ناول بُت پرستوں کی نئی نسلیں (12)

پلوشہ نہا دھو کر اور تیار ہو کے صوفے پر بیٹھی اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہی تھی جب اس نے محسوس کیا کہ روشن داد جاگ گیا ہے۔ وہ فوراً اٹھ کر اس کے پاس پہنچی۔ اس کے ماتھے پر ’صبح بخیر‘ کہتے ہوئے ایک بوسہ ثبت کیا اور بولی
”اب اگر آپ بیدار ہو ہی گئے ہیں تو ذرا واش روم کا رخ کیجئے“ ۔
روشن داد اٹھ کر بیٹھ گیا اور پلوشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی ساتھ بٹھا لیا
”واش روم تو میں چلا ہی جاؤں گا لیکن پہلے مجھے کچھ سوالوں کے جواب درکار ہیں“ ۔
”سوالوں کے جواب؟ مگر کیسے سوال اور کس سے؟“ ۔
”سوال تمہی سے کرنے ہیں اور میرے خیال میں ان کے جواب بھی تمہارے ہی پاس ہیں“ ۔
”میرے پاس؟ تو پھر کیجئے سوال“ ۔
”تم کون ہو؟ یہاں کیوں آئی ہو؟ اور میرے ساتھ بستر میں آنے میں تمہارا حقیقی مقصد کیا ہے؟“ ۔
”ٹھہرئیے ٹھہرئیے! یہ تو بہت سارے سوالات ایک ساتھ کر دیے ہیں آپ نے۔ زیادہ اچھا ہوتا اگر ہم ناشتے کے بعد کہیں سکون سے بیٹھتے۔ یوں میں آپ کے تجسس اور تشویش کا خاطرخواہ بندوبست کرتی۔ اس سے پہلے آپ غسل بھی فرما چکے ہوتے“ ۔
پلوشہ کا انداز کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے تمام سوالات کے جواب دینے کے لئے تیار ہے مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ روشن داد بھی تازہ دم ہو جائے اور پھر وہ دونوں کسی خاموش کونے میں بیٹھ کر ان تمام موضوعات پر بات کریں۔ لیکن روشن داد نے اسے ٹوک دیا۔
”ان سوالوں نے رات کو کئی بار میری نیند خراب کی ہے، ان کے جواب جانے بغیر میں اس وقت کچھ بھی اور نہیں کر سکتا“ ۔
”اچھا؟ یہ بات ہے! تو پھر ادھر صوفے پر آ جائیے“ ۔
روشن داد اٹھ کر اس صوفے پر آ بیٹھا جہاں پہلے پلوشہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔ پلوشہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔
”جی تو اب بتائیے، وہ کون سے وسوسے یا واہمے ہیں، جنہوں نے آپ کی نیند خراب کی؟“ ۔
روشن داد نے گلا صاف کیا اور بولا ”ایک تو میرا تمہارے جیسی لڑکیوں سے کبھی واسطہ نہیں پڑا، پھر میری تعلیم بھی کچھ اور ہی ماحول
میں ہوئی ہے۔ اسی لئے میرے پاس تمہارے بارے میں کوئی علم نہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم اصل میں کون ہو؟ ”۔
پلوشہ تو جیسے ہر نوع کے سوال کا جواب زبان پر ہی لئے بیٹھی تھی، یوں گویا ہوئی ”جیسا کہ میں نے آپ کو پچھلی رات ہی بتایا تھا، میں ایک طوائف ہوں۔ میری ماں، میری نانی اور نانی کی نانی، بلکہ سب سے پہلی نانی بھی ایک طوائف تھی۔ ان میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جنہیں بے پناہ شہرت اور ڈھیروں پذیرائی نصیب ہوئی“ ۔
”تم صرف ماں اور نانی بلکہ سب سے پہلی نانی کا بھی ذکر تو کر رہی ہو لیکن باپ، دادا یا نانا کا کہیں نام تک نہیں“ ۔
”سچ پوچھئیے تو کوئی بھی طوائف جو اصلی طوائف ہو، وہ کسی مرد کو اس قابل ہی نہیں سمجھتی کہ اس کا نام شجرہ نسب میں شامل کرے۔ ہم عورت کی حکمرانی میں یقین رکھتے ہیں۔ ہماری ذاتی زندگی میں مرد بس ایک وقتی ضرورت ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہم آگے چل کر میڈیکل سائنس کی مدد لیں اور اس ضرورت سے بھی فارغ ہو جائیں“ ۔
”تم بار بار لفظ ’طوائف‘ استعمال کر رہی ہو۔ ذرا یہ تو بتاؤ کہ ایک طوائف اور سیکس ورکر میں آخر فرق کیا ہے؟“ ۔
”اب آپ نے مجھے اس موضوع پر رہنمائی کرنے کے قابل سمجھ ہی لیا ہے تو ہم پہلے عورت کی جسم فروشی کے آغاز پر بات کر لیتے ہیں۔ معلوم تاریخ میں اس کی ابتدا دنیا کی پہلی بڑی تہذیب یعنی بابل میں ہوئی۔ یہ تقدیس کے پردے میں لپٹی ہوئی تھی کیونکہ اس کی آمدنی سے معبدوں کے اخراجات ادا کیے جاتے تھے۔ بڑا حصہ بے شک پروہتوں کی جیب میں جاتا تھا مگر تصور یہی تھا کہ یہ سب دیویوں اور دیوتاؤں کی خوشنودی کے لئے ہو رہا ہے“ ۔
”تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ عورت کی جسم فروشی کا آغاز مذہب کی چھتری تلے ہوا؟“ ۔
”میں کہنا نہیں چاہ رہی بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے“ ۔
”اچھا! پھر؟“ ۔
