محبت کی پرواز اور شادی کا پھندا


محبت ایسا جذبہ ہے جس کو رنگ، نسل، دین دھرم، جغرافیائی سرحدوں، مالی حیثیت اور شادی جیسے پنجروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ محبت کسی اصول اور ضابطے کو نہیں مانتی۔ بلاشبہ انسانی شعور کے ساتھ رومانوی سائنس کا بھی ارتقا ہوا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں دیگر شعبوں میں اپنی رفتار تیز کی ہے وہاں رومانوی جد و جہد کے لمحات بھی سکڑ گئے ہیں۔ ماضی بعید میں محبت کو پروان چڑھتے چڑھتے کئی برس لگ جاتے تھے۔ ایک عرصے کی طرفہ محبت کے بعد ایک محبت نامہ لکھا جاتا تھا۔ اور اس کا جواب موصول ہونے سے پہلے ہی ایک اور چٹھی تیار ہوتی تھی۔ وقت کی فراوانی تھی۔

اکثر اوقات تو جواب ہی نہیں آتا تھا۔ مگر چونکہ وقت کی فراوانی تھی اس لیے اس دوران اس وقت تک خطوط لکھے جاتے تھے جب تک جواب موصول نہ ہو جائے۔ اس دور میں ہجر و وصال کی الگ الگ لذتیں تھیں۔ محبوب کے ہجر میں آنسو بہانا جدائی پر شاعری کرنا اور وصال کا انتظار کرنا ایک لطیف کسک اپنے اندر رکھتا تھا۔ وصال کے لمحات پلک جھپکتے گزر جاتے اور وصال کے لمحات میں بھی دوبارہ بچھڑ جانے کا رنج پریشان رکھتا تھا۔

مگر دور جدید میں مذکورہ بالا رومانوی مراحل تیزی سے طے ہو جاتے ہیں۔ یہ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ ادھر کوئی چہرہ اچھا لگا، ادھر فرینڈ ریکوئسٹ گئی۔ مثبت جواب پر دوستی اور سائبر رومانس شروع۔ میسنجر، وہٹس اپ، ویڈیو چیٹ اور سنیپ چیٹ نے ہجر و فراق کی کسک کو نہ صرف ختم کر دیا ہے بلکہ دوری کا تصور بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ مگر محبت کا انجام آج بھی دو صورتوں میں ہی نکلتا ہے۔ اولاً محبوب مل جانے کی صورت میں شادی کی صورت۔ جس میں محبت کہیں ماضی کے جھروکوں میں گم ہو جاتی ہے کیونکہ محبوبہ اکثر و بیشتر بیوی بن جاتی ہے۔ ثانیاً، محبوب کی عدم دستیابی۔ یعنی مستقل فراق کی صورت میں محبت امر ہو جاتی ہے۔ لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں، مرزا صاحباں اور عمر ماروی ایسی لوک داستانیں، ان جوڑوں کی شادی ہو جانے کی صورت میں آج زندہ نہ ہوتیں۔ گزشتہ چند ماہ سے پاکستان میں بھی اندھی محبت کی چند پروازیں، محبت کے مستقر پر اتری ہیں۔ مگر یہاں کے معاشرے کے مذہب زدہ ماحول میں، جان کی امان کی خاطر شادی کے پنجرے میں بند ہو کر دم توڑ رہی ہیں۔

