گفتگو روشنی ہے
(محمد حمید شاہد ہمارے درمیان موجود ایک نادرہ روزگار، منفرد اور رسیلے شخص کا نام ہے۔ کیا خوبصورت زندگی ہے کہ علم، حیرت اور تخلیق سے عبارت رہی ہے۔ محترمہ لبنیٰ صفدر نے لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ”ارژنگ“ کے لیے محمد حمید شاہد سے ایک مصاحبہ کا اہتمام کیا، جس میں بہت اہم ادبی موضوعات زیر بحث آئے۔ محمد حمید شاہد کے جوابات تو اپنی جگہ گہر بار تھے لیکن لبنیٰ صفدر نے بھی سوال کرنے کا حق ادا کر دیا۔ اپنی افادیت کے پیش نظر یہ گفتگو ”ہم سب“ پڑھنے والوں کی نذر۔)
لبنیٰ صفدر: لوگ آپ کو نقاد / ناول نگار اور افسانہ نگار کے طور پر جانتے ہیں۔ ان تمام ادبی جہتوں کے ساتھ زندگی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
محمد حمید شاہد:زندگی کو میں نے ہمیشہ موت کے مقابل رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کی اگر کوئی معنویت ہے یا قائم ہو سکتی ہے تو اسے الگ سے دیکھنے میں نہیں موت جیسی تلخ اور یقینی حقیقت کے ساتھ دیکھنے ہی سے ممکن ہے۔ میں ایسا اس لیے بھی کہہ رہا ہوں کہ میں نے زندگی کو اور موت دونوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے ؛ کہہ لیجیے چھو کر، اس کے ذائقے کو چکھ کر، اس سے بغل گیر ہو کر اور موت کا معاملہ تو یہ ہے کہ یہ تو میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی ہے۔ بائی پاس سرجری کے مراحل سے پہلے ایک دو بار، اور اس دوران بھی کچھ یوں ہوا کہ میں تھا اور نہیں تھا۔ پھر جب ہوش آیا تو فراق کا کہا یاد آیا:
کیا جانیے موت پہلے کیا تھی
اب میری حیات ہو گئی ہے
میں نے اپنے والد صاحب کے بدن سے ان کی روح کو یوں نکلتے محسوس کیا تھا جیسے میرے اپنے بدن سے روح نکل رہی ہو۔ پھر چھوٹے بھائی کی لاش کے ٹکڑے دیکھے تھے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں اپنے دوستوں کو گولیوں سے چھلنی ہوتے اور انہیں لاشیں ہوتے دیکھا اور بہن جو ٹھیک ٹھاک میرے ہاں آئی تھی، ہسپتال داخل ہوئی توان کے اپنے گھر میت گئی تھی۔ ہسپتال میں اس خوب صورت اور جواں سال لڑکی کا مرنا تو میں بھول ہی نہیں پاؤں گا ؛ جی، زندگی بھر بھول نہیں پاؤں گا جو میرے ساتھ اس ہسپتال میں داخل ہوئی تھی جہاں میں اپنی گردے کی پتھری نکلوانے گیا تھا۔ نہیں، بلکہ اصل واقعہ یوں ہے کہ ہم بے شک ایک روز ہسپتال پہنچے تھے، مگر وہ میرے ساتھ نہیں، اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ داخل ہوئی تھی۔ ایک خوب صورت جواں سال لڑکی جس نے اپنا گردہ اپنے باپ کو دینے کا فیصلہ کیا تھا کہ اس کا بوڑھا باپ مر رہا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ باپ بیٹی کا گردہ پا کر صحت یاب ہو گیا اور بیٹی مر گئی تھی۔ جسے زندہ رہنا تھا وہ مر گئی اور جو مر رہا تھا وہ زندہ رہا۔ تو یوں ہے کہ موت اور زندگی کی یہی کہانی ہے۔ زندگی جس کی حفاظت موت کرتی ہے ؛ ایک خاص لمحے کے آنے تک۔ زندگی کا غذ کے ایک ٹکڑے کی طرح ہے جس کے دوسری طرف موت لکھا ہوا ہے۔ زندگی ختم ہوتی ہے تو موت کا خوف بھی ختم ہو جاتا ہے۔ موت کو موت آتی تو اسے موت کا خوف ہوتا۔ آپ کاغذ کے ایک ٹکڑے کو چاک کرتے ہیں تو اس کے دونوں رخ چاک ہو جاتے ہیں۔ وہ رخ جس پر زندگی لکھا ہوا ہے اور وہ رخ بھی جس پر موت لکھا ہے۔ خیر، جو میں نے کہا یہی زندگی کو سمجھنے کا قرینہ نہیں ہے۔ یہ تو بس ایک زاویہ ہے۔ انسان بہت خوب صورت اور حیران کن تخلیقی وجود ہے ؛ اس نے موت کو غچہ دے کر اپنی طبعی زندگی سے زیادہ جینے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔ دیکھا جائے تو اصل انسانی جوہر یہی ہے۔ جی، ایسی تخلیقی قوتوں کا اظہار جو اس دنیا میں انسان ہی کو ودیعت ہوئی ہیں اور اسی وسیلے سے وہ نباتات اور حیوانات کی طرح ختم ہونے والے زندگی سے اپنی زندگی کو مختلف کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی کو اسی وسیلے سے مختلف کیا بھی ہے۔
میرا اور آپ کا معاملہ اسی زندگی سے ہے۔ اس زندگی کی کئی جہتیں اور کئی پرتیں ہیں۔ یہیں مجھے وہ مثال یاد آتی ہے جو ٹالسٹائی نے، اگر میں بھول نہیں رہا تو، اپنے معروف ناول ”جنگ اور امن“ میں دی تھی۔ اس کا کہنا کچھ یوں تھا کہ جب پھولوں پر منڈلانے والی شہد کی مکھی کسی بچے کو ڈنک مارتی ہے تو اس بچے کے نزدیک اس مکھی کا کام یہی ڈنک مارنا ہے۔ آپ جیسا شاعر پھولوں کا رس پیتے اس مکھی کو دیکھتا ہے تو اسے اپنے شعر کا موضوع سوجھتا ہے۔ مکھیوں کو پالنے والے کے لیے اس کا کام بس شہد اکٹھا کرنا ہے۔ وہیں موجود ایک اور شخص کے لیے مکھیوں کا کام اپنے بچوں کے لیے غذا کا اہتمام کرنا اور ملکہ مکھی کو تروتازہ اور توانا رکھنا ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ میں نے ایگریکلچر کی تعلیم پا رکھی ہے اور ہم نے پڑھا ہے کہ یہ شہد کی مکھی زرگل ایک پھول سے دوسرے پھول تک پہنچاتی ہے ؛ جی، نر پھول سے مادہ پھول کے بقچہ تک کہ اسے بارآور کرے۔ تو یوں ہے کہ ایک زرعی ماہر کے نزدیک اس مکھی کا یہی کام ہے۔ یہ زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے ؛ یگانہ کے لفظوں میں ”جیسی جس کے گمان میں آئی“ ۔ یگانہ نے یہ بات علم اور علم کی حقیقت کے بارے میں کہی تھی۔ ایک سطح پر جاکر علم اور زندگی میں کوئی تفریق نہیں رہتی اس لیے یہی بات زندگی اور اس کی حقیقت پر بھی منطبق بیٹھتی ہے۔