”چونکہ یہ جسم فروشی دیویوں اور دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہوتی تھی، اس لئے اسے مقدس سمجھا جاتا تھا۔ بابل کی ہر عورت پر لازم تھا کہ زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور ایسے کسی مندر میں جا کر کسی اجنبی سے ہمکنار ہو۔ اسے اس وقت وہاں عبادت کا حصہ سمجھا جاتا تھا“ ۔
”کیا یہ کام اب بھی کہیں ہوتا ہے؟“ ۔
”نہیں۔ اب یہ سلسلہ شاید کہیں بھی نہیں ہے۔ مگر آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے آپ اس سلسلے میں کچھ جانتے ہی نہیں“ ۔
”یہ سچ ہے۔ میں اس بارے میں نہ ہونے کے برابر ہی جانتا ہوں۔ تم مجھے بتاؤ پلیز“ ۔
”اچھا! تو سنئے! بابل کی تہذیب تو چھٹی قبل مسیح میں ایرانیوں نے، اس شہر کو فتح کرنے کے بعد زمیں بوس کر دی تھی مگر معبدوں میں کسی نہ کسی حد تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ البتہ اس توڑ پھوڑ کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ ان معبدوں کی بہت سی کسبیاں ادھر ادھر بکھر گئیں
اور یوں جسم فروشی کا یہ سلسلہ ساری دنیا میں پھیل گیا ”۔
”مگر میں نے تو سنا تھا کہ کسی عیسائی بادشاہ نے عیسائیت کے آغاز میں ہی جسم فروشی پر پابندی عائد کر دی تھی“ ۔
”عیسائیت کے آغاز میں تو نہیں البتہ جب رومن شہنشاہ کونسٹاٹین نے خود عیسائی مذہب اختیار کیا تو اس نے پادریوں کے کہنے پر 330 ء میں ہر قسم کی جسم فروشی کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔ یہ اور بات کہ تب تک یہ ساری دنیا میں پھیل چکی تھی۔ یہاں ہندوستان میں بھی مندروں میں دیو داسیاں ہوا کرتی تھیں۔ وہ اپنے طور پر تو دیویوں اور دیوتاؤں کی پناہ میں ہوتی تھیں مگر ان کے جسموں پر پنڈتوں کا قبضہ ہوتا تھا“ ۔
”ہندوؤں میں تو بیوہ کی شادی نہیں ہو سکتی تھی، نہ ہی ان کے پاس کوئی اور آمدنی کا ذریعہ ہوتا تھا۔ وہ تو اس لئے بھی جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی ہوں گی“ ۔
”آپ ذرا غور کریں، بیوہ کو برصغیر ہند و پاک کی کئی زبانوں میں رنڈی کہا جاتا ہے۔ پھر یہی بیوہ کے لئے استعمال ہونے والا لفظ ’رنڈی‘ جسم فروش عورتوں کے لئے استعمال ہونے لگا۔ بے شک اور بھی کئی نام ہیں جو ہمارے اس علاقے میں جسم فروش عورتوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں“ ۔
”جیسے کہ؟“ ۔
”جیسے کہ فاحشہ، بدکار، بیسوا، چھنال، زانیہ، کلٹا، نٹنی، نوچی وغیرہ وغیرہ“ ۔
”لیکن یہ سیکس ورکر کا لفظ کہاں سے آیا؟“ ۔
”مغرب میں پراسٹی چیوٹ اور کال گرل کے الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ پھر کچھ جسم فروش عورتوں نے خود کو ماڈل بھی کہنا شروع کر دیا۔ ہمارے پاس یہ الفاظ پہلے سوسائٹی گرل اور بعد میں سیدھے سیدھے سیکس ورکر میں ڈھل گئے“ ۔
”یہ سب تو جسم فروش اور سیکس ورکر کی کہانی ہے۔ تم کہتی ہو کہ تم ایک طوائف ہو۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ طوائف کون ہے اور اس کی ابتدا کیسے ہوئی؟“ ۔
”اب بس بھی کریں۔ بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ آپ اب اٹھ کر غسل فرمائیں تاکہ ہم دونوں جا کر ناشتہ کر سکیں“ ۔
”اٹھتا ہوں بھئی، پہلے مجھے طوائف کے بارے میں تو کچھ بتا دو۔ میرا بڑا سوال تو تمہارے ہی بارے میں تھا۔ تم کہتی ہو کہ تم ایک طوائف ہو تو اس طرح یہ سوال طوائف کے بارے میں ہوا“ ۔
اور پلوشہ نے ہاتھ سے پکڑ کر روشن داد کو اٹھایا اور واش روم کی طرف لے چلی تھی کہ وہ رک کر بولا
”یار تمہارے بارے میں صحیح پتہ نہیں چلے گا تو میں بے چین رہوں گا“ ۔
”میں آج ہی کسی وقت آپ کی بے چینی دور کر دوں گی“ ۔
اور اس نے روشن داد کو واش روم میں دھکیل دیا۔
منشی چراغ دین نے چونکہ ایک پٹواری کے ساتھ کئی سال کام کیا تھا، اس لئے وہ زمینوں سے متعلق سرکاری معاملات کی کافی سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔ کھیتی باڑی اس کے اجداد کا پیشہ تھا لہٰذا اسے یہ علم بھی نئے سرے سے سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ چنانچہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر ملک جہانداد کا منشی مقرر ہو کر آخر ملک پور کے معاملات میں اس کا دایاں بازو بن گیا۔
