بت پرستوں کی نئی نسلیں (11)


نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔

—————————————————-
گیارہواں باب : دبی ہوئی چنگاری پھر بھڑکی اور جلے الاؤ

کرسٹینا کی طرف سے یہ جملہ سنتے ہی روشن کا دل باغ باغ ہو گیا۔ اس کے دماغ پر چھائے ہوئے مایوسی اور رنجیدگی کے بادل یک بارگی چھٹ گئے۔ مسعود نے بھی اس کے چہرے پر پھیل جانے والی سرخی دیکھ لی اور چپ چاپ دوسرے کمرے میں چلا گیا تاکہ روشن پوری آزادی سے بات کر سکے۔

روشن نے پہلے تو چاہا کہ وہ بھی اپنی وارفتگی کا اظہار کرے۔ کرسٹینا کو بتائے کہ وہ اسے کس شدت سے یاد کرتا رہا ہے۔ مگر وفور مسرت میں اسے کوئی مناسب الفاظ ہی نہ سوجھے اور وہ مشترکہ دوستوں کا حال احوال پوچھنے لگا۔ کرسٹینا نے بتایا کہ وہ سب خوش باش ہیں، البتہ تمہاری صحت کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ اب میں انہیں تمہاری صحت مندی کی خبر دوں گی تو یقیناً ان کی تشویش بھی ختم ہو جائے گی۔ وہ بار بار اسے اپنی صحت کا خیال رکھنے کی تاکید کرتی رہی جسے وہ اپنی محبت سے تعبیر کرتا رہا اور پھر لنچ ٹائم ختم ہونے کی وجہ سے کرسٹینا نے فون بند کر دیا۔ لیکن اس سے پہلے روشن داد کو بتا دیا کہ وہ واٹس اپ اور ای میل کے ذریعے رابطے میں رہے۔ اسے جب بھی وقت ملا کرے گا وہ واپس رابطہ کر لیا کرے گی۔

کرسٹینا کی کال کٹ چکی تھی مگر روشن داد اپنے خیالات میں پھر سے لندن کی فضاؤں میں لوٹ گیا تھا۔ اس کے خیالات میں کرسٹینا اپنی تمام تر رعنائیوں اور حشر سامانیوں کے ساتھ موجود تھی۔ وہ ہر ویک اینڈ پر ، محبت کے شروع کے دنوں کی طرح ملتی اور اسے لطف و کیف کے آسمانوں کی سیر کراتی۔ لیکن اب وہ پہلے کی طرح پانچ دن گھر میں بیٹھ کر یا ادھر ادھر آوارہ گردی کر کے ضائع نہیں کر رہا تھا۔ اب تو وہ کسی بڑی یونیورسٹی میں دنیا بھر کی سیاسیات پر ریسرچ کر رہا تھا۔

کرسٹینا اس سے بہت خوش تھی۔ اب وہ اپنی ہر ملاقات میں ان اقدامات پر غور کرتے، جن پر عمل کر کے وہ دنیا میں نام پیدا کر سکتے تھے۔ دونوں نے طے کر لیا تھا کہ اب وہ آئندہ کبھی بھی شادی یا بچوں کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے۔

روشن داد کے خیالات کا یہ سلسلہ اچانک ٹوٹ گیا جب مسعود چیمہ پھر کمرے میں آن موجود ہوا۔ مسعود نے روشن کو فون پر کرسٹینا سے الوداعی الفاظ ادا کرتے سن لیا تھا۔ اسی لئے وہ کمرے میں واپس آ گیا تھا۔

دونوں دوستوں کی گفتگو کا سلسلہ پھر سے جاری ہوا تو روشن کی سنجیدگی کے باوجود مسعود کا اب بھی یہی کہنا تھا کہ کرسٹینا کو وہاں رہنے دو ۔ تم

بے شک اس کے ساتھ رابطہ رکھو مگر اس کی وجہ سے نہ تو خود کو پابند کرو اور نہ ہی کسی دباؤ کا شکار بنو۔ بلکہ یہاں کے کام کاج بھی سنبھالو اور زندگی کا لطف بھی اٹھاؤ۔ دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر کامیابی کسی کو بھی نہ مل سکی۔

۔ ۔

بے شک پچھلے دو سال میں روشن داد کا رویہ ایسا تھا کہ فضل داد اس کے لیے کوئی بھی منصوبہ اعتماد کے ساتھ نہیں بنا سکتا تھا۔ پھر بھی اس نے روشن آباد والے گھر اور ملک پور والی حویلی، ہر دو جگہ پر روشن داد کے لیے الگ پورشن بنوا دیے تھے۔ صرف اس لئے کہ اگر وہ واپس آئے اور یہاں رہ کر کوئی کام کرنا چاہے تو اسے ہر طرح کی سہولت اور آزادی حاصل ہو۔ اب جبکہ وہ واپس آ چکا تھا، تو اس کے صحت یاب ہونے سے پہلے ہی فضل داد نے دونوں مقامات پر اس کے پورشن نئے سرے سے سنوار سجا کر جدید سہولتوں سے آراستہ کرا دیے تھے۔ اسی وجہ سے ان دونوں مقامات پر روشن داد کے بارے میں خبریں بھی گردش کر رہی تھیں۔

منشی چراغ دین کا تو معمول تھا کہ وہ ہر دوچار دن کے بعد شام کے وقت نور بانو کی طرف چلا جاتا تھا۔ وہاں بیٹھ کر چائے پیتا۔ نور بانو کے خاوند، اس کے بیٹوں، بہوؤں اور پوتے پوتیوں سے ملتا۔ نور بانو اور محمد بشیر کے ساتھ گزرے دنوں کی باتیں کرتا۔ کچھ وقت وہاں گزارتا اور گھر لوٹ آتا۔ اس دن بھی وہ نور بانو کی طرف بیٹھا تھا۔ محمد بشیر، بیٹے، بہوئیں اور بچے، محبت اور تابعداری میں کچھ دیر اس کے پاس بیٹھ کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو چکے تھے۔ اب وہ دونوں باپ بیٹی ہی کمرے میں رہ گئے تھے، جب نور بانو نے پوچھا

”ابا! سنا ہے حویلی میں کچھ سجاوٹ بناوٹ کا کام ہو رہا ہے؟“
”ہو نہیں رہا بیٹی، ہو چکا ہے“ ۔
”کوئی مہمان آ رہے ہیں کیا؟“

”مہمانوں کی تو کوئی خبر نہیں، لیکن سنا ہے روشن داد کے آنے کی امید ہے۔ وہ رہا کرے گا شاید کبھی کبھی یہاں آ کر “ ۔

”اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اب پھر کسی نور بانو کی قربانی دی جائے گی“ ۔

”کتنی حیرت کی بات ہے نور بانو! تم اب ماشا اللہ پوتے پوتیوں والی ہو گئی ہو۔ زندگی کے سبھی عیش آرام بھی تمہیں حاصل ہیں۔ لیکن یہ ایک بات ابھی تک تمہارے دماغ سے نہیں نکلی“ ۔

”کیسے نکلے ابا؟ یہ زخم ہے ہی اتنا گہرا۔ دیکھیے نا! آپ کے ملک صاحب نے اس پر اپنی مہربانیوں کے اتنے مرہم لگائے ہیں مگر یہ بھرتا ہی نہیں۔ دراصل اس کی کسی رگ میں آپ کے ملک صاحب کی بزدلی کا زہر جم کر رہ گیا ہے۔ اب بھی جب کوئی یاد اسے چھیڑتی ہے تو اس میں ایسی

ٹیس اٹھتی ہے، لگتا ہے کوئی تیز خنجر میری ہر نس کو اندر سے کاٹ رہا ہو ”۔

”بھول جاؤ اب اسے۔ معاف کر دو ملک فضل داد کو ۔ اتنے چڑھاوے تو چڑھا چکے ہیں وہ اپنے اس ان چاہے گناہ کی خاطر“ ۔

