چنگیز پور کا جعلی پیر اور معصوم فاطمہ رانی


‎فاطمہ قتل کیس کے بارے میں فی الحال کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ ابھی بچی کا پوسٹ مارٹم ہونا ہے لیکن اس جیسے واقعات آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں جو گردش وقت نے دکھلائے۔ اس بچی فاطمہ کی مبینہ زیادتی کے بعد موت ہوئی ہے یا نہیں اس کا جلد پتا چل جائے گا مگر میرے دماغ میں ایسی سینکڑوں کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے اعصاب جواب دے گئے اور میں رونے لگی، ایک بار پھر قلم تھام لیا کہ دوستوں نے کہا تھا لکھنے سے انگلیاں فگار ہوتی ہیں تو نہ لکھنے سے آنکھیں خون روئیں گی۔

‎سوچ رہی ہوں کیا لکھوں۔ میرے پاس ان گنت کہانیاں ہیں لیکن سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کس کہانی سے شروع کروں؟ نئی نسل جو ہم ہی نے جنم دی ہے اس کے پردادا سے، اس کے دادا سے اس کے باپ سے۔ یا اسی معصوم فاطمہ سے۔ ‎یہ ساری کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ تو کیا تفریق کروں کہ کس کی کہانی پہلے اور کس کی بعد میں۔

‎آج سے کوئی بیالیس برس قبل نتھی نام کی بچی، ایک جاگیر دار کے منشی کی بیٹی۔ اس جاگیردار کی بیٹی کی ہم عمر تھی۔ ان کی رعیت کے مرد لوگ راہ چلتے عورت کو دیکھ کر اپنے چہروں کو ڈھانپ لیتے تھے کہ ہم آنکھ کا پردہ کیے ہوئے ہیں۔ بڑی غیرت مشہور تھی اس جاگیردار کی اور اسی غیرت کی آڑ میں وہ بچی ملازم رکھ لی گئی۔ بچی کی عمر ہو گی کوئی تیرہ، چودہ برس۔ جاگیردار بار بار کیوں کہوں، اس کا نام تھا نورا۔ نورے کی بیٹی اور نوکرانی دالان میں سو رہے تھے۔ بیٹی کو رات کو دودھ کے گلاس میں نیند کی گولیاں گھول کر دی گئی تھیں۔ بیوی میکے گئی ہوئی تھی۔

‎نتھی کو چبوترے پر لے جا کر زیادتی کا شکار کیا ایک لمبے تڑنگے، قوی جثے والے، بھاری بھرکم مرد نے۔ ایک بارہ تیرہ، چودہ سال کی بچی کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا۔ بچی نے چیخنا چاہا، اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔ ایسا رکھا کہ بچی دم گھٹنے سے تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ بچی مر گئی اس ظالم نے اس کو نہیں چھوڑا۔ لگاتار اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ اور اس ساری کارروائی کی صلاح دینے والا ایک پیر تھا جس نے کہا کہ سونا بنانے کی ترکیب بتاؤں گا لیکن اس کے لیے پہلے تمہیں ناپاک ہونا ہو گا کسی کنواری لڑکی کے ساتھ۔

‎لڑکی مر گئی۔ رات کا یہ واقعہ ہے۔ صبح کو ساری طرف یہ بات پھیل گئی ہے کہ نورے کے پاس اوپر نتھی ہے اور وہ پیر ہے اور کچھ ہے گڑبڑ۔ نورے کو بلایا جاتا رہا۔ باپ اوپر سیڑھیاں چڑھا۔ اس نے جب جا کے دیکھا تو لڑکی مر چکی تھی۔ سردیوں کا موسم تھا، رضائیاں اوڑھا کر پیر مردہ بچی کے منہ میں کینو کی قاشیں نچوڑ کے رس ڈالنے کی کوشش کر رہا کہ ابھی جی جائے گی۔