احمد دین، منشی چراغ دین کا چھوٹا بیٹا، دو بار ایف اے میں فیل ہونے کے بعد خود فضل داد کے پاس آیا اور اسے اپنی زندگی پیش کر دی۔ وہ نڈر تھا، بہادر تھا اور ذہین بھی تھا۔ تعلیم اور امتحانوں میں اچھا نہ ہونے کے باوجود، وہ دنیا داری کو خوب سمجھتا تھا۔ اس نے فضل داد کے تمام مشکل کام سنبھالے اور خوب نمٹائے۔ نئی چیزوں کو سمجھنے اور نئے علوم کی عمومی جانکاری حاصل کر لینے کی صلاحیت اس میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس کا شمار آج بھی فضل داد کے اہم ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔
نیاز علی اور فراز علی دونوں احمد دین کا ہی پرتو تھے۔ دونوں گریجویٹ تھے اور باڈی بلڈر بھی۔ باپ کی طرح وہ بھی فضل داد کے وفادار تھے۔ البتہ دونوں میں ایک اہم فرق بھی تھا۔ نیاز علی، باپ کی طرح ہر لحاظ سے فضل داد کا تابعدار تھا لیکن فراز علی کی نظر میں فضل داد کی بے پناہ دولت اور طاقت بری طرح کھٹکتی تھی۔
پلوشہ اور روشن داد جس وقت ناشتے والے ہال میں پہنچے تو یہ دیکھ کر روشن داد کو کافی حیرت ہوئی کہ رات والی چالیس لڑکیوں میں سے وہاں صرف پندرہ ہی موجود تھیں۔
نیاز علی اور فراز علی دونوں جم ٹراؤزر اور باکسر بنیانوں میں ملبوس وہاں نگرانی کر رہے تھے۔ ان لباسوں میں ان کے کسرتی جسم بہت نمایاں تھے۔ ان کے بازوؤں کی ننگی مچھلیوں کا رعب ہر دیکھنے والے پر پڑ رہا تھا۔
روشن داد نے نیاز علی سے پوچھا ”باقی لڑکیاں کہاں ہیں؟“ ۔
”وہ ابھی سو رہی ہیں صاحب“ ۔
”وہ کیوں۔ ؟“ ۔
”ابھی صبح دم تو وہ اپنے بستروں میں گئی ہیں“ ۔
”تو کیا وہ ساری رات جاگتی رہی ہیں؟“ ۔
”یہ ایسا ہی کرتی ہیں جناب۔ پہلے تو انہیں اس طرح اکٹھے ہونے کا موقع چار چھ ماہ سے پہلے کم ہی ملتا ہے۔ پھر جب یہ ایسے مل جائیں تو بڑا ہنگامہ کرتی ہیں۔ رات بھی آپ کے اٹھ جانے کے بعد انہوں نے شراب پینا بند کر دی اور اپنے اپنے نشے جو وہ ساتھ لے کر آئیں تھیں وہ نکال لئے۔ جن کے پاس نہیں تھے انہیں دوسری لڑکیوں نے دے دیے ”۔
”دوسرے نشے؟ کیا مطلب؟“ ۔
”شراب تو ان کی روزمرہ ہے صاحب! ایسی ملاقاتوں میں تو یہ بہت ہائی فائی نشے استعمال کرتی ہیں۔ کبھی آپ کو تفصیل بھی بتا دوں گا“ ۔
”اچھا! لیکن ساری رات کرتی کیا رہی ہیں؟“ ۔
”ڈانس، گانے اور لطیفے“ ۔
”لطیفے بھی؟“ ۔
”جی! اور ایسے لطیفے کہ بے تکلف مرد بھی شاید ہی اپنی محفلوں میں ایسے لطیفے سنتے سناتے ہوں“ ۔
”اس کا مطلب ہے کہ اب وہ سارا دن سوتی رہیں گی“ ۔
”نہیں سرکار! دوپہر کے بعد اٹھ جائیں گی۔ اور اگر آپ نے انہیں بعد میں یہاں رکنے کی اجازت دی تو شام کو ہشاش بشاش اور چہکتی ہوئی ملیں گی“ ۔
”تو پھر روک لو انہیں شام تک۔ اور ہاں دیکھو! (پلوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) اس لڑکی کا خاص خیال رکھنا۔ اسے بھی جانے نہیں دینا۔ مجھے اس سے ابھی بہت کچھ پوچھنا ہے“ ۔
تبھی فراز علی جو کہ اب تک نیاز علی کے پیچھے خاموش کھڑا تھا یک دم سامنے آ گیا ”ان کا خیال رکھنے کی ذمہ داری آپ مجھے دیجئے۔ میں یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر سکتا ہوں۔ آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا“ ۔
نیاز علی نے فراز علی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا مگر تبھی روشن داد بولا
”ہاں ہاں! کیوں نہیں؟ یہ ذمہ داری تم ہی سنبھالو“ ۔
اور وہ ناشتے والی میز کی طرف بڑھ گئے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
ثمینہ بی بی اور شاہ محمد اتنی دیر سے روشن آباد میں رہتے رہتے نئے ماحول کا اثر بھی قبول کر چکے تھے۔ اب وہ دونوں کافی حد تک اردو سمجھنے اور گزارے لائق بولنے بھی لگے تھے۔ وہ دونوں بیٹھے چائے پی رہے تھے جب ان کی بہو وہاں آئی۔
ثمینہ نے اسے دیکھتے ہی سوال کیا
”کیا بات ہے بہو؟ عطا محمد ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آیا؟“ ۔
بہو نے جواب دیا
”ابھی ابھی تو جاگے ہیں وہ۔ پتہ نہیں آج کیا بات ہے!“ ۔
ثمینہ بھی جیسے اس کی تائید کرتے ہوئے بولی
”روز تو صبح سویرے اٹھ جاتا ہے۔ آج کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے اس کی؟“ ۔
”بظاہر تو سب ٹھیک ہے لیکن رات بھی خلاف معمول دیر تک جاگتے رہے اور آج اٹھنے میں بھی دیر لگا دی“ ۔
اتنے میں عطا محمد بھی آ گیا۔ وہ دنیا کی نظروں میں تو ثمینہ اور شاہ محمد کا بیٹا تھا لیکن اصل میں وہ ثمینہ اور فضل داد کا بیٹا تھا۔ البتہ یہ بات ثمینہ اور فضل داد کے علاوہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو۔ اس کے بیٹھتے ہی ثمینہ نے اس سے بھی وہی سوال کر دیا جو بہو سے کیا تھا۔ وہ بولا