”میں جانتی ہوں، آپ کا دل ابھی تک انہی کا ہمدرد ہے۔ اور آپ کی صحت کے پیش نظر میں آپ کو کوئی بری بات یاد بھی نہیں دلانا چاہتی۔ مگر مجبور ہوں۔ دیکھیے نا! اب ان کا بیٹا آ کر رہا کرے گا اس حویلی میں۔ پھر نئی نئی جوان ہوتی ہوئی لڑکیوں کو بلایا جایا کرے گا اس کے کمروں کا خیال رکھنے کے لیے اور پھر سے۔“

”اب ایسا نہیں ہو گا نور بانو! وقت بہت آگے نکل گیا ہے۔ لوگوں کی ضرورتیں بدل گئی ہیں اور ضرورتوں سے فائدہ اٹھانے والوں کے انداز بھی۔ اس وقت اگر کوئی عورت ان کے کمروں میں جاتی تھی تو اپنی ضرورتوں سے مجبور ہو کر ۔ لیکن اب تو ملک پور وہ ملک پور ہی نہیں رہا، جہاں اس قسم کی مجبور عورتیں ہوا کرتی تھیں۔

وہ ملک پور جو کسی زمانے میں ایک دور دراز کا گاؤں تھا اب ایک اچھا بھلا قصبہ بن چکا ہے۔ لڑکیوں، لڑکوں کے ہائی سکول ہیں یہاں۔ ہنرمندوں اور کاریگروں کی تربیت گاہیں علیحدہ ہیں۔ ڈسپنسری ہے، تربیت یافتہ دائیاں ہیں، ڈاکٹر ہیں۔ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر روشن آباد میں لڑکیوں کا انٹرمیڈیٹ کالج ہے۔ لڑکوں کا ڈگری کالج ہے۔ ملک پور کی ایک ایک گلی پکی سڑک کی طرح بنی ہوئی ہے۔ پانی کے نکاس کی تمام نالیاں زیرزمین بہہ رہی ہیں۔ گھر گھر میں بجلی ہے۔ یہاں کا ایک بھی فرد جو کام کرنا چاہتا ہے بے کار نہیں ہے۔ اور یہ سب اسی فضل داد کی مہربانیوں کی وجہ سے ہے جسے تم ہمیشہ ایک بزدل اور شیطان کا درجہ دینے کی کوشش کرتی ہو۔

کیا تمہیں یاد نہیں؟ اس رات جب تم بارش میں کچے راستے پر تانگے کے سفر سے وہ تکلیف لے کر گھر آئیں تھیں، جس نے ہم سب کی جان ہی نکال لی تھی۔ تو کون تمہیں اس رات کے اندھیرے میں، اس خطرناک راستے سے گاڑی میں اتنی دور ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا؟ اور سچ پوچھو تو تمہاری اس تکلیف کی وجہ سے ہی اس نے یہ پکی سڑک بنوائی تھی۔ اسی سڑک کی بنیاد پر ہی ملک پور کی ترقی شروع ہوئی تھی۔ اور اسی کی وجہ سے اس علاقے کا ہر فرد اب خودکفیل ہے۔

اب بھی اگر کوئی عورت ان کے کمروں میں جاتی ہو گی تو لالچ کی وجہ سے، مجبور ہو کر نہیں۔ اور تم تو اچھی طرح جانتی ہو کہ مجبور تو انہوں نے اس وقت بھی کسی کو نہیں کیا تھا جب پورا ملک پور مجبوریوں میں دھنسا ہوا تھا۔ کوئی زبردستی تو تمہارے ساتھ بھی نہیں ہوئی تھی۔ مگر تم ان کی اتنی مہربانیوں کے باوجود بھی ان کی عزت کرنے کو تیار نہیں ہو ”۔

”مجھے عیش و آرام کا کبھی کوئی لالچ نہیں تھا ابا! وہ میری محبت کی عزت کرتے تو میں ان کے ساتھ بھوکیں بھی کاٹ لیتی“ ۔

”یہ سب جذباتی نعرے بازی ہے۔ دنیا نے ہزاروں بار دیکھا ہے، جب بھوک ننگ سامنے والے دروازے سے داخل ہوتی ہے تو محبت پچھلے دروازے سے بھاگ جاتی ہے۔ اور تم! میں چاہتا ہوں کہ اگر آج بات پھرسے چل ہی نکلی ہے تو صاف بھی ہو جائے۔

میں اکیاسی سال کا بیمار بوڑھا، اب تو میری ہڈیاں بھی تھک چکی ہیں۔ کبھی کبھی دل تک چیخ اٹھتا ہے ’بہت دوڑا لیا مجھے، اب بس بھی کرو‘ ۔ اب مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ مرتے وقت تمہاری ناراضی کا بوجھ اٹھا سکوں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک آخری بار تم سے دل کی بات صاف صاف کہہ لوں۔

تو بیٹی نور بانو! عقل مندی اسی کو کہتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ انسان خود کو بدل لے۔ اور جو ایسا نہیں کر سکتے وہ انسان تو کیا جانور بھی ہوں تو مٹ جاتے ہیں۔ وقت ان کو روند کر آگے نکل جاتا ہے۔ ان کے نام و نشان تک باقی نہیں رہتے۔

میں نے اس وقت جو کچھ بھی کیا تھا وہ صرف اپنے بچاؤ کے لیے نہیں کیا تھا۔ تمہاری بہتری بھی اسی میں تھی۔ اس وقت فضل داد کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا۔ لیکن جونہی اسے اختیار حاصل ہوا اس نے تمہیں نکاح کی دعوت دی۔ ایک بیوہ کو ایک یتیم بیٹے کی ماں کو ۔ تمہارے انکار پر بھی غصے میں آنے کی بجائے اس نے تمہاری بہتری کا خیال رکھا۔ تمہاری شادی پر تمہیں زمین دی تاکہ تم عزت کی زندگی گزار سکو۔

یہاں کوئی ایسا نہیں کرتا۔ نہیں یقین تو جا کر دیکھو ان دیہاتوں کو ، جو صدیوں سے اپنے مالکان کا ظلم برداشت کر رہے ہیں۔ جو آج بھی پرانے طریقوں سے کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ جہاں آج بھی سکول نہیں ہیں۔ جہاں آج بھی کوئی پکی سڑک نہیں جاتی۔ جہاں کی عورتیں آج بھی مجبور ہیں۔ جن کے سر سے وہاں کے زمیندار دن دیہاڑے چادریں کھینچ لیتے ہیں اور کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا۔ تو تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا، میں اسے تقدیر کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا ”۔

”آپ اسے تقدیر کہیں گے؟“

”تو اور کیا ہوتی ہے تقدیر؟ حالات و واقعات کا ایک وسیع پھیلاؤ جو ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا، اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔ تم چاہو تو کسی عالم دین سے پوچھ لو۔ اور اگر وہ بھی کہے کہ یہی خدا کی مرضی تھی۔ اسی میں تمہاری بہتری تھی تو کیا پھر مان جاؤ گی؟“

”بالکل مان جاؤں گی اور آئندہ سے کوئی شکوہ بھی نہیں کروں گی۔ نہ ہی آپ سے، نہ آپ کے ملک فضل داد سے“ ۔

”ہاں بھئی! میں تو ایک ناتواں سا انسان ہوں۔ اور فضل داد بھی اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، ہے تو انسان ہی، ایک کمزور مخلوق۔ اور خدا، وہ جو خالق ہے، قادر مطلق ہے۔ جو رحیم و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ قہار و جبار بھی ہے۔ دنیا کو بنانے والا اور جب چاہے بڑی سے بڑی چیز کو مٹا دے۔ سب سے طاقتور۔ تو سب سے طاقتور تمہارے ساتھ کچھ بھی کرے تم سر جھکا دو گی اور ہم کمزور انسان تمہاری بہتری کے لیے بھی وہی

کچھ کر کے تمہاری نظر میں گناہ گار ٹھہریں گے ”۔
”نہیں، ایسی بات نہیں ہے ابا!“

”ایسی ہی بات ہے بیٹی۔ کیونکہ سب سے بڑا قانون ہی طاقت ہے۔ اس کی صورت کچھ بھی ہو لیکن حکم سب طاقت کا ہی مانتے ہیں“ ۔