34 سالہ شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ”انجو“ ، ہندوستان کے صوبہ راجھستان کی رہائشی ہیں۔ انجو اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے اپر دیر کے رہائشی 29 سالہ نصراللہ، تین برس پہلے فیس بک پر دوست بنے۔ دھیرے دھیرے یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ انجو نے دو سال کی محنت شاقہ سے دلی سرکار سے پاکستان کا ویزہ حاصل کیا اور واہگہ کے زمینی راستے سے لاہور پہنچ گئیں۔ اور وہاں سے سیدھی اپر دیر پہنچ گئیں۔ محبت کی اس کہانی کی مشابہت کسی قدر سوہنی مہینوال سے ہے۔ پھر اپر دیر جیسی خوبصورت وادی رومان کا ولولہ زندہ رکھنے کے لیے ایک موزوں جگہ بھی ہے۔ زمانہ حال میں دریائے چناب پر پل بھی بن چکا ہے۔ لہٰذا کچے گھڑے والا دھوکہ بھی نہیں ہو سکتا اور محبوبہ بغیر کوئی رسک لیے اور ملبوس گیلا کیے، جتنی دفعہ چاہے دریا کے آر پار آ جا سکتی ہے۔ انجو بھی بغیر کسی رکاوٹ اور روک ٹوک ضلع اپر دیر پہنچ گئیں۔ اور چند گھنٹے بعد اپنے محبوب دیرینہ، نصراللہ کی باہوں میں جھول رہی تھیں۔ یہاں تک تو محبت کی داستاں بڑی دلکش اور رومان پرور ہے۔ لیکن اس کا کیا جائے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ پاکستانی عوام عمومی طور پر فارغ لوگوں کا ایک جمگھٹ ہے۔ جن کو اپنے سے زیادہ دوسرے لوگوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا مذہبی فریضہ سونپا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ انجو اور نصراللہ کی رومان پرور ملاقات کی خبر چشم زدن میں پاکستان اور ہندوستان سے ہوتی ہوئی دنیا بھر میں پھیل چکی تھی۔ اندھی اور منہ زور محبت کا نشہ اترنے پر محبت کے پجاریوں کو معلوم ہوا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے کیونکہ وہ محبت کا فطری عمل، ایک مذہب زدہ معاشرے میں سر انجام دینے کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بظاہر اس حقیقت سے پہلو تہی کیے ہوئے ہیں کہ ایک فوجی طالع آزما کی جبری شریعت کے تحت بنائے گئے حدود آرڈیننس کے مطابق پاکستان میں ہر اس شے پر پابندی ہے جس میں ایک انسان کے لیے راحت و مسرت کا ذرا سا بھی سامان موجود ہو۔ لہٰذا انجو اور نصراللہ کو فوراً سے پہلے عدالت میں جا کر نکاح کرنا پڑا اور اس سے پیشتر، انجو کو اپنا دھرم بدل کر اور مشرف بہ اسلام ہو کر اپنا نام فاطمہ رکھنا پڑا۔ پھر کہیں جا کر محبت کی متوالی اس بہادر خاتون اور وعدہ شناس نصراللہ کو جان کی امان ملی۔ اب انجو کو محسوس ہوتا ہے کہ محبت کے چکر میں وہ درحقیقت ایک پنجرے سے نکل کر دوسرے میں داخل ہو چکی ہے۔ انجو واپس ہندوستان جانے کا سوچ رہی ہیں۔ بقول شکیل بدایؔونی:

23 جولائی 2023 کو ایک 21 سالہ چینی خاتون ژاؤ فنگ بھی محبت میں مبتلا ہو کر پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خواہ کے ضلع لوئر دیر میں ثمر باغ کے مقام پر پہنچی ہیں۔ وہ باجوڑ کے رہائشی جاوید کی محبت میں مبتلا ہیں۔ خبر کے مطابق یہ جوڑا بھی گزشتہ تین برس سے سنیپ چیٹ کے ذریعے محبت کو پروان چڑھا رہا تھا۔ ژاؤ فنگ تین ماہ کے سیاحتی ویزے پر گلگت کے ذریعے بذریعہ شاہراہ ریشم اسلام آباد پہنچیں تھیں، جہاں ان کا محبوب ان کے استقبال کے لیے تیار کھڑا تھا۔ خاتون کے اصرار پر دونوں اگلے روز باجوڑ میں جاوید کے خاندان سے ملنے کے لیے روانہ ہوئے مگر وہ ابھی راستے ہی میں تھے کہ جاوید کے خاندان نے ثقافتی قدغن کے باعث بغیر شادی کے دونوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا مس فنگ نے ثمر باغ میں جاوید کے دور کے چچا عزت اللہ کے گھر میں پناہ لے لی۔ چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی نزاکت کے پیش نظر چینی خاتون کو پولیس نے اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا ہے۔ بادی النظر میں چینی خاتون نے مشرف بہ اسلام ہونے اور اپنا نام تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لگتا ہے کہ چینی خاتون نے محبت کے جوش میں بھی ہوش و حواس نہیں کھوئے۔

