جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں
جاوید حیدر سے پہلی ملاقات کی دو باتیں میں آج تک نہیں بھولا۔ ایک تو یہ کہ ان کی قمیض کے اوپر والی جیب سے تھوڑا باہر جھانکتا ہوا سگریٹ کا پیکٹ اور ان کا ہاتھ جن سے ہاتھ ملانے سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ گرم ہیں۔
”آپ کو بخار ہے۔“ میں نے پوچھا تھا۔
”نہیں تو بالکل نہیں۔“ انہوں نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ ”میرے ہاتھ گرم ہی رہتے ہیں مگر مجھے بخار نہیں ہے۔“
ہماری پہلی ملاقات ڈاؤ میڈیکل کالج کی کینٹین میں ہوئی تھی۔ ضیاء الحق کا ظالمانہ زمانہ تھا، پورا ملک ایک طرح سے اس کا قیدی بنا ہوا تھا۔ عوام کے مسائل بڑھتے ہی جا رہے تھے، غربت میں پہلی دفعہ شدید اضافہ ہو رہا تھا، اسکول کالج یونیورسٹیوں کی تعلیم اور تمام انسانوں کے بنیادی حقوق سے لے کر زندہ رہنے کے انسانی حقوق تک پر پابندی تھی۔ کوڑے، پھانسی، زبردستی کے مقدمات، معصوم شہری جو ضیا الحق کو پسند نہیں کرتے تھے انہیں اٹھانا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا ایک عام بات تھی۔
جاوید اور جاوید کے دوست یاد اللہ حیدر، طارق علاؤ الدین (چیئرمین) ، تنویر ایزاد، شبیہ حیدر اور محمد اسلم سب لوگ ترکی کے مڈل ایسٹرن ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ سے فارغ التحصیل ہو کر پاکستان واپس آئے تھے۔ یہ سارے کے سارے ترکی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے آزاد خیال، ترقی پسند اور بائیں بازو کے نظریات سے نہ صرف یہ کہ آگاہ تھے بلکہ پاکستان میں ضیا الحق کے خلاف جدوجہد بھی کرنے کو تیار تھے اور مزدور کسانوں کی حمایت میں انقلابی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ ترکی کی بہتر سیکولر اور سائنسی تعلیم نے ان سب کو اچھا انسان بنا دیا تھا جو انسانی حقوق کی بحالی اور ملک میں امن و انصاف چاہتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان بھی ترکی کی طرح ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ وہ سب کے سب پاکستان میں ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔
جاوید اور طارق علاؤ الدین ساتھ ہی آئے تھے۔ ہمارے کلاس فیلو احمد ظہیر بابر کے بڑے بھائی تنویر ایزاد بھی ترکی سے آئے تھے اور یہ سب لوگ ہماری کینٹین میں ملنے آرہے تھے۔ تنویر بابر کے ساتھ ہاسٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، وہیں ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ ہم سب لوگ ساتھ کینٹین میں کونے والی میز پر بیٹھ گئے جو بڑی سی کھڑکی کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ پہلی ہی ملاقات بہت دلچسپ ثابت ہوئی تھی اور میرے دل میں ان دونوں کے لیے بہت ہی اچھے جذبات پیدا ہوئے تھے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کہ ترکی سے آنے والے مہمانوں نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا۔
آج جب میں وہ پہلی ملاقات یاد کرتا ہوں تو سب سے اہم باتیں جو یاد رہ گئی ہیں وہ یہ تھیں کہ یہ سارے کے سارے لوگ انتہائی ذہین تھے، پاکستان سے قابلیت کا امتحان پاس کر کے ترکی کے بہت اچھے تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے۔ انتہائی مخلص تھے اور ان سب کا تعلق بائیں بازو کی سیاست سے تھا۔ وہ مجھ سے این ایس ایف (نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن) کی سیاست اور میڈیکل کالج میں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھتے رہے اور بعد میں پاکستان کی سیاست اور اس میں بائیں بازو کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں ہم لوگوں نے تبادلہ خیال کیا۔ مجھے لگا تھا کہ وہ لوگ پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کے بارے میں مجھ سے زیادہ باخبر ہیں۔ یقیناً انہوں نے دوسرے ذرائع سے بھی پاکستان کے بارے میں معلومات جمع کی ہوئی تھیں۔
اس دن کی ملاقات کے بعد ہماری پکی دوستی ہو گئی۔ یہ لوگ اکثر شام کو کالج کی کینٹین میں آ کر ملتے یا اس کے بعد ہسپتال میں ہاسٹل فور کے ساتھ بنے ہوئے کیفے ٹیریا یا ڈاکٹرز کیفے میں ملاقاتیں ہوتیں۔ روزانہ ہی کسی نہ کسی گرما گرم سیاسی موضوع پر بحث و تکرار ہوتی۔ بائیں بازو کی سیاست سمجھنے کی کوشش کی جاتی۔ پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کے بارے میں باتیں ہوتیں۔ لامحالہ پاکستان کے بائیں بازو کی سیاست میں گروپ بندی اور اس کے مضمرات پر گفتگو ہوتی۔ اس وقت مارشل لا تھا مگر اتنی گھٹن نہیں تھی جو آج کل کی سیاسی حکومت کے دور میں ہے۔
جاوید داؤد انجینئرنگ کالج میں شعبہ آرکیٹیکچر (Architecture) میں انسٹرکٹر کے طور پر ملازم ہو گئے تھے اور ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی سرگرم عمل تھے اور کراچی کے ترقی پسندوں میں اپنے لیے جگہ بھی بنالی تھی۔
یہ 1977 ء کا زمانہ تھا۔ زاہد حسین جو آج کل ڈان اخبار میں پابندی سے کالم لکھتے ہیں۔ وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، ورکرز آرگنائزنگ کمیٹی میں سرگرم تھے، ترکی سے آئے دوستوں نے ان کے ساتھ مل کر کراچی میں لکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور سیاسی سماجی طور پر متحرک لوگوں کو مدعو کر کے ایک فورم کی بنیاد ڈالی تھی جس کا زیادہ تر کام ترکی سے آنے والے ان مجاہدوں کے سپرد کیا گیا تھا۔ فورم کے اس کام میں جاوید حیدر، یاد اللہ، شبیہ حیدر اور طارق علاؤ الدین بہت متحرک تھے۔
