پدر سری نظام میں صنف کی سیاسی تفریق (دوسرا حصہ)


فعل مختار مرد کی جنسی دادا گیری

سیاسی، سماجی اور معاشی یہاں تک کہ محدود عائلی سرگرمیوں کی بنیاد پر بھی یہ بات واضح طور پہ کہی جا سکتی ہے کہ عورت کو مرد کے مساوی حقوق یا اِختیارات حاصل نہیں ہیں۔ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورت بحیثیت صنف کے نہیں بلکہ بحیثیت جنس/شے کے برتی جاتی ہے۔ لہٰذا مساوی حقوق کی بات تو درکنار یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ مرد اور عورت صنفی تفریق رکھتے ہیں۔ اور باوجود اِس برہنہ تاریخی سچ کہ پدر سری کوڈ کی صنفی تفریق پر مبنی یہ ملمع سازی اِس قدر پُر کشش ہے کہ صدیوں سے اِس بد دیانت امرِ واقعی سیاسی تفریق یعنی مرد بحیثیت صنف اور عورت بحیثیت جنس/شے کی درست نشان دہی کے بجائے اسے کنایتہً صنفی امتیاز کی بنیاد پر اِستحصال گردانا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم آج تک اُس اِستحصال کو ختم کرنے میں ناکام رہے جو دراصل مرد غالب سماج میں ایک صنف کا دوسری کو بحیثیت جنس برقرار رکھنے پر قائم ہے۔ اِسی تناظر میں اگر ڈاکٹر مبارک علی کے اِس بیان کو پڑھا جائے جو اِنھوں نے اپنی کتاب تاریخ اور عورت میں لکھا ہے تو بات مزید واضح ہو جاتی ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”تاریخ میں عورت کا جو مجموعی تاثر بنتا ہے وہ یہ ہے کہ اُس کی اپنی علیحدہ ذات نہیں ہے۔ وہ تاریخ میں محض ایک شے کی مانند ہے کہ جسے مرد نے اپنی خواہشات و مفادات کے تحت اِستعمال کیا ہے۔ حوالہ ختم“

اور یہ ہی نظام مرد کو بحیثیت سربراہ کے برقرار رکھنے کے لیے مکمل جنسی اختیار بھی تفویض کرتا ہے۔ نتیجتاً مرد بحیثیت فعل مختار کے خاندان، وراثت اور اس سے مشتق دولت پر دستِ رسا حاصل کر لیتا ہے اور یوں مرد پورے سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کو اپنی گرفت میں لے آتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ جنس پر اِختیار ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو مرد کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے تو شاید غلط نہ ہو گا۔

” ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق، ایک ہزار پانچ سو قبل مسیح میں آریہ ہندوستان آئے تو یہ اپنے ساتھ مرد دیوتا لائے۔ لیکن یہاں آباد ہونے کے بعد اِنھوں نے وادیٔ سندھ کی قدیم دیویوں کو بھی اپنے مذہب میں شامل کر لیا۔ حوالہ ختم“ قدیم سندھ میں چوں کہ مادر سری نظام قائم تھا جس میں دیویوں کا مقام بلند تھا۔ لیکن جب آریہ اپنے ساتھ مرد دیوتا لائے تو دیر پا سیاسی حکمت عملی کے تحت اور مقامی مزاحمت کے پیش نظر سندھ کی دیویوں کو یکسر ختم کرنے کے بجائے انھیں اپنے مذہب میں شامل کر لیا گیا۔ اور یہیں سے صنفی اِمتیاز پر مبنی اُس ملمع کاری کا آغاز ہوتا ہے کہ جس کا ذکر اُوپر کیا گیا ہے۔ پدر سری نظام کی اِس سیاسی چال بازی نے عورت کو کئی مقامات پر دیوی کی حیثیت سے برقرار تو رکھا لیکن سماجی حیثیت میں یہ مرد دیوتاؤں کے زیر نگیں رہیں اور اِن کی زندگی کا مقصد محض مرد دیوتاؤں کی خوش نودی حاصل کرنے سے زیادہ کچھ نہ رہا۔ اور مرد خواہ وہ دیوتا ہو یا مزاجی خدا اِس کی خوش نودی کا اِنحصار عورت سے زیادہ سے زیادہ تسکین حاصل کرنے پر ہے۔ خواہ وہ جنسی ہو یا خانگی۔