لبنیٰ صفدر۔ علم و ادب سے لگاؤ آپ کو وراثت میں ملا۔ گھر کا علمی و ادبی ماحول آپ کی زندگی اور آپ کے شوق پر کتنا اور کیسے اثر انداز ہوا؟
محمد حمید شاہد: ہمارے خاندان میں کوئی بھی مصنف نہیں رہا ہے۔ میں کسان گھرانے کا فرد ہوں۔ یہ الگ بات کہ میرے دادا نے یہ پیشہ ترک کیا اور اپنے گاؤں چکی سے پنڈی گھیب ہجرت کی کہ وہ چاہتے تھے ان کی اولاد تعلیم حاصل کرے۔ ان کے تین بیٹوں میں، ایک میرے والد صاحب ہی تھے جنہیں مطالعے کا بے پناہ شوق تھا۔ انہوں نے گھر میں ایک کتب خانہ بنا رکھا تھا۔ وہ کتاب لے کر جب اس کرسی میں جھولتے جس میں ٹاٹ لگا ہوا تھا اور اپنے اردگرد سے بے نیاز ہو جاتے تو مجھے یہ منظر بہت دلکش لگتا تھا۔ وہ جونہی کتاب ایک طرف رکھ کر اس جھولا دینے والی کرسی سے اٹھتے، میں جھٹ کتاب اٹھا کر اس میں جا بیٹھتا اور چاہے کتاب کا متن سمجھ میں آتا یا نہیں، اسے گھورتا رہتا اور کرسی جھولتا رہتا۔ اس عمل نے میرے تخیل کو ہرا بھرا کر دیا۔ ابا جان کی کچھ تحریریں رسائل میں میری نظر سے گزریں مگر وہ باقاعدہ لکھنے والے نہ تھے۔ مجھے یاد ہے جب میری پہلی کتاب ”پیکر جمیل“ چھپ کر آئی، وہ ان کی زندگی کا آخری دن تھا۔ تب تک وہ فالج کے حملے کے باعث بول نہیں سکتے تھے۔ میں نے کتاب ان کی آنکھوں کے سامنے کی، ان کی آنکھوں میں عجب سی چمک عود کر آئی تھی پھر میں نے انتساب والا صفحہ کھولا۔ کتاب کا انتساب امی اور ابو کے نام تھا؛ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور میری طرف محبت سے یوں دیکھا تھا کہ اب تک مجھے لگتا ہے جیسے وہ مجھے دیکھے جاتے ہوں۔ میں اسی کیفیت سے ہمیشہ قوت پاتا رہا ہوں۔
لبنی صفدر: بنک مینیجر کی معروف پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ اپنے اندر کے ادیب کے ساتھ کیسے انصاف کیا؟
محمد حمید شاہد: بنک کی ملازمت کے دوران میں نے مختلف حیثیتوں میں کام کیا اس میں بینک مینیجر ہونے کا مختصر زمانہ بھی شامل ہے۔ اپنی ریٹائرمنٹ تک میں ہیڈ آفس میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دے رہا تھا۔ آخری پندرہ برسوں میں میرے پاس کریڈٹ ریکوری پالیسی جیسے انتہائی مصروف رکھنے والے امور رہے۔ خدا کا شکر کہ بہ طور بینکار میری صلاحیتوں کو مانا گیا اور مجھے جو توقیر ملی وہ کم کم لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے جب بنک کے صدر صاحب ریٹائرمنٹ پر میری خدمات کے اعتراف میں مجھے میڈل پہنا رہے تھے تو ساتھ ہی کہے جاتے تھے کہ کاش سب دوسرے بھی آپ جیسے ہو جائیں۔ خیر واقعہ یہ ہے کہ کوئی بھی دوسرے جیسا نہیں ہو سکتا۔ وہاں مجھ سے کئی اور بھی اعلیٰ صلاحیتوں والے ہوں گے، بس یوں تھا کہ مجھے بنک کی بتیس سالہ زندگی میں ایسے مواقع ملتے رہے کہ میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کام میں لاتا رہوں۔ اب رہا آپ کا یہ سوال کہ پیشہ ورانہ زندگی اور تخلیقی زندگی میں انصاف کیسے کیا؟ تو یوں ہے کہ میں نے عین آغاز میں ہی یہ طے کر لیا تھا کہ میں اپنی رزق کے وسیلے کو گدلا نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے بطور بینکار اپنے ذمہ امور کو سر انجام دینے کے لیے یہ ضروری سمجھا کہ اپنی ادبی زندگی کو بالکل اس سے الگ رکھوں۔ یہی سبب ہے کہ جب تک میڈیا پر مجھے تمغہ امتیاز برائے ادب ملنے کی خبر نہیں آئی تھی شاید ہی بینک میں چند کو، اور وہ بھی ایسے لوگوں کو جن کی ادب میں دلچسپی ہوگی، یہ معلوم ہو گا کہ میں کچھ لکھتا لکھاتا بھی ہوں۔ ہاں وہ یہ جانتے تھے کہ میں نے بینک پالیسی کے ڈاکو منٹ کو بنایا، ان پر عمل درآمد کے مینول لکھے اور سرکلر ڈرافٹ کیے تھے۔ جب 14 اگست 2016 کو میڈیا پر مجھے صدارتی ایوارڈ دیے جانے کی خبر آئی تو بنک کے صدر نے میرے اعزاز میں پرتکلف چائے کا اہتمام کیا اور ساتھ ناراض بھی ہوئے کہ تم اتنے بڑے لکھنے والے ہو کہ ہمیں بتانا پسند تک نہیں کیا نہ کبھی کوئی کتاب دی۔ میں کہاں کا بڑا لکھنے والا تھا۔ میں تو ادب کا ایک طالب علم تھا اور ہوں اور اپنی اسی حیثیت پر خوش تھا اور خوش ہوں۔ تاہم جب وہ یوں کہہ رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر میں نے اپنی ادبی سرگرمیاں بنک کے اندر بھی جاری رکھی ہوتیں اور ایک بینکار کی حیثیت سے اپنا آپ نہ منوایا ہوتا تو کیا تب بھی میں اس پذیرائی کا حق دار ٹھہرتا؟ یقیناً ایسا نہ ہوتا۔ میں نے اپنے ادبی دوستوں سے میل ملاقات اور ادبی سرگرمیوں کو بنک سے باہر رکھا۔ یہ اگرچہ اپنی ذات پر ایک جبر تھا مگر بہت جلد مجھے اس جبر سے نباہ میں لطف آنے لگا۔ بنک کے بالکل الگ سے ماحول سے نکل کر میں مکمل طور ادیب بن جاتا۔ ادیب دوستوں سے ملاقاتیں اور باتیں، حلقہ ارباب ذوق، اکادمی ادبیات اور دوسری ادبی تنظیموں کے جلسوں میں شرکت، رات کو پڑھتے پڑھتے سو جانا اور اگلے روز چار بجے بستر چھوڑ کر لکھنے پڑھنے کی میز پر جا بیٹھنا میرا معمول ہو گئے۔ لکھنے پڑھنے کا عمل صبح آٹھ بجے تک رہتا پھر ناشتہ اور دفتر کی تیاری اور عین نو بجے دفتر پہنچ جانا۔ میرے گھر میرے بنک کے احباب نہ آتے تھے کہ ان کے ساتھ میری دوستی بنک تک تھی۔ بنک سے باہر اگر میری دوستی تھی تو ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور فنون لطیفہ سے منسلک لوگوں سے تھی یوں ایسا ماحول بن گیا تھا کہ میں دونوں جانب پوری توجہ دینے کے قابل ہو گیا۔ بات طول پکڑ رہی ہے مگر مجھے اس بینک میں اپنی بھرتی ہونے کے زمانے کا واقعہ یاد آ گیا ہے۔ کوئی پونے چار دہائیاں پہلے کا واقعہ۔ اس وقت بینک کے چیئرمین جمیل نشتر تھے۔ انہوں نے سپروائزڈ کریڈٹ اسکیم کے نام سے ایک نئے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔ افسروں کی نئی بھرتیاں ہو رہی تھیں اور وہ خود انٹرویو لے رہے تھے۔ انٹرویو دینے والوں کی قطار میں، میں بھی شامل تھا۔ وہیں میں نے اس بینک کی مختلف وقتوں میں سربراہی کرنے والوں کے پورٹریٹس میں ایک تصویر دیکھی، جس کے نیچے مختار مسعود کا نام لکھا تھا۔ یہ نام میرے لیے اجنبی نہ تھا کہ ابا کے کتب خانے میں ان کی کتاب ”آواز دوست“ موجود تھی جو میں نے پڑھ رکھی تھی۔ خیر انٹرویو کے لیے میری باری آئی سامنے جمیل نشتر تھے۔ مجھے لگا وہاں، ان کے ابا عبدالرب نشتر کی مونچھوں کی ہیبت بھی موجود تھی۔ سہم کر سامنے بیٹھ گیا۔ وہ میری اسناد الٹنے پلٹنے لگے۔ انہی میں ایک کاغذ کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی تھا جس میں میرے یونیورسٹی کے مجلے ”کشت نو“ کے مدیر ہونے کی ایک آدھ سطر بھی موجود تھی۔ جمیل نشتر نے وہ کاغذ تھام لیا۔ اچٹتی نظر اس پر ڈالی اور لکھنے پڑھنے کے بارے میں سوال جواب ہونے لگے۔ اور یہیں میں نے مختار مسعود کی ”آواز دوست“ کا ذکر کر دیا۔ وہ خوش ہوئے اور کہا جانتے ہیں ان کا اس بینک سے بھی تعلق رہا ہے۔ وہ میں باہر دیکھ آیا تھا۔ جھٹ بتا دیا کہ ان کی اس ادارے کی سربراہی کا زمانہ کون سا تھا۔ انہوں نے کہا: ”خوب“ ۔ اور میں جان گیا تھا کہ میں انٹرویو میں پاس ہو گیا تھا۔ کہنا یہ ہے کہ میں اس بنک میں بھی ادب کے وسیلے سے آیا تھا مگر میں نے بنک کے کام اور ادبی مصروفیات کو الگ الگ رکھا اور اس نے مجھے دونوں میدانوں میں بڑی حد تک سرخرو کیا۔
لبنی صفدر:آپ کی کتب کے نام شاعرانہ خوبصورتی لئے ہوئے ہیں، یہی خوبصورتی آپ کی نثر میں بھی غالب ہے۔ شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
محمد حمید شاہد: کتابوں کے نام آپ کو پسند آئے شکریہ۔ چوں کہ آپ کا تعلق شاعری سے ہے ممکن ہے اس لیے آپ کو یہ نام شاعرانہ لگے ہوں گے ورنہ ایک اور رخ سے دیکھیں تو آپ کو یہی نام فکشن کے تقاضوں کے مطابق لگیں گے۔ مثلا۔ دیکھیں میرے ناول کا نام ہے ”مٹی آدم کھاتی ہے“ ؛انسان کی زمین ہتھیانے کی ہوس، فرد کی سطح پر اور گروہی سطح پر مگر انجام کہ اسی انسان کو مٹی کا رزق ہونا ہوتا ہے۔ سنگ میل نے افسانوں اور ناول کی چھ کتب پر مشتمل میرا جو مجموعہ شائع کیا ہے اس کا نام ہے ”حیرت کا باغ“ ، آپ دیکھیں گے کہ جس طرح ناول کے نام میں فکشن کے اپنے تقاضے مدنظر رکھے گئے ہیں، اسی طرح یہاں بھی ہوا ہے۔ ”حیرت کا باغ“ کا نام ”باغ حیرت“ بھی رکھا جاسکتا تھا۔ مگر اس طرح باغ زیادہ توجہ پاتا اور حیرت کم۔ اگر یہ شاعری کا مجموعہ ہوتا تو میں باغ حیرت نام رکھتا مگر یہ تو فکشن کا مجموعہ تھا لہٰذا میں نے اس کے تقاضے کو سامنے رکھا۔ اور اضافت ختم کر کے حیرت کو فزوں اور مسلسل کر لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ فکشن کی زبان شاعرانہ نہیں ہوتی تاہم میرا یہ بھی اصرار ہے کہ یہ اتنی بے رس اور سطحی بھی نہیں ہوتی کہ اس کی اپنی کوئی جمالیات مرتب نہ ہو سکے اور یہ محض وقوعہ نویسی کا وسیلہ ہو جائے۔ فکشن لکھنے والے زبان کے ساتھ ایک سے زیادہ سطحوں پر معاملہ کرتے ہیں۔ جس ماحول اور فضا سے کہانی اور کردار متعلق ہوتے ہیں، ، اسی فضا سے اور زبان کے متعلقہ قبیلے سے لفظیات اور لہجے کا استعمال کیا جاتا ہے یوں کہ عام زبان کا التباس پیدا ہوتا چلا جائے، مگر یہ عام زبان عامیانہ نہیں ہوتی تخلیقی سطح پر خاص ہو جاتی ہے کہ اسے لکھتے ہوئے جملوں کی ساخت کے اندر ایسی گنجائشیں اور مقامات رکھ دیے جاتے ہیں کہ فکشن کی اپنی دانش اور بھید اس کا حصہ ہو جائیں۔ اسی سے ایک لکھنے والا اپنے متن کی جمالیات مرتب کرتا ہے۔ آپ کے سوال کا دوسرا حصہ شاعری کے بارے میں ہے۔ شاعری میرے مطالعے کے لیے وقف وقت کا بہت سا حصہ لے جاتی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ مجھے شاعری پڑھنے میں بہت لطف آتا ہے۔ اس سے میں بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ یہی سبب ہے کہ میں راشد، میرا جی اور فیض پر لکھنے کے قابل ہوا اور دوسرے شاعروں کے فن پر متعدد مضامین لکھے۔ حال ہی میں خدائے سخن میر تقی میر پر میرا کام شائع ہوا ہے۔ رہا شاعری کے بارے میں میرا خیال، تو میرا خیال وہی ہے جو احمد فراز نے اپنی ایک غزل میں شاعری کی بابت بتا رکھا ہے۔
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے
لبنی صفدر:اکیسویں صدی میں جہاں دیگر اصناف جدت کے رنگ نظر آتے ہیں کیا ناول پر بھی جدت کا کچھ اثر ہے؟