فورم کی جانب سے مختلف جگہوں پر لوگوں کو جمع کر کے چھوٹی چھوٹی میٹنگز کی جاتی تھیں جس میں ملک کے مسائل کے بارے میں بات چیت کی جاتی تھی۔ اس وقت بھی مسائل وہی تھے جو آج ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اس وقت کے چھوٹے مسئلے آج بہت بڑے مسئلے بن گئے ہیں۔ ہم آگے نہیں بڑھے ہیں بلکہ ہر لحاظ سے پیچھے چلے گئے ہیں۔ بائیں بازو کی اس ناکامی کو آج کے حالات میں سمجھنا بہت ضروری ہے۔
فورم کی ان چھوٹے اجلاسوں میں بحث و مباحثہ ہوتا، لوگ اپنے صحیح اور غلط خیالات و نظریات کو پیش کرتے اور ان پر دل کھول کر بات چیت ہوتی، ان چھوٹے اجلاسوں کا کیا فائدہ یا نقصان ہوا اس کے بارے میں کئی رائے ہو سکتی ہیں۔ اس کے فائدے نقصانات کے کے سلسلے میں بحث و مباحثہ کی گنجائش ہر وقت ہے۔ کئی سال بعد جب جاوید کراچی آ کر ایک تعلیمی ادارے سے منسلک ہوئے تو ان سے کچھ ملاقاتیں رہیں۔ ایک دن ہم دونوں ماضی کی فورم کی سرگرمیوں پر بات چیت کر رہے تھے تو میں نے کہا کہ فورم کے چھوٹے موٹے اجلاسوں سے میرے جیسے کچھ لوگوں کی تھوڑی سی تعلیم تو ہو گئی لیکن ان اجلاسوں اور بحث و مباحثہ سے عوام میں آگہی کی وہ لہر نہیں پھیل سکی جس سے سماج کو بدلو کے نعرے کو کوئی فائدہ پہنچتا۔
جاوید نے میرے خیال سے اتفاق تو کیا لیکن ساتھ میں یہ کہا کہ اس وقت کے حالات میں شاید یہی سرگرمی ممکن تھی لیکن ہم ترکی سے آنے والوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست اتنی مضبوط نہیں ہے جتنی اس وقت کے بائیں بازو کے کرتا دھرتا اور رہنما عام لوگوں کو بتایا کرتے تھے۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ وہ کتنے کمزور ہیں، کبھی کبھار کچھ تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبا کے مقابلے میں الیکشن جیتنے سے ملک میں سرخ انقلاب نہیں آ سکتا تھا اور نہ ہی ایشیا سرخ ہو سکتا تھا۔ عوام کے اندر جتنا گہرا کام ہونا چاہیے شاید اس کا ادراک بائیں بازو کے رہنماؤں کو نہیں تھا۔
میرا بھی یہی خیال تھا اور یہی وجہ تھی کہ ملک میں بائیں بازو کی جماعتیں بہت سارے انتہائی مخلص کارکنوں کی موجودگی کے باوجود کسی بھی قسم کا وہ سماجی مزاحمت نہیں کرسکیں جو کسی انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتیں۔ بائیں بازو کے زیادہ تر لوگ اپنے بنے ہوئے خوابوں کی دنیا میں رہتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ملک میں مزدور اور کسان بہت زیادہ منظم ہیں، استحصال کا شکار ہیں اور انقلاب لانے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ بائیں بازو کے ہر گروپ میں گروپ در گروپ بنے ہوئے تھے چھوٹے چھوٹے واقعات کی بنا پر گروپ بن جاتے تھے اور بائیں بازو کے لوگوں اور خاص طور پر رہبروں کی انا ان کے نظریات سے بہت بلند تھی
فورم کی جانب سے ادبی محفلیں بھی منعقد کی جاتی تھیں جس میں ترقی پسند ادب پیش کیا جاتا تھا۔ یہ اجلاس کسی کے گھر پر، ڈاؤ میڈیکل کالج کی کینٹین میں یا کسی اور تعلیمی اداروں میں ہوتے تھے۔ ان اجلاسوں میں بعض انتہائی مخلص لوگ آتے تھے اور اپنے خیالات پیش کرنے کے ساتھ ہماری باتیں بھی سنتے تھے۔ مجھے نام یاد نہیں ہیں لیکن یہ یاد ہے کہ اسٹیٹ بینک، اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی اور ورکرز آرگنائزنگ کمیٹی کے کچھ کارکنان بہت ذمہ داری کے ساتھ ان اجلاس میں آتے تھے وہ سب لوگ جاوید اور ترکی کے لوگوں کے مداح بھی ہو جاتے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ ان سب کی انکساری اور نظریے سے مخلص ہونے کا احساس تھا۔
مجھے یاد ہے کہ ایک اسی قسم کے اجلاس میں کرشن چندر کے ایک افسانے ”موہنجوداڑو کا خزانہ“ پر بحث ہو رہی تھی تو جاوید حیدر نے مجھ سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں کرشن چندر کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون لکھوں اور اسے اگلی نشست میں پڑھوں۔ ایسا اکثر ہوتا کہ میٹنگ کے بعد یا پہلے چائے کے درمیان کوئی نہ کوئی فرد اپنی پڑھی ہوئی چیز کے بارے میں بات کرتا اور اس پر کوئی ایجنڈا بنا لیا جاتا۔
میں فوراً ہی راضی ہو گیا تھا، اگلے چار دن میں صبح سے شام تک ناظم آباد میں واقع غالب لائبریری میں بیٹھا کرشن چندر صاحب کی جو کتابیں میری پڑھی ہوئی تھیں۔ انہیں دوبارہ پڑھتا رہا اور جو کتابیں وہاں موجود تھیں اور میں نے نہیں پڑھی تھیں انہیں پڑھ ڈالا۔ غالب لائبریری کے لائبریرین صاحب نے میری بہت مدد کی تھی اور کچھ ایسے رسالے نکال کر دیے تھے جن میں کرشن جی کے بارے میں تنقیدی اور توصیفی مضامین شامل تھے۔ مجھے اب ان کا نام یاد نہیں ہے لیکن میں ابھی تک ان کا شکر گزار ہوں اور رہوں گا، ایسے کارکن اب ناپید ہیں۔
فورم کی وجہ سے مجھے موقع مل گیا تھا کہ میں اپنے پسندیدہ افسانہ نگار سے مزید آشنا ہو گیا اور ان کی ذاتی زندگی کے بہت سے پہلو میرے سامنے آئے تھے۔ اس مضمون کو لکھنے سے قبل مجھے نہیں پتہ تھا کہ کرشن چندر نے پروفیسر رشید احمد صدیقی کی صاحبزادی سلمیٰ صدیقی سے دوسری شادی کی تھی، اس شادی کے حوالے سے چھپنے والے مواد سے اندازہ ہوا تھا کہ بھارت میں کس طرح سے سماجی تبدیلیاں آ رہی تھیں۔ آج کے ہندوستان اور کرشن چندر کے بھارت میں بہت فرق ہے۔ میں نے طوفانی رفتار سے یہ مضمون مکمل کیا تھا تاکہ فورم کے اگلے اجلاس میں، میں اسے پڑھ سکوں۔
فورم کی اگلی نشست میں میں نے وہ مضمون پڑھا، جاوید سمیت سب لوگوں نے اس مضمون کو پسند کیا۔ مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی انجینئرنگ کالج اور اردو کالج کے چند طالب علم موجود تھے جنہوں نے مجھ سے کہا کہ کرشن چندر کے بارے میں انہوں نے اس طرح سے نہیں سوچا تھا۔ افسوس یہ ہے کہ وہ مضمون کہیں کھو گیا مگر ابھی بھی کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس مضمون کا کوئی حصہ یکایک لاشعور کی کسی لہر پر تیرتا ہوا میرے شعور کے جزیرے پر ٹکراتا ہے اور مجھے اپنا لکھا ہوا مضمون یاد آ جاتا ہے۔ یہ وہ سب سے اچھا مضمون تھا جو میں نے جاوید کی وجہ سے لکھا۔ آج مجھے اس کا اقرار کرتے ہوئے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ جاوید نے ساری زندگی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کی اس عادت سے بے شمار لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ فورم کی سرگرمیوں میں جاوید کا یہی کردار تھا۔
