عمران بھائی نے کر دکھایا
مانا کہ حکومتیں اور ادارے ایک دوسرے کی پالیسیوں سے اختلافات رکھتے آئے ہیں لیکن کسی بھی مہذب معاشرے میں یا پاکستان جیسے اہم ملک میں جہاں عسکری اداروں کا دنیا کے دوسرے ممالک میں عزت کے ساتھ ساتھ بڑا رعب و دبدبہ ہے اقوام متحدہ سے لے کر سعودی عرب سمیت دوسرے اسلامی ممالک میں پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں عسکری اور سول حکومتوں کے درمیان تنازعات کا سلسلہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر میاں نواز شریف تک چلتا آیا ہے۔ ہر حکومت نے اداروں کے ساتھ معاملات کو چاردیواری کے اندر بیٹھ کر ہی حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
عمران خان جو اس وقت اپنے ردعمل کے ذریعے پاک فوج کا سب سے بڑا حریف بن کر سامنے آیا ہے ایک وقت تھا کہ عمران خان دن رات میڈیا کے سامنے جنرل باجوہ اور پاک فوج کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا تھا۔ لیکن اپنی غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اپوزیشن نے عدم اعتماد کی کامیاب تحریک سے اسے حکومت سے جب فارغ کیا تو اس نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے پاک فوج سے ٹکر لینے کا منصوبہ بنایا اور ہر جلسے میں پاک فوج کے سرونگ افسر کو ڈرٹی ہیری کہہ کر الزامات لگائے، بعد میں اس نے ڈرٹی ہیری کی جگہ جنرل فیصل نصیر کا نام لینا شروع کر دیا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ان پر دو بار قاتلانہ حملہ، اعظم سواتی پر تشدد اور صحافی ارشد شریف کے قتل کے پیچھے جنرل فیصل نصیر کا ہاتھ ہے۔ جواب میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان الزامات کو بے بنیاد غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد قرار دیا، ادارہ جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس پریس ریلیز کے تھوڑے دن کے بعد نیب نے عمران خان کو القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں گرفتار کر لیا۔
عمران خان کو نیب کی تحویل میں ابھی دو دن ہی ہوئے تھے کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے عمران خان کو فوراً طلب کرنے کی ہدایات جاری کر دیا۔ عمران و عمر عطا بندیال کی محبت بھری کہانی سنانے سے پہلے بتانا ضروری ہے کہ عمران کی گرفتاری پر پاکستان نے بلکہ دنیا نے وہ نظارے دیکھے جس کی خواہش اور امیدیں اسرائیل اور بھارت برسوں سے سینے میں چھپائے ہوئے تھے۔
عمران خان کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی پی ٹی آئی کے حامی اس منظم طریقے سے سڑکوں پر شر پھیلاتے نظر آئے جیسے وہ پہلے سے جانتے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے، کس سڑک اور کس راستے کو بند کرنا ہے اور کہاں آگ لگانی ہے، جس کی تصدیق پارٹی کے منصوبہ ساز اہلکاروں کی آڈیو لیک نے کر دی۔ جس میں کارکنان کو کہا جا رہا ہے کہ لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس پہنچو، پھر اعجاز چوہدری کی آڈیو لیک نے تو رہی سہی کسر ہی نکال دی جس میں وہ بڑی رعونت سے اپنے بیٹے سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگا دی گئی ہے اور اس کے گھر کا تو گملا تک نہیں چھوڑا جو سب سے اہم بات اعجاز چوہدری نے کی وہ یہ کہ ہاں ان کی (میتھ) تو ختم کر دی۔
ایسے ڈائیلاگ اس سے پہلے ہم نے انڈین فلموں میں سنے تھے۔ فلمیں تو تصورات اور خواہشات پر مبنی ایسی امیدیں ہوتی ہیں جنہیں تکمیل کی تعبیر نہیں ملتی اسی لئے بھارتی فلم کا معروف ڈائیلاگ تھا کہ ( ہم نے انہیں گھر میں گھس کر مارا ہے ) شاید آج اسی لئے بھارت میں جشن کا سماں ہے مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں کہ جو ہم سے نہ ہو سکا وہ عمران بھائی نے کر دکھایا۔
پارٹی کے منصوبہ سازوں کے تیار کردہ شرپسند انتشاریوں نے افواج پاکستان کی اہم ترین عمارتوں اور دفاعی علامتوں پر حملے اور انہیں نقصان پہنچایا، پاکستان فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو کے مین گیٹ کو توڑا، لاہور کے کور کمانڈر کے گھر کو پہلے بے دردی سے لوٹا گیا پھر توڑا گیا اور اس کے بعد آگ لگا دی گئی افسوس یہ گھر صرف لاہور کے کورکمانڈر کی رہائشگاہ ہی نہیں تھی بلکہ یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کا گھر بھی تھا جس کے ایک کمرے میں قائد کی نوادرات بھی رکھیں گئی تھیں۔ ملک کے دوسرے شہروں میں بھی افواج پاکستان اور دفاع پاکستان سے متعلق علامتوں اور شہداء کی نشانیوں کو توڑا گیا انہیں نقصان پہنچایا گیا۔ سیالکوٹ ایئرفورس کے دفتر کے باہر تاریخی سیسنا جنگی جہاز کو ایسے تباہ کیا گیا جیسے وہ پاکستانی فوج کا نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کا جہاز ہو۔
جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کی احتجاج کے نام پر دل دہلا دنے والی دہشتگردی پر کہا کہ کوئی بھی لیڈر اس تمام عمل سے جو اس کے کارکنان کرتے ہیں بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جواب میں اپنے لاڈلے کے دفاع میں ایک دم چیف جسٹس بولتے ہیں کہ ہمارے سامنے تو یہ ضمانت کا معاملہ ہے۔ باقی کیا ہوا وہ سب کچھ ہمارے سامنے نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے سرکاری، نیم سرکاری، فوجی تنصیبات اور شہداء کی نشانیوں کو آگ لگانے جیسے تلخ حقائق کے حوالے سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی طرف سے مکمل طور پر اجتناب اور بے حسی کے مظاہرے کا کیا مطلب لیا جائے۔ اتنے بد ترین سیاسی معاملات سے ایک منصف اعلی کا نظر چرانا حیران کن عمل ہے۔ یہ وہی منصف کی کرسی ہے جس پر بیٹھ کر چیف جسٹس ایک اداکارہ سے دو شراب کی بولتیں نکلنے پر پتا نہیں کیوں از خود نوٹس لے لیتا ہے۔ اور آج ملک کا ایک حساس ادارہ جس کی عزت پر ایک تخریب کار ذہن کا مالک سیاستدان ہاتھ ڈالتا ہے اس کی سرزنش کرنے کی بجائے اسے قومی مجرم ٹھہرانے کے بجائے اسے باعزت رہا کر دیا جاتا ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان کی طرف سے ماضی میں ایسی کوئی حرکت نہیں کی گئی جس کے بدلے پاک فوج کی طرف سے قومی اخبارات میں یہ ہیڈ لائن لگے کہ جو دشمن 75 سالوں سے نہ کر سکا سیاسی گروہ نے کر دکھایا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان کے ہاتھوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں کارکنان کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری نعرہ لگاتے ہیں پاکستان کھپے، جس کے بعد سارے پاکستان میں جیالے صبر کا گھونٹ پی لیتے ہیں۔
تیسری بار میاں نواز شریف کو زبردستی حکومت سے اتارا جاتا ہے تو وہ غم و غصے میں جی ٹی روڈ سے احتجاجی ریلی نکالتے ہیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہیں اور کسی کارکن کو انتشار پر نہیں اکساتے۔ لیکن جس برے طریقے سے عمران خان نے اپنے بلوائیوں کے ہاتھوں ملک میں بلوے کروا کر تباہی پھیلائی اسے لوٹا اس کی مثال نہ پہلے ملتی ہے نہ بعد میں ملے گی۔
فوجی املاک و تنصیبات پر دشمنوں کی طرح حملہ کر کے نقصان پہنچائے جانے کے بعد پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ نے انتہائی اہم بیان دیا جس کا ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے جس میں کہا گیا کہا کہ، عمران خان کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا، اس کی گرفتاری کے بعد ایک منظم طریقے سے آرمی کی املاک پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے لگوائے گئے، ایک طرف یہ شر پسند عناصر عوامی جذبات کو اپنے محدود مقاصد اور خود غرضی کی تکمیل کے لئے بھرپور طریقے سے ابھارتے ہیں جو سہولت کار منصوبہ ساز اور سیاسی بلوائی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ قومی و ریاستی تنصیبات اور املاک پر کسی قسم کا مزید حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا جس کی مکمل ذمہ داری اس ٹولے پر ہو گی جو پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیل رہا ہے اور برملا وہ متعدد بار اس کا اظہار بھی کر چکا ہے۔
ایک طرف آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز ہے جس میں وہ عمران خان اور اس کے بلوائیوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کے سہولت کاروں کی نشاندہی پر سخت کارروائی کی بات کر رہے ہیں کیا افواج پاکستان کا موقف درست ہے یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے ریمانڈ پر عمران خان کا ( یک نکاتی) کیس سننا اور انہیں ناقابل یقین غیر منصفانہ سہولیات دینا جن میں معزز چیف جسٹس نے عمران خان کو القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں ضمانت کے ساتھ لاہور دہشتگردی کے تین مقدمات اور ظل شاہ قتل کیس سمیت ایسے مقدمات جن کا انہیں پتا تک نہیں ان میں بھی ضمانت دے دینا اور انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کرنا، پولیس لائن میں بیگم اور دوست احباب سمیت مہمان بنانے کا فیصلہ درست ہے؟