مثال کے طور پہ سیتا کو دیوی ہونے کے باوجود اپنی پاکدامنی ثابت کرنے کے لیے رام کے اِصرار پر اگنی پرکشا سے گزرنا پڑا لیکن رام کے دل میں پھر بھی خلش باقی رہ گئی لہٰذا سیتا نے اپنے لیے موت کی دعا کر ڈالی کیوں کہ سیتا رام کے دل میں اپنے لیے وسوسہ کا بوجھ نہ اُٹھا سکی۔ آج بھی پدر سری نظام میں اِخلاقیات کا سارا بوجھ عورت ہی ڈھو رہی ہے۔ اور پاک دامنی کی زرہ بکتر پہنے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر اُٹھانے پر مجبور ہے۔ جبکہ مرد کو اِس سلسلے میں جو سیاسی اِستثناء حاصل ہے اُس کی حالیہ مثال ملاحظہ فرمائیے۔ حامد میر اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ”سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بیٹی ٹیریان اپنے دو سوتیلے بھائیوں کے ہمراہ جمائما گولڈ سمتھ کے ساتھ رہتی ہیں۔ عمران خان نے اپنی اِس بیٹی کو الیکشن کمیشن کے سامنے ڈیکلیئر نہیں کیا۔ مخالفین اِسے خان کی نا جائز بیٹی کہتے ہیں۔ روزنامہ جنگ 16۔ 03۔ 2023“ باوجود اِس کہ عمران خان ہمارے ملک کے سب سے زیادہ سچے اور با کردار عوامی لیڈر تسلیم کیے جاتے ہیں اور ہمارے سماجی اور سیاسی حلقے بشمول عدلیہ اور مقننہ کے اسے عمران خان کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اوریا جان مقبول جو غزوہ ہند پر مسلمانوں کا خون گرماتے نہیں تھکتے اور شرع کے داعی کہلاتے ہیں عمران خان کے اِس معاملہ پر مکمل خاموشی اِختیار کیے ہوئے ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اِس پدر سری نظام میں عورت کو یہ اِستثناء حاصل ہو سکتا ہے۔ جواب بہت سادہ ہے ہر گز نہیں، عورت کے معاملے میں ریاست کے قانون سے لے کر شرعی حدود تک سارے اِدارے اُس کا محاسبہ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اُس وقت تک اُس کا پیچھا کرتے ہیں کہ جب تک وہ سیتا کی طرح زندہ در گور نہ ہو جائے۔ اِس حوالے سے عمران خان کا وہ جواب قابل مذمت ہونے کے باوجود قابل ذکر ہے جو انھوں نے پاکستان میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کے حوالے سے جرنلسٹ جوناتھن سوان کے پوچھے گئے سوال پر دیا تھا۔ یہ بیان چوں کہ پدرسری نظام کے مقبول ترین لیڈر کی طرف سے دیا گیا تھا لہٰذا اہمیت کا حامل ہے۔ ذرا موصوف کے فرامین ملاحظہ کیجیے۔ ”کامن سینس کے مطابق اگر عورت کم لباس زیب تن کرے گی تو اُس کا لازمی اثر مرد پر پڑے گا۔ اگر وہ روبوٹ نہیں ہیں تو۔ جون 2021 گارڈین“