معظم آباد، ضلع سرگودھا کے 18 سالہ نوید احمد خان اور میکسیکو کی رہائشی، ایک سات سالہ بیٹے کی ماں 27 سالہ خاتون ماریہ فرینیڈو کی داستان محبت بھی دلچسپ ہے۔ ان دونوں کی محبت کا آغاز نوید کی طرف سے فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ سے ہوا۔ ایک ٹی وی چینل پر دونوں کے انٹرویو سے محسوس ہوتا ہے کہ محبت کی گرم جوشی نے ماریہ کو پاکستان لا کر اپنے جواں سال ”پنجابی رانجھے“ سے تو ملوا دیا مگر پاکستان پہنچتے ہی ان کو بھی ’انجو‘ والا مسئلہ درپیش تھا۔ ان کو بھی نوید کے گھر جانے اور شادی سے قبل مشرف بہ اسلام ہونا پڑا۔ ورنہ شدت پسند مذہبی گروہ شادی خانہ آبادی کی بجائے خانہ بربادی کر کے ثواب دارین حاصل کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ ماریہ ایک تعلیم یافتہ عاقل اور بالغ خاتون ہیں جبکہ ان کے عاشق نوید صاحب ایف۔ اے، فیل ہیں۔ مگر اب تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق ماریہ واپس میکسیکو جا چکی ہیں جہاں سے وہ نوید کو اپنے ملک میں رہائش اختیار کرنے کے لیے سپانسر کریں گی۔ اس اثناء میں ان کے جواں سال عاشق نوید احمد خان انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کی کوشش کریں گے۔

جدید اور فاسٹ ٹریک محبت کی ایک اور داستان، کیلی فورنیا کی رہائشی 41 سالہ ماریہ ہیلینا ابرام اور سیالکوٹ کے رہائشی 21 سالہ کاشف علی کی ہے جو صرف 10 ماہ میں نتیجہ خیز ہو کر جوڑے کی شادی پر منتج ہوئی۔ شادی سے قبل امریکی خاتون کو بھی محبت کی خاطر عیسائیت چھوڑ، اسلام قبول کر کے اپنا نام صرف ماریہ رکھنا پڑا ہے۔ ماریہ ہنی مون کے بعد امریکہ واپس جا چکی ہیں اور وہاں سے اپنے شوہر کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سپانسر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ماریہ نے شادی کے بعد ایک ٹی وی چینل کو بتایا کہ وہ نوید کی ”قربت“ سے بہت لطف اندوز ہوئی ہیں۔ اور یہ کہ وہ دونوں امریکہ رہیں یا پاکستان میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات ساتھ رہنا ہے۔ مگر عملاً ماریہ کیلیفورنیا واپس جا چکی ہیں۔

اس طرح کے درجنوں واقعات صرف پاکستان میں آپ کو مل جائیں گے۔ اور یہ واقعات وہ ہیں جو سوشل میڈیا کے ریڈار پر آ گئے۔ یقیناً ایسے سینکڑوں قصے ہماری نظر سے پوشیدہ بھی ہوں گے۔ حکومت کا چاہیے کہ:

1۔ غیر ملکی افراد کی جانی مالی و جذباتی حفاظت کی خاطر دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت خانوں اور وزارت خارجہ کو ہدایات جاری کریں کہ وہ غیر ملکی افراد کو پاکستانی ویزہ جاری کرتے وقت پاکستان میں موجود ثقافتی، سماجی و مذہبی پابندیوں سے پوری طرح آگاہ کریں۔

2۔ درون پاکستان وفاقی و صوبائی حکومتیں کالج اور یونی ورسٹی کی سطح پر اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین کی جگہ ”سوشل میڈیا استعمال کرنے کے اصول“ کے عنوان سے ایک لازمی مضمون روشناس کروائیں۔

3۔ ’پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘ اور ’پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی آئین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے لوگوں کی نجی زندگی سے متعلق ویڈیوز منظر عام کرنے پر قدغن لگائیں۔

Facebook Comments HS