‎بچی نے کہاں زندہ ہونا تھا۔ یہ بات اندر ہی اندر دفن ہو جاتی۔ اگر لڑکی کا باپ موسیٰ شیخ اپنے مکان میں نہ رہتا ہوتا اور اس کے اپنے دوسرے کاروبار نہ ہوتے۔ یعنی وہ غربت کی اس سطح پر نہیں تھا۔ سیدھا پولیس کے پاس گیا، رپٹ درج کرائی۔ رپٹ درج ہو گئی لیکن کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ اس قتل کی رپورٹ جب باہر صحافیوں میں پھیلی، اگر کوئی صحافی یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو انہیں یاد ہو گا۔ اس وقت کالجز اور یونیورسٹیز کے لڑکوں نے باقاعدہ جلوس نکال کے مطالبہ کیا کہ یہ آدمی بہت خطرناک ہے، اس کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ پولیس کو دباؤ میں آ کر کرنا پڑا۔ سزا ہوئی عمر قید۔

‎یہاں میں افسوس کی ایک بات بتاتی چلوں کہ وہ جو بیٹی نیچے سوئی ہوئی تھی، باپ نے اس کے ساتھ بھی زیادتی کی تھی اور وہ دہشت کے مارے بول نہ پائی۔ اور باپ کا کہنا تھا کہ اس کی ماں نے ایک اور جگہ شادی کی تھی یہ تو وہاں کی اولاد ہے۔ میری بیٹی ہی نہیں ہے۔ حالانکہ شریعت میں تمہاری بیوی کی بیٹی تمہاری بیٹی ہوتی ہے۔ بیٹی نہ بھی ہوتی تو زیادتی کا حق تو نہیں ہے۔

‎پانچ سال بعد پیرول پر وہ بندہ رہا ہو گیا تھا۔ ہنسی تو مجھے اس چیز پر آتی ہے کہ اتنا بڑا گناہ، اتنا بڑا جرم کر کے کیسے وہ پانچ سال بعد پیرول پر رہا ہو کر آ گیا۔ جب وہ جیل میں تھا تو اس کی بیٹی کی شادی کر دی گئی تھی۔ لیکن اس کی بچی نے اپنے دیور کو بتایا کہ یہ معاملہ ہے۔ اس کے دیور نے اس کے جیل سے آنے کے تین ماہ بعد اسے قتل کر دیا۔ تین گولیاں ماریں اور نورا مر گیا۔

اس کے بعد آگے کی کہانی سناؤں یا پیچھے کی طرف جاؤں۔ پیچھے کی طرف چلی جاتی ہوں۔

‎پڑوسی گاؤں میں ایک عورت کو اٹھا لیا گیا۔ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ میرے مرکزی کردار، نئی نسل کا پردادا کوتوال تھا۔ انگریزوں کا زمانہ تھا۔ پڑوسی جاگیردار کوتوال کے پاس پہنچے کہ جی عورت خودسر ہوئی کھڑی ہے۔ کہتی ہے میں نے تو پولیس کے پاس جانا ہے۔ کوئی حل نکالیں۔ کوتوال یار نے کہا کہ ”گھوڑی تیار ہے۔ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ جانا ہے۔“ ”ہاں جی“ ۔ کوتوال جی آ گئے ہیں خبر سن کے کہ گاؤں میں زیادتی ہوئی ہے، لہٰذا وکٹمز حاضر ہوں۔ وکٹمز حاضر ہوتے ہیں۔ باقیوں کو بھیج دیا جاتا ہے کہ ہم نے عورت سے تفتیش کرنی ہے جب عورت سے تفتیش کے بہانے اس کو روک لیا جاتا ہے تو اس وقت گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا چکا ہوتا ہے رات ہو چکی ہے۔ ”میں اس کو اپنے ساتھ تھانے لے جا رہا ہوں۔ “ کوتوال خود چل کر آیا ہے انصاف دینے کے لیے۔ عورت تیار ہو گئی کہ ہاں میں ساتھ چلتی ہوں۔ چار پانچ اور گھڑ سوار تیار ہوئے وہ عورت ساتھ بٹھائی گئی۔ یہ لوگ اینٹوں کے بھٹے پر گئے جو راستے میں تھا۔ اس عورت کو سیاں جی کوتوال نے اس بھٹے میں زندہ جلوا کے مروا دیا اور دوست کو کہا کہ مدعا رہا ہی نہیں۔ جو کوئی پوچھے گا تو اس کو کہہ دیا جائے گا کہ وہ بھاگ گئی۔ وہ بدقماش تھی، بھاگ گئی۔ یہ ہمارے کارندے ہر طرف گاؤں میں پھیلا دیں گے۔ اور اس کوتوال کے جانشین بد قماش درندے اور ان کے خاندان کا بتاتی ہوں۔ جو بچی جاگیردار کو بھا جاتی تو ریپ تو لازم ٹھہرا، ساتھ ہی اس کی بیوی سے مار بھی کھاتی۔ بالکل ویسی مار دونوں میاں بیوی مارتے جیسے معصوم فاطمہ کو دیکھا آپ نے۔ عورت اپنے خاوند کا تمام غصہ اس بچی پر نکالتی جو جاگیردار کی بربریت کا نشانہ بنی ہوتی۔ وہ بچی دوہری اذیت سہہ نہ پاتی اور اگر بھاگ جاتی تو واپس پکڑ کر لائی جاتی اور چوری چکاری کا الزام لگا کر والدین سے بھی مروایا جاتا۔ بچہ بازی بھی عام سا فعل ٹھہرا اس حویلی میں۔ ان لڑکیوں کا خواتین بھی جنسی استحصال کرتی نہ شرماتیں۔