”پتہ نہیں کیوں؟ لیکن طبیعت بوجھل بوجھل سی ہے۔ رات کو اچھی طرح سے سو بھی نہیں سکا“ ۔
شاہ محمد بولا ”تم تو اپنی خوراک اور ورزش کا اتنا خیال رکھتے ہو۔ روپے پیسے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، پھر طبیعت کا بوجھل پن کہاں سے آ گیا؟ ضرور کوئی اور بات ہوئی ہو گی“ ۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے“ عطا محمد نے جواب دیا
ثمینہ بولی ”پتہ نہیں کیوں، لیکن مجھے لگتا ہے، کچھ ایسا ہے جو تم چھپا رہے ہو اور وہ تمہیں تنگ کر رہا ہے“ ۔
”نہیں ماں ایسی کوئی بات نہیں۔ بس کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے“ ۔
پھر اپنی بیوی سے مخاطب ہوا ”تم میرے کپڑے استری کرا دو“ ۔
”وہ تو میں نے کب کے استری کرا کے لٹکا دیے تھے“ بیوی نے جواب دیا۔
”میں تمہیں بتانا بھول گیا تھا، آج میں کالی شلوار قمیض پہننا چاہتا ہوں۔ تم انہیں استری کرا دو“ ۔
”ٹھیک ہے، میں ابھی کرا دیتی ہوں“ اور وہ اٹھ کر چلی گئی
عطا محمد پھر ماں باپ سے مخاطب ہوا ”آپ لوگوں کا اندازہ درست ہے۔ میں سخت دباؤ میں ہوں“ ۔
”کیا ہوا؟“ ثمینہ فوراً بولی۔ اس کے لہجے میں پریشانی نمایاں تھی
”پیر علیم الدین وغیرہ مجھے بہت تنگ کر رہے ہیں“ ۔
”کیوں کیا کہتے ہیں وہ؟“ شاہ محمد نے پوچھا
”آپ جانتے ہیں ملک فضل داد صاحب نے ان لوگوں کو اس علاقے کی سیاست سے نکال باہر کیا ہے۔ اس لئے وہ موقع کی تلاش میں ہیں۔ ان کا اثر و رسوخ ابھی بھی بہت ہے۔ نہ صرف اس علاقے میں بلکہ حکومتی حلقوں میں بھی۔ اوپر سے ان کی پیری مریدی بھی خوب چلتی ہے۔ اپنے تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے وہ پیسے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں“ ۔
”تو پھر؟“ ثمینہ نے غصے والے انداز میں پوچھا
”وہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں ملک صاحب کی کسی کمزوری سے آگاہ کروں۔ تاکہ وہ ملک صاحب کو بلیک میل کر کے دوبارہ سے سیاست میں داخل ہو سکیں“ ۔
”تم انہیں صاف صاف جواب دے دو“ ثمینہ بولی
”ایسا کرنا عقلمندی نہیں ہو گی۔ ہم سب کی جانیں خطرے میں رہیں گی“ ۔
”تو تم ملک صاحب کو حقیقت سے آگاہ کرو“ شاہ محمد نے اسے راستہ دکھایا
”یہ تو اور بھی بڑی بے وقوفی ہو گی۔ ملک صاحب کو بھی آپ جانتے ہیں۔ اس وقت تک یہ جو دبی دبی دشمنی ہے دونوں فریقین کے درمیان، وہ کھل کر سامنے آ جائے گی۔ بہت خون خرابہ ہو گا“ ۔
”تو پھر تم کیا کرو گے؟“ اب ثمینہ کو تشویش ہو رہی تھی
”میں کسی ایسے راستے کی تلاش میں ہوں، جس سے پیر علیم الدین وغیرہ بھی خاموش ہو جائیں، چاہے وقتی طور پر ہی اور ملک صاحب کا بھی کوئی نقصان نہ ہو۔ مصیبت یہ ہے کہ مجھے ابھی تک کوئی ایسا راستہ سوجھ نہیں رہا“ ۔
”مجھے تمہارے خیال سے مکمل اتفاق ہے۔ لیکن جب تک تمہیں مطلوبہ راستہ نہیں مل جاتا، تم پیر برادران کو تسلی دیے رکھو“ شاہ محمد بولا
”وہ تو میں کر ہی رہا ہوں۔ بس انہیں ذرا جلدی پڑی ہوئی ہے۔ میں صرف اسی لئے پریشان ہوں“ ۔
عروسہ فضل نے کوئی عذر تراشا اور دوپہر کی بریک سے پہلے ہی دفتر سے چھٹی لے کر گھر آ گئی۔
فضل داد سے صبح اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہ اس کے جاگنے سے پہلے ہی کسی کام سے جا چکا تھا۔
جونہی وہ گھر کے اندرونی حصے میں آیا۔ عروسہ نے اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔
”آپ جانتے ہیں کہ روشن رات گھر نہیں آیا؟“ ۔
”جی ہاں! میں نے ہی اس کے ملک پور میں قیام کا بندوبست کرایا تھا“ ۔
”اور آپ نے مجھے بتانا تک گوارا نہیں کیا؟“ ۔
”مجھے پکا پتہ نہیں تھا کہ وہ رات وہاں ٹھہرنے کے لئے راضی ہو گا یا نہیں“ ۔
”لیکن ایسی کیا ضرورت تھی کہ وہ رات کو وہاں ٹھہرے؟“ ۔
”میں اسے احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر وہ یہاں رہے تو شہزادوں اور حاکموں کی طرح کی زندگی گزار سکتا ہے۔ جب وہ یہاں تھا اور پڑھ رہا تھا تو میں نے اسے تمام کاروباری اور سیاسی معاملات سے دور رکھا تھا“ ۔
”اگر اس کی تعلیم کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، جو اس وقت ہمارے سامنے ہے، تو بہتر ہوتا اگر اسے پہلے ہی اس کی اس شہزادگی کا احساس دلا دیا جاتا۔ یہاں رہ کر روپیہ پیسہ بے شک ضائع کرتا لیکن رہتا تو ہمارے پاس“ ۔
