اوشو: انسانی نفسیات کا بہت بڑا دماغ


اوشو، (چندر موہن جین) 1931 کو مدھیہ پردیش ضلع ہوشنگ آباد کچ ودا میں کپڑے کے ایک تاجر کے ہاں پیدا ہوا وہ گیارہ بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ شریر بچے کی پرورش نانا نانی کے ہاں ہوئی، اس کا بچپن شرارتوں اور بڑے جیبوں والے کوٹ میں بھرے پتھروں کے ساتھ گزرا۔ نانا کی وفات نے اس کی زندگی پر بہت اثر ڈالا۔ بچپن کی اس گہری وابستگی سے محرومی کا دکھ اوشو کی پوری زندگی پراثر انداز ہوا۔

جب 1953 میں جبل پور ڈی این جین کالج سے فلسفہ میں ایم اے کر لیا تو اس وقت تک وہ تمام مذاہب اور نظریات کا مطالعہ کر کے ایک نتیجے پر پہنچ چکے تھے۔ 1953 ء کو وہ اپنے گیان کا سال بھی کہتے ہیں۔ اس کے اچھوتے انداز اور خطابت کے سحر نے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا ہو گئے۔ لوگ اس کی مالا پہننے اور اس کے زندگی کے نظریے سے وابستہ ہونے لگے۔ روایتی مذہبی سیخ پا ہو گئے۔

چندر موہن جین کا پہلا کمیون 1974 ء پونا میں قائم ہوا۔ اس کی شہرت نے حکومت کو پریشاں کر دیا۔ اسے سیکس گرو کہا جانے لگا اور شہرت کے تعصب نے سچی جھوٹی سب کہانیاں پھیلا دیں۔ سیاستدان اور مذہبی پیروکار اس بارے اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ بھارتی وزیراعظم ڈیسائی بھی گورو پر جملے کسنے لگے۔ ہندو سماج میں گرو کے خلاف متضاد آراء اور سکینڈل ڈسکس ہونے لگے۔ 1981 میں چندر موہن جین کے شاگردوں نے رجنیش پورم کے نام سے امریکہ کے شہر اوریگون میں 644000 ایکڑ پر اپنا کمیون قائم کیا۔ جہاں دنیا بھر سے اہل فن اور ذہین افراد پہنچے۔

گوتم کے اس گیان کہ خاموشی سے بیٹھنا سیکھو، آئینہ بنو، خاموشی تمہارے شعور سے آئینہ بناتی ہے۔ اس گیان کا ایک حوالہ اوشو تھا۔ اوشو شہرت اور شدید الزامات کے نشانے پر رہا۔ لیکن اس آئینے کو وقت اور زمانہ دھندلا نہ کر سکا۔ وہ زندگی سے جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ یہی مصدقہ جینا تھا۔ زندگی کے ہر رویے اور سوچ کے ہر زاویے پر اوشو سے سوال پوچھے گئے۔ اس کا سارا گیان تو سوالوں سے توانا ہوتی فکر پر کھڑا تھا۔ اس نے سوال اٹھایا کہ ہم جنس پرستی دھرم کی ضمنی پیداوار ہے۔ کیونکہ مندروں، نن گاہوں میں عورت ممنوع ہوتی ہے۔ اس لیے ہم جنسی کا چلن عام ہوتا ہے۔ یہ اوشو کا کہنا ہے۔ کچھ علمائے عمرانیاتی اسے فطری یا قدرتی کہتے ہیں۔

اوشو جنس کو ایک عظیم مراقباتی فن کہتا ہے۔ اس کے خیال میں تانترا نے یہ فن عطا کیا یہ پست ترین چیز کو اعلی ترین شے میں ڈھالنے کا نام ہے۔ ماضی کی یہ عظیم ترین سائنس اس دور میں انسان کی بہت سی بدترین ناآسودہ اور غیر معتدل عادتوں کا علاج ہے۔ یہ کیچڑ کو کنول میں بدلنے کی کلید ہے۔ اور جنس پہ اس کا اطلاق اس نفیس جذبے اور رویے کی تہذیب اور تکمیل ہے۔

