عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ ( 3 )

ہمارے گھر قافلے کے ماہانہ پڑاؤ میں عطا الحق قاسمی صاحب کے جگری یار بھی بڑی باقاعدگی کے ساتھ آتے تھے۔ ان میں خالد احمد، امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر اجمل نیازی شامل ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی سے عطا الحق قاسمی کی قرابت داری اور دوستی کے بہت سے قصے مشہور ہیں لیکن بیگم عطاء الحق قاسمی اور بیگم رفعت اجمل نیازی آپس میں دوپٹہ بدل بہنیں بھی ہیں۔ اس حوالے سے بھی عطاء الحق قاسمی نے تعلق داری کے ہر تقاضے کو فرض بھی سمجھا اور قرض بھی۔
ڈاکٹر اجمل نیازی دنیا سے کوچ کر گئے تو اہل ادب نے انہیں بڑا دکھی دیکھا۔ ان کی یاد میں آنسوؤں کو قلم میں ڈبو کر انہوں نے کالم بھی لکھے اور اپنی یادوں کو تازہ بھی کیا۔ میں لکھنے بیٹھا ہوں تو بہت سے بیتے ہوئے منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ مال روڈ پر ایک اعلی معیار کا الائیڈ پرنٹنگ پریس تھا۔ وہاں جناب حسنین المکی اور جناب جواد المکی صاحب ہوا کرتے تھے۔ میرا اور عطا الحق قاسمی صاحب کا وہاں عموماً آنا جانا رہتا تھا۔
عطا الحق قاسمی کا مہینے میں الائیڈ پریس کا ایک وزٹ تو ضرور ہی ہوتا تھا۔ الائیڈ پریس کے مالکان ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ حسنین المکی اور جواد المکی کے بڑے بھائی کا ایک ادبی رسالہ نرگس بھی تھا۔ عطا الحق قاسمی کے اور میرے ستارے ہمیشہ سے ہی ملتے ہیں، اگر سال شمار نہ کیے جائیں تو اس حساب سے عطاء الحق قاسمی مجھ سے دس روز بڑے ہیں کیونکہ ان کا یوم ولادت یکم فروری اور میرا یوم پیدائش گیارہ فروری ہے۔
جبکہ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی اور میری تاریخ ولادت ایک ہی ہے۔ عطاء الحق قاسمی کا حلقۂ احباب بہت وسیع رہا ہے اور ان کے بے تکلفانہ مزاج کے باعث قربتیں اور محبتیں پنپتی ہی رہی ہیں لیکن حفیظ تائب، اختر حسین جعفری اور سرکار احمد ندیم قاسمی سے ان کو حد درجہ محبت، احترام اور عقیدت رہی اور اس کی جھلک ہمیں عطاء الحق قاسمی کی تحریروں اور گفتگو میں ملتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب سے قربت اور محبت کس نوعیت کی ہوگی۔ یہ عطاء الحق قاسمی صاحب کے خوبصورت کالم، قاسمی اور قاسمی، میں دیکھا جاسکتا ہے۔
میرے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کی غزل زیادہ توانا ہے یا نظم لہذا یہ فیصلہ بھی ہم نے قارئین پر ہی چھوڑا۔ ان نظموں کے انتخاب میں ہمیں ہرگز بھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سید فخرالدین بلے اور ان کے فرزندان کے لیے کاپی رائٹس کے ضوابط کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ حضرت جوش ملیح آبادی، حضرت احمد ندیم قاسمی، پروفیسر اقبال عظیم، فیض احمد فیض، جاوید احمد قریشی، ڈاکٹر وزیر آغا، طفیل ہوشیار پوری، کلیم عثمانی، حفیظ تائب، ڈاکٹر سید مقصود زاہدی، مرتضی برلاس، برادر محترم خالد احمد، محسن نقوی، ڈاکٹر اجمل نیازی کی بیاضیں کئی کئی روز والد گرامی سید فخرالدین بلے کی اقامت گاہ پر رکھی رہتی تھیں۔
اگر کبھی ہفت روزہ آواز جرس لاہور یا ماہنامہ ادب لطیف لاہور یا کسی اور جریدے میں اشاعت کے لیے ان کا کلام درکار بھی ہوتا یا کسی اور مقصد یا حوالے کے لیے تب بھی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب اور ان کے فرزندان کو مکمل طور پر با اختیار قرار دیا جاتا تھا کہ کسی بھی تخلیق کو جیسے اور جہاں چاہیں استعمال میں لا سکتے ہیں۔ امریکہ (ہیوسٹن) میں مقیم عالمی شہرت کے حامل اور ہر دلعزیز شاعر سیدی عارف امام نے اپنی تمام تر تخلیقات کے جملہ حقوق ہمارے گویا کہ ظفر معین بلے جعفری کے نام کر رکھے ہیں جو کہ بلا شبہ ایک اعزاز بھی ہے اور اعتبار و اعتماد کی اعلی ترین مثال بھی۔
محترم عطاء الحق قاسمی صاحب کے معاملے میں ہم نے ان کی تمام تر تخلیقات کے جملہ حقوق ازخود اپنے نام کر لیے ہیں۔ سلیکٹڈ پوئمز آف عطاء الحق قاسمی (عطاء الحق قاسمی کی منتخب نظمیں ) محترمہ تعبیر علی صاحبہ نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اور اصل تخلیق کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوئے ان نظموں کو اردو سے انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ راز اب تک تو محترم عطاء الحق قاسمی، مترجم محترمہ تعبیر علی صاحبہ اور ہم تک ہی محدود تھا۔ ابھی اس کی اشاعت کا باضابطہ اعلان بھی نہیں ہوا لیکن ہم انہی میں سے ایک، دو نظمیں قارئین کی دلچسپی کے لیے اس مضمون میں شامل کر رہے ہیں۔
نظم۔ ایک فلرٹ لڑکی
نظم نگار : عطاء الحق قاسمی
ترجمہ نگار : محترمہ تعبیر علی
Poem : A flirt damsel
Poet : Attaul_Huq Qasmi
Translated By : Madam. TaBeeR ALi
وہ لڑکی، کیا لڑکی تھی
مجھ سے بھی وہ ملتی تھی
اس کے ہونٹ گلابی تھے
اس کی آنکھ میں مستی تھی
میں بھی بھولا بھٹکا سا
وہ بھی بھولی بھٹکی تھی
شہر کی ہر آباد سڑک!
