نصیرالدین شاہ: تجھ سے ناراض نہیں حیران ہوں میں۔
توقع تھی نصیرالدین شاہ صاحب سندھی زبان کے حوالے سے اپنی غلط فہمی/ غلط بیانی پر معذرت کر لیں گے اگرچہ انھوں نے اس سلسلے میں اپنی غلطی کا اعتراف تو کر لیا ہے لیکن معذرت کے دو لفظ نہیں کہے۔ تاہم ہمیں ان کے اعتراف کو ہی ان کی معذرت سمجھ کر انھیں معاف کر دینا چاہیے۔ البتہ اس حوالے سے کچھ معروضات قارئین کو پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں : نصیرالدین شاہ سے عموماً ہر پاکستانی سندھی واقف ہو گا، لیکن حیرت کی بات ہے کہ شاہ صاحب ان سے ناواقف نکلے!
وکی پیڈیا مراٹھی کے مطابق: نصیرالدین شاہ ( پیدائش بارہ بنکی۔ اتر پردیش، 20 جولائی، 1949 ) ایک بھارتی ہندی فلمی اداکار و ہدایتکار ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اجمیر کی ایک اسکول سے اور کالج کی تعلیم سینٹ جوزف کالج نینی تال سے حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور گریجوئیشن کیا۔ انہوں نے دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈراما سے تھیٹر کی بھی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اداکاری کی ابتدا 14 سال کی عمر سے کی اور ان کا پہلا ڈرامہ شیکسپیئر کا ”مرچنٹ آف وینس“ تھا۔
نصیرالدین شاہ نے پہلی شادی پروین مراد عرف منارا سیکری سے یکم نومبر 1969 میں کی تھی، جو کہ ایک مشہور اداکارہ سریکھا سیکری کی سوتیلی بہن تھیں۔ اس شادی کے وقت شاہ صاحب بہ مشکل 19 سال کے تھے جبکہ پروین مراد کی عمر 34 سال تھی۔ وہ علی گڑھ ہی کی طالبہ تھیں۔
بعد ازاں نصیرالدین شاہ نے پروین مراد کو طلاق دے ڈالی، اور یکم اپریل 1982 کو رتنا پاٹھک سے شادی کر لی۔ نصیر الدین شاہ کو پہلی بیگم سے حبا نام کی بیٹی ہے اور رتنا پاٹھک شاہ سے عماد شاہ اور ووان شاہ نام کے دو فرزند۔ شاہ صاحب کی طرح ان کی اولاد بھی اداکاری کے پیشہ سے وابستہ ہے۔
شاہ صاحب سندھی زبان سے ناآشنا ہوں گے۔ اس کا اندازہ تو ہر کسی کو ہو سکتا ہے لیکن وہ سندھیوں کے وجود ہی ناواقف ہیں یہ اس وقت پتہ چلا جب انھوں نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران میں فرمایا کہ، ”سندھی، آف کورس، از نو لانگر اسپوکن ان پاکستان،“ یعنی کہ، ”سندھی، یقیناً اب پاکستان میں نہیں بولی جاتی!“
تاہم میڈیا سوشل میڈیا اور شوبز کی شخصیات کی طرف سے تنقید کے بعد اداکار نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے سندھی بارے غلط کہا ہے۔ ان کے انسٹا گرام پوسٹ کے مطابق ان کے انٹرویو میں کہی گئی دو باتوں کے باعث غیر ضروری تنازعے پیدا ہو گئے ہیں، جن میں سے ایک بات غلط تھی کہ ”اب سندھی، پاکستان میں نہیں بولی جاتی“ ؛ البتہ وہ اپنی اس بات پر اب بھی قائم ہیں کہ مراٹھی زبان کے بہت سے الفاظ فارسی سے لیے گئے ہیں۔
راقم الحروف نے شاہ صاحب کا یہ انٹرویو یو ٹیوب پر دیکھا: ہمارا خیال ہے کہ شاہ صاحب سندھی زبان تو نہیں جانتے تاہم مراٹھی کے بارے میں جب انہوں نے ایسا دعویٰ کیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس زبان سے واقف ہیں۔ کیوں کہ بھارت کے اردو داں پاکستان کے اکثر اردو دانوں کی طرح دیگر بھارتی زبانوں کو شجر ممنوعہ نہیں گردانتے اور اکثر بھارتی اردو دان اردو کے علاوہ دیگر بھارتی زبانوں سے ناواقف نہیں ہیں۔
البتہ جو باتیں شاہ صاحب شاید نہیں جانتے وہ یہ ہیں کہ مراٹھی سے بھی پہلے ماہرین لسانیات کے مطابق فارسی اور سنسکرت کے گہرے اور وسیع تعلقات ہیں۔ اور سندھی اور مراٹھی زبانیں آپس میں ہندی سے کہیں زیادہ ملتی ہیں۔ جیسے کہ وکیپیڈیا مراٹھی میں سندھی زبان کے عنوان کے تحت آیا ہے کہ:
سندھی افراد (یہاں وہ افراد مراد ہیں جن کو خاص طور پر سندھ کے شہروں سے ہجرت پر مجبور کیا گیا) مکمل طور پر مراٹھیوں میں ضم ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک پروفیسر لچھمن ہردوانی نامی صاحب مراٹھیوں کو سندھی اور سندھیوں کو مراٹھیوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ان کا خیال ہے کہ سندھی زبان ہندی کی مقابلے میں مراٹھی سے کہیں زیادہ قریب ہے۔ ہردوانی صاحب چھے سال کی عمر میں مہاراشٹر آئے اور احمد نگر کے ایک کالج میں سے ہندی کے پروفیسر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