اگر ہم عمران خان کے اِس بیان کی تشریح کریں تو وہ کچھ یوں ہو گی ”عورت کا مختصر لباس دراصل نسوانی جنسی اعضاء کو نمایاں کرتا ہے جو جیتے جاگتے مرد کے لیے پر کشش ہوتے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں مرد کا عورت پر جنسی حملہ بعید از عقل نہیں ہے۔ “ عمران خان اپنے بیان میں جس بات کو کامن سینس قرار دے رہے ہیں وہ دراصل پدر سری نظام کا مائنڈ سیٹ ہے یعنی مخصوص ذہنی کیفیت یا طرز خیال جس کے مطابق عورت سر تا پا عضو یا شرم گاہ کے برتی جانے والی شے ہے۔ اور اِس کی تصدیق اردو لغات میں موجود عورت کے لغوی معنی سے بھی ہوتی ہے جسے آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔ عورت کے جسم کو محض جنسی زاویۂ نگاہ سے پرکھنے اور برتنے کے پدرانہ روئیے کے خلاف ہندوستان کی ایک خاتون نے حال ہی میں انتہائی منفرد اور موثر انداز میں احتجاج درج کروایا ہے۔ ”ہندوستان کے شہر کیرالہ کی رہائشی ریحانہ فاطمہ نے اپنے نیم برہنہ جسم پر اپنے دو بچوں سے پینٹنگ کروائی اور اُس کی ویڈیو اِنھوں نے اپنے فیس بک اِکاؤنٹ پر“ باڈی اینڈ پالیٹکس ”کے عنوان سے پوسٹ کر دی۔ جس کی پاداش میں انھیں فحاشی اور بچوں کے ساتھ جنسی تسکین حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن کیرالہ ہائی کورٹ کی جسٹس کوثر ایداپاگتھ نے انھیں یہ کہہ کر رہا کر دیا کہ ننگے جسم کو سیکس سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا، ایک عورت کے جسم کے برہنہ بالائی حصے کا محض دکھائی دینا ہمیشہ جنسی نوعیت کا نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اِسی طرح ایک عورت کے برہنہ جسم کو فحش، غیر مہذب اور جنس زدہ نہیں کہا جا سکتا۔ مزید یہ کہ برہنہ ہونے اور فحاشی میں کوئی مماثلت نہیں۔ شکیل اختر کے مضمون سے، بی بی سی اردو 8 جون۔ حوالہ ختم“ دراصل یہ ہی وہ پیغام تھا جو ریحانہ فاطمہ پدر سری معاشروں کو دینا چاہتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں مسئلہ عورت کے جسم کا نہیں بلکہ لوگوں کی پراگندہ سوچ میں ہے۔ ذرا حالات کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے لگائیے کہ اِس پراگندہ سوچ کا حامل مرد فعل مختار بھی ہے لہٰذا اُسے نہ صرف اپنی بلکہ عورت کی جنس پر بھی مکمل اِختیار حاصل ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ مرد جنسی خواہش کا نہ صرف برملا اِظہار کر سکتا ہے بلکہ بسا اوقات اِس کے حصول کے لیے جارحانہ اِقدامات کا بھی اِختیار رکھتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ دو کسرتی بدن والے ننگ دھڑنگ مرد پہلوان لنگوٹ باندھے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتے ہیں اور کُشتی کے اِس کھیل کو قومی نشریاتی اِدارے براہ راست نشر کرتے ہیں جسے نہ صرف پورا خاندان ساتھ بیٹھ کر دیکھتا ہے بلکہ محظوظ بھی ہوتا ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا اِن کسرتی بدن کے مالک برہنہ تن مردوں کو دیکھ کر جیتی جاگتی عورت میں جنسی خواہش کا بیدار ہونا فطری عمل ہے یا نہیں۔ عمران خان کے کامن سینس کے مطابق یقیناً فطری ہے لیکن عورت چوں کہ فعل مختار نہیں ہے لہٰذا اُس پر قید لگائی جا سکتی ہے۔ معاشرے میں فحاشی کی روک تھام کے لیے مادر پدر آزاد مرد کی سر کوبی کی بجائے پدر سری نظام نے یہ حل نکالا کہ عورت کو چادر اور چاردیواری میں قید کر دیا جائے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ چادر اور چار دیواری مرد کی میراث ہے اور اُس کے اندر موجود ہر شے مرد کی نجی ملکیت ہوتی ہے۔ دانشور محمد مظاہر اپنی کتاب ”برصغیر میں غلامی“ میں لکھتے ہیں کہ ”غلامی ایک ایسے نظام کو کہتے ہیں جس میں کسی فرد کو دیگر افراد کی بطور ملکیت رکھا جائے۔ برصغیر میں غلامی، از کے۔ ایس۔ لال۔ مترجم محمد مظاہر سن 2016۔ حوالہ ختم“ غلامی کی ابتدا دراصل نجی ملکیت کے طاقتور مردانہ تصور سے ہوئی اور عورت اِس کا پہلا شکار جو تاریخ میں غلامی کی پہلی شکل کے طور پر نمودار ہوتی ہے۔ مرد کو بحیثیت فعل مختار کہ جو اِستثناء حاصل ہے اُس کی رو سے وہ اپنے اِختیارات سے تجاوز کا بھی حق رکھتا ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ مرد کا حق اُس کے اِختیار سے بھی دو ہاتھ آ گے دکھائی دیتا ہے۔ کثرت ازدواج کا حق، لونڈی اور باندی پر مسلمہ حق یہاں تک کہ ریپ جیسے مرد کے بہیمانہ عمل کا بھی یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ عورت کا لباس مختصر تھا یا وہ گھر سے باہر تنہا کیوں نکلی یا وہ اِتنی رات کو باہر کیا کر رہی تھی وغیرہ وغیرہ۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو مردوں کی جانب سے لڑی جانے والی جنگوں میں ریپ کو بطور جنگی حربے کے استعمال کیا گیا جو معنی خیز ہے۔ لہٰذا اِس کا مختصر بیان بھی مضمون کے سیاق و سباق میں رہتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے۔