اوشو جیون کو آئینہ کہتا ہے۔ جو ہمیں چہرہ دکھاتا ہے جس میں سارا جیون منعکس ہونے لگتا ہے۔ دوستانہ رویہ کائنات کو دوست بنا دیتا ہے۔ پھر اندر باہر سب آپ کے مددگار و دوست ہوتے ہیں۔ درخت جانور چیونٹیاں تک۔ اوشو دوستی میں تجربے کرنے پر زور دیتا ہے۔ دشمنی کا سبق ویسے بھی مل ہی جائے گا۔ اس حوالے سے اپنے جسم کے ہر عضو سے اچھا تعلق قائم کرنا آپ کو ٹینشن سے بچا لیتا ہے۔ جہاں ٹینشن اور حدت ہے وہاں دوستانہ لمس اور مشفقانہ پیغام بھیجو۔ جسم و روح کو شانت اور مسرت کا ضامن بنا دینے کا آغاز ہے۔

جنسی عمل کی کاملیت یہ ہے کہ انا غائب ہو

تب کوئی فاعل و مفعول نہیں ہوتا۔ بس ایک انرجی کا بہاؤ ہوتا ہے۔ جو تمہاری روح اور جبلت کو شفاف نفیس و لطیف بنا دیتا ہے۔

اوشو اسے بھگوان کی جھلک اور شعور کی کیفیت کہتا ہے۔ اپنی خواب گاہ کو مندر بنا کر تم پجاری بن جاؤ

پوتر استھان۔ وہ کنول آسن کو نئے جنم اور موت کے لیے بہترین آسن قرار دیتا ہے۔ اگر تم چاہو تو اپنی ہر کیفیت کو مراقبہ کے ماحول میں ڈھال سکتے ہو

جس کے لیے تمہیں کسی نئے اہتمام کی ضرورت نہیں ہوگی حتی کے اولمپکس گیم کھیلتے اور جاگنگ کرتے ہوئے بھی۔ عدم تشدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اوشو نے کہا کہ کہ ہندوستان کے سماج میں عدم تشدد کی تلقین میں اتنی شدت رہی کہ لوگوں نے اب عدم تشدد کا۔ ڈھونگ رچا لیا ہے۔ تشدد کو دبا لیا ہے۔ لوگ آتش فشاں پہاڑ پر بیٹھے ہیں، ذرا سی چنگاری سے لاوہ پھوٹ پڑتا ہے۔

اس کا ثبوت ہے کہ پانچ ہزار سال سے جاری تبلیغ کے باوجود ذرا سی بات پر معمولی سے بہانہ

لوگوں کا ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیتا ہے۔ البتہ اوشو ہندوستان کے انوکھے پن کا بھی قائل ہے اسے ایک استعارہ اور نظم کہتا ہے

خود اوشو کی شخصیت اور تعلیمات ہندستانی تہذیب کے دس ہزار سالہ شعور کے جھماکے ہیں۔

پونا والے کمیون میں اس نے بھگوان کا خطاب اور رجنیش نام ترک کر دیا اور جاپانی لفظ اوشو، محبت احترام، احسان مندی، شعور اور ہستی کا ہمہ گیر پھیلاؤ، اختیار کیا 1989 ء میں اوشو نے آخری لیکچر دیا

آخر میں کینڈین سوامی جیش اور انگریز سوامی ڈاکٹر آمریتوں چوبیس گھنٹے اس کے پاس رہے۔ طبیعت کے بوجھل پن میں اضافہ ہوا امریتو نے نبض دیکھی اور کہا انجام قریب ہے
اوشو نے اشارہ سے جواب دیا کہ اسے علم ہے۔ دل کو دھڑکتا رکھنے کی ڈاکٹر کی خواہش کے جواب میں اوشو نے کہا، بس مجھے جانے دو، ہستی اپنے وقت کا خود فیصلہ کرتی ہے۔ مجھے شمشان گھاٹ لے جانا میری ٹوپی اور جرابیں میرے اوپر رکھ دینا۔

اوشو نے اپنا سٹیریو اپنے کمرے کی صفائی کرتی نروپا کو دے دیا کہ وہ اسے پسند کرتی تھی۔

اپنے ماننے والے کے لیے انھوں نے کہا کہ وہ آزادی سے نمو یاب ہوں وہ محبت علم مسرت جیسی صفات پیدا کریں، محبت جس کے گرد چرچ نہیں بنایا جا سکتا علم کہ جس پر کسی کی اجارہ داری نہیں اور مسرت کہ جس میں انسان کی آنکھیں بچوں جیسی ہوجاتی ہیں۔ اوشو کا آخری جملہ تھا، I leave you my dream،

اپنی راکھ پر نصب کرنے کی لوح نو مہینے پہلے اس نے خود لکھوائی تھی
اوشو
جو نہ کبھی پیدا ہوا۔ نہ کبھی مرا
صرف 11 دسمبر 1931 ء سے 19 جنوری 1991 ء تک اس زمین کے دورے پر آیا۔