ان معروضات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ حقیقتاً مراٹھی کے بارے میں ان کا بیان غلط نہیں لیکن اس بات کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا کہ ہے یہ الفاظ فارسی کے بجائے سنسکرت سے مستعار و ماخوذ ہوں؟ ہم اگرچہ ماہر لسانیات نہیں ہیں تاہم ہمیں پتہ ہے کہ انگریزی، فارسی اور سنسکرت کے کئی الفاظ مثلاً مدر، مادر اور ماتر یعنی ماں، بردر، برادر اور بھراتر یعنی بھائی یا پھر فادر، پدر پتا بمعنی باپ سمیت اچھا خاصا ذخیرہ کافی ملتا جاتا ہے۔
جب کہ سندھی اور مراٹھی آپس میں کتنی ملتی ہیں اس کا اندازہ اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے :
مراٹھی جملہ
تلفظ/ماجھے ناؤ اقبال آہے
سندھی ترجمہ: منھنجو نالو (نانء) اقبال آھے
دونوں جملوں کا اردو ترجمہ: میرا نام اقبال ہے
اب جب کہ شاہ صاحب نے سندھی بارے اپنی غلط فہمی کا اعتراف کر لیا ہے تو انہیں معاف کر دینا فراخ دلی ہو گا۔ راقم الحروف نے اپنے فیس بک پیج پر ”تجھ سے ناراض نہیں حیران ہوں میں۔“ لکھ کر اپنے رد عمل کا اظہار کیا تھا، اب وہ حیرت بھی باقی نہ رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر انسان انسائکلوپیڈیا نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر انسائکلوپیڈیا سب کچھ درست ہی بتا سکتا ہے۔
شاہ صاحب کی اسی منفی بات کی حوالے سے کچھ مثبت باتیں بھی سامنے آئی ہیں جیسا کہ پورے پاکستان کی طرف سے یعنی نہ صرف سندھیوں کی طرف سے میڈیا اور سوشل میڈیا کے طرف سے بلکہ تقریباً پاکستان کی ہر زبان بولنے والے کی طرف سے اور سندھی میڈیا کے علاوہ قومی میڈیا سے یعنی اردو اور انگریزی اخبارات و چینلز کی طرف سے بھی اس سلسلے میں ایک جیسا شدید ردعمل دکھایا گیا۔ اور بتایا گیا کہ نہ صرف کروڑوں سندھی یہ زبان بولتے ہیں کہ بلکہ سندھ میں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد سندھی بولتی ہے او ر اس زبان سے محبت کرتی ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ عام طور پر قومی میڈیا سندھ اور سندھ کے معاملات سے روگردانی برتتا رہا ہے۔
دوسری مثبت بات یہ ہوئی کہ لوگوں نے نصیرالدین شاہ کے اس بیان پر غصہ تو ظاہر کیا لیکن عمومی طور پر ان کے خلاف گستاخانہ طرزعمل اختیار نہیں کیا گیا۔ انھیں محبت اور احترام سے یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ سندھی ایک زندہ زبان ہے اور سندھی ایک زندہ دل قوم۔ جب کہ عام طور پر ایسی کسی بھی بات کے حوالے سے پاکستانیوں / پاکستانی سندھیوں کے طرف سے شدید قسم کا ردعمل آتا رہا ہے۔ جو چیز محبت اور مکالمے کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔
ہمیں یاد ہے کہ شاید واحد سندھی اسٹینڈ بائی کامیڈین نٹالیا گل جیلانی کے طرف سے سندھیوں پر طنز کے خلاف بہت ہی جذباتی انداز میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں سفارتکاروں اور مسخروں (نٹالیا بی بی سے معذرت کے ساتھ) سے بہت زیادہ رو و رعایت برتی جاتی ہے اور ہمارے سماج میں خواتین سے بھی ظاہری طور پرہی سہی۔ لیکن نٹالیا گل جیلانی کے خلاف سوشل میڈیا پر مشتعل نوجوانوں نے انہیں ریپ سے لے کر قتل تک دھمکیاں دے ڈالیں تھیں۔ یہاں تک کہ انہیں وقتی طور پر سوشل میڈیا اور پاکستان سے جلاوطنی اختیار کرنا پڑ گئی تھی۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کتنے غیرروادار لوگ ہیں۔
آنجہانی خوشونت سنگھ مشہور سکھ لکھاری جن کے سکھوں بارے کتنے ہی لطائف مشہور ہیں اور ان کے دو کردار سنتا بنتا بھی کافی جانے پہچانے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے آپ ہنسنا بڑا مشکل کام ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ نٹالیا بی بی نے بھی یہی مشکل کارنامہ سرانجام دیا تھا۔
اس کے باوجود اگر کوئی فرد کوئی ناروا بات کرے تو اس کی تردید یا اس کے خلاف ردعمل جمہور کا حق اور جمہوریت کا حسن ہے تاہم جمہوریت جمہور کو بزعم خود جج اور جلاد بننے کی اجازت قطعی نہیں دیتی۔ نہ ہی مذہب کسی کو ایسے اختیارات تفویض کرتا ہے جس کے کہ ہم بہت بڑے مدعی ہیں!