”بس کیجیے ابا! میرے لیے اتنا ہی بہت ہے۔ میں اعتراف کرتی ہوں، میں غلطی پر تھی۔ میں اس عمر میں آپ کو شرمسار نہیں دیکھ سکتی۔ اب آپ بھی مجھے مزید شرمندہ مت کیجیے۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں، میں ہی انسانوں سے فرشتوں جیسی امیدیں لگا کر ان کو اور خود کو کوستی رہی ہوں۔ اے کاش! میں عورت نہ ہوتی!“

”خدا تمہارا بھلا کرے بیٹی! تم نے میری زندگی کا باقی وقت آسان کر دیا۔ دیکھنا تم بھی اس بوجھ سے نجات حاصل کر کے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگو گی۔ ماضی کتنا ہی برا کیوں نہ ہو، لیکن انسان کی بھلائی آگے بڑھتے رہنے میں ہی ہے“ ۔

”چلیے! آخرکار یہ قصہ بھی تمام ہوا۔ آپ کو جیتنا ہی تھا، آپ جیت گئے“ ۔

”جیت ہار کی تو یہاں کوئی بات ہی نہیں ہے بیٹا جی! یہ تو زندگی کو سمجھنے کی بات ہے۔ اگر سب کچھ ویسے ہی ہوتا رہے جیسے کہ ہم چاہتے ہیں، تو پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہ رہے۔ زندہ رہنے کو ضروری ہے کہ مایوسیوں اور ناامیدیوں کے ساتھ زندگی کے مثبت پہلو کو بھی نظر میں رکھا جائے“ ۔

”لیکن میرے لیے مثبت پہلو کون سے تھے ابا؟ فضل داد سے محبت کی، انہوں نے میری محبت کی عزت نہیں کی۔ راشد کے ابا سے شادی ہوئی تو ان سے پیار کیا مگر وہ عین راستے میں چھوڑ کر اگلے جہان چلے گئے۔ راشد کو جی جان سے پالا پوسا، پڑھایا لکھایا، وہ اسلام آباد والوں کا ہو کر رہ گیا“ ۔

”مان لیا یہ منفی پہلو ہیں! مگر دوسری طرف بھی تو دیکھو کہ فضل داد جو بقول تمہارے تمہاری محبت کی عزت نہ کر سکا، اس نے نکاح کی دعوت پر تمہارے انکار کے باوجود تمہاری عزت کی۔ تمہیں زمین دی جس کی بنیاد پر تمہاری شادی کو عزت ملی۔ لیکن فرض کرو فضل داد تمہاری محبت کی عزت کرتا اور تم سے شادی کر لیتا۔ ملک جہانداد سمیت اس کا خاندان بھی تمہیں قبول کر لیتا تو کیا پھر بھی تمہیں اس کے خاندان میں وہ مقام ملتا جو تمہیں محمد بشیر کے ساتھ والی زندگی میں حاصل ہوا؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

اور محمد بشیر کو دیکھو، تم نے اس کی محبت کو عزت نہیں دی مگر اس نے تمہیں سر آنکھوں پر بٹھا کر رکھا۔ کبیر اور صغیر، دونوں کو تم نے راشد کے بعد کچھ بچی کھچی محبت ہی دی ہو گی اگر دی ہو گی۔ مگر دونوں تمہیں بے انتہا پیار کرتے ہیں۔ نہ صرف خود پیار کرتے ہیں بلکہ اپنی بیویوں سے بھی تمہاری عزت کرواتے ہیں اور پوتے پوتیاں تو ویسے بھی جان دیتے ہیں تم پر ۔ تو زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ زندگی کے مثبت پہلوؤں کو

نظر میں رکھیں اور ان پر خدا کا شکر ادا کریں۔ اس سے انسان کو جینے کے لیے توانائی حاصل ہوتی ہے۔

ویسے بھی زندگی تو ہے ہی ایسی چیز، آپ محنت کہیں کرتے ہیں، پھل کہیں ملتا ہے اور کچھ بھی پورے اعتماد کے ساتھ آپ پہلے سے جان ہی نہیں سکتے۔ پھر وہ بھی ہیں کہ ساری عمر محنت میں گزر جاتی ہے لیکن پھل کبھی نہیں ملتا ”۔

”یہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔ مجھے خدا کی ان نعمتوں پر تو اس کا شکرگزار ہونا ہی چاہیے۔ یقیناً یہ مجھے میری کسی خاص محنت کے بغیر ملی ہیں۔ لیکن اب اگر آپ اجازت دیں تو کوئی دوسری بات کریں؟“

”ہاں ہاں! کرو! کیوں نہیں؟“

”ہمارا پرانا موضوع ہے۔ آپ نے ہمیشہ کہا کہ کوئی بھی انسان اسے حاصل ہو جانے والی آسائشوں اور مرتبے کو آسانی سے چھوڑنا نہیں چاہتا۔ دنیا میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو محبت یا کسی اور اعلیٰ مقصد کے لیے اپنے عیش و آرام کو ٹھوکر مار سکتے ہیں“ ۔

”بالکل! میرا خیال تو اب بھی یہی ہے“ ۔
”تو پھر روشن داد کے بارے میں اب آپ کا کیا خیال ہے؟“

”ابھی کچھ وقت لگے گا کہ تمام معاملات واضح ہو سکیں۔ میری معلومات کے مطابق وہ وہاں بہت برے حالات میں تھا۔ بڑی مشکل سے اور کسی کی مدد حاصل کر کے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ ابھی ابھی صحت کچھ بہتر ہوئی ہے۔ مجھے تاحال یہ خبر نہیں کہ وہ وہاں اس طرح کے ابتر ماحول میں کیوں پڑا ہوا تھا؟“ ۔

”سنا ہے کسی انگریز لڑکی کا معاملہ ہے“ ۔

”مگر معاملہ کیسا ہے؟ کوئی گہری محبت ہے یا وقتی جذبہ ہے؟ یا پھر کوئی ذاتی ضد ہے جو عام طور پر نعمتوں میں پلے ہوئے بچوں میں ہو جاتی ہے؟ میرا خیال ہے مہینے دو مہینے میں بات کھل جائے گی۔ ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا“ ۔

۔ ۔

دوسرے دن جب عروسہ اور فضل داد ناشتہ کر رہے تھے (تابندہ اور رخشندہ اپنے بچوں کے ساتھ گزشتہ شام ہی جا چکی تھیں اور ابھی روشن داد ناشتے کی میز پر نہیں پہنچا تھا) تو فضل داد نے عروسہ کو مخاطب کیا۔

”عروسہ بیگم! جیسا کہ ہم آپس میں مشورہ کر چکے تھے، میں نے روشن کو اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے“ ۔
”مطلب اب فیصلے کا تمام اختیار اس کے پاس ہے؟“ عروسہ نے پوچھا۔
”طے تو یہی ہوا تھا“ فضل داد نے جواب دیا۔
”میں نے آپ کے دلائل کے پیش نظر اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔ مگر میرا دل ابھی بھی راضی نہیں ہے“ ۔
”کیوں؟ اب آپ کے دل کو کیا مسئلہ ہے؟“

”یہ کیا طریقہ ہے؟ ہم اولاد پیدا کریں، پالیں پوسیں، اس کے لیے دن رات ایک کریں اور اولاد جوان ہو کر من مرضیاں کرتی پھرے، ہمارا اس پر کوئی اختیار ہی نہ ہو“ ۔

”اولاد، ماں باپ کے ذریعے سے اس دنیا میں آتی ہے بیگم، لیکن اولاد ماں باپ کی جائیداد نہیں ہوتی کہ ہم اسے اپنی مرضی سے خریدیں بیچیں یا شطرنج کے مہروں کی طرح آگے پیچھے کرتے جائیں“ ۔