”میں نے تو اپنے طور پر درست ہی کیا تھا مگر آپ اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں، انسان کے تمام منصوبے تو کامیاب نہیں ہوتے۔ ہم کوشش کرنے کے علاوہ اور کر ہی کیا سکتے ہیں؟“ ۔
”ایسا نہ ہو کہ آپ کا حالیہ منصوبہ بھی کچھ الٹا ہی رنگ لے آئے“ ۔
”اس کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ مگر کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟“ ۔
”پتہ نہیں کیوں؟ لیکن روشن داد کے بارے میں آپ کی منصوبہ بندی میرا دل دھڑکائے رکھتی ہے۔ مجھے بہت تشویش ہے ان معاملات پر“ ۔
”آپ تھوڑا حوصلہ رکھئیے۔ امید ہے کچھ برا نہیں ہو گا“ ۔
”میں فکر مند ہونے کے سوا کر ہی کیا سکتی ہوں؟ اور اب انتظار کے علاوہ میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اچھا! ایک لڑکا ہے دس گیارہ سال کا، گجو نام بتاتا ہے۔ کل سے کتنے ہی چکر لگا چکا ہے۔ کہتا ہے بے یار و مدد گار ہے۔ آسرا چاہتا ہے۔ میں نے کچھ مالی امداد کی پیش کش کی تھی لیکن وہ بھیک میں کچھ نہیں لینا چاہتا۔ کہتا ہے اسے گھر میں ملازم رکھ لیا جائے، بے شک صرف روٹی کپڑے پر ہی“ ۔
”اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے ہی جینا چاہتا ہے تو کچھ دنوں کے لئے آزما لیجیے۔ اوپر والے کام کرتا رہے گا۔ پھر اگر اس نے کوئی بدتمیزی نہ کی تو پکی نوکری دے دیں گے“ ۔
ملک پور میں یہ ناشتہ، جسے وقت کے لحاظ سے برنچ کہنا زیادہ مناسب ہو گا، کافی دیر میں ختم ہوا۔ پھر اس کے بعد جب فراز علی، پلوشہ پاشا کو کو اس کے کمرے تک چھوڑنے گیا تو اس نے موقع ملتے ہی اسے پیش کش کر دی
”اگر وہ چاہتی ہے تو وہ اسے روشن داد کے نزدیک لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے“ ۔
”ہاں! اگر ضرورت پڑی تو میں تمہیں بتا دوں گی“ ۔
اس طرح دونوں کے درمیان ہلکی سی بے تکلفی کا ماحول پیدا ہو گیا۔
ادھر روشن داد نے اپنے کمرے میں جا کر کچھ دوستوں کو ٹیلیفون کیے۔ اپنی گزری ہوئی رات کا جائزہ لیا۔ باقی دن کے بارے میں پروگرام بنایا اور نیاز علی کو بلا کر اسے اپنے ارادوں سے باخبر کر دیا۔
روشن داد کی ہدایت کے مطابق دوپہر کو ہی پلوشہ پاشا سے اس کی ایک اور ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔
موسم بہت اچھا تھا اس لئے پلوشہ کی خواہش پر حویلی سے منسلک باغ کے ایک کونے میں دونوں کے لئے میز اور کرسیاں لگا دی گئیں
پلوشہ کی طلب تھی، سو اچھی سی چائے کا بھی انتظام کیا گیا۔
ملاقات کا آغاز روشن داد کے براہ راست سوال سے ہوا
”اب تم مجھے طوائف یا اپنے بارے میں کچھ بتاؤ“ ۔
”میں کچھ تاریخی حقیقتوں سے بھی آگاہ ہوں اور کچھ میرے ذاتی خیالات یا تجزیے ہیں“ ۔
”اچھا! تو تم پہلے اپنے ذاتی خیالات شیئر کرو“ ۔
”میں سمجھتی ہوں کہ جب زرعی انقلاب آیا، جس نے پدرسری معاشرے کی بنیاد رکھی اور عورت کو بھی دوسری املاک کی طرح مرد کی ملکیت بنا دیا۔ نتیجے کے طور پر ہر معاشرے میں عورتوں کا ایک خود سر اور باغی گروہ پیدا ہو گیا۔ یہ گروہ مردوں کی غلامی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا“ ۔
”خود سر اور باغی؟ کیا مطلب؟“ ۔
”ایسی عورتیں جو معاشرتی طور پر تو مرد کی زیر نگیں تھیں مگر ان کے دماغ اس غلامی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ تو ایسی عورتوں نے اپنی آزادی قائم رکھنے کے لئے راستے تلاش کرنا شروع کیے۔ وہ ایسی خواہش بھی رکھتی تھیں کہ کسی طرح بے لگام مردوں کی تربیت کر کے، انہیں عورت کی عزت کرنے پر مجبور کر دیا جائے“ ۔
”کیا تمہارے اس خیال کے کہیں تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں؟“ ۔
”شاید نہیں۔ اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں بھی تاریخ مرتب کرنے والے سب مرد ہی تھے“ ۔
”اچھا! پھر؟“ ۔
”میرا خیال ہے کہ انہی باغی اور خود سر عورتوں نے، جو مرد کی بالادستی کے خلاف تھیں، اخلاق اور تہذیب کے ادارے کی بنیاد رکھی۔ البتہ مردوں نے انتقاماً انہیں طوائف کا نام دے دیا اور انہیں اپنے معاشرے سے باہر کرنے کی کوشش کی۔ مگر مردوں کی اس خواہش کو پوری کامیابی کبھی حاصل نہ ہو سکی“ ۔
”تمہاری بات کچھ کچھ سمجھ میں تو آ رہی ہے“ ۔