جس وقت رانی پور کے پیر کی بیوی کا ذکر ہو رہا تھا مجھے لگا میرا ذکر ہو رہا ہے۔ اپنے آپ پر مجھ کو بہت شرم آئی۔ آپ لوگ پیر کی بیوی کو برا نہ کہیں۔ جزوی طور پر وہ خود ظالم ہونے کے ساتھ ہی مظلوم بھی ہو سکتی ہے حالانکہ وہ کسی جاگیردار کے گھر سے ہی آئی ہو گی۔ چھوٹے موٹے آدمی کی بیٹی نہیں ہو گی لیکن وہ میکے میں بھی ٹکے کی کتیا، اور سسرال میں بھی ٹکے کی کتیا۔ ٹکے کی کتیا نہیں تو اس کے گھر کے اندر یہ سب کچھ کیا ہو رہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مجبور کر دی گئی ہو چپ رہنے پر اور مردوں کے کرتوتوں کی پردہ پوشی پر۔ اور یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ ایسا ہوتا ہے۔ والدین کو بھی برا بھلا کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کیوں بھیجا۔ اگر شہر ہوتا تو الگ بات تھی۔ جو وہ علاقہ ہے اس علاقے کا رسم و رواج ہمارے جنوبی پنجاب کے دیہاتوں جیسا ہے۔ وڈیروں کی حویلیوں میں بچیوں نے بچوں نے جانا ہی جانا ہے۔ کوئی نہیں بھیجنا چاہتا تو وڈیرہ خود چل کر آتا ہے اور اس کو انکار کرنے کی صورت میں ان کو مکان خالی کرنا ہو گا یہ اصول ہے۔ مکان خالی کرنا ہو گا کے ساتھ ہی علاقہ چھوڑنا ہو گا اور اس کے بعد کسی دوسرے علاقے میں آس پاس کوئی دوسرا ان کو جگہ نہیں دے گا۔ سر چھپانے کی چھت نہیں ہو گی۔ کام نہیں ملے گا۔

‎ ہمارے ایک گاؤں کے لڑکے کے ساتھ کچھ ایسا ہی واقعہ ہوا تھا۔ اس نے آخر یہ سوچا کہ میں خود کش بمبار بن جاتا ہوں کہ میرے بیوی بچوں کو کھانا تو ملے گا۔ طالبان پیسے تو دیں گے وہ میں پہنچا کر جاؤں گا۔