محمد حمید شاہد :اردو ناول میں اس جدت کا اثر دیکھنے میں کم کم آیا ہے جس جانب آپ نے اشارہ کیا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس جدت کے نئے نئے رنگ اردو افسانے میں نظر آتے رہے ہیں ویسے ناول میں کم کم نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اس عرصے میں ناول کی طرف توجہ ہوئی ہے اور جو کام سامنے آیا ہے وہ اپنی جگہ بہت اہم ہے۔ اس دورانیے میں لائق توجہ ناول لکھے گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ناول کی بنیادی خوبی اس کا نیا پن ہی ہے۔ ڈی ایچ لارنس نے کہا تھا کہ ناول ہم پر ہمارے زندہ رابطوں کی مسلسل بدلتی ہوئی قوس قزح کو منکشف کرنے کا ایک کامل وسیلہ ہے۔ اس نے اپنے آپ کو بطور ناول نگار کسی ولی، کسی سائنس دان، کسی فلسفی، اور معاف کیجئے گا کہ کسی شاعر سے بھی بالاتر کہا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ یہ سب انسان زندہ انسان کے کسی ایک جزو کے عظیم ماہر ہیں مگر ان اجزا کی سالم صورت کا ادراک نہیں رکھتے۔ جی یہ لارنس نے کہا تھا اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ناول زندگی کی روشن کتاب ہوتا ہے۔ یہیں سے میں نے اخذ کیا ہے کہ محض واقعات کا انبار لگا لینا، چاہے وہ کتنے ہی دلچسپ اور مربوط کیوں نہ ہوں، ناول نگاری نہیں ہے۔ اگر آپ کا اشارہ اس جدت کی طرف ہے تو ناول لکھنے کی للک رکھنے والوں کو بدلتے ہوئے انسان کے باطن اور فضا کو اس کی زندگی کے واقعاتی مظاہر کے اندر گرفت میں لینے والا بیانیہ متشکل کرنا ہو گا اور اگر آپ کی مراد اس جدت سے ہے تو ناول کے فن کا ناول نگار سے بنیادی تقاضا یہی تھا اور یہی رہے گا۔
لبنی صفدر:آپ کے خیال میں ناول نگاری میں کس نے نمایاں کام کیا ہے؟
محمد حمید شاہد:اردو میں ناول نگاری کے باب میں لائق توجہ کام ہوا ہے۔ بڑی تعداد میں ناول لکھے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں ناول اور افسانے کی اصناف کا رواج تب ہی پڑ گیا تھا جب یہاں استعمار کا دور تھا؛ خیر استعماری دور کسی نہ کسی صورت میں اب بھی موجود ہے۔ اسے جملہ معترضہ جانیے۔ کہہ یہ رہا تھا کہ ہمارے ہاں رزمیہ حکایات، داستانوں اور قصہ کہانی کی ایک روایت تھی جس سے برگشتگی کا ماحول انگریز نے پیدا کر دیا تھا۔ سرکار کے ایما پر ہی ہم اپنا مذاق بہتر بنانے میں جت گئے تھے۔ ”بہتر“ کو واوین میں کر لیجیے۔ ڈپٹی نذیر احمد اور مرزا ہادی رسوا جیسے اہم لکھنے والے وقت کے تقاضوں کو سمجھ گئے تھے۔ 20 اگست 1868 کو الہ آباد کی حکومت نے جب یہ اعلان کیا تھا کہ مقامی زبان میں لکھے گئے مفید ادب پر انعام دیا جائے گا تو اگلے ہی برس شائع ہونے والے جس ناول کو انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا تھا وہ ”مراۃ العروس“ تھا ؛ جی، ڈپٹی نذیر احمد کا ناول۔ یہ ناول سر ولیم میور کو بہت بھایا تھا اور اس نے ناول نگار کو اپنی دستی گھڑی انعام میں دی اور ہزاروں کاپیاں خرید کر تعلیمی اداروں میں بھجوا دیں۔ خیر، ناول کی اس پذیرائی کے بعد سلسلہ چل نکلا۔ ابھی پاکستان نہیں بنا تھا کہ عزیز احمد اور قرۃ العین حیدر جیسے باکمال لکھنے والے اس صنف کی طرف راغب ہوچکے تھے۔ احسن فاروقی اور فضل کریم فضلی نے بھی اس صنف میں اپنا حصہ ڈالا۔ شوکت صدیقی، ممتاز مفتی، عبداللہ حسین، اکرام اللہ، مظفر اقبال، حسن منظر اور مستنصر حسین تارڑ سے لے کر فہیم اعظمی، انور سجاد اور انیس ناگی تک آ جائیں یا پھر نسیم حجازی، ایم اسلم ’ابن صفی جیسے ناول نگاروں کو لے لیں۔ انتظار حسین کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔ خواتین میں قرۃ العین حیدر کا نام تو ہو چکا جمیلہ ہاشمی، خدیجہ مستور ’الطاف فاطمہ، رضیہ فصیح احمد، عذرا عباس اور بانو قدسیہ کے کام کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ بشریٰ رحمٰن اور رضیہ بٹ نے کیا کم لکھا۔ اکرام اللہ، احمد داؤد، مظہر الاسلام، مرزا اطہر بیگ، مرزا حامد بیگ، محمد الیاس، اسلم سراج الدین، خالد طور، اصغر ندیم سید، انور سن رائے، خالد فتح محمد اور دوسرے نئے لکھنے والوں آمنہ مفتی، سعید نقوی، اختر رضا سلیمی، شیراز دستی، ظفر سید، فاروق سرور، عاصم بٹ، طاہرہ اقبال، حفیظ خان، نیلم احمد بشیر، سید کاشف رضا، عاطف علیم، اقبال خورشید، حمیرا اشفاق، محمد عامر رانا، نیر مصطفیٰ، مصطفیٰ شاہد، قاسم یعقوب، غافر شہزاد اور اسامہ صدیق سب کا کام ہمارے سامنے ہے۔ ان میں وہ ناول نگار بھی شامل کر لیجیے جن کے سرحد پار ناول شائع ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ کس کس نے اس بڑی صنف کے تقاضے پورے کیے، انسانی وجود کو اندر سے کھنگالا اور فکشن کی دانش سے معاملہ کیا۔ کون ہے جو نئی راہ سجھا گیا اور کون فقط چونکانے میں جتا رہا یا عامیانہ ذوق والے قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس صنف کا بنیادی تقاضا ہی نہ نبھایا۔ اس حوالے سے دیکھیں گے تو ایسے ناول نکل آئیں گے جو لائق توجہ ہیں۔ بے شک ایسے بھی ہیں جن کا لکھا دھڑا دھڑ بک گیا مگر میرے لیے اہم و وہ ہیں جو پامال راستوں سے بچ نکلنے کی صورتیں سجھاتے ہیں۔
لبنیٰ صفدر: پاکستانی ادب اور تنقید کا موازنہ عالمی ادب و تنقید کے ساتھ کیسے کریں گے؟
