سندھی عمران خان کے مخالف کیوں؟


2018 کے الیکشن کے دوران عمران خان جب الادین پارک کراچی میں پی ٹی آئی کے سیاسی جلسے سے خطاب کر ہے تھے تو اس دوران عمران خان کے الفاظ کچھ یوں تھے ”کراچی پر اندرون سندھ سے لوگ آ کر حکومت کرتے ہیں“ ۔ یہ الفاظ معمولی نہیں تھے اور یہ الفاظ اس شخص کے تھے جو خود اپنے آپ کے ملکی رہنما ہونے کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ اس وقت شاید عمران خان یہ بھول گئے تھے کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے۔ یہ الفاظ کسی خاص حکمت عملی کے تحت سندھی مخالف زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔

عمران خان کے بیان پر سندھ کے لوگوں کا جواب یہ تھا ”اگر کراچی پر سندھ کے لوگ حکومت نہیں کریں گے تو کیا افغانستان، ہندوستان، بنگلادیش یا پاکستان کے دیگر صوبوں سے لوگ آ کر کراچی پر حکومت کریں گے؟“ ان الفاظ کے بعد سندھ کے لوگوں کو ایک بات واضح ہو چکی تھی کہ پی ٹی آئی صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے مخصوص لوگوں کے مفاد کے لیے کام کر ہی ہے۔ الیکشن گزرنے کے بعد وفاق میں پی ٹی آئی کی اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنائی گئی اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے اکثریت سے حکومت بنا لی۔

حکومتیں بننے کے بعد بات وہیں ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد پی ٹی آئی مکمل نسل پرستی پر اتر آئی۔ کراچی سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کرنے کے بعد عوام کی توقعات پر پورا نہ اترنے پر پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا اور پی ٹی آئی کے ایم این اے عالمگیر خان کی نگرانی میں کراچی کی سڑکوں پر ایک زہریلی مہم چلائی جس میں تعصب کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر ذوالفقار علی بھٹو کی تصویریں گٹر کے ڈھکنوں پر نصب کر کے تذلیل کی گئی۔

ٹویٹر پر ٹرینڈز چلائے گئے کہ سندھیوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں دیا۔ ووٹ دینا ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے اور قومیں ووٹ کسی کی شخصیت کو دیکھ کر نہیں بلکہ اپنے وسیع تر قومی مفاد کو دیکھ کر دیتی ہیں۔ پی ٹی آئی کی یہ بات سندھ کے لوگوں کے لیے حیران کن تھی۔ سندھ کے لوگوں کی نظر میں اگر ہمارے فیصلے ہی باہر سے لوگ آ کر کریں گے تو پھر ایسے ووٹ کا فائدہ کیا۔

2018 میں پی ٹی آئی حکومت نے ایک اور قدم اٹھایا جو کہ سندھ کے لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اور ہے اور وہ قدم دریائے سندھ پر بھاشا ڈیم بنانے کا تھا۔ سندھو دریا پر ڈیم بنانے کی مخالفت سندھی دہائیوں سے کرتے آر ہے تھے اور بھرپور طریقے سے مزاحمت بھی ہوئی ہے۔ بھاشا ڈیم عمران خان کی خواہش پر بن رہا تھا لیکن اس پر عمل کروانے کی اور فنڈ لینے کی ذمے داری اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو سونپی گئی تھی۔ ڈیم بنانے کے خلاف سندھ میں سول سوسائٹی، ادیبوں اور قومپرست تنظیموں کی طرف سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیے گئے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ”بھاشا ڈیم کی مخالفت کرنے والے غدار ہیں اور جو بھی ڈیم کے خلاف احتجاج کرے گا اس پر آرٹیکل 6 لگائیں گے“ ۔ ڈیم کے خلاف سندھ کے لوگوں کے احتجاج کرنے پر پی ٹی آئی کے میڈیا سیل حرکت میں آ گئے۔ سوشل میڈیا پر سندھ کے لوگوں کو بھارتی ایجنسی راء کا ایجنٹ قرار دیا گیا تا کہ ڈیم پر کوئی بھی سنجیدگی سے بات نہ کر پائے۔

