پاکستان میں ریاستی مظالم اور پی ٹی آئی کا بیانیہ
آج کل پی ٹی آئی بطور جماعت اور اس کے لیڈر عمران خان ایک مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ گو کہ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں یہ کوئی نئی یا انوکھی مثال نہیں ہے اور پاکستان کی بہت سی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو اس سے کہیں زیادہ سخت صورتحال کا سامنا رہا ہے اور آج کے برعکس عدالتیں ان مظالم پر خاموش ہی رہتی تھیں جبکہ میڈیا اگر خبر دیتا بھی تھا تو سنگل کالمی نیوز آتی تھی۔ کم ازکم ضیا دور تک اپوزیشن کی خبر کے لیے آل انڈیا ریڈیو یا بی بی سی کی طرف رجوع کرنا پڑتا کہ وہ بھی اپنی مرضی سے ہشیار رپورٹنگ ہی کرتے تھے۔ تاہم ان خوفناک حالات میں بھی سیاسی کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں، وکیلوں اور سیاستدانوں نے جمہوری جدوجہد جاری رکھی۔ مگر آج کل پی ٹی آئی کے کارکن و حامی تواتر سے یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں اس سے زیادہ ریاستی مظالم کبھی ہوئے ہی نہیں۔ کچھ تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ پی ٹی آئی جیسی مزاحمت کبھی کسی نے کی ہی نہیں۔ جوش جذبات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس سے برے حالات کبھی کسی ملک میں نہیں ہوئے جس کا آج کل پاکستان کو سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے بیانات پر مبنی پوسٹوں کا انبار لگا ہے جسے پڑھ کے کم ازکم یہ اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ انہیں سچ ماننے والوں کی اکثریت ملک پاکستان کی سیاسی تاریخ سے نابلد ہیں۔ اگر میں پی ٹی آئی ہی کی زبان میں بات کروں تو آج کل پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کلیدی کارکنان کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے کہ جس کی تشہیر بذریعہ پریس کانفرنس ایسے ہی چلتی ہے جیسے ڈکٹیٹر جنرل ضیا اور ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے ادوار میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون چھوڑنے والوں کے بیانات چلوائے جاتے تھے۔ کیونکہ میں خود ایک سیاسی کارکن رہا ہوں اس لیے مجھے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے والی اصطلاح ہمیشہ سے ایک قبیح اور گھٹیا حربہ ہی لگتی ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں سیاسی کرپشن بڑھتی ہی رہی اور اس کی ابتدا انگریز دور سے ہوئی تھی۔ مگر کیا کریں ہمارے پی ٹی آئی کے دوست بڑی بے شرمی سے یہ اصطلاح بولا کرتے تھے اور آج بھی پی ٹی آئی کارکن اپنے اس ماضی پر قطعاً شرمندہ نہیں جو کہ قابل افسوس ہے۔
مشرف دور میں تو سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کا یہ کھیل اس قدر ننگا تھا کہ مسلم لیگ (ق) اور پیٹریاٹ بنانے کے لیے نیب کے ذریعے کرپشن کیس بنائے گئے اور جب شیخ رشید، فیصل صالح حیات، چوہدری برادران سمیت درجنوں رہنماؤں نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی چھوڑی تو کئی کو وفاق اور صوبوں میں وزارتیں تک دی گئیں۔ میاں نواز شریف کو جنھوں نے طالبان پراجیکٹ کے صدقے دو تہائی اکثریت دلوائی تھی انھوں نے ہی انہیں ہائی جیکنگ کے الزام میں سزا دلوائی اور سعودی عرب جانے پر مجبور کیا۔ ان کا یہی جرم کافی تھا کہ انھوں نے ہمت دکھاتے ہوئے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو مینار پاکستان لاہور مدعو کیا تھا اور معاہدہ لاہور کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو آن بورڈ رکھتے ہوئے امن کو چانس دینے کی راہ اپنائی تھی۔ مشرف جب اپنے ہونہار سہولت کاروں کے ہمراہ ان دونوں پارٹیوں کو توڑ رہے تھے تو عین اس وقت عمران خان ڈکٹیٹر مشرف کے ہمرکاب تھے اور کسی نہ کسی طرح اقتدار چاہتے تھے۔ ان کا یہ مشرفی محبت نو گیارہ کے ایک برس بعد تک برقرار رہا کہ 2002 کے اپریل میں جعلی ریفرنڈم اور اکتوبر 2022 کے بائبرڈ الیکشن کے بعد موصوف کو جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو انھوں نے یوٹرن لیا۔ مگر کیا کریں پی ٹی آئی کارکنوں کا جنھیں گزری 22 سالہ تاریخ بھی یاد نہیں یا وہ بوجوہ اس سب بارے چپ ہی رہنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ سے شغف رکھنے والے سیاسی کارکن جانتے ہیں کہ سیاسی کارکنوں پر ریاستی مظالم، سیاسی جماعتوں کی توڑ پھوڑ، گرفتاریاں، تھرڈ ڈگری ٹارچر کی تاریخ ڈکٹیٹر ایوب سے ڈکٹیٹر ضیا تک انتہائی خوفناک تھی کہ اس کے بعد بتدریج اس میں وہ سختی تادم تحریر نہیں ہے۔ بھٹو دور کو بھی اس سے باہر نہیں رکھا جا سکتا کہ جس کا ذکر بہت سے دوست بوجوہ نہیں کرنا چاہتے۔ مگر بے نظیر بھٹو کے پہلے دور سے میڈیا کو بھی آزادیاں ملنا شروع ہوئیں اور سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو بالعموم اس طرح کی سختیاں نہیں دیکھنا پڑیں۔ عدالتوں میں بھی کچھ کچھ شنوائیاں ہونے لگیں، میڈیا میں بھی گرفتاریوں کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں گو اس کا تناسب بہت کم تھا۔ ایوبی مارشل لا کے خلاف پہلا قابل فخر اور تاریخی اداریہ اخبار کے مالک لاہور کے میاں افتخار الدین کی رضامندی سے مشہور صحافی مظہر علی خان نے لکھا تھا کہ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کیسے مارشل لائی عذاب میاں صاحب پر نازل ہوا۔ وہ اخبار جسے قائداعظم کی مرضی سے 1946 میں جاری کیا گیا تھا، جس کا مالک 1946 میں پنجاب مسلم لیگ کا صدر تھا کہ جس کی قیادت میں مسلم لیگ نے پنجاب میں انتخابی معرکہ جیتا تھا اسے مارشل لا کی مخالفت کے جرم میں عبرت ناک مثال بنا دیا گیا۔ جب اس کے دونوں مایہ ناز اخبارات پاکستان ٹائمز اور امروز پر ایوبی کارندوں نے قبضہ کیا تو باقی اخبارات بشمول ڈان، جنگ اور مشرق نے اس فتح کے حق میں اداریے لکھے۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس اے آر کارنیلیس بھی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ میاں افتخار الدین صاحب کے اندرون و بیرون ملک بینک اکاؤنٹ بھی منجمد کروا دیے گئے۔ دائیں اور بائیں بازو کے بڑے بڑے جغادری صحافیوں کو مقبوضہ پاکستان ٹائمز اور مقبوضہ امروز میں ایڈجسٹ کیا گیا کہ پاکستان کے حقیقی بانی صحافت میاں افتخار الدین محض 55 سال کی عمر میں اس غم کے ساتھ راہی ملک عدم ہوئے کہ فیض احمد فیض نے کوک لگائی
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جان سے گزر گئے
ڈکٹیٹر ایوب خان کے دور میں اساتذہ اور طالب علم رہنماؤں کو شہر بدری سمیت جن صعوبتوں سے گزرنا پڑا اس کے کچھ گواہ بشمول حسین نقی ابھی حیات ہیں کہ وہ بتا سکتے ہیں کہ مارشل لائی کارندے کیسے دندناتے تھے۔ بلوچستان کے عبدالصمد اچکزئی کی مثال بھی نمایاں ہے جنھوں نے ایوبی مظالم کا جرات سے مقابلہ کیا مگر شاید ان کے بیٹے محمود خان اچکزئی کی وجہ سے پی ٹی آئی والوں کو یہ مثال بھائے گی نہیں۔ مشرقی بنگال یا مشرقی پاکستان کے بنگالی پاکستانیوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا کرنا کہ اب تو ہماری مایہ ناز سرکاری و نجی نصابی کتب میں بھی ان کا ذکر غائب کیا جا چکا ہے اور نوجوان نسل کے سیاسی کینوس میں بنگالی پاکستانیوں کو مجرمانہ طور پر حرف غلط کی طرح کھرچ ڈالا گیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کا دور بجا طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا پہلا عوامی، جمہوری اور پارلیمانی عہد تھا کہ مڈل کلاس کے کئی ہونہار نوجوان پہلی دفعہ نوآبادیاتی غلبہ سے لبریز ریاستی اقتدار کی غلام گردشوں کے مکین ہوئے تھے۔ ریاست وہی تھی، مائنڈ سیٹ بھی وہی تھا البتہ ملک ٹوٹنے کی وجہ سے کچھ گنجائش ضرور پیدا ہوئی تھی۔ بھٹو صاحب کو ایک تکونی ملاکھڑے کا سامنا تھا کہ ایک طرف وہ قوم پرست تھے جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو مغربی پاکستان میں دہرانا چاہتے تھے، دوسری طرف وہ اسلام پسند تھے جو اب 95 فیصد مسلم آبادی والے ملک میں مسلم مکاتب فکر کے اختلافات کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر من مرضی کی شریعت نافذ کرنے متمنی تھے تو تیسری طرف وہ گروہ تھے جو ایوب و یحییٰ کی مارشل لائی چھتریوں میں 13 سال پلنے کے بعد جوان ہو چکے تھے۔ بھٹو صاحب ان تینوں گروہوں کو رام کرنے کے الگ الگ جتن بھی کرتے رہے اور دباتے بھی رہے کہ اس ملاکھڑے میں ریاستی مظالم کی کئی مثالیں اس دور کی بھی زینت بنیں اور یہ تینوں گروہ قومی اتحاد کی چھتری میں اکٹھے تھے۔ ضیائی دور کے ریاستی مظالم پر تو دفتر کے دفتر لکھے جا سکتے ہیں اور اس دور کے کئی گواہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں جس طرح کا ریاستی جبر تھا اس کا عکس ضیائی دور میں نمایاں تھا۔ آج کے برعکس میڈیا، عدالتیں سب ہی اسیر تھے، جولائی 1977 سے 1985 کے درمیان گزرے ان آٹھ برسوں کا موازنہ تاریخ پاکستان کے کسی دور سے ممکن ہی نہیں کہ جھٹ پٹیشن، پٹ سماعت کے جس دور میں پی ٹی آئی جدوجہد کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کا ضیائی جبر سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ پی ٹی آئی تو اپنے دور میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف بذریعہ نیب کیے ریاستی جبر سے بھی آج کا مقابلہ نہیں کر سکتی جب نیب کے کالے قانون کے آگے عدالت بھی بے بس یا ظلم کی طرفدار تھی کہ ناقد میڈیا سے لے کر اپوزیشن تک کو کئی سال رگڑا لگایا جاتا رہا۔ جو آج ہو رہا ہے اس کی مخالفت وہ تو ہر دم کر سکتے ہیں جو ایوبی دور سے پی ٹی آئی دور تک اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہے مگر پی ٹی آئی اگر اس پر اپنے ماضی پر نادم ہوئے بغیر آواز اٹھائے گی تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہو گی۔ اگر پی ٹی آئی یہ کہتی رہے گی کہ آج سے پہلے ایسا ریاستی جبر کسی پر نہیں ہوا تو اس کا بیانیہ کھوٹا ہی رہے گا۔ میثاق جمہوریت میں جان اس لیے پڑی تھی کہ اس وقت دونوں جماعتوں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ 90 کی دہائی میں ہم ایک دوسرے کے خلاف جو کرتے رہے اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچا تھا اور پھر 18 ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی اکثر شقوں پر عمل کر کے دکھایا بھی تھا۔ اب تو جیو کا خود ساختہ بائیکاٹ ازخود ختم کر کے حامد میر کے پروگرام میں آئے پی ٹی آئی رہنما محمد علی خان بھی کہتے ہیں کہ جنھوں نے 9 مئی کیا، انہیں سزا مل چکی مگر اب پاکستان کو آگے بڑھنا ہے۔ مگر پی ٹی آئی ریاستی جبر، عدالتی مداخلتوں، میڈیائی دباؤ میں خود اپنے آلہ کار بننے کا اعتراف نہیں کرتی، سافٹ ائر اپ ڈیٹ کروانے والی حرکتوں پر شرمندہ نہیں ہوتی اور سیاسی، جمہوری و صحافتی جدوجہد کو نہیں مانتی تو اس کا واویلا دوبارہ نوکری کی درخواست سے زیادہ کچھ نہیں۔