”ہر طاقتور مرد نے عورت کو کنیز کا درجہ دیا مگر ان میں سے جس کنیز کو بھی موقع ملا، وہ براہ راست یا بالواسطہ اس کی حکومت پر قابض ہو گئی۔ وہ عورت جو خرید کر حرم کا حصہ بنائی گئی تھی، وہ اس کے تخت کی مالک بن گئی۔ ان میں سے بعض عورتوں نے اپنی عقل، ذہانت اور علم سے ثابت کیا کہ وہ کسی طور بھی مرد سے کم نہیں“ ۔
”لیکن میرے خیال میں ایسے واقعات تو پوری تاریخ میں چند ایک ہی ہیں“ ۔
”چند ایک نہیں ہیں البتہ تحریر میں چند ایک ہی آ سکے ہیں“
”تو تمہاری نانی کی نانی یا اس کی بھی نانی ایسی ہی کسی کنیز کی اولاد تھی؟“ ۔
”نہیں میری تو کم از کم سات پشتیں پہلے سے طوائف کے عہدے پر سرفراز تھیں۔ البتہ ایسی کنیزیں، جن کے مالکان دشمن سے شکست کھانے کے بعد اپنی حکومتیں گنوا بیٹھتے تھے، وہ ضرور طوائفیں بننے کی کوشش کرتی رہی ہیں“ ۔
”تمہارا مطلب ہے وہ صرف کوشش کرتی رہی ہیں۔ انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوئی؟“ ۔
”بہت سی کامیاب بھی ہوئیں کیونکہ حرم میں داخل کیے جانے سے پہلے ان کی تربیت کی جاتی تھی۔ حکمرانوں کا دل بہلانے کی اداؤں کے ساتھ ساتھ انہیں ادب آداب بھی سکھائے جاتے تھے اور بننے سنورنے کے طریقے بھی۔ اسی لئے ان کا طوائف بننا زیادہ مشکل نہیں ہوتا تھا“ ۔
”کنیزوں کو تو اور کسی کام کی عادت بھی نہیں ہوتی ہو گی؟“ ۔
”جی بالکل! اور یہ بھی ایک وجہ بنتی تھی ان کے طوائف کا روپ اختیار کرنے کی“ ۔
”لیکن اب ایسی طوائفیں کہاں ہیں؟“ ۔
”ایک تو آپ کے سامنے بیٹھی ہے اور بے شمار میرے جیسی آپ کے پورے معاشرے میں اس طرح شامل ہو گئی ہیں کہ اب انہیں معاشرے سے علیحدہ کرنا ممکن نظر نہیں آتا“ ۔
”تو کیا پہلے یہ طوائفیں معاشرے کا حصہ نہیں ہوتی تھیں؟“ ۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
”ارے آپ یہ بھی نہیں جانتے؟ پہلے طوائفیں شہروں سے الگ اپنے خاص علاقوں اور بازاروں تک محدود تھیں۔ ان سے ملنے کے لئے مردوں کو ان کے بالا خانوں تک جانا پڑتا تھا۔ مگر پھر ایک انقلاب آ گیا“ ۔
”انقلاب؟ کیسا انقلاب؟“ ۔
”پاکستان میں کچھ حکمرانوں نے پہلے بھی تھوڑی بہت کوششیں کی تھیں مگر جنرل ضیاء الحق نام کے ایک آمر نے طوائفوں کے لئے خود ان کے بالا خانے ہی بند کر دیے۔ انہیں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا“ ۔
”وہ کیوں؟“ ۔
”اسے یہ گمان تھا کہ وہ اسلام کا سب سے بڑا ٹھیکیدار ہے اور اسلام میں طوائف یا سیکس ورکر کے لئے کوئی جگہ نہیں۔
(بے شک کئی اہم خلفا کی ملکیت میں سینکڑوں کی تعداد میں کنیزیں رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے وزراء اور شرفا بھی اس معاملے میں کافی امیر رہے تھے ) ۔
”مطلب تمہاری ماں یا نانی وغیرہ کو ان کے اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا؟“ ۔
”جی! حالانکہ میری نانی اور ان جیسی دیگر طوائفوں کے حکمران طبقہ میں کافی تعلقات تھے، مگر وہ اس وقت کسی کام نہ آئے۔
انہیں اپنے گھروں اور بازاروں سے نکلنا ہی پڑا۔ سیکس ورکر کی تو پہلے بھی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ ان کا کاروبار بند کرنا تو اور بھی آسان تھا ”۔
”تو پھر تمہاری نانی اور ان جیسی دوسری طوائفیں وہاں سے نکل کر کہاں گئیں؟“ ۔
”پیسے کی تو ان کو کوئی کمی نہیں تھی، سو انہوں نے آپ جیسے شریفوں کی بستیوں میں مکان خریدے اور وہاں بس گئیں۔ یوں پورے ملک کی طوائفیں اور سیکس ورکر جو پہلے اپنے اپنے بازاروں تک محدود تھیں، پاکستان کی ہر سوسائٹی اور ہر گلی محلے میں پھیل گئیں“ ۔
”ایسے تو ان کے کاروبار ہی بند ہو گئے ہوں گے؟“ ۔
”جی نہیں بلکہ اس کا الٹ ہوا۔ شریف لوگوں کے علاقوں میں رہتے ہوئے ہمیں موقع ملا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو سکولوں اور کالجوں میں پڑھا سکیں۔ اپنے بازاروں میں رہتے ہوئے ہمیں یہ سہولت میسر نہ تھی۔ آپ لوگوں کی بستیوں میں آئیں تو ہم اچھے اچھے سکولوں، کالجوں بلکہ یونیورسٹیوں تک پہنچیں۔ یوں ہمیں وہ کسٹمر بھی حاصل ہو گئے جو ہمارے بازاروں میں نہیں جا سکتے تھے“ ۔
”یوں تم لوگوں کا کاروبار بڑھ گیا؟“ ۔
”بالکل! شریفوں کا لبادہ اوڑھ کر ہمارا بزنس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ شریف لوگوں کی جو لڑکیاں ہمارے ساتھ پڑھتی تھیں، جب انہوں نے ہمارے ہاتھوں میں پیسے کی ریل پیل دیکھی تو وہ بھی لالچ کا شکار ہوئیں۔ اس طرح وہ ہمارے ہاتھوں کا کھلونا بن گئیں“ ۔