محمد حمید شاہد: جب جب ہمارے ہاں کے ادب کا موازنہ عالمی ادب سے کیا جاتا ہے تو نہ جانے کیوں میرا دھیان اس مرعوبیت کی طرف ہو جاتا ہے جس کے سبب ہم عالمی ادب کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اپنے ادب کو اس عالم سے بارہ پتھر باہر سمجھتے ہیں۔ گویا ہمارا ادب کسی اور سیارے کا ہے۔ اس عالم سے پچھڑا ہوا اور کہیں پیچھے پڑا ہوا ہے اور وہ ادب جو ہم نے انگریزی میں پڑھا یا انگریزی کے وسیلے سے ترجمہ ہو کر ہم تک پہنچا وہی عالمی ادب کا معیار ہے۔ اس معیار کو جا لینے کے لیے ہماری تنقید نے بھی بہت جتن کیے ہیں اور اس جھونک میں تنقید ایسی سرگرمی ہو گئی ہے جو ادب کے تخلیقی عمل اور تعیین قدر سے سرگرداں ہے۔ پہلے تو ہمیں اس مرعوبیت سے نکلنا ہو گا اور ادب کے تخلیقی عمل کو اس تناظر میں سمجھنا ہو گا جس میں وہ تخلیق ہو رہا ہوتا ہے۔ دیکھیے ہمارے ہاں کی شعری اصناف میں مقبول ترین صنف غزل کی ہے۔ میں اسے تہذیبی صنف کہتا ہوں آپ اسے عالمی ادب کے معیار پر آنکنا چاہیں گے تو اس پوری روایت کو تلف کر دینا ہو گا جس سے یہ صنف غذا پاتی ہے۔ کچھ لوگوں نے اسے جدید یا نیا بنانے کے حیلے کیے مگر اس نے اپنی روش ترک نہ کی۔ یہی معاملہ ان اصناف کا ہے جو قدرے کم تہذیبی ہیں اور فوراً ثقافتی اثرات قبول کر لیتی ہیں۔ آپ دیکھیں گے وہ بھی روایت کی عطا کے قوی تخلیقی اجزا کو اپنے اندر جذب کیے بغیر تبدیلی کو قبول نہیں کرتیں۔ یہ نثر کی اصناف ہوں یا شاعری کی دونوں اپنی ثقافت اور اپنی تہذیب سے پھوٹتی ہیں۔ میں تخلیقی عمل کو اس شجر طیب سے تشبیہ دیتا ہوں جس کی جڑیں زمین میں جتنی گہرائی میں جاتی ہیں اتنا ہی وہ آفاق کی سمت اٹھتا چلا جاتا ہے۔ ادب کی مقامیت ہی میں اس کی آفاقیت نہاں ہوتی ہے لہٰذا اس کی تنقید کو بھی اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔
لبنیٰ صفدر: تخلیق اور تحقیق کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
محمد حمید شاہد: تخلیق، تنقید اور تحقیق ان تینوں کا دائرہ کار مختلف ہو کر بھی ایک تعلق قائم کر لیتا ہے اور ظاہر ہے ان کا یہ تعلق یا رشتہ ادب سے معاملہ کرنا ہے۔ تخلیق کا عمل فن کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ادب کی پیدائش ہے تو تنقید اس کی تفہیم، تعبیر اور تعیین قدر سے معاملہ کرتی ہے جب کہ تحقیق اس باب میں ہو چکے کام کا جائزہ لیتی اور اس کی تاریخ مرتب کرتی جاتی ہے۔
لبنیٰ صفدر:کیا زندگی کے تجربات تخلیق پر اثر انداز ہوتے ہیں؟
محمد حمید شاہد: ادب کا بنیادی وظیفہ ہی تو یہی ہے کہ وہ زندگی کے تجربات کو کوئی معنویت دے پائے۔ کوئی نظریہ قائم کر کے نہیں بلکہ انسانی تناظر میں۔ فرد کے فرد کے ساتھ تعلق سے لے کر فرد کے اجتماع اور اس کائنات کے ہر مظہر سے تعلق اور سلوک کے تناظر میں۔ محض نظریات تو دوسراہٹ پیدا کرتے ہیں۔ یہ دوسراہٹ بھی بالک ہٹ کی طرح ہوتی ہے ؛ اپنے آپ ہی کو سچ سمجھنا۔ یہ ایسا طرز عمل ہے جو انسانوں کو گروہوں میں تقسیم کرتا ہے۔ نظریہ چاہے کتنا ہی اعلیٰ اور انسانی فلاح و سلامتی والا کیوں نہ ہو، اس کے ماننے والے اسے بوسیدہ بنا دیتے ہیں۔ اس میں اپنی تفہیمات سے سہولت کی راہیں نکال لیتے ہیں اور یوں نظریات کی اپنی بنیادیں نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ درحقیقت سب نظریات میں سچائیاں مشترک ہو کر محترم ہوتی ہیں مگر جو ابھر کر سامنے آتا ہے وہ اختلاف اور افتراق ہی ہوتا ہے۔ ادب زندگی کو مشکوٰۃ جمال سے دیکھتا اور دکھاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ یہ انسانی نفسیات کے طاقچے پر روشن ایسا چراغ ہو جاتا ہے جو انسانی وجود کے تمام مراتب تک رسائی پیدا کرپائے اور تمام انسانی طبقات تک یکساں رسائی کے دریچے کھلے رکھے۔ آپ نے زندگی کے تجربات کی بات کی تو واقعہ یہ ہے تجربات ایک سے زیادہ نوع کے ہو سکتے ہیں۔ ایک تجربہ وہ ہے جو آپ لیبارٹری میں جاکر کرتے ہیں کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے۔ کچھ ثابت کرنے یا کوئی کلیہ اخذ کرنے کے لیے۔ دوسری نوع کا تجربہ کچھ ثابت کرنے یا اخذ کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا کہ وہ ہو جایا کرتا ہے۔ اچانک، بغیر ارادے کے۔ آپ کے حالات یا آپ کے رجحانات اور میلانات کے اندر سے پھوٹ پڑنے والا اور انہی سے جڑ کر اپنے امکانات کے دائروں میں وسعت پیدا کرنے والا۔ ایک تخلیق کار کا پہلی نوع کے تجربے سے کم کم اور دوسرے تجربے سے مسلسل معاملہ رہتا ہے۔
لبنیٰ صفدر:۔ کیا آپ مجنوں گورکھپوری کے اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان میں ادب کم اور ادب کے خوردہ فروش زیادہ پیدا ہو رہے ہیں؟
محمد حمید شاہد: اگر میں بھول نہیں رہا تو مجنوں صاحب نے یہ بات اپنے ایک مضمون، ”ادب اور مقصد“ میں کہی تھی۔ جس کتاب میں یہ مضمون شامل ہے اس کا نام، ”ادب اور زندگی“ ہے۔ یہ مضامین گزشتہ صدی کی چوتھی دہائی میں لکھے گئے تھے۔ مجنوں صاحب کی گفتگو کا جو ٹکڑا آپ نے مقتبس کیا اسے ایک طرف رکھ دیں تو اس کتاب میں کئی کام کی باتیں ہیں اور ان سے بہت کچھ اخذ کر کے اپنی سمت درست کی جا سکتی ہے۔ خیر مجنوں صاحب کے اس جملے کی طرف آتا ہوں۔ ادب کی تعریف پر بات کرنے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ادب کا مقصد یہ ہے کہ اسے پڑھنے والا کسی وعظ اور تبلیغ کے بغیر اس کے اثر سے پہلے سے زیادہ مہذب، زیادہ شریف اور زیادہ نیک ہو جاتا ہے۔ یہ الفاظ مجنوں صاحب کے ہیں اور انہوں نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ ادب انسان کے کردار سے نفس پرستی، خود غرضی، بغض، حسد، کینہ و عناد، مکاری اور عیاری جیسے رکیک اور وحشیانہ میلانات سلب کرتا رہتا ہے۔ اپنے ادھر ادھر نظر دوڑانے کے بعد مجنوں صاحب نے اس ادب کو دیکھا تھا جو ان کے زمانے میں لکھا جا رہا تھا اور انہیں خیال گزرا تھا کہ ادب کے اعلیٰ مقاصد پورے نہیں ہو رہے تھے۔ اور یہیں انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا تھا کہ جو ادب ملک میں لکھا جا رہا ہے اس کا دسواں حصہ ہی شاید ایسا ہو جس کو اصلی ادب، سچا ادب اور کھرا ادب کہا جا سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجنوں صاحب نے جو کہا یقیناً درست کہا ہو گا مگر سب جانتے ہیں کہ کسی عہد میں لکھنے والے بہت ہوتے ہیں اور بچ جانے والے یا ادب کی روایت میں اضافہ کرنے والے چند ایک۔ دس فیصد اگر بچ جائیں اور سچے کھرے ادب والے تخلیق کار کہلائے جانے کے لائق ٹھہریں تو میری نظر میں یہ اس عہد کے تخلیق کاروں کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ قریب نظری کا یہ شاخسانہ ہوتا ہے کہ بہت کچھ صاف نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ اچھا برا لکھنے والے ہر عہد میں ہوتے ہیں۔ ادب کی اعلیٰ روایات میں اضافہ کرنے والے بھی اور بہ قول مجنوں صاحب خوردہ فروش اور بساطی بھی۔ یہ خوردہ فروش اور بساطی ہمیشہ اونچی ہانک لگاتے ہیں۔ یہاں وہاں ان کا چرچا زیادہ ہوتا ہے کہ ان کی چھابڑی میں چاہے دو نمبر مال ہو مگر وہ اپنے مال کی بابت تعریفوں کے پل باندھنے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے۔ یہ وہ فضا ہے جسے دیکھ کر مجنوں صاحب اور حسن عسکری صاحب جیسے لوگ خوردہ فروشی یا ادب کے موت جیسی باتیں کہہ جاتے ہیں ورنہ اچھا اور سچا ادب لکھنے والے پہلے بھی موجود تھے اب بھی موجود ہیں۔ کل کے خوردہ فروشوں اور بساطیوں کو آج کوئی نہیں جانتا اور یقین رکھیے آج کے خوردہ فروش اور بساطی بھی کل نہیں رہیں گے۔
لبنیٰ صفدر: افسانہ کیا ہے؟ آپ کے نزدیک معیاری افسانے کی تعریف کیا ہے؟
محمد حمید شاہد: افسانے کے فن کے بارے میں میرا کہنا ہے کہ یہ زندگی کی تخلیق نو ہے۔ یہ زندگی عین مین وہ نہیں ہوتی جو ہم جی رہے ہوتے ہیں یا کہہ لیجیے جینے کے جتن کر رہے ہوتے ہیں، افسانے میں آ کر زندگی کے اس پیٹرن میں حک و اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں زندگی کا نیا چہرہ سامنے آتا ہے ؛ ویسا جیسا ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسا محض خواب کی سطح پر نہیں ہوتا کہ خواب تو اکثر غیر مربوط اور کسی لاجک کے بغیر ہوتے ہیں۔ افسانے میں یہ پیٹرن اس سے کہیں بڑھ کر حقیقی ہوتا ہے اور اپنے پیچھے فکشن کی اپنی منطق رکھتا ہے۔ اب رہا معیاری افسانے کا سوال تو اس باب میں ایک آدھ سطر میں بات نہیں نمٹائی جا سکتی۔ میں اس باب میں تفصیل سے لکھتا آیا ہوں مختصر لفظوں میں یوں ہے کہ کہانیاں کسی اور دنیا سے ہمارے پاس نہیں آتیں، ہمارے آس پاس ہی ہوتی ہیں، ان کہانیوں کے فکشن بننے کے درمیان اگر کچھ حائل ہوتا ہے تووہ کوئی اور نہیں ہم خود ہوتے ہیں۔ ہم بھی اور ہماری زبان بھی۔ اور ہاں اگر انہیں کوئی بدل کر فکشن بنا دیتا ہے تو وہ بھی ہم ہوتے ہیں۔ جی ہم اور ہماری زبان بھی۔ یہاں ہم سے مراد وہ تخلیق کار ہیں جو یہاں وہاں موجود کہانیوں میں سے کوئی کہانی اپنے نام کرلیتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تخلیق کار کسی اور دنیا کے باسی نہیں ہوتے، ہماری اپنی دنیا کے ہوتے ہیں۔ یہ میں بھی ہو سکتا ہوں اور آپ بھی۔ مگر یاد رہے میں آپ نہیں ہو سکتا نہ آپ میں۔ یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ جب ہم سے دوسرے منہا ہو جائیں تو ہمارا وجود اور ہماری شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ اگر ایسا ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کہانی جو آپ کے پاس آئے اور آپ کے وجود کے اندر اتر کر کاغذ پر اپنا وجود پائے وہ میرے وجود سے ہو کر کاغذ پر اترتے ہوئے عین مین ویسی رہے جیسی آپ کے قلم کا کرشمہ ہوئی۔ اسے ہر حال میں مختلف ہونا ہوتا ہے اور اگر مختلف نہیں ہوتی تو یقین جانیے کہیں نہ کہیں معاملہ گڑبڑ ہے۔ یہ گڑبڑ ہی کہانی کو آپ کے لفظوں میں ”معیاری“ کے درجے تک نہیں پہنچنے دیتی۔ اچھا، اس سارے عمل کو ایک اور رخ سے دیکھتے ہیں اور اس ہو چکی بات کو کچھ نقاط کی صورت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلے نقطے کے سامنے میں نے ”مشاہدہ“ لکھ لیا اور اس کے دو ذیلی نقاط ”الف“ اور ”ب“ بنا لیے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ ”مشاہدہ الف“ محض دیکھنے کا عمل نہیں ہے آپ اور میں ایک وجود ہو کر نہیں دیکھ سکتے کہ یہ ہماری وجودی مجبوری ہے۔ ہم پہلو بہ پہلو کھڑے ہو کر دیکھیں گے یا آپ بیٹھ جائیں گے اور میں آپ کے عقب میں کھڑا ہو کر دیکھ لوں گا دونوں صورتوں میں نظر کا زاویہ بدل جائے گا۔ ایسے میں دیکھے جانے والے منظر کی جو تصویریں میرے ذہن کے البم میں محفوظ ہوں گی، ان کی کچھ لکیریں اور رنگ ان تصویروں سے مختلف ہوتے چلے جائیں گے جو آپ کے ذہن کے البم کا حصہ بن پائیں۔ ”مشاہدہ ب“ کی ذیل میں کہنا ہے کہ ہماری آنکھ محض کیمرہ نہیں ہے کہ کھٹ کھٹ بس تصویریں بناتی چلی جائے۔ یہ دیکھے جانے والے منظر سے ایک تعلق قائم کرتی ہے، اس لیے کہ یہ آنکھ زندہ انسانی وجود کی ہے۔ جی، زندہ انسانی وجود کی، جو ایک حسیاتی نظام رکھتا ہے۔ تاہم کچھ کے ہاں یہ حسیاتی نظام اتنا فعال ہوتا ہے کہ معمولی سے معمولی لرزش پر بھی ردعمل ظاہر کرتا ہے اور کچھ کے ہاں قدرے کم فعال کہ بہت سی کروٹوں کو دیکھ کر ان دیکھا کر دیتا ہے۔ ایک منظر پر کوئی آنکھ جھٹ گیلی ہو جائے گی اور کوئی بٹر بٹر دیکھتا چلا جائے گا۔ لکھنے والوں کے ہاں یہ حسیاتی نظام بہت فعال سہی مگر ہر ایک کے ہاں یہ فعالیت بھی ایک سی نہیں ہوتی یوں مشاہدے میں جو تیسری جہت یا گہرائی پیدا ہوتی ہے وہ ہر ایک کے ہاں مختلف ہو جاتی ہے۔ مشاہدے کے بعد زبان کی طرف آتے ہیں کہ جو کہانی مشاہدے کے وسیلے سے آئی، اسے لکھنے والے نے اپنی زبان میں لکھنا ہوتا ہے۔ کہانی کا ہر منظر تصویروں کے ایک سلسلے کی صورت میں آپ کے ذہن میں محفوظ تھا اور میرے ذہن میں بھی۔ اور ہم یہ اخذ کر چکے تھے کہ دونوں کے پاس کہانی ایک ہو کر بھی ان تصویروں میں مختلف ہوتی چلی گئی تھی۔ لیجیے میری اور آپ کی زبان اسے اور بھی مختلف کرنے جا رہی ہے۔ میرا اور آپ کا ذخیرہ الفاظ ایک سا نہیں ہے۔ میرا اور آپ کا لہجہ مختلف ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کا انداز جداگانہ ہے۔ پھر ہمیں یہ اختیار بھی ہے کہ جملے کی ساخت بدل بدل کر ایک ہی بات کو بیان کرنے کا انداز بدل لیں۔ گویا ان تصویروں کو جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ہر بار ایک ترتیب میں کاغذ پر نہیں اتارتے۔ پھر انسانی ذہن کی کارکردگی ہر صورت میں ایک سی نہیں رہے گی کہ لکھتے ہوئے کچھ تصویریں آپ کے ہاں طاق نسیاں پر دھری رہ جائیں گی اور کچھ میرے ہاں۔ ہم دونوں کے ہاں کچھ تصویریں زیادہ روشن ہو کر فن پارے میں متن ہوں گی اور کچھ کے رنگ پھیکے رہ جائیں گے اور ہم دونوں کے ہاں اس کا انتخاب اپنا اپنا ہو گا۔ گویا ہر تخلیق کار کو زبان اور کہانی سے تخلیقی سطح پر معاملہ کرتے ہوئی اپنی انفرادیت کے ہالے ہی میں رہنا ہوتا ہے۔ ایک اور نقطہ ہے : اسلوب۔ اسلوب کا چرچا آپ نے سنا ہو گا تو یہ جان لیجیے کہ بن بن کر لکھنے اور بنا بنا کر لکھنے سے اسلوب نہیں بنتا یہ تو شخصیت کی تخلیقی تظہیر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اسلوب ایک الگ موضوع ہے اور طویل گفتگو کا متقاضی۔ میں اپنی بات مختصر کرنے کا حیلہ کرتے ہوئے روایت پر ایک آدھ بات کرنا چاہوں گا کہ یہ اصطلاح ہمارے موضوع کو سمجھنے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ روایت سے مراد روایتی ہونا نہیں ہے۔ بلکہ اس باب میں ہو چکے اس تخلیقی تجربے سے اکتساب ہے جو تہہ در تہہ اسی روایت میں موجود ہوتا ہے۔ روایت کی بابت بات کرتے ہوئے میرے ذہن میں فکشن لکھے جانے کے وہ جدید اور جدید تر تجربات بھی ہیں جو روایت سے انحراف کے دعوے کے ساتھ وجود میں آتے ہیں گویا جب ہم افسانہ لکھنے کا ارادہ باندھتے ہیں تو منظر اور پس منظر، گزر چکے اور گزر رہے ہر تخلیقی تجربے کا اثر قبول کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک کھرے، سچے اور جینیوین تخلیق کار کے ہاں یہ تجربات عین مین ویسے ظاہر نہیں ہوتے جیسا کہ اس نے ان سے اکتساب کیا ہوتا ہے وہ اس کے ہاں وہ کھاد ہو جاتے ہیں جسے زمین میں دبا کر کچھ وقت کے لیے یوں چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے اسے بھول ہی گئے ہوں۔ یہی انحراف دراصل انفرادیت کا وہ بیج ہے جو تخلیقی زمین میں بیخچہ اور راس جنین کی صورت نمو پاتے ہی ایک اسلوب میں ڈھلنے لگتا ہے۔ لیجیے انفرادیت کا ایک اور زینہ طے ہوا۔ یہ زینے یہاں ختم نہیں ہوتے۔ جوں جوں آپ آگے بڑھتے جائیں گے مختلف ہوتے چلے جائیں گے اور آخر کار آپ کی اپنی تخلیقی شخصیت اپنی پوری قامت کے ساتھ ظاہر ہو جائے گی۔ شاعروں اور افسانہ نگاروں پر یہ جو دیوانگی کی پھبتی کسی جاتی ہے یا انہیں اپنی سماجی تشکیل سے ہٹ کر چلنے والے اور ’خبط عظمت، میں مبتلا اشخاص کے طعنوں اور مہینوں کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کا تخلیقی عمل سماجی تشکیل کا پابند نہیں ہوتا اسے توڑنے، پیسنے، گوندھنے اور اپنے تخلیقی وجود کے چاک پر ایک اچھوتی صورت میں ڈھال لینے کا پابند ہوتا ہے۔ یہ پابندی ہی تخلیقی عمل کی آزادی ہے اور اس آزادی کو کام میں لا کر ہی ایک اعلیٰ فن پارے کی تخلیق ممکن ہو پاتی ہے۔
لبنیٰ صفدر:آپ کی تحاریر کے بنیادی موضوعات کیا ہیں؟