جاوید ایک مستقل طور پر حرکت کرنے والے انسان تھے، ان کی موٹر سائیکل، ان کا ہیلمٹ اور ان کی ہر وقت ہر کام کرنے کے لیے تیار شخصیت کو بھلانا ناممکن ہے۔ جاوید اور ان کے دوست طارق علاؤ الدین کبھی تھکتے نہیں تھے۔ ضیا الحق کا ظالمانہ زمانہ تھا، ملک میں زبردست قسم کا سماجی سیاسی حبس تھا۔ میرے کلاس فیلو احمد ظہیر بابر جو اس وقت نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ڈاؤ میڈیکل کالج کے یونٹ سیکریٹری تھے ہاسٹل میں ان کے کمرے میں ترکی کے سرخوں اور کراچی کے این ایس ایف کے چند سرگرم کارکنوں کی میٹنگ ہوئی اور یہ طے ہوا کہ پورے شہر میں ضیا الحق اور آمریت کے خلاف پوسٹر لگائے جائیں، یہ سب کو پتہ تھا کہ ضیا الحق کے مارشل لا کے خلاف پوسٹر کوئی بھی نہیں چھاپے گا۔
اسی میٹنگ میں جاوید اور طاق علاؤ الدین نے تجویز دی کہ ترکی میں وہ لوگ یونیورسٹی کیمپس میں اسکرین پرنٹنگ کرتے تھے اس قسم کا کام یہاں بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جاوید اور طارق اس سلسلے میں بنیادی کام کریں گے۔ افضل کھنہ اور ظہیر بابر جو خود بھی ایک اچھے آرٹسٹ تھے ان کی مدد کریں گے، ان لوگوں نے مل کر چوبیس گھنے کے اندر اسکرین پرنٹنگ کا پورا نظام بنا ڈالا۔ اسکرین دیسی طریقے سے بنایا گیا جسے چاروں طرف لکڑی کی پٹیوں کے ذریعے مضبوطی کے ساتھ تان کر لگا دیا گیا۔ اسکرین کو جس طرح سے سائیکلو اسٹائل کرنے کے لیے اسٹینسل کو کاٹا جاتا ہے اسی طرح سے کاٹا گیا۔ اس طرح سے پرنٹنگ کی دیسی مشین تیار ہو گئی۔
پرنٹنگ کے کام کے آغاز کے ساتھ ہی اس قسم کا نظام بنا کے رات دس بجے جاوید اور طارق عام طور پر موقع واردات پر موجود ہوتے اور ڈاؤ میڈیکل کالج میں این ایس ایف کے کارکنان باری باری پرنٹنگ کے کام میں لگ جاتے۔ رات بارہ بجے تک کئی سو پوسٹر تیار ہو جاتے جس کے بعد انہیں شہر میں لگانے کا کام شروع ہوتا تھا۔ یہ سارا کام انتہائی رازداری سے ہوتا اور دوسرے طالب علموں کو اس کی ہوا بھی نہیں لگتی تھی۔
ہاسٹل کے باورچی خانے میں لئی بنائی جاتی اور تین چار ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں میں پوسٹر لگانے کے لیے روانہ ہو جاتیں، اس کام میں مختلف کالجوں میں این ایس ایف کے کچھ کارکنان بھی مدد کرتے، آج ان میں سے کئی کارکن نامی گرامی وکیل ہیں اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔ میری ڈیوٹی اندرون شہر کے علاقے میں ہوتی، جہاں طارق کے ساتھ ہم اور طالب علم جیسے خالد محمود، خالد پراچہ، ظفریاب، افتخار یوسف، امیر الحق، نسیم شیخانی، نصیر، شہاب الدین، خالد پراچہ، احسان رشید اور دوسرے دوست ہوتے تھے۔
طارق کے پاس مزدا کار تھی جس کی پچھلی سیٹ پر ایک لکڑی کا تختہ طارق نے لگایا ہوا تھا جس کے ساتھ ایک بالٹی میں لئی ہوتی تھی۔ پوسٹر کو تختے پر الٹا بچھا کر برش سے چاروں جانب لئی لگائی جاتی اور ایک بندہ دوڑ کر پہلے سے چنی ہوئی دیوار پر پوسٹر لگا کر آ جاتا اور فوراً ہی اسٹارٹ گاڑی میں آگے کی سیٹ پر بیٹھ جاتا تھا۔ اس سارے کام میں دو سے تین منٹ سے زیادہ نہیں لگتا تھا۔ کراچی میں صدر دواخانہ، ایمپریس مارکیٹ، ایس ایم کالج، ٹاور، کھارادر، پی ایم اے ہاؤس کی دیوار، این ای ڈی انجینئرنگ کالج، ڈی جے کالج، آرام باغ پر جماعت اسلامی کے آفس کے قریب، سٹی کورٹ اور ہائی کورٹ کی دیواروں پر یہ کام ہوتا تھا۔ طارق کی گاڑی پر بندوں کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی۔
وہ ایک عجیب وقت تھا، سارے لوگ انتہائی محنت اور اخلاص کے ساتھ ایک آمر کے خلاف یہ خطرناک کا کام کرتے تھے اور چار پانچ بجے فارغ ہو کر ہم لوگ اپنے اپنے کمروں میں سو جاتے اور صبح صبح کالج کی بسوں کے آنے سے پہلے نہا دھو کر کالج کینٹین بھی پہنچ جاتے تھے جہاں طارق، جاوید اور کچھ دوسرے دوست اکثر ہمارے ساتھ ہی ناشتہ کر کے اپنے کام پر چلے جاتے تھے، جاوید ہمارے ساتھ کم ہی ٹھہرتے، ان کی کوشش ہوتی کہ اپنے اسکوٹر پر اپنے گھر رضویہ کالونی ہی واپس چلے جائیں۔ مجھے یاد ہے کہ دو چار دفعہ رات گئے واپسی پر پولیس والوں نے ان سے سوال جواب بھی کیے تھے لیکن انہوں نے اپنا طریقہ نہیں بدلا تھا۔
ہم سب کے والدین گھروں میں یہ سمجھتے تھے کہ ہم لوگ میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں بہت جانفشانی کے ساتھ طب کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور سول ہسپتال کے وارڈوں میں مریضوں کے ساتھ وقت گزار کر طب کی عملی تربیت لے رہے ہیں۔ دوسرے طالب علموں کا تو مجھے اندازہ ہے کہ وہ تھوڑا بہت پڑھ بھی رہے ہوتے تھے لیکن ہم چند قریب کے دوستوں کا تعلیم وغیرہ سے کوی خاص واسطہ نہیں تھا۔ امتحان کے قریب دو تین مہینے دن رات گیس پیپر کی مدد سے امتحان کی تیاری کی جاتی اور امتحان پاس کر لیا جاتا۔ اس زمانے کا طریقۂ تعلیم یہی تھا اور آج بھی اس طریقۂ تعلیم میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔
جاوید حیدر کی خاص بات یہ تھی کہ ان سے مل کر ساتھ بیٹھ کر بات کر کے کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہم سے زیادہ قابل ہیں۔ سوشلزم اور کمیونزم کی تاریخ کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ سماجی انقلاب اور طبقاتی کشمکش کے نتائج کیا ہوں گے، کیسے مزدورں کسانوں طالب علموں کو یکجا کیا جائے اور انہیں تیار کیا جائے کہ وہ انقلاب برپا کرنے میں مدد کریں۔ ترکی میں وہ کافی متحرک تھے اور وہاں انہوں نے کافی کچھ سیکھا تھا مگر ان کی اچھی بات یہ تھی کہ وہ پاکستان سے باہر چلنے والی مختلف تحریکوں کے بارے میں پڑھتے رہتے تھے اور ان سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اپنے دوستوں کو ان معاملات سے آگاہ رکھنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔
ہمسایہ ملک افغانستان میں سرخوں کی تحریکوں سے ہم لوگوں نے بہت ساری امیدیں باندھ لی تھیں اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دوسرے ممالک کے حالات کو ہم چین، روس اور امریکا کے نقطۂ نظر سے دیکھتے تھے۔ جاوید سے افغانستان سے حالات کے بارے میں کم باتیں ہوئیں مگر میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ جاوید نے مجھے صحیح معنوں میں ایران میں مرحوم وزیراعظم مصدق کی تحریک کے بارے میں بتایا تھا کہ کس طرح سے امریکا نے سازشیں کیں اور مصدق کو غیر جمہوری غیر اصولی طریقوں سے برخواست کر کے ساری عمر کے لیے گھر میں نظربند کیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔ اس زمانے میں اس قسم کے بحث و مباحثہ کا مقصد بنیادی طور پر یہی ہوتا تھا کہ دنیا کے حالات سے یہ سمجھا جائے کہ سامراجی طاقتیں کس طرح سے کام کرتی ہیں اور طبقاتی نظام میں کیسے غریب عوام کو کچلا جاتا ہے اور دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے کتنی بے رحم ہیں۔
جاوید حیدر سے ابتدائی ملاقات تو کالج کینٹین میں ہوئی تھی مگر مجھے دو ہفتوں کے بعد پتہ چلا تھا کہ وہ این ایس ایف کی مرکزی جوائنٹ سیکریٹری نسرین زہرہ کے بڑے بھائی ہیں۔ نسرین کراچی یونیورسٹی میں سائنس کی طالبہ تھیں۔ انتہائی سادہ بہت مخلص اور سرگرم کارکن تھیں۔ میں ان سے پہلی ملاقات کے بعد ہی ان کی ذہانت کا معترف ہو گیا تھا، وہ نہ صرف یہ کہ کراچی یونیورسٹی میں سرگرم تھیں بلکہ کراچی کے مختلف کالجوں میں بھی این ایس ایف کے اجلاسوں میں شرکت کرتی تھیں، اس زمانے میں نسرین، لالہ رخ انصاری، نرگس ہود بھائی اور گوہر تاج نقوی این ایس ایف کی بہت سرگرم کارکنان تھیں۔
شام کو اکثر یہ لوگ ڈاؤ میڈیکل کالج کی کینٹین میں آتے تھے اور ان سے گپ شپ ہوتی تھی۔ جاوید، طارق اور دوسرے ترکی سے آئے ہوئے طالب علموں کی وجہ سے شام کی یہ میٹنگ بہت زیادہ دلچسپ ہوتی تھیں۔ میں اور ہمارے بہت سارے دوستوں نے ان میٹنگوں میں ان لوگوں سے بہت کچھ سیکھا جو آج بھی تروتازہ ہے۔ آج جاوید کے بارے میں یہ سب کچھ لکھتے ہوئے وہ ساری شامیں کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے چلنے لگی ہیں۔ دور طالب علمی میں دیکھے ہوئے خواب ایک طرح سے بہت اچھے لگنے لگے لیکن ان خوابوں کی تعبیر جس طرح کی آج ہوگی کسی نے بھی نہیں سوچا تھا۔
جاوید اور نسرین ایک دوسرے کے بھائی بہن ہونے کے علاوہ دو بہترین دوست بھی تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے۔ بہنیں تو بھائیوں کی مداح ہوتی ہی ہیں اور بھائی بھی چھوٹی بہنوں کا خیال رکھتے ہیں مگر نسرین اور جاوید ایک دوسرے سے بہت زیادہ متعلق اور منسلک تھے۔ بھائی بہنوں کے علاوہ ان دونوں کے درمیان زبردست قسم کی نظریاتی ہم آہنگی تھی، وہ دونوں ایک طرح سے سوچتے بھی تھے، ایک دوسرے کے رازداں، ایک دوسرے کے بہی خواہ اور ایک دوسرے پر ان کا زبردست اعتماد تھا۔ زندگی کی ہر مشکل گھڑی میں بچپن سے لے کر اب تک وہ دونوں ایک دوسرے کے بے غرض بے لوث ساتھی رہے۔ ایک دوسرے کی تکلیفوں کو سمجھنے والے اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے والے یہ رشتہ جاوید کے مرتے دم تک قائم رہا۔
میں کراچی میں تھا جب مجھے پتہ لگا کہ سہیل ہمایوں، نسرین کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ سہیل ہمایوں کو میں جامعہ ملیہ کالج کے زمانے سے جانتا تھا۔ میں فرسٹ ائر کا طالب علم تھا اور سہیل بی ایس سی کے طالب علم تھے۔ ایوب خان کے زمانے میں معراج محمد خان کے ساتھ جن طالب علموں کو کراچی بدر کیا گیا تھا، سہیل ہمایوں ان میں سے ایک تھے۔ وہ این ایس ایف میں بہت سرگرم تھے۔ اکثر ڈاؤ میڈیکل کالج میں آ کر ہم لوگوں سے ملتے تھے، نظریاتی بات چیت ہوتی اور ایک دوسرے سے مکالمہ ہوتا تھا۔ وہ بہت ذہین تھے اور ان کی بھی نظر دنیا بھر کی ترقی یافتہ تحریکوں پر خوب تھی۔ کراچی یونیورسٹی میں ہی ان کی ملاقات نسرین سے ہوئی پھر ان دونوں کی شادی ہو گئی تھی۔
سہیل نے بعد میں مقابلے کا امتحان پاس کر لیا تھا پھر پاکستان کی نوکرشاہی کے اہم رکن بن گئے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد میں اسی ہفتے نسرین سے ملنے لاہور گیا تھا۔ میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا سامنے جاوید کھڑے تھے جو سہیل کے انتقال کی خبر سن کر امریکا سے آ گئے تھے۔ نسرین اداس تھیں مگر ان کے چہرے پر حوصلہ بھی تھا لیکن جاوید کے چہرے پر جو اداسی تھی اس کو میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ اس دن بہت برسوں کے بعد جاوید سے میری ملاقات ہوئی تھی، میں کئی گھنٹے وہاں بیٹھا رہا۔
مجھے پہلی دفعہ یہ احساس ہوا کہ جاوید اور نسرین کتنے قریب ہیں۔ جاوید نسرین اور اس کے بچوں کے لیے بہت پریشان تھے جس کا وہ اظہار نہیں کر رہے تھے مگر اس احساس کو چھپا بھی نہیں پا رہے تھے۔ جاوید کا گھرانا ایک روایتی پاکستانی گھرانا تھا اور اس گھرمیں نسرین جیسی غیر روایتی باغی لڑکی کو زندگی کے ہر مرحلے پر جاوید کی پوری اور بھرپور حمایت حاصل رہی تھی۔