”یہ تو بہت برا ہوا“ ۔
”ہمارے لئے تو بہت اچھا ہوا۔ کیونکہ اس سے پہلے ہمارے بھائیوں کو طوائفوں کے بھی رشتے نہیں ملتے تھے۔ ان کی بیویاں بنانے کے لئے ہمیں لڑکیاں خریدنی پڑتی تھیں۔ شریفوں کی بستیوں میں بس جانے کے بعد انہیں بھی اچھے اچھے رشتے ملنے لگے“ ۔
”لیکن تم نے یہ تو ابھی تک نہیں بتایا کہ تم یہاں کیوں آئی ہو؟ اور میرے ساتھ بستر کا حصہ بننے میں تمہارا حقیقی مقصد کیا ہے؟“ ۔
”بستر والی بات تو بہت آسان ہے۔ مجھے آپ پہلی نظر میں ہی اچھے لگے تو میں نے چاہا کہ کم از کم جسموں کی دوستی تو ابھی ہو جائے۔ چاہے یہ صرف اس رات تک ہی محدود کیوں نہ ہو۔ کیا پتہ کل آپ کہیں اور مصروف ہو جائیں۔ کسی کی محبت آپ کو اپنے حصار میں لے لے اور پھر مجھے یہ موقع ہی نہ ملے“ ۔
”محبت تو خیر میں اس وقت بھی کسی سے کرتا ہوں اور جب میں رات تمہارے ساتھ بستر میں تھا تو وہ مجھے یاد بھی آئی تھی“ ۔
”جھوٹ! سب جھوٹ! آپ کسی سے محبت نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ مجھے اپنے قریب بھی نہ آنے دیتے“ ۔
”میں تمہیں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں ایک انگریز لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور وہ بھی مجھے چاہتی ہے“ ۔
”ہو سکتا ہے وہ آپ کو چاہتی ہو لیکن آپ اس سے محبت نہیں کرتے۔ ممکن ہے آپ ایسا سمجھتے ہوں مگر یہ حقیقت نہیں ہے“ ۔
”اچھا چھوڑو اس بات کو اور یہ بتاؤ کہ تم یہاں آئی کیوں تھی؟“ ۔
”یہ ہمارے اور آپ لوگوں کے باہمی کاروبار کا حصہ ہے“ ۔
”باہمی کاروبار؟ مطلب کو ورک؟“ ۔
”جی ہاں! آپ جیسے شرفا اور حکمران طبقات کو اپنے خفیہ معاملات کے لئے ہماری ضرورت پڑتی ہے۔ اس میں ہمارا بھی فائدہ ہوتا ہے، اس لئے اسے مشترکہ کاروبار ہی کہا جائے گا۔ حکمران اشرافیہ کے بہت سے لوگ ایک دوسرے کو اپنے کاموں کے لئے رشوت دیتے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ خفیہ پیغامات بھی، بغیر کوئی ثبوت چھوڑے، ایک دوسرے کو پہنچانے ہوتے ہیں۔ ہم دونوں معاملات میں کارندے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے اس کام کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ اس کی نہ کوئی شہادت ہوتی ہے نہ گواہی“ ۔
”تمہارا مطلب ہے، ان غیر قانونی کاموں کا کوئی گواہ یا ثبوت نہ ہو، نہ کوئی کاغذ، نہ کوئی کال یا میسج، اس لئے تم لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے“ ۔
”سب کام غیر قانونی نہیں ہوتے، مگر انہیں وقت سے پہلے چھپا کر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ باقی بات آپ درست سمجھے ہیں۔ ہماری یہ رازداری اتنی پکی ہوتی ہے کہ کسی کو اگر شبہ بھی ہو تو ثبوت کوئی نہیں مل سکتا“ ۔
”تو کیا تمہیں ڈرایا دھمکایا بھی نہیں جا سکتا؟“ ۔
”بالکل نہیں! ہم دیکھنے میں ضرور نرم و نازک ہوتی ہیں، لیکن اصل میں ہم بہت سخت جان ہیں۔ ہم کسی قیمت پر بھی اپنے کام کا کچھ پتہ نہیں دیتے“ ۔
”مگر تم لوگوں کو آپس میں تو ایک دوسرے کی کچھ خبر ہوتی ہو گی؟“ ۔
”تھوڑا بہت شک ہو سکتا ہے، مگر اصل بات کی خبر؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا“ ۔
”اس کے باوجود کہ تم لوگ ایسی پارٹیوں میں بھی ملتی ہو؟“ ۔
”یہ پارٹیاں تو صرف تعلقات بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ تعلقات کا استعمال ہر کوئی اپنی اپنی عقل کے مطابق کرتا ہے“ ۔
”تو کیا ایک دوسرے کا کنٹریکٹ چھیننے کی بھی کوشش نہیں کی جاتی؟“ ۔
”اچھی بات یہ ہے کہ میرے جیسی کوئی لڑکی یا عورت کبھی کسی دوسرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتی۔ ہم ایک دوسرے کا نہ صرف لحاظ کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ صلح صفائی کے ماحول میں رہتے ہیں“ ۔
”کیا تمہارے ان بازاروں کے زمانے میں بھی ایسا ہی ماحول تھا؟“ ۔
”نہیں، بازاروں اور بالا خانوں کے زمانے میں میری نانی کے بتانے کے مطابق گاہے گاہے پیشہ ورانہ چپقلش بھی چلتی رہتی تھی اور کبھی کبھی آپس میں جھگڑے بھی ہو جاتے تھے“ ۔
”اس کا مطلب ہے کہ جنرل ضیاء نے جو کچھ بھی کیا وہ تم لوگوں کے لئے تو سب اچھا اچھا ہی ہو گیا؟“ ۔
”جی بالکل!“ ۔
”لیکن میرے ساتھ گزاری ہوئی تمہاری رات اور سب کوشش تو بے کار ہی گئی“ ۔
”وہ کیسے۔ ؟“ ۔