محمد حمید شاہد: کسی بھی تخلیق کار کے ہاں اس کی تخلیق کا بنیادی موضوع زندگی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ یہاں انسان ہی بنیادی حوالہ ہوتا۔ انسان جو کائنات کے اندر ہے اور نئے زمانے میں اسے مرکز سے حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ افسانہ لکھتے ہوئے میرے پیش نظر کوئی گرما گرم موضوع نہیں ہوتا بلکہ وہ صورت حال ہوتی ہے جس میں کرداروں کو جھونک دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات کہ کوئی نہ کوئی موضوع خود بخود متن کا حصہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ میرے لیے کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جو ممنوعہ علاقے میں جا پڑتا ہو۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ احمد ندیم قاسمی نے میرے افسانوں کو لمحہ رواں کی معاشرتی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ کا درجہ دے دیا اور ڈاکٹر اسلم فرخی میرے افسانوں کے بارے میں کہا کہ یہ خوب صورت ہمہ جہتی انداز اور فکر کا آئینہ دار ہیں۔ میں وہ خوش بخت ہوں جسے انتظار حسین نے نئے افسانے کی آبرو کہا۔ حال ہی میں میرے افسانوں پر بات کرتے ہوئے محمد سلیم الرحمن صاحب نے میری روش کو حقیقت پسندانہ کہا مگر ایسی حقیقت پسندانہ جو پرانی وضع کی حامل نہیں اور جس میں جدیدیت کی ایسی رو کار فرما ہے جو پرانی یا ترقی پسندانہ فکر سے بہت دور اور بہت مختلف ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے خیال میں میرے افسانوں کی ایک بڑی صفت ان کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اور اسے فاروقی صاحب نے میری بڑی کامیابی کہا ہے کہ میرے افسانوں میں ایسے موضوعات بیانیہ میں بے تکلف آ جاتے ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر ان سے کیا معاملہ کیا جائے۔ ناقدین اور فکشن نگاروں کی ان آرا سے خود ہی اندازہ لگا لیجیے کہ میرے ہاں تخلیقی عمل کی کیا صورت بنتی رہی ہے اور کون سے موضوعات ان تخلیقات میں متن ہوتے رہے ہیں۔
لبنیٰ صفدر:اپنی ذاتی زندگی اور جائے پیدائش و رہائش کے بارے میں کچھ بتائیے۔
محمد حمید شاہد: ضلع اٹک کی ایک تحصیل ہے پنڈی گھیب۔ اسی کے محلہ ملکاں میں ہمارا گھر تھا۔ وہیں 23 مارچ 1957 کو پیدا ہوا۔ اس شہر کے محلہ مولا میں ایک سرکاری سکول تھا، اس میں پانچویں تک پڑھا۔ میٹرک تک بھی اسی شہر کے مڈل اور ہائی سکول تک تعلیم پائی۔ میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پہنچ گیا باقی تعلیمی مراحل وہیں طے کیے۔ اپنی پہلی کتاب ”پیکر جمیل“ اسی زمانے میں لکھی۔ کہہ لیجیے میرا ادبی جنم فیصل آباد میں ہوا۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو بینک میں ملازم ہو گیا۔ مختلف شہروں میں تعینات رہا اور آخر کار اسلام آباد میں پوسٹنگ ہو گئی۔ ریٹائر ہوا تو اسلام آباد ہی میں سکونت اختیار کرلی کہ اس عرصہ میں یہیں گھر بنا لیا تھا۔
لبنیٰ صفدر:اگر آپ ادیب نہ ہوتے تو؟
محمد حمید شاہد: اگر میں ادیب نہ ہوتا تو مصور ہوتا۔ یونیورسٹی کے زمانے میں، میں اسی کی طرف راغب بھی رہا مگر یہ شوق بہت مہنگا نکلا۔ ایزل پر ادھورا کام کئی کئی ماہ ٹنگا رہتا کہ مطلوبہ رنگ اور برش خریدنے کو پیسے نہ ہوتے تھے۔ میں کڑھتا رہتا اور سکون کے لیے کتابوں کے مطالعے میں جت جاتا۔ یوں مصوری مجھ سے چھوٹ گئی اور کتاب سے تعلق مستحکم ہوتا چلا گیا۔
لبنیٰ صفدر:پسندیدہ شعر اور شاعر کون ہیں؟
محمد حمید شاہد :بہت سے ہیں۔ پرانے بھی نئے بھی۔ میر تقی میر نے کیا خوب کہا تھا
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
تو یوں ہے کہ اردو شاعری کی روایت بہت شاندار اور مستحکم ہے یہاں میرے محبوب کئی ہیں کہ ہر کوئی اپنی الگ ادا رکھتا ہے۔ ایک شعر جمال احسانی کا بھی عرض کیے دیتا ہوں :
اس رستے پر پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال ؔ
ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی
جب مجھ سے کسی ایک پسندیدہ شاعر یا کسی پسندیدہ شعر کی بابت پوچھا جاتا ہے اور میں اردو کی عظیم شعری روایت کی شاہراہ بنانے والوں کا سوچتا ہوں تو وہی کیفیت ہوتی ہے جو جمال احسانی کے اس شعر میں ہے کہ ایک نہیں کئی آوازیں متوجہ کرتی ہیں اور ہر آواز پر توجہ دینے کے لیے پورا وجود گھوم کر رہ جاتا ہے۔
لبنیٰ صفدر: زندگی کا خوبصورت اور یادگار لمحہ کون سا تھا؟
محمد حمید شاہد: زندگی کے خوب صورت اور یاد گار لمحات تو کئی ہیں اور میں ایسا خوش بخت ہوں جس کی زندگی میں یہ سنہری لمحات تواتر سے آتے رہے ہیں۔ مجھ پر زندگی کی عنایات بہت ہیں جس پر جتنا بھی خدا کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ حال ہی کا ایک واقعہ دیکھیے۔ میں دل کا مریض ہو کر ہسپتال پہنچا۔ ڈاکٹروں نے بائی پاس سرجری کا کہہ دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جتنا جلدی ممکن ہو، پروسیجر کروا لیجیے ورنہ خطرہ بہت ہے۔ میری نصف بہتر یاسمین کا مرجھایا ہوا چہرہ مجھے بہت کچھ سجھا رہا تھا۔ یہ خطرہ ظاہر ہے میری جان کو ہو سکتا تھا۔ ابھی میں ہسپتال میں تھا اور مجھے ڈاکٹر بستر سے نیچے پاؤں دھرنے سے بھی منع کر رہے تھے کہ اسی ہسپتال کے لیبر روم میں میرے بیٹے سعد کی دلہن سمیعہ کے ہاں پہلی ولادت ہوئی۔ یہ سب کچھ مجھے معلوم نہیں تھا۔ میں اپنی بیماری اور اس باب میں ڈاکٹروں کی باتوں میں الجھا ہوا تھا کہ ایک ننھا منا وجود کپڑے میں لپیٹے ہوئے میری بیٹیاں سامنے آئیں اور کہا: ”بابا جان! دادا بننا مبارک ہو۔“ میں نے ننھی بچی گود میں لی تو مجھے لگا جیسے زندگی جست لگا کر آگے بڑھ رہی ہو۔ مجھے زندگی سے اور کیا چاہیے تھا؟ عین اس لمحے مجھے لگا کہ زندگی کی سب سے بڑی عطا میری بانہوں میں تھی۔ میرا دل خوشی اور اطمینان سے بھر گیا اور بیٹے سعد سے کہا: میں سرجری کے لیے تیار ہوں۔






