کیا گیا تھا۔
یہاں ستم یہ ہے کہ ہمیں جنگلی اور ڈاکو ثابت کرنے کے لیے خود ہمارے ڈرامہ نگاروں کو پی۔ ٹی۔ وی پر خصوصی اسپیس دی گئی۔ تاکہ ہمیں پورے ملک میں غیر تربیت یافتہ اور غیر مہذب کہا جا سکے۔ آپ کے سامنے یہ کہنے کے لیے آیا ہوں کہ ریاستی میڈیا نے ہماری غلط تصویر پیش کی ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ابھی یہاں ہمارے گلوکار صادق فقیر کا ذکر ہوا صادق فقیر جنت سے سندھ لوٹا تھا اس کی موت مکہ میں واقعہ ہوئی تھی لیکن اس کی تدفین سندھ میں ہوئی اور اس کا جنازہ اگر گوردوارے سے گزر رہا تھا مندر سے گزر رہا تھا مسجد سے گزر رہا تھا امام بارگاہ سے گزر رہا تھا تو ہر عبادت گاہ سے اور ہر گہر سے اس پہ پھول پھینکے جا رہے تھے ۔
ہم ایسے جنگلی لوگ ہیں جو گزشتہ سال آپ کے لاہور سے تقریباً دو ہزار کلو میٹر دور ننگر پارکر میں گلابی گرینائیٹ کے پہاڑ کارونجھر کے دامن میں جب ہم نے رفعت عباس کے سرائیکی ناول ”نمک کا جیون گھر“ کی تقریب رونمائی کی تو لاہور اور اسلام آباد سے کچھ ناول نگار دوست شریک نہ ہوئے کہ ان کا خیال تھا کہ وہاں ڈاکو بستے ہیں۔
ہم اس تعارف کے باوجود شاعری کرتے ہیں۔ ناول لکھتے ہیں، گیت گاتے ہیں اور رقص کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اچھوت کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے۔ آریاؤں نے ہماری گلے میں برتن باندھے کہ ہم زمین پر تھوک نہ سکیں۔ ہمارے پیچھے جھاڑو باندھے کہ ہمارے پاؤں کے نشان زمین پر باقی نہ رہیں لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ہم اپنے پاؤں کے نقوش کے ساتھ موجود ہیں۔ آج ہم پھر ایک نئے المیے کا شکار ہیں۔ ہمارے دریا یا تو سوکھ گئے ہیں یا ہمیں ڈبو دیتے ہیں۔ ہمارا سمندر پیاسا ہے۔ وہ میٹھے پانی کی تلاش میں ہمارے شہروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور آنے والے بیس چالیس سالوں میں ہمارے دو ضلعے ٹھٹھہ اور بدین مٹنے کے خدشے سے دو چار ہیں۔ دریاؤں میں صرف انسانوں کا حصہ نہیں ہے بلکہ پرندوں، آبی حیات، نباتات اور خود سمندر کا بھی حصہ ہے۔
یہ حصہ چھینا جا رہا ہے۔
میں آپ کو یہ بھی بتانے کے لیے آیا ہوں کہ دریائے سندھ اپنے ڈیلٹا تک نہیں پہنچ رہا۔ یہ پیاسا سمندر آپ اور میرے تصور سے بہت آگے تک آ جائے گا۔ یہ وہ بات ہے جو صاحبان اقتدار کو سمجھ نہیں آ رہی لیکن آپ اس کو سمجھ رہے ہیں۔
میں یہاں اپنی ذاتی پذیرائی کے لیے نہیں آیا لیکن اس ملک کے ایک تمام بڑے تعلیمی ادارے کے شاگردوں اور استادوں کے سامنے گلابی گرینائیٹ کے ایک حسین ترین پہاڑ کارونجھر کا مقدمہ رکھنے آیا ہوں۔ میں یہ بتانے آیا ہوں کہ اس کرہ ارض کے ایک نادر پہاڑ کو کاٹا اور بیچا جا رہا ہے۔ وہ لوگ جو اس ملک کو مال غنیمت اور انڈسٹری سمجھتے ہیں وہ اسے کاٹ اور بیچ رہے ہیں اور زمیں زاد اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہم طاقت ور مافیاؤں کے سامنے اس پہاڑ کو نہیں بچا پا رہے۔
آپ کی آواز، آپ کا ایک پوسٹر، آپ کی ایک پینٹنگ، آپ کا ایک فوٹو گراف آپ کا ایک بینر، آپ کی ایک تقریب، آپ کا ایک ٹویٹ اس پہاڑ کا تحفظ کر سکتا ہے۔ میں آپ کو ننگر پارکر آنے اور قدرت کی آرٹ گیلری جیسے اس پہاڑ کو دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں۔ اس موروں سے معمور پہاڑ کو دیکھ کر سرائیکی کے شاعر رفعت عباس نے کہا تھا کہ اس پہاڑ کی چٹانوں پر عہد بہ عہد تہذیبیں منقش ہو گئی ہیں۔ آپ اس پہاڑ کو دیکھنے آئیں کہ یہی میری شاعری ہے۔