”تو پھر کیا ضرورت ہے اولاد کی خاطر جان ہلکان کرنے کی؟“

”اس لیے کہ ہمارے ماں باپ نے ہمارے لیے جان ہلکان کی تھی، ہمارے بچے بھی اپنے بچوں کے لیے ایسا کریں گے اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا۔ آپ ذرا جانوروں اور پرندوں کو دیکھیں، وہ بھی تو اپنی اولاد کے لیے جان ہلکان کرتے ہیں۔ جب تک ان کی اولاد خود کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتی وہ ہر طرح سے اولاد کا خیال رکھتے ہیں۔ اور بچے تو ان کے بھی خودکفیل ہونے کے بعد ماں باپ کو چھوڑ جاتے ہیں۔ ہوتے تو وہ بھی ماں باپ ہی ہیں۔ انہیں تو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ ان کے بچے گئے کہاں؟“

”پتہ نہیں آپ مرد لوگ ایسی باتیں اتنی آسانی سے کیسے کر لیتے ہیں! آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ ماؤں کے لیے ایسا سوچنا بھی کتنا اذیت ناک ہوتا ہے۔ روشن تو ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ ہمیں چھوڑ کر پھر وہیں لوٹ جائے گا، یہ خیال ہی میری جان نکالنے کے لیے کافی ہے“ ۔

”عروسہ بیگم! مرد لوگ بھی انسان ہی ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمیں ماؤں کی طرح اپنے جذبات ظاہر کرنے اور رونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اور مجھے تو حیرت ہو رہی ہے کہ آپ اتنی ماڈرن فیملی میں پیدا ہوئیں اور خود بھی جدید ترین خیالات رکھتی ہیں، پھر بھی اس مرحلے پر اتنی

کمزور کیوں پڑ رہی ہیں؟ ”

”یہ جدیدیت ہی تو لے ڈوبی ہے ہمیں۔ کیونکہ ہم قدم بہ قدم اس جدیدیت تک نہیں پہنچے۔ یہ تو دنیا کے گلوبل ویلج بن جانے سے یک لخت آن پڑی ہے ہمارے سر پر ۔ اسے اپنائے بغیر باقی دنیا سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اپنانے میں یہ سب قباحتیں جھیلنا پڑتی ہیں۔ اس سے اچھی تو ہم سے پہلے والی نسلیں تھیں۔ کچھ اختیار تو تھا انہیں اپنی اولادوں پر اور پھر اولادیں بھی کتنی تابعدار ہوا کرتی تھیں!“

”وقت بدل گیا ہے بیگم! حالات دونوں کے تبدیل ہو چکے ہیں، ماں باپ کے بھی اور اولادوں کے بھی۔ اگر ہمیں اپنے تحفظ کی فکر ہے تو

انہیں بھی اپنے مستقبل کا اندیشہ ہے۔ معلومات کی حد تک تو ہم نے بہت ترقی کر لی ہے لیکن معاشرہ تو اس طرح سے ڈویلپ نہیں ہو سکا نا۔ اور نہ ہی وسائل میں مطلوبہ ترقی ہوئی ہے۔ پھر اگر اولادیں اپنی اغراض کو فوقیت دینے لگی ہیں تو ہمیں بھی اختیار حاصل ہے، ہم بھی اپنے مستقبل کی حفاظت کے اقدام کر سکتے ہیں ”۔

اتنے میں روشن داد بھی وہاں آ گیا۔
فضل داد اسے خوش آمدید کہنے کے انداز میں بولا۔
”آ جائیں بیٹا! ہم آپ ہی کی باتیں کر رہے تھے“ ۔
”کیسی باتیں؟ کچھ مجھے بھی بتایے!“ روشن داد نے بیٹھتے ہوئے کہا۔

”موضوع وہی ہے جس پر کل بھی آپ کے ساتھ بات ہوئی تھی۔ آپ کا فیصلہ مستقبل کے بارے میں“ فضل داد نے وضاحت کی۔ مگر اس سے پہلے کہ روشن کوئی جواب دیتا عروسہ نے اسے سوال کر دیا

”یہ آپ لڑکیوں کی طرح تیار ہونے میں اتنی دیر کیوں لگا دیتے ہیں؟“ ۔

”نہیں ماما! میں ایسا ہرگز نہیں کرتا۔ رات نیند بہت دیر سے آئی۔ اس لیے صبح اٹھنے میں دیر ہو گئی۔ آئی ایم سوری فار دیٹ۔ آئندہ خیال رکھوں گا“ روشن نے نہایت نرم لہجے میں جواب دیا۔

”آپ کو پتہ نہیں کب سمجھ آئے گی، مجھے کتنی فکر رہتی ہے آپ کی!“ عروسہ بولی۔
”میری پیاری امی جان! آپ اتنی فکر نہ کیا کریں۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں“ ۔
”ہاں ہاں! میں فکر نہ کروں اور آپ پڑے رہیں اسی طرح لندن میں، جیسے اب تک پڑے ہوئے تھے“ ۔

”اس پر میں آپ دونوں کو پھر سے سوری کہتا ہوں۔ اور وعدہ کرتا ہوں کہ اس طرح کی کوئی بدتمیزی آئندہ ہرگز نہیں ہو گی“ روشن جیسے انہیں تسلی دے رہا تھا۔

”ہمیں آپ کے وعدے پر پورا اعتماد ہے بیٹا! چلیے اب ناشتہ کیجیے“ فضل بولا۔
”لیکن مجھے ایسا کوئی اعتماد نہیں ہے۔ میں آپ کو صاف صاف بتا دوں“ ۔ عروسہ نے سختی سے کہا۔

”آپ یقین رکھیں ماما! میں اپنی صحت کے بارے میں ایسی لاپرواہی دوبارہ کبھی نہیں برتوں گا اور جہاں کہیں بھی ہوں گا آپ سے ہر وقت رابطے میں رہوں گا“ ۔ روشن نے ماں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔

عروسہ اٹھتے ہوئے بولی ”اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ کی مہربانی ہو گی، میں اب چلتی ہوں، میرا ڈیوٹی کا وقت ہو رہا ہے“ اور وہ دونوں کو خداحافظ کہہ کر باہر نکل گئی۔ روشن ناشتے میں مصروف ہو گیا اور فضل آہستہ آہستہ چائے پیتے ہوئے بولا

”گاڑی اور ڈرائیور تیار ہیں، آپ ناشتے سے فارغ ہو کر پہلے روشن آباد چلے جایے۔ وہاں لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں“ ۔

”کون لوگ پاپا؟“

”وہاں دفتر کے لوگ، جو کنسٹرکشن کمپنی اور ایکسپورٹ فرم کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ وہ سب آپ سے ملنے کے لیے بے چین ہیں۔ حالانکہ میں نے انہیں بتایا ہے کہ آپ نے آکسفورڈ میں صرف سیاسیات پڑھی ہے لیکن وہ پھر بھی امید رکھتے ہیں کہ آپ انہیں، ان کے کاموں کے لیے کچھ نئے آئیڈیاز دے سکیں گے۔ دونوں کمپنیاں بالکل انڈی پینڈنٹ ہیں مگر ان کے دفاتر آپس میں جڑے ہوئے ہیں اس لیے سب ایک دوسرے کو جانتے بھی ہیں۔ ابھی آپ وہاں جا کر ان سے ملاقات کیجیے اور وہاں گھوم پھر کر حالات کا جائزہ لیجیے۔ روشن آباد پہنچتے ہی احمد دین آپ کو جوائن کر لے گا۔ احمد دین تو یاد ہے نا آپ کو ؟“

”جی جی یاد ہیں مجھے۔ آپ نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ آپ کے خاص اعتماد کے آدمی ہیں“ ۔

”ہاں! بالکل! اور آپ بھی اس پر پورا اعتماد کر سکتے ہیں۔ ایک ایسے دوست کی طرح جو راز کی رکھوالی کرنا جانتا ہو“ ۔

”راز کی رکھوالی؟ کیا مطلب؟“

”مطلب صاف ہے۔ وہ میرے اعتماد کا آدمی ہے لیکن اگر کوئی بات آپ اسے راز رکھنے کے لیے کہیں گے اور وہ ہامی بھر لے گا تو وہ مجھے بھی نہیں بتائے گا تاوقتیکہ آپ کی جان کو خطرہ ہو“ ۔