7 دسمبر 2018 کو جاوید کا انتقال ہم سب کے لیے ایک اندوہناک خبر تھی مگر نسرین کی تو جیسے ساری دنیا اجڑ گئی ہے۔ وہ ابھی تک اس غم کو سینے سے لگائے ہوئے ہے۔ کاش ہم دوستوں کے پاس کوئی ایسا طریقہ ہوتا، ہم ان کے کسی کام آسکتے۔ جاوید نے اپنے انتقال سے کچھ ہفتے پہلے کہا تھا کہ نسرین ان کی بیماری اور اس کے نتائج کا صحیح ادراک نہیں کر پا رہی ہیں۔ میں نے اور میرے خاندان نے قبول کر لیا ہے کہ میں جا رہا ہوں مگر ان میں شاید یہ حوصلہ نہیں ہے۔
جاوید کی بات صحیح تھی لیکن ہر کوئی جاوید نہیں ہوتا پھر جاوید تو زندگی کے ہر معاملے میں منطقی تھے، بہادر تھے اور اپنے رویوں میں سادہ اور زندگی کے حقائق کو قبول کرنے والے بغیر کسی چوں چرا کے ساتھ، کسی بھی حادثہ اور رونما ہونے والے واقعہ کو سائنسی نکتہ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے والے ذہن عام نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت خاص ہوتے ہیں، وہ جیتے ایسے ہیں کہ دنیا کے لئے مثال بن جاتے ہیں۔ نسرین جاوید کے دکھ کے ساتھ بالکل اکیلی ہو گئی ہیں یہ درد ایسا ہے کہ جا نہیں سکے گا۔
جاوید نے آرکیٹیکچر کی تعلیم انقرہ ترکی میں حاصل کی جس کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور داؤد انجینئرنگ کالج میں انسٹرکٹر کے طور پر کام کرنے لگے۔ داؤد انجینئرنگ کالج سے ہی وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے پنسلوانیا امریکا گئے جہاں انہوں نے اپنے مضمون میں پی ایچ ڈی کیا اور پن اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہی اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کرنا شروع کیا لیکن بہت جلد ہی انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان واپس جا کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔
وہ اٹھارہ مہینے داؤد انجینئرنگ کالج کراچی میں کام کرتے رہے لیکن جب کراچی میں امن و امان کی حالت یہ ہو گئی کہ ان کی طرح کے لوگوں کی زندگی کو خطرہ ہو گیا تو جاوید کی سوچ میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی۔ ان کی اہلیہ طلعت اظہر نے مجھے بتایا کہ حالت ایسی ہو گئی تھی کہ جب جاوید گھر سے صبح نکلتے تھے تو تمام دن اسی سوچ میں گزرتا تھا کہ پتہ نہیں وہ زندہ سلامت آئیں گے کہ نہیں۔ اس کیفیت کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ان حالات سے گزرے ہوں۔
طلعت اظہر نے مزید بتایا کہ "اس سنگین صورتحال میں انہیں اپنے دونوں بیٹوں شجاع اور اسد کی تعلیم اور ان کے مستقبل سے خوف آنے لگا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ واپس پنسلوانیا چلے جائیں۔ جہاں کی پن اسٹیٹ یونیورسٹی سے انہیں ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ ہماری زندگی کا بہت مشکل فیصلہ تھا کیونکہ ہم دونوں اپنی بقیہ زندگی پاکستان میں گزارنے کے مصمم ارادے سے آئے تھے۔
پنسلوانیا واپس آتے ہی جاوید کوپن اسٹیٹ یونیورسٹی میں اہم عہدے پر ملازمت مل گئی۔ تقریباً تیس سال تک وہاں درس و تدریس میں مشغول رہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں طلبا و طالبات کو پڑھایا۔ اس وقت ہم دونوں کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ اسد اور شجاع کے اسکول جانے کی عمر تک میں گھر پر ہی رہوں گی اور جاوید کام کریں گے۔ ان کے ایک ساتھی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ابھی بھی ان کے تدریسی خیالات کی جھلک یونیورسٹی میں کئی جگہ مل جائے گی۔ ان کا عکس ان کے طالب علموں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی چھاپ کافی عرصے تک رہے گی۔”
جاوید فل برائٹ اسکالر شپ پر ایک تحقیقی سلسلے میں آسٹریلیا گئے، آرکیٹکچر میں ان کی دلچسپی بچوں اور بوڑھوں اور ان کے لیے دوستانہ عمارتوں اور ماحول کی فراہمی پر تھی۔ ان کا انداز فکر بہت مختلف تھا، وہ پارکوں اور کھلی جگہوں کے بارے میں خاص قسم کے احساسات کے حامل تھے۔ وہ وہ قدرتی ماحول، پارکوں، عوام کے لیے کھلی جگہوں اور شہروں میں بچوں کے رہنے کے مسائل کو ایک ایسے آرکیٹیک کی نظر سے دیکھتے تھے جس کا رویہ بچوں، بوڑھوں اور ماحول کے لیے دوستانہ تھا۔
جاوید کو ان کی زندگی میں ہی بہت سارے ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا، ان کی خدمات کو تسلیم کیا گیا اور ان کے کام کو اہمیت دی گئی۔ ان کے لیے سب سے بڑا ایوارڈ تو یہ ہے کہ ان کے دوست، ان کے انقلابی اور غیر انقلابی ساتھی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے پیشہ ور لوگ اور ان کے شاگردوں کے پاس ان کے لیے تعریف و توصیف کے کلمات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جاوید کو اس بات پر بڑا اطمینان تھا کہ انہیں کئی دفعہ ”بہترین استاد“ کا درجہ دیا گیا تھا۔
وہ ایک بہترین استاد تھے جو نہ صرف یہ کہ آرکیٹیکچر پڑھانے میں کمال کا درجہ رکھتے تھے بلکہ وہ دوستوں، یاروں اور چاہنے والوں کو بھی پڑھانے کی طرح اپنے خیالات، احساسات اور معروضات پڑھا دیتے تھے۔ زندگی کے آخری دنوں تک وہ کلاس روم میں جا کر لیکچر دیتے اور طالب علموں سے بات چیت کرتے تھے۔ ان کے بیٹے شجاع حیدر نے اپنے طویل مضمون A Song for My Father میں لکھا ہے کہ آخری دنوں میں وہ کمزور ہو گئے تھے اور معمول کے کام کرنے سے بھی تھک جاتے تھے جب وہ پڑھانے جاتے، تو جانے کی تیاری میں انہیں اچھا خاصا وقت لگ جاتا تھا مگر وہ جاتے ضرور تھے اور جب پڑھا کر واپس آتے تو ان کے چہرے پر ایک طرح کا اطمینان اور خاص قسم کا جذبہ (Energy) ہوتی تھی۔ پڑھنا لکھنا اور پڑھانا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔
ان کے بیٹے اسد حیدر کی کتاب Mistaken Identity مجھے اتفاق سے ملی تھی اور مجھے پتہ نہیں تھا کہ اسد جاوید کے بیٹے ہیں۔ پڑھنے کے بعد مجھے پتہ لگا تو میں نے جاوید کو ای میل کیا، جس میں اسد کی تعریف کی گئی تھی۔ ان کے دو لائنوں کا جواب بھرپور جواب تھا۔ ”تم نے خوب اندازہ لگایا ہے کہ ہم دونوں اپنے بیٹے کی تحریر اور کتاب کے بارے میں کتنے خوش اور کتنے پرغرور ہیں۔“ اس پیغام کے کچھ دنوں کے بعد جب جاوید حیدر سے بات ہوئی تو مجھے اس کی آواز کے لہجے سے اندازہ ہو گیا کہ وہ اپنے دونوں بیٹوں کی تعلیم اور ان کے کام سے بہت خوش ہے اور بجا طور پر اس کا فخریہ اظہار کر رہا تھا۔
پاکستان، برطانیہ اور امریکا میں پاکستانی والدین عام طور پر کوشش کرتے ہیں کہ ان کے بچے ڈاکٹر، وکیل چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنیں یا ایسا پیشہ اختیار کریں جس میں دولت کمائی جا سکے جس کے لیے وہ اپنے بچوں پر جائز ناجائز دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔ جاوید اور ان کی اہلیہ طلعت نے اپنے بچوں پر اس قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ دونوں نے اپنے دونوں بچوں کو انسان بنانے کی کوشش کی اور دونوں نے اپنی مرضی سے اپنی تعلیم اور اپنے پیشوں کا انتخاب کیا، جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہے جس پر جاوید اور طلعت بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔
جاوید اور طلعت دونوں ہی ضرورت کے مطابق کمانے کے اصول پر عمل کرتے تھے، انہیں بے شمار دولت کسی بھی قیمت پر جمع کرنے کی نہ خواہش تھی اور نہ ہے۔ دونوں روشن خیال سوچ کے حامل رہے، زندگی کو ضروریات کا غلام نہیں بنایا جو کام کیا اچھا کیا، اپنے جیسے لوگوں کی مدد کی، دوسروں کا ہاتھ تھاما، ہمیشہ دینے والے رہے۔ زندہ تو اسی طرح سے رہنا چاہیے۔
طلعت نے مجھے بتایا کہ جاوید کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ان لوگوں (Under dogs) کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے جو مظلوم ہوتے تھے۔ جنہیں سماج نے ٹھکرایا ہوا ہوتا تھا اور جو غربت کا شکار ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی معمولی بات ہے مگر یہ ظاہر کرتی ہے کہ زندہ رہنے کا ان کا فلسفہ کیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ میں اکثر دوپہر کھانے کے وقفے پر انڈس ویلی اسکول جا کر انہیں فون کرتی اور ہم دونوں ڈرائیور کے ساتھ کہیں کھانا کھانے جاتے تھے۔
انہیں کڑاہی گوشت اور کٹاکٹ بہت پسند تھا۔ ہمیشہ یہ ہوتا کہ جب وہ کھانے کے لیے بیرے کو بلا کر کھانا منگواتے تو ڈرائیور کے لیے بھی کھانا بنوا کر اسے پیک کرا لیتے تھے اور واپسی میں ڈرائیور کو دیتے کہ یہ آپ کے بچوں کے لیے ہے۔ ایک آدھ دفعہ تو بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں مگر ہمیشہ اسی طرح سے اپنے ڈرائیور کو یاد رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ شخص کسی کا کتنا خیال کرتا ہے۔ ڈاکٹر طلعت اظہر جنہوں نے امریکا میں ہی پی ایچ ڈی کیا ہے اور درس و تدریس سے وابستہ رہی ہیں نے بتایا کہ جاوید کبھی بھی چیلنج سے جان نہیں چھڑاتے تھے، ان کی عادت تھی کہ جو بھی کریں اچھا کریں، کسی کی بھی مدد کرنے کو ہر وقت تیار رہتے تھے، اپنے طالب علموں کو بہترین مشورہ دیتے اور ان کی کامیابی کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار رہتے تھے۔ میں ان سے فون پر بات کر رہا تھا مگر مجھے اندازہ تھا کہ ان کا ہر لفظ سچ ہے اور محبتوں اور الفتوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ بہت ایمانداری اور خلوص سے ایک بے غرض انسان کا ذکر کر رہی تھیں جو ان کے شوہر تھے۔
طلعت نے باتوں کے درمیان کہا کہ جاوید غیر ضروری بحث مباحثہ نہیں کرتے تھے اور کبھی بھی کج بحثی میں نہیں پڑتے تھے۔ دوسروں کی بات غور سے سنتے، ان کے رائے کی عزت ضرورت کرتے تھے مگر اپنا موقف بہت صاف اور واضح طریقے سے بیان کر دیتے تھے۔ صحیح بات کہتے وقت وہ ڈرتے نہیں تھے کہ کسی کو برا نہ لگ جائے اور برا لگتا بھی نہیں تھا کیونکہ انہیں اپنا موقف اچھے طریقے سے بیان کرنے کا سلیقہ آتا تھا۔
پاکستان کی بائیں بازو کی تحریکوں میں چاہے وہ طلبا کی ہو یا مزدوروں کی، کسانوں کی ہو یا کمیونسٹ پارٹی کی، اس میں گروہ بندی اور گروپوں کی لعنت نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ برسوں بعد جب جاوید واپس کراچی آ گئے تھے اور بڑی تندہی سے تدریس و تعلیم میں مصروف تھے انہی دنوں میں ایک دن میں اور وہ کراچی کے بار بی کیو ٹونائٹ میں رات کا کھانا کھا رہے تھے اور گزرے دنوں کی باتیں کر رہے تھے، بہت ساری باتیں ہوئیں اور گروپ بازیوں کا بھی ذکر آیا۔ باتوں باتوں میں جاوید نے کہا تھا کہ اختلافات کا ہونا تو بہت فطری بات ہے۔ صرف قبرستان میں ہی اختلافات نہیں ہوتے ہیں مگر اختلافات کے ساتھ ذاتی انا کی مصیبت اور یہ یقین کہ دوسرے درست ہو ہی نہیں سکتے ہیں ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ انا سے مجبور قیادتیں سنگین غلطیاں کرتی ہیں اور اس کا بوجھ جن کو اٹھانا پڑتا ہے وہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔
میں نے ان کی بات سے مکمل اتفاق کیا تھا میں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی مذہبی انتہاپسندی کی سیاست ایک جانب لیکن ان کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ ”غلطیاں بانجھ نہیں ہوتی ہیں“ حقیقت یہ ہے کہ جتنی بڑی غلطی ہوتی ہے اتنی ہی بڑی اس کی اولادیں ہوتی ہیں۔ ہم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بائیں بازو کی تقریباً ہر تحریک سمٹ سمٹا کر بالکل بے اثر ہو چکی ہے۔ اس صورتحال پر جاوید کو ذاتی طور پر اتنا ہی دکھ تھا جتنا ہمارے جیسے اور بہت سے لوگوں کو ہے۔
