گیلری خالی ہے!


ہم آج ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں میلوں کے فاصلے اب قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں اپنے پیاروں سے یاروں سے ”اگر“ رابطے میں رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔ نہ ملنا چاہیں تو ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ ہمہ وقت ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹانے اور بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یوں فاصلے سمٹ کر بھی بڑھتے ہی رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھ نہیں پاتے، یا سمجھنا ہی نہیں چاہتے؟

ٹیکنالوجی کے اس دور میں پیش آنے والی مشکلات کو اگر عورت کی نگاہ سے دیکھیں تو زندگی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ جہاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا تک آسان رسائی نے خواتین کی زندگی کو سہل بنایا ہے وہیں تشدد و ہراسانی کے نت نئے طریقوں نے ان کی مشکلات میں خاصہ اضافہ کیا ہے۔ پہلے صرف اجتماعی زیادتی، جنسی تشدد، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے کے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہوا کرتے تھے۔ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد اب جعلی ویڈیو، آڈیو اور تصاویر وائرل ہوا کرتی ہیں۔ نئے دور کے نئے تقاضے ہیں۔ پہلے ساتھ کام کرنے والے اسکرین کے پیچھے اجنبی بن کر چھیڑا کرتے تھے۔ اب پیغام بھیجتے ہیں کہ میں نے نیا آئی فون خریدا ہے اور گیلری خالی ہے۔

خواتین پاکستان کی کل آبادی کا نصف ہیں، جب کہ شرح تعلیم میں نصف سے بھی کم ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ برائے 2022 کے مطابق صنفی تفریق کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ یعنی کہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک صنفی خلیج کی فہرست میں 146 ممالک میں سے 145 ویں نمبر پر ہے۔

رجعت پسند معاشروں میں عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ شروع ہی سے بچوں کو صنفی تفریق کے سانچوں میں ڈھال کر پالا پوسا جاتا ہے۔ لڑکیوں کو عام طور پر صنف نازک کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے جبکہ لڑکوں کو بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ وہ جسمانی طور پر مضبوط ہیں۔ درد مرد کو نہیں ہوتا، مرد محافظ ہیں عورتوں کے لہذا وہ ان سے برتر ہیں۔ اس کے برعکس لڑکیوں کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ گھر کی عزت و رونق ان سے ہے۔ امور خانہ داری کو سلیقے سے کیسے انجام دیا جائے یہ گھر میں بیٹھی بڑی بوڑھیاں سکھاتی ہیں۔ میاں کو مٹھی میں کرنا، نند کو نتھنی ڈالنا، ساس کی فرمانبرداری یا پھر بگڑی ساس کو سیدھی راہ پر لانے کے گر بھی مفت سکھاتی ہیں۔ جب ساس صراط مستقیم، نند پیا گھر اور شوہر مٹھی میں آ جائے تو پھر زندگی میں بچوں کی بہار آتی ہے سنگ ”نیپیوں“ کی خوشبو لاتی ہے۔

یہ تو ہو گئی گھریلو مسائل کی بات، اب ذرا گھر سے باہر کی دنیا کا ذکر ہو جائے۔ گھر سے باہر نکلنا کسی گھاٹے سے کم نہیں۔ اگر کوئی ہراس کرے تو گھر میں اس لیے نہیں بتایا جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حصول تعلیم میں ان کی شکایت حائل ہو جائے۔

اگر کسی لڑکی نے غلطی سے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے کی جسارت کر لی تو الٹا مورد الزام ٹھہرایا جانا اس کے مقدر میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جسے سادہ الفاظ میں ’وکٹم بلیمنگ‘ کہا جاتا ہے۔ 2002 کی بات ہے جب کوہاٹ کی زعفران بی بی جنسی زیادتی کا کیس لے کر پولیس تھانے پہنچیں تو اسے زنا کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ مقامی عدالت نے اسے سنگسار کرنے کا فیصلہ سنایا۔ بعد ازاں میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنان کے دباؤ کی وجہ سے عدالت کو اپنا فیصلہ معطل کرنا پڑا۔ اس واقعے کے کم و بیش تین سال بعد مختاراں مائی کیس میڈیا کی زینت بنا۔ پرویز مشرف نے بحیثیت صدر پاکستان امریکی دورے کے دوران اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پاکستان میں عورتیں امریکہ اور کینیڈا کا ویزہ لینے کے لیے اپنا ریپ کرواتی ہیں‘ ۔

جب کہ عمران خان نے موٹروے ریپ کیس تناظر میں کہہ چکے ہیں کہ کم کپڑے پہننے والی خواتین مردوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں۔ ایک ایسا سماج جہاں جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے پر یقین رکھا جاتا ہو بھلا ایسے معاشرے میں کوئی خاتون یہ سوچ بھی کیسے سکتی ہے کہ وہ گھر سے اکیلی نکلے، سر پر دوپٹہ بھی نہ اوڑھا ہو اور ساتھ محرم بھی نہ ہو تو ایسے میں وہ کیسے محفوظ رہ سکتی ہے؟ ایسا سمجھتے تھے لاہور پولیس کے سابق چیف مرحوم عمر شیخ۔ مرحومین، پرویز مشرف اور عمر شیخ صاحب زندہ ہوتے تو کوئی ان سے پوچھتا کہ مظفر آباد میں اپنے سگے باپ اور بھائی کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی کم عمر لڑکی نے کپڑے کم پہنے تھے یا اسے بھی امریکہ اور کینیڈا کا ویزہ چاہیے تھا؟

بارہا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سماج میں مردوں کی اکثریت شاید ”گاڈ کمپلیکس“ کا شکار ہے۔ گاڈ کمپلیکس کے شکار افراد سمجھتے ہیں کہ وہ با اثر اور دوسروں سے ہر لحاظ سے بہتر و برتر ہیں۔

مردوں کی اکثریت ایسا کیوں سوچتی ہے؟ کہیں مسئلہ پرورش کا تو نہیں؟ ہم ایک پدر شاہی معاشرے میں رہتے ہیں، قوانین چاہے جتنے بنا لیں صنفی تشدد، امتیازی سلوک کا یہ سلسلہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہونے والا۔ اگر ہم صنفی تشدد، جنسی زیادتی کو واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ نہ جانے کیوں ہم اس وقت تک خاموش رہتے ہیں جب تک صورتحال قابو سے باہر نہ ہو جائے، ہمیں سوچنا ہو گا اس طرف توجہ دینا ہوگی۔ نہ چپ رہنا حل ہے نہ گھر بیٹھنا نہ تعلیم ترک کرنا نہ نوکری چھوڑنا۔ ہمیں خواتین کو با اختیار بنانا ہو گا، تعلیم کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانا ہو گا، بچوں کی پرورش کے طریقہ کار کو بدلنا ہو گا تب جا کر معاشرہ بدلے گا۔

Facebook Comments HS