کمپنی کی حکومت اور انقلابی مڈل کلاس


ہر بار دھوکا، ہر بار سراب۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے انقلابیوں کا تذکرہ پڑھیں تو لگتا ہے بڑے ہی پڑھے لکھے لوگ تھے مگر تھے بے وقوف۔ شراب پی کر دم پر کھڑے چوہے کی طرح شیخیاں بگھارنے والے، جذباتی اور فاتر العقل۔ منزل کی طلب میں راستے سے بے خبر۔ خود کو بہت بڑا دانشور سمجھنے والے مگر زمینی حقائق سے بے بہرہ۔ انقلاب، انقلاب کے نعروں کی گونج میں آنکھیں بند کر کے اندھے کنویں میں کود جانے والے لوگ۔ کیا ملا ان کو؟ بنانا سپلٹ۔

اور پھر بقیہ نصف بنانا ریپبلک میں سوشلزم کا نعرہ گونجا۔ اب کی بار مزدور اور کسان اس کا ایندھن بنے۔ نعرے کے خالق نے جب ملاؤں کی خوشنودی کے لیے خود ہی اسے مذہبی لبادہ پہنایا تو ان جاہلوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ آخر کار رن پڑا تو کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ لڑ کس لیے رہے ہیں۔ ایسی لڑائی کا کیا نتیجہ نکلنا تھا۔ انقلاب تو پہلے ہی دھندلا گیا تھا ہاتھ کیا آیا؟ ایک لاش۔ جسے مفاد پرست ابھی تک اٹھائے پھرتے ہیں۔

پھر مارشل لاء کے سائے میں جمہوریت کا مروڑ اٹھا۔ فوجیوں سے کوڑے کھانے والے اور ایم آر ڈی کی تحریک کو گرمانے والے یہی جمہوریت کے دلدادہ تھے۔ انھیں جمہوریت کا لالی پاپ بے نظیر کی اٹھاسی کی اپاہج حکومت کی صورت میں ملا مگر جیسے تیسے جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر رواں ہو گئی۔ اگرچہ ڈرائیور منزل مقصود سے پہلے ہی تبدیل ہوتے رہے مگر پبلک کی سمجھ میں خاک نہ آیا۔ جب جب جدھر جدھر کی ہوا چلی تب تب ادھر ادھر کو ہو لیے۔ آخر جمہوریت اتنی توانا ہو گئی کہ طاقت کے اصل مرکز کو آنکھیں دکھانے لگی۔ بم کو لات مارنے کا محاورہ تبھی ایجاد ہوا۔ اب کے کسی کے پیٹ میں مروڑ نہ اٹھا الٹا سب نے جمہوریت کے اسقاط کا جشن منایا۔

پھر جمہوریت لمبے عرصے کے لیے تیل لینے چلی گئی تو ہر طرف سکھ اور شانتی پھیل گئی۔ کچھ عرصہ کان ٹھنڈے رہے مگر تا بہ کے۔ اس مرتبہ انقلاب سپریم کورٹ کے صدر دروازے سے برآمد ہوا اور اس طرح بہہ نکلا جیسے تربیلا ڈیم کا سپل وے کھول دیا گیا ہو۔ میڈیا کی ایسی آزادی نہ پہلے دیکھنے میں آئی تھی اور نہ اس کے بعد نصیب ہوئی۔ چیف صاحب کسی اوتار کی طرح قوم پر نازل ہوئے۔ اب سوچیں تو ہنسی آتی ہے کہ ہم بھی اس دھارے میں شامل تھے مگر سپل وے کے سامنے کون ٹھہر سکتا ہے۔

اسی ہنگام سول سوسائٹی نامی خوابیدہ حسینہ بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی اور چیف کے جلسوں میں چھب دکھانے لگی۔ اب کی بار انقلابیوں کا نعرہ تھا ریاست ہو گی ماں کے جیسی۔ اور جب چیف بحال ہوا تو ہم کو دنوں کو لگا کہ اقبال بانو کی آواز میں فیض کی نظم سچ ثابت ہو گئی ہے۔ اور پھر چشم فلک نے دیکھا کس طرح فیض کی نظم، اعتزاز احسن کا دم خم، سول سوسائٹی کی بہار، وکلاء کی للکار اور ماں جیسی ریاست کا خواب ایک باپ کی بیٹے سے محبت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔

تو پھر کیا کریں کہاں جائیں؟ انقلاب کے تمنائیوں کی اگلی نسل یوں لگتا ہے اس سارے تاریخی شعور کو اپنے اندر سمو کر سوشل میڈیا پر نمودار ہو گئی۔ اس مرتبہ ان کی ترجمانی کا بیڑا ابو قاسم نے اٹھایا۔ نئی نسل ویسے بھی والدین کی عدم توجہی کے کارن کچھ عجیب سی اٹھ رہی ہے اوپر سے سوشل میڈیا مگر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جو مسخ شدہ تاریخ نصاب کی صورت انھیں رٹوا رٹوا کر ہم عاجز آ گئے تھے یہ اس کے پوشیدہ مگر درست پہلو سے نہ جانے کب آشنا ہو گئے اور جب بھی موقع آیا ایسے ایسے حوالے نکال کر پھینکے کہ حیران ہی کر دیا۔

انصاف کے لفظ میں بڑی کشش ہے اور اب اس پہ مستزاد حقیقی آزادی۔ کیا کہنے! روٹی کپڑا اور مکان سے کہیں اعلیٰ اور ارفع نعرے ہیں یہ۔ وہ مڈل کلاس جو تعلیم یافتہ تو تھی مگر جس نے کبھی کاروبار حکومت اور امور مملکت میں دلچسپی ظاہر نہیں کی پہلی بار بڑے پیمانے پر سیاسی سرگرمی کا حصہ بننے کو تیار ہو گئی۔ اس مرتبہ یہ انقلابی پی ٹی آئی کے جلسوں کی رونق بنے اور دنیا میں دھوم مچ گئی۔

دوسری طرف کمپنی جو خاموشی سے اپنا کام کرتی ہے ان کے ہاتھوں طشت از بام ہونے لگی تو سخت تلملائی اور چہرے سے شرافت کا نقاب اتار کر سیدھی ہو گئی۔ مڈل کلاس اپنے زعم میں اس غلط فہمی کا شکار تھی کہ یہ ستر اسی نوے کی دہائی نہیں ہے سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ یہ خوش فہمی اب تک یقیناً رفع ہو گئی ہو گی۔ مڈل کلاس ایک بار پھر بے وقوف ثابت ہوئی۔ اس بات کو نہ سمجھ سکی کہ نہتا شخص ایک اسلحہ بردار کو چیلنج کر کے اپنی بات نہیں منوا سکتا۔

تھانے کچہری کی چکی پیسنا اگر کسی کے لیے مشکل ہے تو وہ یہی مڈل کلاس ہے۔ اشرافیہ اور اس کی کاسہ لیس لوئر کلاس کے لیے تو یہ معمول کی بات ہے۔ مڈل کلاس کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہ اپنی تعلیم و تربیت، پیشہ ورانہ صلاحیتیں، ذہنی قابلیتیں اور زندگی کی جد و جہد جاہل مگر مکار اشرافیہ کی عیاشیوں اور بے رحم اور سنگدل اسلحہ برداروں کی تنخواہوں کے لیے وقف کر دے اور پلٹ کر سوال پوچھنے کی گستاخی کبھی نہ کرے۔ اس کا کام دن رات محنت کر کے جی ڈی پی بڑھانا ہے، پالیسی سازی کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔ اگر پھر بھی بے چینی زائل نہ ہو تو زندان کی اس تاریک کوٹھڑی کا تصور کرے جہاں رفع حاجت کے لیے فرش میں صرف ایک سوراخ ہوتا ہے۔ یقیناً افاقہ ہو گا۔ بڑے آئے انقلابی!

Facebook Comments HS