جاوید اور ترکی سے آنے والے ان کے کچھ دوست کبھی بھی پاکستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے، جیسے میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے بہت سارے ہمارے دوست بھی پاکستان میں ہی رہنا چاہتے تھے لیکن ہوا یہ کہ کچھ بائیں بازو کی تحریکوں کی کمزوری اور ساتھ ہی ملک میں مستقل طور پر سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی ابتری نے مجبور کر دیا کہ وہ ملک چھوڑ جائیں، جیسے ہمارے بہت اچھے دوست اور ہم جماعت احمد ظہیر بابر اور حسن وزیر، مشیر حسین، امیر الحق شان بہت سنجیدگی کے ساتھ تعلیم و تربیت کے مکمل ہونے کے بعد اپنی زندگی گزارنے اور سنوارنے کے لیے پاکستان واپس آئے مگر مجبور ہو کر انہیں واپس جانا پڑا۔
ایسے بھی دوست جنہیں واپس آنے کی پاداش میں قتل کر دیا گیا ہے، صفدر زیدی جو شکاگو سے کراچی آ کر کڈنی سینٹر میں کام کر رہے تھے نے اپنی جان ایسے لوگوں کے ہاتھوں گنوا دی جنہیں کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ کسے کھو دیا ہم نے۔ صفدر ایک انتہائی قابل ڈاکٹر تھے اور شکاگو میں بہت اہم عہدے پر کام کر رہے تھے جہاں انہیں زندگی کی ہر سہولیات میسر تھیں۔ ان کا تعلق ایک شیعہ خاندان سے تھا جبکہ ان کی اہلیہ کا تعلق سنی خاندان سے تھا۔ ایک انتہائی قابل اور دردمند انسان مذہبی نفرت کا نشانہ بن گیا۔
جاوید نے دو دفعہ پاکستان واپس آنے کی کوشش کی۔ پہلی دفعہ جب ان کی زندگی ہی خطرے میں پڑ گئی تو ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ واپس چلے جائیں۔ برسوں بعد جب ان کے بچے تعلیم سے فارغ ہو گئے تو وہ دوبارہ سے بڑے جوش و جذبہ اور بہت جوان دل کے ساتھ کراچی واپس آئے۔ انہوں نے اور طلعت دونوں ہی نے کراچی میں کام کرنا شروع کر دیا۔ جاوید بہت جلد اپنی یونیورسٹی کو ایک نئی سمت لے گئے۔ ان کا وہی انداز تھا دوستانہ، عالمانہ اور قوت سے بھرپور۔ وہ بہت جلد طلباء و طالبات میں مقبول بھی ہو گئے اور اپنے کام کے ساتھ ساتھ شہر کراچی کے دوسرے کاموں میں بھی دلچسپی لینے لگے۔
وہ پرانی عمارتوں، پارکوں اور شہریوں کے رہنے سہنے کے طریقوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ ان کی خاص دلچسپی بچوں اور بوڑھوں کے رہن سہن کے طریقوں کی طرف تھی۔ انہی موضوعات پر انہوں نے تحقیقات کی تھیں جو مختلف پیشہ ورانہ جریدوں میں چھپتی رہی تھیں۔ اس سلسلے میں وہ ہر وقت ہر جگہ مشورہ دینے کو تیار رہتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی کراچی کی عمارت میں کچھ ڈاکٹر حضرات تبدیلیاں کرنا چاہتے تھے۔ میں نے ڈاکٹروں اور جاوید کی ملاقات کا اہتمام کیا۔ جاوید چھٹی والے دن دوپہر کو آئے اور عمارت کے اندر مختلف زاویوں سے موجود تعمیر کی افادیت سے ہم سب کو آگاہ کیا۔ اور کچھ اس طرح سے سمجھایا کہ سب کی سمجھ میں آ گیا کہ اس عمارت کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کتنی ہے۔ اس دن ان کے ساتھ وہ دو، تین گھنٹے بیٹھے، چائے اور زیرے والے بسکٹ کے ساتھ گپ شپ کی اور سب کو قائل کر دیا کہ کراچی کی اس طرح کی عمارتیں اپنے وجود میں کیا کیا حسن رکھتی ہیں۔
جاوید کی عقل و دانش والی عملی باتوں کو بھلانا تقریباً ناممکن ہے، جب تک ان کا ساتھ رہا وہ کسی بھینی بھینی خوشبو کی طرح مہکتے رہے، ساتھ چلتے رہے۔ ان کے ساتھ چلنے والا ان سے بچھڑنا نہیں چاہتا تھا اور وہ بھی بچھڑنا نہیں چاہتے تھے، نہ دوستوں سے نہ رشتہ داروں سے نہ اپنے خاندان سے۔ زندگی کی ایک بھرپور لڑائی وہ پہلے بھی لڑ چکے تھے اور جیت بھی گئے تھے لیکن اس دفعہ حملہ بڑا غیر متوقع تھا۔
مجھے نہیں پتہ کہ جاوید نے سگریٹ پینا کب شروع کیا تھا۔ وہ ایک طویل عرصہ تک سگریٹ کا استعمال کرتے رہے اور جب فیصلہ کیا کہ وہ اب سگریٹ نہیں پیئیں گے تو پھر چھوڑ بھی دیا۔ جب وہ پنسلوانیا میں ہی تھے تو ان کے ایک پھیپھڑے میں کینسر کی تشخیص ہوئی اور سرجری سے لے کر کیموتھریپی جیسے مشکل علاج سے انہیں گزرنا پڑا۔ جاوید نے بتایا تھا کہ کیموتھریپی کا مرحلہ بہت خراب تھا۔ مرض سے کم تکلیف ہوئی تھی، کیموتھریپی کے دوسرے اثرات سے زیادہ پریشانی ہوتی تھی مگر کیموتھریپی کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ مرض کو جڑوں سے نکال کر پھینک دیا گیا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ اب سرطان کے تمام خلیے جسم میں مار دیے گئے ہیں۔ یہ بات میرے لیے بڑی تشفی کا سبب بھی بنی تھی جس کے بعد میں نے پاکستان دوبارہ سے آ کر کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان میں سب کچھ صحیح چل رہا تھا اور مجھے کہا گیا تھا کہ مستقبل میں ہر سال اپنا طبی معائنہ پابندی سے کر اؤں، پہلے ہی سال معمول کے معائنے میں ڈاکٹروں نے میرے دوسرے پھیپھڑے میں کچھ غیر معمولی تبدیلی دیکھی جس کی مزید چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ میں ایک دوسری قسم کے کینسر کا شکار ہو گیا ہوں۔ اور یہ کینسر جان لیوا ثابت ہو گا۔ جاوید کو دوسری دفعہ امریکا واپس آنا پڑا اور دوبارہ سے سرطان کے علاج کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا جو تکلیف دہ تھا۔
یہ امید بھی نہیں تھی کہ علاج میں کامیابی بھی ہوگی۔ علاج کے دوران میری جاوید سے کئی دفعہ بات چیت ہوتی رہی۔ اس نے بڑی بہادری سے مرض کا مقابلہ کیا، اسے تشویش ضرور تھی مگر وہ قطعاً خوفزدہ نہیں تھا۔ خوف زدہ ہوتا بھی کیوں۔ اس نے ایک شاندار زندگی گزاری تھی، بہت ایمانداری اور محنت سے اپنے فرائض نبھائے تھے۔ دوستوں سے لے کر خاندان اور رشتہ داروں سے لے کر اس کے شاگرد اور چاہنے والے سب سے اس نے انصاف کیا تھا۔ اسے مرنے کا، دنیا سے جانے کا کوئی خوف نہیں تھا۔ ایسی بھرپور زندگی گزارنے والوں کو کوئی خوف ہوتا بھی نہیں ہے۔