‎اب ایسی صورت حال میں ہم والدین کو کیوں الزام دے رہے ہیں۔ ہمیں خود کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ حکومت کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ سیاستدانوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے کہ وسائل و ذرائع کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے یہ جو طاقت کا پلڑا ایک طرف کو جھکتا جا رہا ہے، یہ نہیں جھکنا چاہیے تھا۔ اس کو آپ امیر اور غریب کی بات نہ کہیں، اس کو آپ طاقتور اور کمزور کی بات کہیں۔ یہ طاقت کا بہیمانہ استعمال تھا۔

‎مجھے نہیں پتا کہ ابھی تک رپورٹ نہیں آئی کہ ریپ ہوا یا نہیں ہوا۔ لیکن لڑکی مری ہے۔ لڑکی ٹھیک ہے گیسٹرو سے مر گئی، لیکن وہ ادھر بیڈروم میں کیا کر رہی تھی۔ ایسی جگہ جہاں صرف اور صرف رنگ اور روپ کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں جہاں صرف اور صرف رقص و سرود کا سامان تھا جہاں پر صرف اور صرف انٹرٹینمنٹ تھی۔ ساؤنڈ سسٹم دیکھا ہے، ایل سی ڈی دیکھی ہے، صاحب کا سو جانا دیکھا ہے۔ دوسری نوکرانی نے متوفی کو چیک کرنے کے بعد ”یہ مر گئی ہے۔ “ اچانک اونچی آواز میں کہا ہو گا جس پر وہ ملزم جاگ کر آیا، دیکھا اور واپس پٹخ دیا ہے۔

میرے سابق شوہر اللہ بخش نامراد (یہی نام لکھوں گی) نے مجھے چند سال قبل بتایا، تمہیں یاد ہے تمہاری انگوری رنگ کی بیڈ شیٹ کڑھائی والی۔ میں نے کہا مجھے یاد ہے۔ گم گئی تھی ناں؟ ہاں گم گئی تھی۔ پھر اس کے بعد اس نے یہ کہا، کہ فلاں بچی جو ہمارے گھر میں کام کرتی ہے میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ وہ لہولہان تھی، کارپٹ خراب نہ ہو جائے میں نے وہ چادر نیچے بچھا دی تھی اور بعد میں میں نے اس چادر کو کھوہ میں پھینک دیا تھا۔

‎ہمارے یہاں ماڈرن باتھ رومز بن چکے تھے، لیکن کھوئی والا غسل خانہ موجود تھا۔ ایک گندگی ڈالنے کی چیز بن چکا تھا۔ وہاں اس چادر کو پڑے برسوں بیت گئے تھے۔ پھر اس کنوئیں کو پاٹ دیا گیا اور وہ حصہ میرے لان میں شامل ہوا اور میں وہاں پھول اگاتی رہی۔

‎مجھے خدا پتا نہیں معاف کرے گا یا نہیں کرے گا کہ اپنا گھر بچاتی بچاتی میں اس لڑکی کو کوئی انصاف نہیں دلا سکی۔ لڑکی بھی میرے میکے والوں نے بھیجی تھی۔ میں کچھ نہ کر سکی، میں لاعلم رہی۔ میری عمر بہت کم تھی، جب یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت 21 یا 22 سال کی ہوں گی اور ان دنوں میں پریگننٹ تھی اور جلدی گہری نیند سو چکی تھی لیکن ہائے۔ میں کیوں سو گئی تھی؟ میں نے ملازمہ کیوں رکھی تھی؟ وہ لڑکی نابالغ تھی اس لڑکی کی زندگی تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ اس کا ذہنی توازن ہل گیا۔ وہ تین ناکام شادیاں کر کے اپنی زندگی کو برباد کر چکی ہے۔ اس کے کھاتے میں بہت بدنامی آئی۔

جناب کیوں نہ آئیں اس کے حصے میں بدنامیاں۔ کمزور جو ٹھہری۔ طاقتور کے حصے میں تو کسی قسم کوئی بدنامی نہ آئی۔ جواب کون دے گا؟ اس بچی کے پلے جو گناہ بندھے ہوئے ہیں کیا وہ اس اکیلی کے حصے کے ہیں۔ ان گناہوں میں کوئی اور حصہ دار نہیں ہو گا۔ اس کی جھجک اتارنے والے خدا کی گرفت میں نہیں آئیں گے کیا؟