ہماری تاریخ جنگی جنون میں مبتلا مردوں کے توسیع پسندانہ عزائم سے بھری پڑی ہے جس میں فاتح مردوں کے ہاتھوں مفتوح اقوام کی عورتوں کا جنسی اِستحصال شرمناک حد تک اِنتہائی منظم انداز میں کیا گیا۔ عورت جو عموماً جنگ کی حمایت نہیں کرتی باوجود اِس کے مردوں کی جانب سے لڑی جانے والی جنگوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ کہیں مال غنیمت کے نام پر دیگر اشیاء کی طرح فتح مند مردوں میں تقسیم کی جاتی ہے تو کہیں مفتوحہ قوموں کی نسل خراب کرنے اور اُنھیں سزا دینے کے غضب ناک عمل کا شکار ہوتی ہے۔ اِس بات کی تصدیق کے لیے اِتنا ہی کافی ہو گا کہ قریب ترین 70 سالا جنگی تاریخ پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ مؤرخین کے مطابق جنگ عظیم دوئم کے دوران جرمنی میں کم و بیش دو ملین عورتیں اِتحادی فوج کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہوئیں۔ مریم گیب ہارڈ اپنی کتاب ”کرائم ان اسپوکن“ میں جو اعداد و شمار پیش کرتی ہیں اُن کے مطابق جنگ کے اختتام پر جرمنی میں پیدا ہونے والے بچوں میں پانچ فیصد بچے وہ تھے جو ریپ کی وجہ سے پیدا ہوئے یعنی ہر دس میں سے ایک ریپ حمل کی وجہ ٹھرا۔ اِنھوں نے ریپ کا فیصدی تناسب اِتحادی فوجوں میں تقسیم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ تقریباً تمام ہی ملکوں کی مرد فوج نے جنگی حکمت عملی کے تحت عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

اِسی طرح ”کمفرٹ وومن“ کی تحریک ہمیں بتاتی ہے کہ اِسی جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپانی فوج نے تقریباً دو لاکھ عورتوں کو ”سیکس سلیو کیمپ“ میں جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ بہرحال جاپان نے حال ہی میں اِس پر نہ صرف معافی مانگی ہے بلکہ متاثرین اور اُن کے اہل خانہ کی مدد کے لیے 1995 میں ”ایشین وومن فنڈ“ بھی قائم کیا ہے جس میں جاپانی فوج کی پینشن کا ایک حصہ مختص کیا گیا ہے۔ لیکن ہم آج تک مشرقی پاکستان میں کیے گئے ایسے ہی جرم پر معافی کے منتظر ہیں۔ اِسی طرح بوسنیا، روانڈا، کانگو، کشمیر، سوڈان، شام، لیبیا، اور مالی میں نسل کشی کے نام پر ہزاروں عورتوں کو مردوں نے بڑی بربریت کے ساتھ اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ تو اب سوال یہ ہے کہ حالت جنگ میں جنسی اعضاء کی نمائش اور پر کشش دکھائی دینے کے لیے نہ جانے یہ عورتیں ایسا کون سا مختصر لباس زیب تن کیا کرتی تھیں کہ مردوں کی پوری کی پوری فوج اِن پر ٹوٹ پڑتی تھی۔