”میرا نہیں خیال کہ میں یہاں کوئی ایسا کام کروں گا جو مجھے آپ سے چھپانا پڑے“ ۔

”آپ کا خیال تو نیک ہے اور سن کر اچھا بھی لگا۔ پھر بھی آپ کو یہ اختیار حاصل رہے گا۔ آپ اسے استعمال کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے“ ۔

”آپ کا شکریہ!“

”اس کی ضرورت نہیں، اور ہاں! آپ جب چاہیں مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ موبائل فون آپ کے پاس ہے۔ لیکن مجھے صرف میسج لکھیے گا کیونکہ بعض اوقات میں ایسی جگہ پر ہوتا ہوں جہاں کال ریسیو نہیں کر سکتا۔ البتہ پہلی فرصت میں واپس کال کر لوں گا۔ باقی باتیں شام کو ہوں گی۔ اور اگر کسی وجہ سے شام کو ملاقات نہ ہو سکی تو کل صبح“ ۔

روشن داد باہر نکلا تو ڈرائیور غلام حسین مع ایک بڑی گاڑی کے اس کا منتظر تھا۔ دو سیکیورٹی گارڈز بھی کاندھوں سے کلاشنکوف لٹکائے چاق و چوبند کھڑے تھے۔ غلام حسین تو ان کا بہت پرانا ڈرائیور تھا، روشن کی پیدائش سے بھی پہلے کا ۔ لیکن سیکیورٹی گارڈز دونوں ہی روشن داد کے لیے نئے تھے۔ ویسے بھی پانچ سال برطانیہ میں رہنے کے بعد اسے گارڈز کے ساتھ سفر کرنا بھی کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ غلام حسین اور گارڈز کے سلاموں کا جواب دینے کے بعد گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے غلام حسین سے پہلا سوال ہی یہی کیا

”غلام حسین! ہمیں کیا کسی دشمن کے حملے کا خطرہ ہے؟“
”نہیں صاحب! خدا کا شکر ہے، ہماری تو کسی سے دشمنی ہی نہیں، تو ہمیں کسی حملے کا خطرہ بھی کیوں ہو گا؟“
”تو پھر ہمیں سیکیورٹی گارڈز کی کیا ضرورت ہے؟“
”ضرورت ہمیں نہیں ہے صاحب! ضرورت انہیں ہے ہماری“ ۔
”کیا مطلب؟“

”اگر ہم انہیں ساتھ نہیں رکھیں گے تو ان کی نوکری خطرے میں پڑ جائے گی۔ انہوں نے پہلے ہی کافی کوشش کر کے اپنی ڈیوٹی یہاں لگوائی ہے“ ۔

”وہ کیوں؟“

”بڑے صاحب کی وجہ سے صاحب! وہ بہت خیال رکھتے ہیں سب ملازمین کا ، خواہ وہ ان کے اپنے ہوں یا حکومت کی طرف سے ملے ہوں“ ۔

”لیکن وہ تو وفاقی حکومت کے ملازم ہیں، جہاں سے معقول تنخواہ ملتی ہو گی انہیں اور پھر دوسری بہت سے مراعات بھی“ ۔

”پہلی بات تو یہ ہے صاحب کہ ان کی ملازمتیں ابھی عارضی ہیں۔ مستقل ہونے میں کم از کم چھ مہینے اور لگ جائیں گے۔ پھر اس عرصہ میں اگر کوئی غلطی کر بیٹھیں تو نوکری تو سمجھیں گئی۔ دوسرے، سرکاری نوکریوں میں تنخواہیں بس اتنی ہی ہوتی ہیں کہ انسان زندہ رہ سکے لیکن اس سے

زیادہ کوئی خواہش بھی نہ کرے ”۔
”اچھا؟“
”اور کیا صاحب! اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کیوں سرکاری نوکری چھوڑ کر آپ لوگوں کے پاس آ جاتا؟“
”تم پہلے سرکاری ملازم تھے؟ مجھے تو کبھی کسی نے بتایا ہی نہیں“ ۔

”جب بڑے صاحب پہلی بار صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے تھے تو میری ڈیوٹی لگی تھی ان کے ساتھ۔ دس سال ان کے ساتھ رہا۔ پھر بڑے صاحب قومی اسمبلی کے ممبر بن گئے تو میں اپنی نوکری سے استعفیٰ دے کر ان کے پاس حاضر ہو گیا اور انہوں نے مجھے یہاں ملازم رکھ لیا۔ تب سے اب تک یہیں ہوں۔ کل ملا کر تیس سال ہونے والے ہیں مجھے آپ لوگوں کی خدمت میں“ ۔

”مطلب جب میں پیدا ہوا تو تم پاپا کے ساتھ ڈرائیونگ کر رہے تھے“ ۔
”جی صاحب! اور جب تک ہاتھ پاؤں چلتے ہیں یہیں رہوں گا“ ۔

پھر غلام حسین اسے اپنی بیوی اور بچوں کے بارے میں بتاتا رہا۔ غلام حسین کے بچے سب اس کے کہنے کے مطابق شہر کے مختلف سکولوں اور کالجوں میں زیرتعلیم تھے اور پڑھائی میں بھی اچھے جا رہے تھے۔ علاوہ ازیں تابعدار بھی تھے۔ پھر غلام حسین نے بڑی شد و مد سے یہ اعتراف بھی کیا کہ یہ سب کچھ بڑے صاحب (ملک فضل داد) کی مہربانیوں سے ہی ہو سکا۔ انہی کہانیوں میں وہ دونوں روشن آباد پہنچ گئے۔

”ویل کم بیک ٹو روشن آباد“ ۔

بڑے گیٹ پر نمایاں حروف میں لکھا ہوا روشن داد نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا۔ پھر جونہی ان کی گاڑی گیٹ پر پہنچی تو وہاں پر پہلے سے موجود ڈھول والوں کے گروپ نے ڈھول کی تھاپ سے ان کا استقبال کیا۔ کچھ عورتیں مرد، لڑکیاں، لڑکے اور کچھ بچے، جنہوں نے رنگ برنگے کپڑے پہن رکھے تھے بھنگڑا ڈالنے لگے۔ روشن داد کو یہ سب دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی۔ رقص اور ڈھول کے اسی شور میں احمد دین نے انہیں جوائن کر لیا۔ علیک سلیک کے بعد روشن داد نے احمد دین سے پہلا سوال اسی بارے میں کیا۔

”یہ سب کیا ہے انکل؟“
”یہ روشن آباد میں آپ کا استقبال ہے صاحب!“ احمد دین نے جواب دیا۔
”مگر کیوں؟ اور کس نے کیا ہے یہ سب انتظام؟“

”آپ پانچ سال بعد واپس آئے ہیں اس لیے۔ انتظام یہاں کے مختلف اداروں نے مل کر کیا ہے۔ کنسٹرکشن کمپنی، ایکسپورٹ فرم اور ڈیری فارم وغیرہ سب کے باہمی اشتراک سے یہ خوشی منائی جا رہی ہے“ ۔

گاڑی آگے بڑھنا شروع ہوئی۔ راستے دونوں اطراف میں رنگے برنگی جھنڈیوں سے سجائے گئے تھے۔ استقبال خاصے بڑے پیمانے پر تھا۔ ڈھول والوں کے گروپ راستے میں بھی تھے اور بھنگڑے ڈالنے والے بھی جگہ جگہ موجود تھے۔

”مگر میری معلومات کے مطابق تو یہ سب ادارے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے“ ۔ روشن داد کے لہجے

میں حیرت ابھی بھی موجود تھی۔

”جی! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ لیکن ہر کمپنی، ہر فرم میں بڑا حصہ تو ملک صاحب کا ہی ہے نا! اور جو بھی ان کا ہے وہ آپ کا بھی ہے۔ پھر آخر کار بڑے صاحب کے سب کام آپ نے ہی تو سنبھالنے ہیں“ ۔