‎ایک فلپائنی لڑکی جو میرے کالم کے مرکزی کردار کی ملازمہ تھی، اس لڑکی کو جاب کی فکر تھی کہ اس جاب نہ چلی جائے۔ جاب کا تھریٹ دے کر اس سے تعلقات استوار کیے۔ وہ لڑکی پریگننٹ ہو گئی۔ دبئی میں قوانین سخت ہیں۔ نہ ابارشن ہوتا ہے اور نہ ابارشن کی دوائیاں ملتی ہیں۔ ‎اس لڑکی کے ابارشن کے لیے ایک پارٹنر کو پاکستان بھیجا گیا تھا دوائیاں لینے۔ مر جاتی تو؟ اور اس کا جو استحصال ہوا وہ؟

‎مجھے بتائیے، مجھے جواب دیجیے اس چیز کا۔ یہ جو ہوس سر چڑھ کر بول رہی ہے، یہ دماغوں سے کب اترے گی؟ آج سب حاجی ثنا اللہ بن کر مجھے اور دوسری خواتین کو درس دیتے ہیں کہ پردہ کرو۔ حق ہے بھئی، دے سکتے ہیں یہ آرڈر۔

‎میرا باپ بھی ایک بے حس جاگیردار تھا۔ یہی حال کہ آئی چھوڑی نہیں اور گئی موٹی نہیں۔ میں یہ ہرگز نہیں کہوں گی کہ صرف سسرال میں ظلم کا نظام تھا، نہیں میرے میکے میں بھی یہی کچھ تھا۔ ‎اور اب سارے توبہ تائب ہو کے پارسا بنے پھرتے ہیں۔

‎سوال تو یہاں یہ بھی اٹھانا ہے مجھے کہ اگر کوئی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ آئس کریم کھانے کے لئے نکلتی ہے تو اس بوائے فرینڈ نے صرف اس کو صرف آئس کریم ہی کھلانی ہے ناں۔ آئس کریم کھلانے کے لئے وہ اس کو اپنے ایک دوست کی دکان میں لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں آئس کریم لینے جا رہا ہوں۔ اس لڑکے کی نیت خراب نہیں ہے، وہ واقعی آئس کریم لینے جا رہا ہے۔ اعتبار کر کے وہ وہاں بٹھا کر جا رہا ہے۔ جب واپس آتا ہے تو دکان کا شٹر ڈاؤن ہے۔ کیوں شٹر ڈاؤن ہے۔ کھٹکھٹاتا ہے، کھٹکھٹاتا ہے، روتا ہے پیٹتا ہے۔ جب شٹر کھلتا ہے اندر اس کی گرل فرینڈ کے ساتھ، رشتے میں جو اس کا چاچا لگتا ہے وہ ریپ کر چکا ہے۔ اور تھا کون ریپسٹ؟ میرا دیور۔ ‎حج کر آیا ہے۔ داڑھی رکھ لی ہے۔ برا کام نہیں کرنا۔ توبہ جو کر لی ہے تو اس نے دوسری شادی کر لی۔ واہ رے اس اسلام کی آڑ میں چھپے شیطان۔ پہلے کھلے عام بدمعاش تھے تو بھی وہی کچھ، عورتوں کی ہوس۔ اور جب تم ایمان لے آئے سبحان اللہ، اس وقت بھی وہی عورت کی ہوس اور اس مرتبہ دین کے نام پر۔

‎اس بچی کا جو قتل ہوا ہے بنیادی طور پر طاقت کے بہیمانہ استعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی آخری۔ آخری اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ درحقیقت سزائیں ایسی رکھی گئی ہیں جو معمولی ہیں اور سونے پہ سہاگہ وکٹم کو وکٹم بلیمنگ کا خوف دامن گیر اور انصاف کرنے والوں پر عدم اعتماد (جو کہ صحیح بھی ہے اپنی جگہ تو کوئی ڈرتا نہیں ہے۔) ہونا تو یہ چاہیے کہ جس طاقت کے گھمنڈ میں، چاہے وہ طاقت عہدے کی تھی، جسمانی تھی، پیسے کی تھی جو بھی تھا وہ ساری مجرم سے چھین کر وکٹم کو اگر وہ زندہ ہے دے دینی چاہیے، نہیں تو اس کے گھر والوں کو ساری طاقت دے دینی چاہیے اور اس کو بے طاقت کر کے چھوڑنا چاہیے۔ نہیں ایسا نہیں ہوتا، دو تین سال میں چھوٹ کر آ جاتے ہیں اور اس کے بعد وہی کچھ۔