خوف تو گھر والوں کو ہوتا ہے، خاندان والوں کو ہوتا ہے، دوستوں کو ہوتا ہے جو پیاروں کے جانے کے بعد پریشان ہوتے ہیں جن کے بغیر ان کی زندگی اندھیری ہوجاتی ہے جو ایک طرح سے خلا میں چلے جاتے ہیں، اکیلے بغیر اس کے جو نا جانے کیا کیا کرتا تھا ان کے لیے۔ جو اس وقت اس سمے محسوس بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس کی باتیں اس کی یادیں ذہن و دل میں گونجتی رہتی ہیں۔
جاوید کو بھولنا ناممکن ہے، وہ ایسا ہی آدمی تھا۔ جاوید کو موسیقی سننے کا بہت شوق تھا۔ پرانے اور نئے انگریزی گانے جو اس کے دل کو بھاتے تھے۔ ڈان مکلین کا طویل گانا Starry Starry Night اس کا پسندیدہ گانا تھا جسے وہ بڑے ذوق و شوق سے سنتا تھا۔ میرے ایک دوست اسد جمیل راجہ نے جو اب نیروبی میں رہتے ہیں نے کالج کے زمانے میں مجھے یہ گانا ٹیپ ریکارڈ پر سنایا تھا اس کے بعد سے یہ گانا اکثر میں نے بھی سنا ہے اور اکثر میری آنکھوں میں آنسو چھلک آئے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کبھی بھی جاوید کے ساتھ اور اس گانے کے بارے میں بات نہیں ہوئی اسی طرح سے ہندو پاک کے نئے پرانے گانے، استادوں کی گائی ہوئی غزلیں، لتا منگیشکر کے دل کو چھونے والے نغمے، محمد رفیع، ہیمنت کمار، طلعت محمود اور جگجیت کی گائی ہوئی، غالب اور دوسرے استادوں کی غزلیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ سنتا تھا بلکہ لطف اندوز بھی ہوتا تھا۔ ہر اچھے انسان کے دل میں موسیقی ہوتی ہے۔ یہی موسیقی اس کی شخصیت ہوتی ہے اور اس کی پسندیدہ موسیقی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا درد مند انسان تھا۔ ان کے بیٹے شجاع نے اپنے مضمون میں جاوید کی موسیقی سے دلچسپی کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ جاوید کا حس موسیقی بلاشبہ اس کی شخصیت کی ترجمانی کرتا ہے۔
سرور صدیقی میری چھوٹی بہن صفیہ کے شوہر بہت اچھا گاتے ہیں، اکثر اپنے گھر پر موسیقی کی محفل منعقد کرتے رہتے ہیں۔ سرور کے گھر پر ایک ایسی ہی محفل میں میں نے جاوید کو بھی مدعو کر لیا تھا۔ وہ، طلعت اور جاوید کی بہن اس دن وہ سب لوگ آئے تھے، رات گئے تک چلنے والی اس محفل سے ہم سب محظوظ ہوئے تھے۔ اس محفل کی یادیں ابھی تک محفوظ ہیں۔ وہ شام وہ رات وہ موسیقی اور جاوید کی موجودگی ایک خواب سا لگتا ہے۔
میری ڈاکٹر طلعت سے بہت زیادہ باتیں نہیں ہوئی ہیں لیکن جب بھی ہوئی ہے انہوں نے بڑی تفصیل سے میری باتوں کا جواب دیا ہے، ان کے لہجے میں بہت ٹھہراؤ ہے لیکن جاوید کے نقصان سے جو اداسی موجود ہے اس کا احساس فوراً ہی ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر طلعت نے بتایا کہ جاوید کے نام سے ان کے خاندان نے ایک ایوارڈ کا آغاز کیا ہے جو ان آرکیٹکٹچر کے طالب علموں کو دیا جائے گا جو جاوید کے خیالات اور احساسات کے مطابق بچوں اور بوڑھوں کی شہری اور رہائشی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کریں جو قدیم عمارتوں اور جنگلات اور پارکوں کے تحفظ کے مطابق سوچیں گے۔ میں نے ٹیلی فون پر ہی طلعت اور ان کے بیٹوں شجاع اور اسد کا شکریہ ادا کرنا چاہا مگر میرے پاس الفاظ نہیں تھے، انہوں نے جاوید کو پن اسٹیٹ یونیورسٹی، جہاں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی گزاری تھی کا ایک حصہ بنا دیا ہے۔ بہت کم خاندان ان کے بچے اپنے پیاروں کو اس طرح یاد رکھتے ہیں۔
میں نے اسد اور شجاع کو فون کیا۔ اسد کینیڈا میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں، شجاع نیویارک کے رسالے دی نیشن کے مدیر ہیں۔ ان سے ان کے والد، ان کے دوست، ان کے ساتھی، ان کے ہمنوا، ان کے بابا کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ انہوں نے ان کے جوابات بھی دیے لیکن ایک آخری سوال کا ان دونوں نے ایک ہی جواب دیا۔ میں نے پوچھا آپ کے والد کی سب سے بڑی خصوصیت کیا تھی، سب سے اچھی بات جو آپ لوگوں کو بتانا چاہیں گے، دونوں نے فوراً ہی بغیر کسی وقفے کے ایک ہی جواب دیا تھا، ”دوسروں کی مدد کرنے کی عادت“ ہر وقت اس بات پر تیار رہنا کہ جس کو مدد کی ضرورت ہے اس کی آواز کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، ساری زندگی ہم نے ان کو دوسروں کی مدد کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
ہر طرح کی مدد، مالی مدد، سماجی مدد، تعلیمی مدد، وہ ہمیشہ غریب اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے، ان کی عادت تھی کہ لوگوں کے اندر سے جو بہترین ہوتا تھا وہ نکال لیتے تھے۔ بہت آسانی کے ساتھ اپنے حس مزاح کو آگے رکھتے ہوئے بغیر کسی غصے اور خوف کے۔ اسد اور شجاع کی یہ بات میرے کانوں نے نہیں سنی تھی، بلکہ اندر بہت اندر میرے دل کے کسی ایک خانے میں جیسے بیٹھ گئی تھی۔
مجھے ان سے پہلی ملاقات یاد آ گئی تھی۔ اوپر کی جیب میں رکھا ہوا سگریٹ کا جھانکتا ہوا پیکٹ اور ہاتھ ملاتے ہوئے ان کا گرم گرم ہاتھ۔ سگریٹ کا وہ پیکٹ تو میں بھول جاؤں گا مگر ان کا وہ گرم اور پرجوش ہاتھ، جیسے میرے ہاتھ میں ہے۔
”جو تیری طرح جیتے ہیں وہ مرتے کب ہیں“
٭٭٭ ٭٭٭
٭ میں ڈاکٹر طلعت اظہر، اسد اور شجاع کا انتہائی ممنون ہوں جنہوں نے میری معاونت کی۔ میں شکر گزار ہوں جاوید کے دوستوں محمد اسلم، رخسانہ اسلم، عارف ظہیر، طارق علاؤ الدین اسلم، عاصم، شبیہ حیدر، یاد اللہ حیدر، اور تنویر ایزاد کا جو جاوید کے دوست ہونے کے ناتے ہمارے بھی دوست بن گئے ساتھ ہی گوہر تاج اور احمد ظہیر بابر کا شکریہ جن کی مدد کے بغیر یہ مضمون لکھنا ممکن نہیں تھا۔
٭ یہ مصرع پنڈت جواہر لعل نہرو کے بارے میں لکھی ہوئی ایک نظم سے لیا گیا ہے جسے محمد رفیع نے گایا ہے۔