اوشو کی چھے سو کتب اور ہزاروں کیسٹیں اس کا علمی ترکہ ہیں۔ اس نے گھٹن میں گھرے اور سہمے اور ممنوع قرار دیے سوالوں کے لیے ماحول پیدا کیا۔ یہ تمنائے بے تاب کو راستہ دکھانے کی ایک ایسی کوشش تھی جو کسی منشور یا نصاب کے بجائے انسانی فطرت کے اصل تقاضوں کے مطابق تھی۔ اوشو نے انسان کو خود کو سمجھنے کے راستے آسان کر دیے اور انسانی نفسیات میں جھانکنے اور وہاں کے سقوط، اضطراب اور خاموشی کو بامعنی بنا دیا۔ اس نے دنیا بھر کے تہذیبی شعور سے وابستہ اذہان کو اپنے آس پاس جمع کیا اور انھیں آگہی کا چراغ تھما دیا۔ اوشو انسانی نفسیات کا ایک بڑا دماغ تھا۔

اوشو نے ہر جذبے تعلق اور کیفیت کی ایک الگ سے انداز سے دیکھا تو بیان کیا ہے۔

جنس محبت سے ہزاروں جذبے رویے اور تعلق جڑے ہیں۔ ایسے ہی مذاہب اور تہذیبوں کے نفسیاتی اثرات ہیں۔ اوشو ان سب کیفیات پر انتہائی گہرائی میں جا کر کچھ گہر نکال لاتا ہے۔ عشق جنس عبادت محبت ہر موضوع پر اوشو نئے دریچے اور امکان کے در کھول دیتے ہیں

محبت کے حوالے سے اوشو کہتے ہیں۔ محبت محتاجی اور باہمی مطلق آزادی کا نام نہیں
محبت باہمی انحصار اور حیرت ناک ہم آہنگی ہے۔ جہاں سانسیں اور جسم تک ایک ہوتے ہیں
جب دوسرے کے لیے جیا جائے
محبت کو داخلی خالی پن اور خوف سے آزاد رکھنا ہوتا ہے۔

اوشو کے گرد ہمیشہ ذہین دماغ موجود رہے۔ جو فطرت کی بے تاب روحیں تھیں، سائنسدان دانشور لکھاری سماجی کارکن سیاسی فراست کے مالک، لینڈ سکیپ آرکیٹیکٹس، انجینئر ترکھان، الیکٹریشن، پونا کوریگاؤں پارک اوشو سنٹر کی ساری تعمیر رضاکارانہ تھی۔ ایسا ہی امریکہ کے آشرم میں تھا۔ ہاں یہاں جو شعور دکھائی دیتا تھا وہ مکمل آزادی اور ہم آہنگی کے احساس سے معمور تھا۔

ایسے ہی امریکہ میں رجنیش پورم کی تعمیرات اور سہولیات تھیں۔ جہاں اوشو کے پیروکاروں کے دیے تحائف میں اوشو کے پاس ایک سو رولز رائس گاڑیاں کھڑی تھیں۔ لوگ اسے پہلے ہی بھگوان سمجھنے لگے تھے۔ امریکہ میں اس کی شہرت تو اور بلندیوں تک جا پہنچی۔

امریکی حکومت مذہبی کمیونوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی۔ میڈیا میں بھی اوشو کے خلاف بہت سی کہانیوں شائع ہوئیں۔ 1985 ء میں اوشو پر امریکہ میں دھوکہ دہی کے پینتیس الزامات عائد کر کے گرفتار کر لیا گیا اور سترہ روز قید رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا۔ اوشو نے دوبارہ دنیا کے سفر پر نکلنا چاہا تو اکیس ملکوں نے اسے ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ آخر جنوری 1987 ء کو اس نے دوبارہ پونا میں آشرم بنا لیا جو، اوشو کمیون انٹرنیشنل، کے نام سے ہے۔ مذہبی آشرموں کے برعکس، جہاں عجیب سی اداسی ہمیشہ چھائی رہتی ہے۔ اوشو کے آشرم میں مسرت اور محبت کا ایک منفرد ماحول ہوتا۔ ہر شخص مسکراہٹ کا تحفہ دینا جانتا اور اپنے اندر کی اداسی سے دامن چھڑائے زندگی کو تبسم ریز لہر بنائے رکھتا