‎اقبال شیخانہ، نواب پور کیس، ہر کسی کو یاد ہو گا۔ نہیں یاد تو میں یاد دلائے دیتی ہوں۔ برہنہ کر کے نواب پور سے جلال چوک تک ملتان میں خواتین کو گھسیٹ کر ان کا تماشا لگایا گیا تھا اور آگے بڑھ کر اس عورت پر چادر ڈالنے والی ایک عیسائی عورت تھی۔ (پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈرامہ بناتے ہوئے بہادر مسیحی عورت کی جگہ ایک ریٹائرڈ فوجی کو بندوق تھما دی تھی۔) آج ان عیسائیوں کے چرچ جل رہے ہیں۔ نواب پور میں لوگوں نے اپنی دکانیں بند کر لی تھیں، کمرشل ایریا تھا وہ۔ مردوں کو ڈر نے بے حس کر دیا ہو گا مگر وہ مسیحی عورت نہیں ڈری۔ وہ گئی اور اس عورت پر چادر ڈالی۔ اقبال شیخانہ کا کیا ہوا، سات سال کی قید وہ بھی وی آئی پی انداز میں۔ آرام سے گزری۔ امیر آدمی ہے ناں۔ اس قید کو کاٹ کر جب وہ آیا تو وہ صرف الیکشن کے لیے نااہل تھا۔ ارے اس کی زندگی تو بہت اچھی چل رہی ہے۔ میں جانتی ہوں۔ ‎اس عورت کی زندگی کا کیا جس کا تماشا بنا تھا۔

‎میرا کیا قصور تھا، ہے کسی کے پاس جواب؟ میں غریب گھر سے تو نہیں تھی۔ نہ میں ان پڑھ گنوار تھی۔ میرے پاس سپورٹ نہیں تھی۔ میں نے ہی لاج رکھنی تھی سب کی۔ مجھ سے لاج نہیں رکھی گئی جب تو بول پڑی کہ میرا سودا ہو رہا ہے۔ اس وقت مجھ پر دائرہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ نوالے نوالے کو میں ترسی، اپنوں کی محبت کو ترسی، ہمدردی کو ترسی۔ مجھ سے جو سوال جواب خاندان کے جرگے نے کیے، ان سب سوالوں کے جوابوں کے بعد میں بے ہوش ہو کر گر جاتی تھی۔

‎بات صرف طاقت کی ہے نا، میرے شوہر کے پاس طاقت تھی میرے پاس نہیں تھی۔ اور جب میں نے زبان کھولی تو اس کے بعد مجھے ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا گیا جہاں پر مجھے نئے سرے سے، جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، لیکن ماں اس کو چھوڑ جائے، باپ بھی نہ ہو، وہ دودھ کو ترسے، اس کیفیت کو سمجھیں۔ وہ دودھ کو ترس رہا ہے، اس کو بھوک لگی ہے، کوئی نہیں اس کی بھوک مٹانے کے لیے۔ میں نے وہ بھوک بھی دیکھی ہے، میں نے سورج کو اپنے سر پر سوا نیزے پر دیکھا ہے۔ مجھ پر زندگی کا دائرہ اس قدر تنگ کیا گیا کہ بس میرے پاس اتنی جگہ تھی جہاں میں دو پیر رکھ سکتی تھی۔ ‎میں وہیں کھڑی ہوئی ٹوٹتی رہی، بنتی رہی، ٹوٹتی رہی بنتی رہی۔ جب اب میں کچھ بن گئی ہوں مجھے نہیں پتہ صحیح یا غلط۔ اب اس کو سوسائٹی قبول نہیں کرتی کہ اس عورت کے منہ میں گندی زبان ہے۔ یعنی کہ جو کمزور ہے وہ ہمیشہ سے دھتکارا جاتا ہے اور دھتکارا جاتا رہے گا۔