”لیکن انکل، میرا یہاں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے“ ۔

”مجھے بڑے صاحب نے بتا دیا ہے کہ آپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ یہاں رہنا ہے یا واپس کہیں یورپ امریکہ چلے جانا ہے۔ لیکن صاحب اگر یہ لوگ آج آپ کا استقبال نہ کریں اور کل کلاں کو آپ اپنا ارادہ بدل کر یہاں کے اختیارات سنبھال لیں تو پھر ان لوگوں کو جو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس سے بچنے کی خاطر اور اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرنے کے لیے یہ سب کیا گیا ہے“ ۔

”میں نے لندن والے اپنے دوستوں سے رابطہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے میں جلد ہی وہاں اپنا کوئی سیٹ اپ بناؤں گا۔ یہاں رہنا اب

میرے لیے بہت مشکل ہے ”۔

”اس میں کیا شک ہے صاحب؟ یورپ امریکہ والے ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ وہاں بے شمار سہولیات ہیں جن کا ہم ابھی خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ پھر اب وہاں آپ کے بہت سے دوست ہوں گے، آپ کی زندگی سے جڑے ہوئے“ ۔

”پاپا نے بتایا تھا کہ اگر میں آپ کو کسی معاملے میں رازدار بناؤں گا تو آپ کبھی میرے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے“ ۔

”انہوں نے درست فرمایا ہے صاحب!“
”لیکن آپ تو پاپا کے خاص اعتماد کے آدمی ہیں۔ آپ میرا راز کیوں راز رکھیں گے؟“
”یہ اصول بھی تو خود انہی کا سکھایا ہوا ہے صاحب“ ۔
”لیکن اگر وہ آپ سے پوچھ لیں تو ؟“

”وہ ایسا کبھی نہیں کرتے، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر آپ کی زندگی کو خطرہ نہیں ہو گا تو میں انہیں کبھی کچھ نہیں بتاؤں گا“ ۔

”چلیے، اگر ضرورت پڑی تو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا دعویٰ کہاں تک درست ہے؟“ ۔
”بالکل! آپ جب چاہیں آزما سکتے ہیں“ ۔

اتنے میں وہ روشن داد کنسٹرکشن کمپنی کے دفتر کے باہر پہنچ گئے۔ امپورٹ ایکسپورٹ فرم کا دفتر بھی کنسٹرکشن کمپنی کے دفتر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ دونوں دفاتر ایک دوسرے سے الگ اور آزاد بھی تھے اور متصل بھی۔ اس طرح کہ دونوں اطراف کے لوگ عمارت کے اندر سے ہی ایک

دوسرے کی طرف آ جا سکتے تھے۔

جب روشن داد کی گاڑی وہاں پہنچی تو دونوں مذکورہ دفاتر کے علاوہ ڈیری فارم، لائیو سٹاک فارم اور دوسرے فارموں کے لوگ بھی استقبال کے لیے موجود تھے۔ روشن داد کے تحیر میں اضافہ ہوا جب اس نے وہاں کام کرنے والی خواتین کو دیکھا، جنہوں نے نہایت جدید اور قیمتی ملبوسات زیب تن کیے ہوئے تھے اور وہ سب کی سب خاصی خوبصورت بھی تھیں۔ شاید انہیں روشن داد نے پہلے کبھی اس نظر سے دیکھا نہیں تھا یا پھر یہ تمام نئی تھیں۔

احمد دین اسے لے کر ایک بڑے کیبن نما دفتر میں آ گیا جس کے شیشوں سے پورا ہال نظر آ رہا تھا۔ اس کے اندر آتے ہی تمام کام کرنے والے اپنی اپنی سیٹوں سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بہ یک آواز اسے خوش آمدید کہا۔ یوں لگتا تھا جیسے انہوں نے اس عمل کی پہلے سے خوب ریہرسل کر رکھی تھی۔ روشن داد نے اس طرح کے سین صرف فلموں میں دیکھے تھے کہ جب کوئی بادشاہ اپنے دربار میں داخل ہوتا تو وہاں موجود تمام امراء وزراء اور درباری اس کے اعزاز میں کھڑے ہو جاتے۔ روشن داد کے لیے اسے عملی طور پر دیکھنا بالکل نئی بات تھی۔

برطانیہ جانے سے پہلے، روشن داد شاذ شاذ ہی روشن آباد آیا تھا اور وہ بھی بس ایک آدھ گھنٹے کے لئے ہی۔ ملک پور تو شاید وہ دو چار بار سے زیادہ گیا بھی نہیں تھا۔ علاوہ ازیں، برطانیہ میں قیام کے دوران، خواہ اس کے پاس کتنے ہی پیسے ہوئے، کسی نے اسے کبھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی تھی۔ اس لئے اسے یہ تمام پروٹوکول بہت خوش کن محسوس ہو رہا تھا۔

اس نے دوپہر کا کھانا، روشن آباد میں موجود کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور چیدہ چیدہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھایا۔ دسترخوان بھرا ہوا تھا اور کھانے بھی سب کے سب لذیذ تھے۔ بے شک کھانے کے سلسلے میں کوئی خاص تکلف نہیں برتا گیا تھا مگر پھر بھی یہ روشن داد کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے کافی تھا۔

روشن داد نے محسوس کیا کہ وہاں احمد دین کو ایک خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ پہلے اس نے سوچا کہ شاید اسے یہ اہمیت فضل داد کے پرسنل سیکرٹری ہونے کی بنیاد پر حاصل ہے مگر اس کا یہ اندازہ جلد ہی غلط ثابت ہو گیا۔ سب لوگ اس سے اپنے اپنے شعبہ کے بارے میں تبادلہ ء خیالات کر رہے تھے۔ روشن داد کو حیرت اس لئے بھی تھی کہ احمد دین تو ایف اے بھی پاس نہیں کر سکا تھا تو پھر آخر وہ کیسے ان مختلف نوعیت کے تیکنیکی معاملات پر ماہرانہ رائے دے رہا تھا۔

روشن داد نے اسی وقت طے کر لیا تھا کہ موقع ملتے ہی وہ احمد دین سے اس بارے میں جاننے کی کوشش کرے گا۔

کھانے کے بعد روشن آباد میں ہی اس کے آرام کا بندوبست بھی تھا۔ اس علیحدہ پورشن میں اس کے لئے دفتری ضروریات اور دنیا بھر سے

رابطے کا تمام سامان بھی موجود تھا۔ اس نے دوچار فون کیے اور کچھ دیر کے لئے سو گیا۔

شام کے آغاز میں وہ احمد دین، غلام حسین اور گارڈز کے ہمراہ ملک پور کے لئے روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچنے پر بھی علاقے کے چنیدہ اور اہم لوگ اسے ملنے کے لئے آئے اور اپنے تعاون کا یقین دلا کر واپس چلے گئے۔ یہ سب اس علاقے میں اس کے باپ کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ ابھی وہ احمد دین سے واپسی کے بارے میں پوچھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ خوبصورت اور کسرتی جسموں والے دو نوجوان کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے بدن غماز تھے کہ وہ روزانہ ورزش کی ریاضت سے گزرتے ہیں۔

احمد دین نے روشن داد کا ان دونوں سے تعارف کرایا۔ نیاز علی اور فراز علی نام کے یہ دونوں نوجوان، احمد دین کے بیٹے تھے۔ دونوں ہی اپنے باپ کی طرح ملک فضل داد کے جانثار تھے۔ احمد دین نے روشن داد کو بتایا کہ شام کے باقی وقت میں اس کی تفریح کے لئے انتظامات کیے گئے ہیں اور یہ جوان لوگوں کی محفل ہے، اس لئے اس محفل میں نیاز علی اور فراز علی ہی اس کے مددگار کے طور پر اس کے ساتھ رہیں گے۔

روشن داد کو نیاز علی اور فراز علی کے حوالے کر کے احمد دین رخصت لے کر چلا گیا۔

احمد دین کے جانے کے بعد ، دونوں نوجوان، روشن داد کو لے کر اس کے ذاتی پورشن میں داخل ہوئے۔ پہلے بڑے کمرے میں بہت سے خدام کھانے پینے کا سامان کچھ بڑی میزوں پر رکھ رہے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی سب اپنی اپنی جگہ پر رک گئے۔ وہاں کا منتظم قریب آیا، روشن داد کو خوش آمدید کہا اور نیاز علی کے پوچھنے پر بتایا کہ تمام انتظامات مکمل ہیں۔