ڈیم کا مسئلہ ختم ہی نہیں ہوا سال 2020 میں میں صدر عارف علوی نے ایک متنازعہ آرڈینینس جاری کر دیا۔ اس آرڈینینس کے ذریعے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت جزائر کی ایک اتھارٹی بنا کے سندھ کے جزائر پر مکمل قبضہ حاصل کر نا چاہتی تھی۔ ان جزائر پر قبضہ کرنے کے بعد سرمایہ داروں کے لیے کراچی کے قریب ایک نیا شہر تعمیر کرنا تھا اور اس منصوبے سے سندھ کے لوگوں کا کوئی عمل دخل اور فائدہ نہیں تھا۔ اس غیر قانونی عمل سے سندھ کے لوگوں کو مکمل بے خبر رکھا گیا اور سندھ کی ملکیت اور وسائل کے فیصلے بند کمروں میں اور غیر قانونی آرڈینینس کے ذریعے کئیے جا رہے تھے جو کہ سندھ کے اصل اور حقیقی باشندوں کو ہر گز قبول نہیں تھا۔ سندھ کے ادیب، روشن خیال طبقے اور قومپرست جماعتوں کے احتجاج کے بعد پی ٹی آئی حکومت کو مجبوراً وہ آرڈینینس واپس لینا پڑا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کا وفاق میں ہر عمل سندھ کے خلاف تھا اور سندھ میں پی ٹی آئی کے ہر عمل کے خلاف ایک غم و غصہ ہر مکتب فکر کے لوگوں میں بڑھتا جا رہا تھا۔

پی ٹی آئی کے دور میں ایک اور قدم اٹھایا گیا جس کے ذریعے سندھ کے تین بڑے ہسپتالوں کو پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا گیا۔ جبکہ 18ترمیم کے تحت صحت کا شعبہ مکمل طور پر صوبائی سبجیکٹ تھا اور غیر آئینی اور غیرقانونی طور پر سندھ کے کراچی میں تین بڑے ہسپتالوں این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی مدد سے وفاقی کنٹرول میں دیا گیا۔ اس وقت 18ترمیم کو مکمل روندا جا رہا تھا۔ غیر ملکی شہریوں کو اور خاص طور پر افغانوں کو سندھ میں شناختی کارڈ جاری کیے جا رہے تھے، ملک میں صدارتی نظام لانے کے لیے بند کمروں میں باتیں ہو رہی تھیں۔ صدارتی نظام سے طاقت ایک ہی شخص کے پاس چلی جاتی اور اس سے سندھ، بلوچستان اور چھوٹے صوبوں کی خود مختاری اور حقوق کو سلب کیے جانے کا خطرہ تھا۔

پی ٹی آئی کے دور میں دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ ہمدردیاں دکھائی جا رہی تھیں، دہشتگردوں کو قومی اسمبلی میں شہید کے القاب دیے جا رہے تھے اور ارطغرل غازی جیسے ڈرامے دکھا کر سماج کو مذہبی انتہاپسندی کی طرف دھکیلا جا رہا تھا۔ 2021میں سندھ کی سول سوسائٹی، سندھی قوم پرستوں، بائیں بازوں کی تنظیموں اور سندھ کے روشن خیال طبقے کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کراچی کے سامنے سندھ کی زمینوں پر بحریہ ٹاؤن کے ناجائز قبضے کے خلاف احتجاج رکھا گیا اور اس احتجاج کے دوران بحریہ کے مین گیٹ کو آگ لگ گئی جس پر پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان اور دیگر پی ٹی آئی کے سندھ اسمبلی ممبران نے بحریہ ٹاؤن پہنچ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کی سیاسی جماعتوں کو پاکستان مخالف جماعتوں کے لقب سے نوازا اور اور عمران خان کو سندھ میں مداخلت کی دعوت دی تا کہ سندھ کو من پسند لوگوں کے ذریعے چلایا جا سکے۔

پی ٹی آئی کی حکومت میں جس وقت عمران خان مخالفین پر کرپشن کے الزام عائد کر رہے تھے۔ اس وقت ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمینوں کے سودے سندھ حکومت، سرکاری افسروں اور رٹائرڈ افسروں کو رشوت دیگر، اثر و رسوخ استعمال کر کے اور ڈنڈے کے زور پر صدیوں پرانے مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرتا جا رہا تھا۔ جس پر مقامی لوگوں نے اس زیادتی کے خلاف ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس کر دیا۔ اس وقت عمران خان برطانیہ کی ایجنسی کے واپس بھیجے گئے بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمینوں کی رقم پاکستان منتقل کر کے ملک ریاض کے ساتھ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے لیے اربوں روپے کی زمین حاصل کرنے کے لیے سودا کر رہا تھا۔

وہ پیسہ غریب سندھیوں کی زمینوں کا تھا جس کا سودا عمران خان نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے کیا تھا۔ عمران خان کے پاس اس وقت ایک بہترین موقع تھا اور وہ چاہتے تو ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف قانونی کارروائی کر کے سندھ کے لوگوں کو ان کی زمینوں کے پیسے واپس دے کر سندھ کے کروڑوں لوگوں کی دلوں میں اپنے لیے جگہ بھی بنا سکتے تھے لیکن شاید عمران خان کو سندھ کی عوام سے زیادہ القادر ٹرسٹ کی مفت زمین کا سودا عزیز تھا۔

Facebook Comments HS