”میں یہاں کی اشرافیہ میں پیدا ہونے کے باوجود اس کا حصہ نہیں بنوں گا“ ۔
”یہ کیسے ممکن ہے؟“ ۔
”ایسے کہ میں یہاں رہوں گا ہی نہیں۔ میں بہت جلد لندن واپس چلا جاؤں گا، جہاں میری محبوبہ اور میری محبت رہتی ہے۔ میں باقی زندگی اس کے ساتھ بسر کروں گا“ ۔
”معاف کیجئے گا، مجھے آپ میں اس طرح کے عاشق کی کوئی صفات نظر نہیں آتیں۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ آپ وہاں چلے جائیں لیکن وہاں رہ نہیں سکیں گے۔ آپ کو پلٹ کر یہیں آنا پڑے گا۔ سو بہتر ہے کہ ابھی سے اپنے طبقے کے طور طریقے سیکھ لیں“ ۔
”طور طریقے؟ مگر کون سے؟“ ۔
”یہی کاروباری معاملات والے۔ یعنی آپ کو اچھے رازدار کی بھی پہچان ہونی چاہیے اور اپنے ارد گرد کے ایسے لوگوں سے بھی بچنا چاہیے جو بظاہر تو آپ کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں لیکن دراصل آپ کے وفادار نہیں ہیں“ ۔
”اچھا! ایسا بھی ہوتا ہے۔ ؟“ ۔
”جی ہوتا ہے، بلکہ ہر بڑے گھر اور بڑے ادارے میں ایسا ہوتا ہے“ ۔
”اس بارے میں پھر بات کریں گے۔ اب میں کچھ کام کرنا چاہتا ہوں۔ اچھا ہے کہ تم بھی تھوڑی دیر آرام کر لو“ ۔
”جیسا آپ بہتر محسوس کریں“ ۔
روشن داد نے فراز علی کو بلایا اور پلوشہ کو اس کے ساتھ بھیج دیا۔
راستے میں تو پلوشہ نے کوئی بات نہیں کی، لیکن جونہی وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی، اس نے فراز علی سے سیدھا سوال کر دیا
”تم نے مجھے آج صبح ایک آفر کی تھی، یاد ہے تمہیں؟“ ۔
”بالکل! اچھی طرح یاد ہے“ ۔
”تو مجھے اپنا موبائل نمبر دے دو۔ ہمیں رابطے میں رہنا پڑے گا“ ۔
پیر علیم الدین شاہ، ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا خبریں دیکھ رہا تھا کہ کلیم الدین اور سلیم الدین انٹر ہوئے اور سلام دعا کے بغیر ہی الگ الگ
کرسیوں پر براجمان ہو گئے۔ علیم الدین نے ایک نظر انہیں دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔ وہ ان سے بولا
”کیا بات ہے؟ تم دونوں کا موڈ کیوں آف ہے؟“ ۔
دونوں خاموش منہ پھلائے بیٹھے رہے۔ علیم الدین نے چند ثانیے انتظار کے بعد دوبارہ سوال کیا
”تم لوگ بولتے کیوں نہیں ہو؟ کیا سانپ سونگھ گیا ہے تمہیں؟“ ۔
کلیم الدین نے سلیم الدین کی طرف دیکھا ”تم بتاؤ“ ۔
سلیم الدین نے جیسے جان چھڑانے کی کوشش کی ”آپ بتائیں، آپ بڑے ہیں“ ۔
”کوئی بولو تو سہی۔ ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ کوئی کچھ بتانے کے قابل بھی نہیں رہا“ علیم الدین نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
اب کلیم الدین کو مجبوراً بولنا پڑا ”آپ جانتے تو ہیں، کتنے برے حالات ہو گئے ہیں ہمارے۔ سارا علاقہ جیسے ہم پر تھو تھو کر رہا ہے اور آپ ہمیں کچھ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے“ ۔
علیم الدین نے جیسے بات کو سمجھتے ہوئے انہیں دلاسا دینے کے انداز میں بتایا ”دیکھو میرے پیارے بھائیو! ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اسے اسی طریقے سے کیا جائے تو ٹھیک، ورنہ بڑے بگاڑ پیدا ہو جاتے ہیں“ ۔
”اور کیا بگاڑ ہو گا؟ ہماری سیاست کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے“ سلیم الدین بولا
”حالات جو بھی ہوں لیکن سیاست ہمیشہ ٹھنڈے دل و دماغ سے کرنی چاہیے“ علیم الدین نے پھر سمجھانے کا انداز اپنایا
”لیکن جتنے ٹھنڈے ہم ہو چکے ہیں، پورا علاقہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ ہم سیاست ہی چھوڑ چکے ہیں“ اب باری کلیم الدین کی تھی۔
علیم الدین نے ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول میز پر رکھا اور انہیں سبق پڑھانے والے انداز میں بتایا ”اوپر سے سب ٹھنڈا ہی نظر آنا چاہیے۔ اگر اپنی قسمت ساتھ نہ دے رہی ہو تو مقابل کی قسمت میں سرنگ لگانی چاہیے“ ۔
”مگر ہم تو کچھ کر ہی نہیں رہے۔ بس چپ چاپ بیٹھے دیکھ رہے ہیں“ سلیم الدین نے اپنی تشویش ظاہر کی۔
”لیکن میں چپ چاپ نہیں بیٹھا ہوا۔ تین تین چالیں چل چکا ہوں میں اس بساط پر۔ ایک کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ ہمارا کام کرے ہی کرے۔ دوسرا تو سمجھو میں نے دشمن کی صفوں میں ایک خود کش بمبار بھیج دیا ہے۔ اور، اور کچھ دیر بعد ہمارا تیسرا مہرہ شاید دشمن کے بادشاہ کو ہی مات دے دے“ علیم الدین نے جیسے تمام حکمت عملی کھول کر بیان کر دی۔