نیاز علی اور فراز، روشن داد کے ہمراہ دوسرے کمرے میں پہنچے۔ روشن داد وہاں ماحول دیکھ کر ایک پر مسرت حیرت میں ڈوب گیا۔ اس چھوٹے سے ہال میں جو خوبصورت پردوں اور بیش قیمت فرنیچر سے سجا ہوا تھا، کم از کم چالیس، جوبن سے لبریز نوجوان لڑکیاں اس کے استقبال کے لئے موجود تھیں۔

چالیس نوجوان گداز نسوانی اجسام، دلکش چہروں اور مسکراتی آنکھوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اس مدھم روشنی میں بھی، ان لڑکیوں کے بدن کچھ ایسے للکارتے ہوئے محسوس ہوتے تھے، جیسے ابھی کوئی انقلاب برپا کر دیں گے۔ ان کے لباس، ان کے جسموں کی بغاوت کو روکنے میں صاف صاف ناکام نظر آ رہے تھے۔ سب لڑکیوں نے تھوڑا سا آگے جھکنے کے انداز میں روشن داد کو سلام پیش کیا۔ اس خمیدہ سے زاویے میں ان کے سینے، جیسے پھٹ پڑنے کو تیار چشمے، روشن داد نروس ہو گیا۔

اس نے نیاز علی سے پوچھا ”یہ سب کیا ہے؟“ ۔
”آپ کا سواگت ہے صاحب!“ ۔
”کس نے بلایا ہے انہیں؟“ ۔
”یہ سب خود سے اور انتہائی کوشش کر کے یہاں پہنچی ہیں صاحب!“ ۔
”مگر کیوں؟ آخر کس لئے؟“ ۔

”یہ سب پیشہ ور اور ہنر مند لڑکیاں ہیں صاحب۔ اپنے اپنے آرٹ میں ماہر۔ آپ جیسے شہزادوں کی نظر التفات کی طالب۔ انہیں خبر ہوتی ہے کہ کب اور کہاں کسی اہم شخصیت کی آمد ہو رہی ہے؟ بس یہ اپنا تعارف کرانے آن موجود ہوتی ہیں“ ۔

”مگر ان کے آنے جانے کے اخراجات؟“ ۔

”یہ بہت مختلف اور پڑھی لکھی لڑکیاں ہیں صاحب! یہ سب اپنی اپنی گاڑیوں میں اپنے ڈرائیوروں کے ساتھ آتی ہیں۔ ان میں اچھا گانے والی بھی ہیں، رقص کی ماہر بھی اور ناز و ادا میں یکتا بھی۔ یہ ایسے مواقع پر صرف تعلقات بنانے کے لئے آتی ہیں۔ پھر اپنے کامیاب تعلقات کی بدولت کمائیاں بھی کرتی ہیں“ ۔

”لیکن یہاں آنے کی اجازت؟ وہ کون دیتا ہے انہیں؟“ ۔
”آپ پہلے تشریف تو رکھیں۔ میں سب بتاتا ہوں“ ۔

پھر وہ لڑکیوں سے مخاطب ہوا ”آپ سب بھی ایزی ہو جائیں۔ اپنا کھانا پینا یا دیگر مشاغل شروع کریں۔ میں کچھ دیر میں صاحب سے آپ سب کا تعارف کراتا ہوں“ ۔

سب لڑکیاں چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر ادھر ادھر بیٹھ گئیں۔ تقریباً سب کی سب، کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے کو جانتی تھیں۔ اس لئے جلد ہی گپ شپ شروع ہو گئی۔ اور جام و مینا کا بھی آغاز ہو گیا۔ سوائے چند ایک کے سبھی نے کسی نہ کسی برانڈ کی شراب منتخب کی۔

نیاز علی اور فراز علی اس دوران دو دو تین تین لڑکیوں کو ساتھ لا کر روشن داد سے تعارف کراتے رہے اور بعد میں انہوں نے روشن داد کو جیسے ان لڑکیوں کے حوالے کر دیا۔ روشن دادکے آس پاس بیٹھی ہوئی لڑکیاں ان کے آپسی معاہدے کے مطابق آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی تھیں۔

وہسکی، وائن اور بیئر کے علاوہ بھی شرابوں کی کئی اقسام تھیں کہ جن کے دور پر دور چل رہے تھے۔ کئی لڑکیاں تو اب لہکنے کی حد سے گزر کر بہکنے کی منزل کو پہنچ چکی تھیں۔ نیاز علی اور فراز علی دو مختلف سمتوں میں، کچھ اس طرح چاک و چوبند بیٹھے ہوئے تھے، جیسے ان کا اس محفل سے کچھ لینا دینا ہی نہ ہو۔ روشن داد کو بھی باپ کی وارننگ یاد تھی اس لئے وہ بھی کوکا کولا تک محدود تھا۔

روشن داد نے محسوس کیا کہ اس کے بالکل سامنے بیٹھی ہوئی تین لڑکیوں میں سے ایک نے پارٹی کے آغاز سے ہی سکاچ وہسکی کا ایک بھرا ہوا

جام سامنے رکھا ہوا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اپنا جام لبوں تک تو لے کر جاتی ہے، مگر پیتی ایک گھونٹ بھی نہیں۔ وہ شروع سے اب تک خاموش بیٹھی دوسری لڑکیوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ صرف روشن داد کو دیکھے جا رہی ہے۔ لیکن جونہی روشن داد کی نظر اس سے ملتی ہے تو وہ نظریں جھکا لیتی ہے یا پھر کسی اور جانب دیکھنے لگتی ہے۔

کچھ مزید وقت گزرا تو ماحول بہکنے کی حدود سے بھی نکل گیا اور لڑھکنے کے راستے پر چل پڑا۔ ایسے میں وہ لڑکی اپنی جگہ سے اٹھی اور روشن داد کے ساتھ بیٹھی ہوئی لڑکی کو تھوڑا سا کھسکا کر وہاں براجمان ہو گئی۔ روشن داد تو ابھی اس تبدیلی کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ اس لڑکی نے بغیر کسی جھجک کے روشن داد کے کان میں سوگوشی کی ”میرا نام پلوشہ ہے اور میں آپ سے ایک نہایت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں“ ۔

روشن داد بولا ”ہاں ہاں! کہو، کیا کہنا چاہتی ہو تم؟“ ۔

پلوشہ کے ہونٹ پھر روشن داد کے کان کے قریب پہنچے ”بات نہایت اہم اور رازداری کی ہے۔ ان سب کے سامنے نہیں ہو سکتی“ ۔

اس کے بعد پلوشہ نے روشن داد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ وہاں اسے سوائے حیرت کے کچھ نظر نہیں آیا۔ اب اس نے مزید انتظار کی زحمت گوارا کیے بغیر روشن داد کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے اٹھایا اور ساتھ لے کر پچھلے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

روشن داد بھی جیسے بغیر کچھ سوچے سمجھے ہی اس کے ساتھ ہو لیا۔

وہ اسے لے کر ، اسی کے بیڈ روم میں کچھ اس انداز سے پہنچی جیسے وہ پہلے بھی یہاں آتی جاتی رہی ہو۔ جبکہ اس سے قبل وہ کبھی اس حویلی میں بھی نہیں آئی تھی۔

پلوشہ نے اندر آتے ہی روشن داد کو اس کے بیڈ پر بٹھایا اور دروازے کو اندر سے بند کر کے اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔

”یہ کیا کر رہی ہو؟“ روشن داد نے شرارت آمیز مسکراہٹ اور حیرت بھرے لہجے میں پوچھا۔
”آپ کو راز بتانے کی تیاری کر رہی ہوں“ ۔
”مگر اس کے لئے کپڑے اتارنے کی کیا ضرورت ہے؟“ ۔

”ضرورت ہے صاحب! کیونکہ جو راز میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، اسے الفاظ میں ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اسے صرف میرا جسم بیان کر سکتا ہے“ ۔