اسی نسبت سے اگر سندھ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو جو صورت حال دکھائی دیتی ہے اُسے محمد مظاہر نے اپنی کتاب ”برصغیر میں غلامی“ میں بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ ”محمد بن قاسم 712 ء جب سندھ میں دیبل پر حملہ آور ہوا تو اُس نے سترہ برس کی عمر سے زائد تمام مردوں کو تہہ تیغ کر دیا اور اِن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ 700 خوش شکل عورتیں جو بدھوں کے معبدوں میں پناہ لیے ہوئے تھیں اِن سب کو گرفتار کر لیا گیا۔ قاسم نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ حجاج کو روانہ کر دیا جس میں پچھتر دوشیزائیں شامل تھیں باقی ماندہ سپاہ میں تقسیم کر دی گئیں۔ اسی طرح جب قاسم نے ریواڑ پر قبضہ کر لیا تو مردوں کا قتل عام کرنے کے بعد اِن کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا اِن میں سے تیس جوان خواتین شاہی خاندان کی تھیں۔ محمد بن قاسم نے اِن سب کو حجاج کو روانہ کر دیا جس نے انھیں خلیفہ ولید کے پاس بھیج دیا جس نے شاہی نسل کی چند عورتوں کو بیچ ڈالا اور باقی کو دوسروں کو تحفہ میں دے دیا۔ برصغیر میں غلامی از کے۔ ایس۔ لال، مترجم محمد مظاہر سن 2016، حوالہ ختم“ ریپ کا اُردو ترجمہ ہمارے ہاں زنا بالجبر کیا جاتا ہے۔ جبکہ محمد مظاہر اپنے مقالے ”نو آبادیاتی نظام۔ برصغیر کا ادبی سفر“ میں ہمیں بتاتے ہیں کہ ”لفظ زنا بالجبر کی ترکیب اگرچہ غلط ہے مگر ہماری تاریخی لغت میں یہ لفظ 1928 میں نمودار ہوتا ہے۔ جبکہ ہندوستان میں دادا گیری نہ جانے کب سے رائج تھی۔ حوالہ ختم“ مردوں کی جانب سے عورتوں کے جنسی اِستحصال کی تاریخ کے پیش نظر لفظ دادا گیری کا اِستعمال ہی درست دکھائی دیتا ہے۔ اب ذرا اِس کی دیگر اشکال بھی ملاحظہ کیجیے۔ فتویٰ قاضی خان میں امام ابو حنیفہ کے مطابق وہ زنا جو مرد کسی عورت کو پیسے دے کر کرتا ہے اگرچہ نا جائز اور نا پسندیدہ عمل ہے لیکن شبہ پیدا ہو جانے کی وجہ سے مرد پہ حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ اور وہ شبہ نکاح کی صورت ہے جس میں مرد پہ یہ واجب ہے کہ وہ اپنی منکوحہ کو جنسی تعلق قائم کرنے کے عوض حق مہر ادا کرے اِس کے لیے اُجرت کا لفظ بھی اَستعمال ہوا ہے۔ ایک اور صورت متعہ کی بھی ہے جس میں مرد عورت سے پیسے اور میعاد کے تعین کے بعد جنسی تعلق قائم کرتا ہے۔ یہ تمام صورتیں پدر سری نظام میں مرد کی سرمایہ دارانہ دادا گیری نہیں تو اور کیا ہیں۔

Facebook Comments HS