سرمایہ دارانہ دور کے آغاز کے ساتھ ہی بادشاہت اور مذہب کے گٹھ جوڑ میں ایک تیسری قوت بھی شامل ہو گئی۔ اب طاقت کے حصے داروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ طاقت پر قبضے کے طریقوں میں بھی تبدیلی آئی۔ اب انسانوں پر اختیار قائم رکھنے کے لیے جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی تسلط کا ہتھیار بھی استعمال کیا جانے لگا۔ (شہنشاہیت میں بھی ذہنی تسلط قائم کیا جاتا تھا مگر مخصوص منطقے میں، اتنی وسعت سے ہر گز نہیں) یہ تسلط پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم ہوتا ہے۔
البتہ ان معاشروں میں اس کے اندر ہی اس سے آزاد ہونے کی صورت بھی نمودار ہوتی ہے جہاں افراد کے ذہن کو آزادانہ سوچنے، تجزیہ کرنے، تشکیکی رویہ اپنانے، سوال اٹھانے اور تضادات پر غور کرنے کی تربیت دی گئی ہو۔ مگر جس سماج میں ذہن تقلید محض اور اندھے اعتقاد کا عادی ہو وہاں طاقت کے ادارے اپنے من پسند بیانیوں کو رائج کر کے جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کا تسلط قائم کرتے ہیں اور مکمل اختیار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے جو نو آبادیاتی ماضی کے حامل ہیں اور آزادی کے بعد ایک نئی استعماریت کے تجربے سے گزر رہے ہیں وہاں اسی قسم کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔
Read more