”تو کیا تمہارا جسم بولتا بھی ہے؟“ ۔
اتنی دیر میں وہ آدھی بے لباس ہو چکی تھی

”میرا جسم صرف بولتا ہی نہیں، سر تال سے بھی واقف ہے۔ جگل بندی سمجھتا اور شاعری بھی اچھی کر لیتا ہے۔ غزل میں تو اسے ملکہ حاصل ہے“ ۔

”لیکن تم تو ایک سیکس ورکر ہو؟“ ۔

”غلط! بالکل غلط! میں سیکس ورکر نہیں ہوں۔ میں تو ایک طوائف ہوں۔ طوائف بنت طوائف۔ میں کم از کم اپنی سات نسلوں کے نام اور کارنامے گنوا سکتی ہوں، جو اپنے اپنے ہنر میں جانی مانی جاتی تھیں۔ بعض کافی مشہور بھی ہوئیں“ اس نے نہایت اعتماد سے جواب دیا۔

اب وہ لباس سے مکمل طور پر آزاد ہو چکی تھی۔

اس کے جسم کے زاویے، روشن داد کے دل کی دھڑکن تیز کر رہے تھے مگر وہ خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”طوائف اور سیکس ورکر میں کیا فرق ہے؟“ روشن داد نے پوچھا

”بہت بڑا فرق ہے۔ سیکس ورکر تو سیکس جیسا پر لطف فعل بھی مشینی انداز میں انجام دیتی ہے۔ اور طوائف کے نزدیک جنسی عمل ایک آرٹ ہے۔ سیکس ورکر اپنی فیس کے بدلے، ہر وقت اس عمل کے لئے تیار رہتی ہے۔ لیکن ایک اعلٰی نسل کی طوائف جب تک خود نہ چاہے، مرد کو پاس بھی نہیں آنے دیتی۔ اگرچہ وہ بظاہر اسے انکار بھی نہیں کرتی۔

سیکس ورکر کسی مرد کو جسم کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔ جبکہ طوائف اسے مکمل طور پر انٹرٹین کرتی ہے۔ دماغی طور پر تھکے ہوئے مرد کو تروتازہ کرنا، صرف طوائف ہی جانتی ہے۔ وہ جذباتی لحاظ سے سرد ہوتے مرد میں بھی جوش و خروش بھر سکتی ہے۔ اسے امید اور حوصلہ فراہم کر سکتی ہے۔ اس کا کھو چکا اعتماد بھی بحال کر سکتی ہے ”۔

”اگر میں کہوں کہ اس وقت میرے جنسی جذبات بالکل سوئے ہوئے ہیں تو تم کیا کرتب دکھاؤ گی؟“ ۔
”میں ان کے سوکھے پتوں کو چنگاری دکھا کر انہیں جوالا مکھی بنا دوں گی“ ۔

اور پلوشہ نے روشن داد کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کی قمیض کے بٹن کھولنے شروع کر دیے۔ پلوشہ کے سینے کی مہک سیدھی روشن داد کی سانسوں کا حصہ بن رہی تھی۔ جادو کا ایک دائرہ روشن داد کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا مگر پھر بھی اس نے سوال کر دیا

”تم اتنی دیر سے تو خاموش بیٹھی ہوئی تھیں۔ پھر یک دم مجھے اٹھا کر یہاں لے آئی ہو۔ آخر ماجرا کیا ہے؟“ ۔

”ماجرا ہے سخت مقابلہ۔ جب وہ سب شراب سے دل بہلا رہی تھیں تو میں موقع کی تلاش میں تھی اور اب مجھے موقع مل گیا ہے“ ۔

”مطلب۔ تم نے اس مقابلے کی وجہ سے اور اپنی کمائی کے چکر میں شراب بھی نہیں پی؟“ ۔
”مقابلے کی بات تو درست ہے مگر کمائی کی مجھے کوئی فکر نہیں“ ۔

”یعنی اب اگر میں تمہارے جسم سے رازداری حاصل کرنے کے بعد تمہیں کوئی روپیہ پیسہ نہ بھی دوں تو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا؟“ ۔

”روپے پیسے کی کمائی تو ہوتی ہی رہتی ہے لیکن آپ جیسے منفرد نوجوان سے فیضیاب ہونے کا موقع روز روز نہیں ملتا“ ۔

”چلو فرض کرو کہ میں تمہارے جسم کی گفتگو سننے کے بعد بھی تمہیں صرف سو یا پچاس روپے کا ایک نوٹ تھما دوں تو تم کیا کہو گی؟“ ۔

”اگر آپ مجھے سو یا پچاس روپے کا نوٹ دینا چاہتے ہیں تو پلیز اس پر سائن ضرور کر دیجئے گا“ ۔
”وہ کیوں؟“ ۔

”پھر وہ میرے لئے نایاب بن جائے گا۔ اسے میں ساری زندگی سینے سے لگا کر رکھوں گی۔ آپ جیسے شہزادوں سے ایسے نادر تحفے کسی کسی کو نصیب ہوتے ہیں“ ۔

اب روشن داد بھی بے لباس ہو چکا تھا۔ پھر بھی بولا
”اور اگر میں تمہیں یہ سو پچاس بھی نہ دوں تو ؟“ ۔
”تو میں آپ کے جسم کی خوشبو کو اپنی یاد کے کسی اچھے سے لاکر میں قید کر کے رکھ لوں گی“ ۔

”تم باتیں بہت اچھی کر لیتی ہو۔ تمہارا جسم بھی سچ میں بولتا ہے اور سر چڑھ کر بولتا ہے۔ تم ایک سیکس ورکر سے کہیں بڑھ کر ہنر مند ہو۔ تم یقیناً اچھی کمائی کر لیتی ہو گی“ ۔

”آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔ لیکن میں نہ تو بھیک مانگتی ہوں اور نا ہی سودے بازی کرتی ہوں۔ پھر بھی دولت میرے پیچھے پیچھے آتی ہے۔ اگرچہ اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں“ ۔

پلوشہ نے روشن داد کو بستر پر لٹا لیا اور خود اس پر سوار کی طرح چڑھ کر بیٹھ گئی۔ روشن نے سوال کیا
”یہ کیا بھئی؟“ ۔
”مجھے گھوڑے کی سواری بہت پسند ہے“ ۔
”کوئی خاص وجہ؟“ ۔
”سواری کرتے ہوئے لگامیں سوار کے ہاتھ میں ہوتی ہیں تو سفر کا کنٹرول بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے“ ۔
روشن داد چاہتا تھا کہ اب موضوع بدل دیا جائے اس لئے اس نے الگ ہی سوال کر دیا

”مگر تم تو اتنی ساری لڑکیاں یہاں آئی ہو، اور تمہارے بقول مقابلہ بھی ہے۔ تو تم لوگوں میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہوں گے“ ۔

”جی نہیں۔ بالکل نہیں“ ۔
”اچھا تو کوئی خاص معاہدہ ہے تم لوگوں کے درمیان؟“ ۔

”جی بالکل ہے! مگر اس بارے میں صبح بات کریں گے۔ ابھی تو ذرا جذبات کے الاؤ بھڑکنے دیں۔ جوش و خروش کے جام چھلکنے دیں اور دونوں جسموں کو اپنے راز و نیاز کر لینے دیں“ ۔

ایک لمحہ کے لئے راشن داد کے دماغ میں کرسٹینا کا چہرہ آیا اور غائب ہو گیا۔

اور پھر پلوشہ نے اپنی ہنر کاری سے روشن داد کو لطف کے ایسے ایسے آسمانوں کی سیر کرائی کہ وہ دنگ رہ گیا۔

۔ ۔
دوسرے دن جب روشن داد کی آنکھ کھلی تو وہ پہلے ہی نہا دھو کر تیار بیٹھی تھی۔
روشن داد نے ہوش آتے ہی ان تمام سوالات کو اکٹھا کرنا شروع کیا جو وہ پلوشہ سے کرنا چاہتا تھا۔
ان سوالات نے اسے رات میں کئی بار جگایا تھا۔
۔ ۔

Facebook Comments HS