‎ان حویلیوں کے اندر یہاں تک ہوتا ہے کہ بیویاں خود مجبور کی جاتی ہیں، اپنے ہی بیڈ روم میں دوسری عورت کے ساتھ شوہر کا پہرہ دینے پہ کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ راستہ بیوی نے کلیئر کرنا ہے۔ کرتی ہیں عورتیں۔ میں نے کیا۔ کوئی دوسرا راستہ سجھائی ہی نہیں دیتا جب کہیں شنوائی نہ ہوتو کوئی کیا کرے۔ مجھے ان ساری باتوں کا حل چاہیے جو میں نے کی ہیں۔ آپ صرف ہائے غریب بے چارہ، غریب بے چارہ نہ کریں، آپ کہیں کمزور بے چارہ۔ وہ بندہ اگر اپنی بیٹی نہ دیتا پیر صاحب کو، تو اس بندے کا حال بھی ایسا ہونا تھا کہ اس کو نشان عبرت بنا کر چھوڑا جاتا اور پھر بھی اس کی بیٹی کے ساتھ یہی کچھ ہوتا۔ مقصد کہنے کا یہ ہے کہ وہ اس پیر کے گھر جاتی ہی جاتی، ہاتھ جوڑ کے گھر والے خود دے کر آتے کہ ہماری بیٹی لے لیں۔ ہم معافی مانگتے ہیں، ہم سے خطا ہوئی تھی۔

‎میں نے دیکھا ہے ایسے ہی لوگوں کو الٹی میٹم ملتے کہ جگہ خالی کرو۔ جس نے بھی ملک کو انکار کیا اس پورے خاندان کا حقہ پانی بند۔ ‎اور جب یہ سب کچھ ہوتا ہے ان کے سامان نکال دیے جاتے ہیں، انہیں گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔ ان کی کھیتی سے۔ اس وقت وہ ہاتھ جوڑتے ہیں باقی بچوں کی خوراک کے لیے، اپنے پیٹ کے لیے کہ لے لیں ہماری بیٹی، رکھ لیں اپنے پاس۔

‎اور علاقے کی لڑکیوں کو یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل، فلاں ملک کی نظر ہے، فلاں وڈیرے کی نظر ہے، فلاں سائیں کی نظر ہے۔ ناچار ایسی بچیاں اس حقیقت کو قبول کر لیتی ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد یہی ہے۔

ذرا اس بات کو تصور میں لائیے گا ضرور، جو میں نے ایک پکچر پیش کی ہے۔ وہ بندہ جو سلاخوں کے پیچھے ہے اور وہ بچی جس نے اس سے مار ہی کھائی ہے۔ کیوں۔ اتنی مار۔ یہ بھی قسم کھا کر کہتی ہوں گھر والوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ہو گا کہ قسمت میں یہی لکھا تھا، لیکن مجھے فرق پڑتا ہے۔ اس دنیا کی ساری عورتیں میری مائیں اور بہنیں ہیں چاہے ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی ملک سے ہو، کسی بھی مذہب سے ہو۔ مجھے فرق پڑتا ہے۔ میں انصاف مانگتی ہوں۔ جس کو انصاف کہا جا سکے کہ ہاں انصاف ہوا ہے۔ کیوں؟ کیوں یہ نظام ختم نہیں ہو رہا۔ مجھے ارباب اختیار سے اس کا پورا جواب چاہیے۔

روٹی کپڑا اور مکان کیوں سب کو میسر نہیں۔ یہ ذمہ داری تو حکومت کی ہے۔ حکومت کے کرنے کا کام تو یہ بھی ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پہ کام کرے تاکہ غریب کے یہاں بچے کم ہوں اور وہ کچھ سکھی ہو۔ کھیل تو سارا روٹی کا ہے۔ بہت ساری چیزیں درستی مانگتی ہیں، کرے گا کون؟