اچاریہ، بھگوان اور پھر اوشو تک سفر 1991 ءکو بہ ظاہر اختتام پذیر ہوا۔ لیکن 2023 ء میں اوشو پھر زندہ ہے۔ اسے شاید اس شدید انقباض اور انکوائری کا احساس تھا جو ترقی اور جمود کی وادیوں میں فکر انساں میں پیدا ہو جانے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوال کی حرمت اور معاشرے کی ہم آہنگی کا چراغ جلا گیا۔ جس کی روشنی کے گرد سوالوں کے پروانے آج بھی فہم و ادراک اور شعور کی تلاش میں ہیں۔

اوشو کی بہت سی تعبیرات آپ کو سپیس اور امکان کے ساتھ نئی کہکشاں دکھاتی ہیں۔
وہ یکتائی کو ایک اور انداز سے دیکھتا ہے

اس کی تعلیمات میں مذہب میں شبہ نہیں اور سائنس میں توکل نہیں چل سکتا۔ سائنس باہر سے کھنگالتی ہے اور مذہب اندر سے کھنگالتا ہے۔ اوشو کی تماثیل عام فہم اور ہماری نفسیات سے قریب تر ہوتی ہیں۔

ہر بڑے آدمی کی طرح اوشو بھی کم لفظوں میں بہت سے زمانوں کی الجھنوں کو ایڈرس کرتا ہے۔ وہ کسی بڑی فلاسفی کے بغیر بتاتا ہے کہ آپ آنکھوں کے ذریعے نہیں سن سکتے

اور اگر کسی ندی کو صحرا سے گزرنا پڑے تو اسے اپنے وجود کو بادلوں میں تحلیل کر کے ہی یہ صحرا پار کرنا ہو گا ہے۔

شعور ایک ندی ہے جس نے صحرا اور سمندر کی طرف سفر کرنا ہوتا ہے۔ سمندر میں گم رہ کر بادل بنتی ہے۔ اور صحرا میں خشک ہو کر بادل بنتی ہے۔ اگر ندی یہ قبول نہ کرے تو وہ پھر سے زندگی نہیں پا سکتی۔

اوشو نے ارتقاء کے حوالے سے سائنسی شعور کو ایک سیدھی لکیر کہا اور مذہبی شعور کو ایک دائرہ قرار دیا۔ اور فرق بتایا کہ ایک سمت ہمیشہ کی بے قراری اور دوسری سمت تکمیلیت کے بعد نئے سفر کے آغاز کی گنجائش ہے۔

اگر ہم کہیں کہ کیا اوشو نے کوئی نئی بات یا نیا دعویٰ کیا تھا تو اس کے لیکچرز اور خطبات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایسا نہیں تھا

اس کے وسعت مطالعہ اور انسانی سماج پر گہری نظر نے اس کے سامنے امکان کے کئی محفوظ پرامن اور مسرت بھرے راستے کھول دیے، دریچے واہ کیے اور اوشو نے اپنے ہنر سے ان دریچوں اور راستوں کو سجا کر یہ پیام دیا کہ خوشی اور اداسی میں سے ہمیں کس چیز کو کیوں اختیار کرنا ہے۔ وہ ثقافتی تضادات سے آگاہ تھا۔ اور ان میں موجود محفوظ اور غیر محفوظ راستوں کے مزاج سے واقف بھی۔ اس کی نظر انسانی شعور کے تقاضوں اور زندگی کے دائرے میں اس کے کردار پر تھی۔ اسی لیے بہت سے لکھنے والے اوشو کو انسانی نفسیات کا ایک بڑا دماغ کہتے ہیں۔

اوشو دنیا بھر میں گھوما لوگوں سے ملا وہ بھی تلاش میں تھا اور جب وہ اچاریہ بنا تو لوگ اس کی تلاش میں تھے۔ وہ صحرا کا متلاشی اور لوگ کسی نخلستان کے تمنائی اس نے انٹرویو دیے مباحثوں میں شریک رہا مصاحبے ہوئے وہ سوالوں اور طعنوں کی زد میں رہا لیکن ایک گہرا سکون اور عجیب سا گیان اس کے لفظوں چہرے اور آنکھوں میں موجود رہا۔ مسرت آمیز طمانیت اور آسودگی اس کی آنکھوں کا بڑا ہتھیار تھا۔ اس نے فکر کو چراغ اور حرف کو طاقت بنا دیا

اس کے پاس بہت کچھ آیا تو بھی چال اور لہجہ فقیرانہ رہا اور اس نے جلاوطنی اور حسد کے دن گزارے تو بھی اس کے تحمل میں کوئی فرق نہیں آیا۔

بڑا انسان سمندر کی طرح گہرا اور بارش کی طرح فیاض ہوتا ہے اوشو ایسا ہی تھا۔

Facebook Comments HS