اس کے گھر کو جاتی تھی!
لیکن وہ کیا کرتی تھی!
لڑکی تھی کہ پہیلی تھی!
الٹے سیدھے رستوں پر
آنکھیں ڈھانپ کے چلتی تھی
بھیگی بھیگی راتوں میں
تنہا تنہا روتی تھی
میلے میلے کپڑوں میں
اجلی اجلی لگتی تھی
اس کے سارے خواب نئے
اور تعبیر پرانی تھی
Poem : A flirt damsel
Poet : Attaul_Huq Qasmi
Translated By : Madam. TaBeeR ALi
How adorable that girl was!
Sometimes , she even came across me unexpectedly .
She had pretty pink lips
Or, she had intoxicated eyes
Once I was naive enough
Relatively , she was innocent so
Every densely populated road of the city
even went to her place
Then what would she do ?
Ridiculously, was she really a damsel or riddle ?
Even on the uneven roads
She walked with veiled eyes
Still in the danked nights
She wept bitterly
Surely , in a scruffy clothes
She really looked dazzled
Nevertheless , she had beared new dreams
But she kept the elucidation old
Poem : A flirt damsel Poet : Attaul_Huq Qasmi Translated By : Madam. TaBeeR ALi
نظم۔ ایک فلرٹ لڑکی نظم نگار : عطاء الحق قاسمی ترجمہ نگار :محترمہ تعبیر علی
میرے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے جب عارضۂ قلب میں مبتلا ہوئے تو عطا الحق قاسمی عیادت کے لیے سرگودھا تشریف لائے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کالم نگار بیدار سرمدی بھی ان کے ساتھ تھے۔ ان دنوں ادبی مجلہ "معاصر” منظرعام پر آ چکا تھا اور دنیائے ادب میں اس کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ اس حوالے سے بھی ان سے گفتگو ہوئی، باتیں تو وہ میرے والد بزرگوار سے کر رہے تھے لیکن میں سر جھکائے سنتا رہا اور بہت سی باتیں اس حوالے سے اب بھی میرے حافظے میں محفوظ ہیں۔
آنس معین کی منفرد لہجے کی خوبصورت شاعری کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی مختلف مواقع پر اپنی گفتگو اور اپنے کالم روزن دیوار سے میں بہت کچھ فرما چکے ہیں۔ سید عارف معین بلے اور سید انجم معین بلے سے بھی انہوں نے ہمیشہ برادرانہ شفقت برتی۔ اور رہی بات راقم السطور ظفر معین بلے جعفری کی تو ہمارا معاملہ ہمیشہ سے ہی بہت مختلف رہا۔ فرزندان فخرالدین بلے میں جتنی قربت، محبت اور شفقت ہم نے سمیٹی ہے، وہ ہمارا ہی اعزاز ہے۔
ہم ہی ہیں جو عطا بھائی سے مسلسل بلکہ روزانہ کی بنیادوں پر رابطے میں ہیں یا رہے ہیں۔ ہم ہی ہیں کہ جو ہر روز عطاء الحق قاسمی بھائی کی نیک تمناؤں اور دعاؤں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ جب ان سے بات ہو اور وہ والد گرامی، جنت مکانی سید فخرالدین بلے کو اپنے مخصوص انداز میں خراج محبت پیش نہ کریں۔ آپ ہمیں بلا تردد عطا الحق قاسمی کے لاڈلوں میں شمار کر سکتے ہیں۔ لاڈلا کے جو معنی عہد موجود میں مستعمل ہیں، ان میں تو ہر گز بھی نہیں۔ (جاری ہے ) ۔
نوٹ : زیر نظر مضمون عطاء الحق قاسمی کے تخلیقی رنگ میں شامل عطاء الحق قاسمی اور سید عارف معین بلے کے مصورانہ شاہکار پروفیسر آکاش مغل صاحب کے تخلیق کردہ ہیں اور انہوں نے بطور خاص ہم سب کے لیے عطا کیے ہیں۔