عالی جاہ آپ کی حشمت سلامت رہے پر تھوڑا کرم اور رحم ہم غریبوں پر بھی فرما دیجئے۔ لوٹی ہوئی ملکی دولت میں سے کچھ صدقہ نکال دیجئے کہ ہم بھی جی سکیں۔ آپ اپنا کردار ادا کریں طاقت بیلنس کرنے کے لیے۔ یہ توازن قائم نہیں کر سکتے آپ تو آپ کی عظمت کی قسم، روز لاشیں اٹھیں گی۔

کیا چاہتے ہیں آپ؟ ہم تو نفسیاتی طور پر بیمار ہیں ہی، کیا ہماری آنے والی نسلیں بھی تباہ ہوں؟ آپ پر گزری نہیں مگر ہم نے جھیلا ہے، ہم کو معلوم ہے کہ جو گزرتی ہے۔ ہمیں انصاف ٹھوس بنیادوں پر چاہیے۔ ہمیں انصاف اس طرح سے چاہیے کہ پھر کوئی یہ حرکت نہ کرے۔ وظیفہ لگائیں گھر والوں کا اور چھین لیں ان سے سارا کچھ۔ یا پھر یوں کیجیے کہ ہم سب عورتوں کو کہہ دیجئے کہ ہم بیٹی پیدا کرتے ہی اس کو ذہنی طور پر تیار کریں کہ تو نے مرد کی طاقت کے سامنے سرنگوں رہنا ہے، اور یہی تیرے حق میں اچھا ہے اور یہی تیرے لیے کاتب تقدیر نے لکھا ہے کہ تو بس استعمال کی شے ہے۔ لاڈو نہ کہیں پھر آپ۔ کس منہ سے آج کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو پیار کرے گا۔ اس کو فاطمہ یاد نہیں آئے گی۔ ابھی تو میرے پاس اور بھی بہت کہانیاں ہیں۔ کس کس کی سناؤں؟

آپ جتنا مرضی کسی عورت کو پڑھا لیں اس کو جب تک طاقت اور اس کے استعمال کا حق نہیں ملتا تب تک وہ ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتی رہے گی۔ اور ہم وہ لوگ ہیں جو بیٹی کا حق مہر بڑھ چڑھ کر لکھواتے ہیں اور خود ہمارے یہاں لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ دینے کا رواج نہیں کہہ کر اس کا حق مارتے ہیں۔ اس کار خیر میں گھر کی عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔

ہمارے مذہبی رہنماؤں نے بھی عورت کو کمزور تر کرنے میں بہت برا کردار ادا کیا ہے۔ مرد کا ایک درجہ اوپر کہہ کہہ کے اس احساس کو مرد کی رگوں میں گھول کر دیا ہے کہ مرد مطلق العنان ہے۔ برتری کا احساس خود بخود انسان کو مضبوط کر دیتا ہے، طاقت بخشتا ہے۔ ہمارے عظیم لکھاری نے پرتعیش زندگی گزارتے ہوئے ایسا ادب تخلیق کیا اور ہنوز ہو رہا ہے جس میں درس ملتا ہے کہ ہر زیادتی کو اللہ کی منشا سمجھ کر خوشی سے سہ جاؤ۔ ایک مخصوص طبقہ عورتوں کا بھی ہے جو اس پدر شاہی کا حصہ ہیں۔ ان خواتین کو بھی اس سماج میں برسوں سے رائج اسی بے اعتدالی نے دیکھتے ہی دیکھتے درندہ صفت بنا ڈالا ہے۔

‎اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف مرد ہی ظالم نہیں ہیں۔ میں نے کمسن بچوں کو، گھریلو ملازماؤں کو اور خاص طور پر بچیوں کو عورتوں ہی کے ہاتھوں شدید بربریت اور بدترین استحصال کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ کچھ میری طرح خاموش رہ کر مجرم ہیں تو کچھ ببانگ دہل مردوں کے ساتھ شریک جرم ہیں۔

Facebook Comments HS