”نظریۂ سفر“ اور ناصر عباس نیر کی تنقید

عصر حاضر کے سب سے اہم نقاد اور دانش ور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی تحریروں میں ایک بہتر، انسان دوست معاشرے کے قیام کی خواہش جھلکتی ہے۔ انھوں نے پہلی بار اردو میں جدید اور ما بعد جدید تنقیدی نظریات کو مربوط اور منظم انداز میں پیش کیا۔ ما بعد نو آبادیاتی تنقیدی تصورات کو نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اپنے معاشرے اور ادب کے حوالے سے نئے مباحث کو جنم دیا۔ ان کی تنقید کا مطالعہ قاری کو

Read more

جمیل احمد عدیل کا افسانہ اور جدید انسان

جمیل احمد عدیل کے افسانوں میں ابھرنے والا جدید انسان کامیو اور سارتر کی تحریروں میں اپنی تنہائی، بیگانگی اور زندگی کی بے معنویت سے لڑتے مغربی انسان کی مانند نہیں ہے جس نے عقل کے معبد میں سر جھکاتے ہوئے صنعتی ترقی کے ثمرات سمیٹے، اپنی توانائیوں کو دریافت کیا اور مابعد الطبیعات سے طبیعات تک کے سفر میں اپنے پورے وجود کے ساتھ شامل رہا۔ اسی لیے بیسویں صدی کی عظیم جنگوں میں اپنے پامال ہوتے وجود کا

Read more

عہد حاضر اور ناصر عباس نیر کا افسانہ

سرمایہ دارانہ دور کے آغاز کے ساتھ ہی بادشاہت اور مذہب کے گٹھ جوڑ میں ایک تیسری قوت بھی شامل ہو گئی۔ اب طاقت کے حصے داروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ طاقت پر قبضے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی۔ اب انسانوں پر اختیار قائم رکھنے کے لیے جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی تسلط کا ہتھیار بھی استعمال کیا جانے لگا۔ (شہنشاہیت میں بھی ذہنی تسلط قائم کیا جاتا تھا مگر مخصوص منطقے میں، اتنی وسعت سے ہر گز نہیں) یہ تسلط پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔

البتہ ان معاشروں میں اس کے اندر ہی اس سے آزاد ہونے کی صورت بھی نمودار ہوتی ہے جہاں افراد کے ذہن کو آزادانہ سوچنے، تجزیہ کرنے، تشکیکی رویہ اپنانے، سوال اٹھانے اور تضادات پر غور کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔ مگر جس سماج میں ذہن تقلید محض اور اندھے اعتقاد کا عادی ہو وہاں طاقت کے ادارے اپنے من پسند بیانیوں کو رائج کر کے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کا تسلط قائم کرتے ہیں اور مکمل اختیار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے جو نو آبادیاتی ماضی کے حامل ہیں اور آزادی کے بعد ایک نئی استعماریت کے تجربے سے گزر رہے ہیں وہاں اسی قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔

Read more